علامہ حلی

ویکی شیعہ سے
(علامہ حلّی سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
علامہ حلی
حرم امام علی(ع) میں علامہ حلی کی قبر کا نقشہ
کوائف
مکمل نام حسن بن یوسف بن مطہر حلّی
تاریخ ولادت 29 رمضان ۶۴۸ قمری
آبائی شہر حلہ
تاریخ وفات 21 محرم ۷۲۶ قمری
مدفن حرم امیرالمومنین ، نجف اشرف
علمی معلومات
اساتذہ سید بن طاووس، خواجہ نصیرالدین طوسی، ابن میثم بحرانی
شاگرد قطب الدین رازی، فخرالمحققین
تالیفات کشف المراد، نہج الحق و کشف الصدق، باب حادی عشر، خلاصۃ الاقوال فی معرفۃ الرجال، الجوہر النضید
خدمات
سماجی مختلف فرقوں کے علماء کے ساتھ مناظرہ، سلطان محمد خدا بندہ کا شیعہ مذہب کی طرف مائل ہونے اور ایران میں شیعہ مذہب کی ترویج کاسبب


حسن بن یوسف بن مطہر حلّی (۶۴۸-۷۲۶ق) جو علامہ حلّی کے نام سے مشہور ہیں، آٹھویں صدی ہجری قمری کے شیعہ فقیہ اور متکلم ہیں۔ انہوں نے علم اصول فقہ، فقہ، تفسیر، منطق، کلام اور رجال میں 120 سے زیادہ کتابیں تحریر کی ہیں جن میں سے اکثر اس وقت بھی شیعہ حوزات علمیہ میں تدریس اور تحقیق کا اصلی منبع شمار کی جاتی ہیں۔ فقہ شیعہ کی گسترش اور توسعہ میں ان کا بڑا کردار رہا ہے۔ نیز انہوں نے شیعہ مذہب کے کلامی اور اعتقادی مبانی کو عقلی بنیادوں پر استوار کیا۔ ان کی کتاب باب حادی عشر اور خواجہ نصیر الدین طوسی کی تجرید الاعتقاد کی شرح میں لکھی جانے والی کتاب کشف المراد شیعہ اعتقادات کے اصلی متون میں شامل ہیں۔ نہج الحق و کشف الصدق، خلاصۃ الاقوال فی معرفۃ الرجال، الجوہر النضید، تذکرۃ الفقہاء، قواعد الاحکام اور مختلف الشیعہ وغیرہ ان کی دیگر معروف تصانیف ہیں۔

علامہ حلی وہ پہلی شخصیت تھی جنہیں آیت اللہ کا لقب دیا گیا۔ قطب الدین رازی، فخرالمحققین، ابن معیہ اور محمد بن علی جرجانی ان کے مشہور شاگردوں میں سے ہیں۔ ایران اور سلطان محمد خدا بندہ کے دربار میں ان کی موجودگی اس ملک میں شیعہ مذہب کے رواج پیدا کرنے کا سبب بنا۔

زندگی اور حصول علم

علامہ حلی جمعہ 29 رمضان سنہ ۶۴۸ قمری کو عراق کے شہر حلہ میں پیدا ہوئے۔[1] ان کے والد گرامی یوسف بن مطہر متکلمین اور بلند پائے کے شقعہ فقہاء میں سے تھے۔ [2] پیدائش کے چند سال بعد اپنے والد بزرگوار کی ہدایات پر قرآن سیکھنے کیلئے مدرسہ میں داخلہ لیا اور اسی مدرسے میں انہوں نے ابتدائی تعلیم مکمل کیں۔ اس کے بعد ادبیات عرب، علم فقہ، اصول فقہ، حدیث اور کلام اپنے والد بزرگوار اور اپنے ماموں محقق حلی کے ہاں جبکہ علم منطق، فلسفہ اور ہیئت وغیرہ دوسرے اساتید بطور خاص خواجہ نصیر الدین طوسی سے استفادہ کئے اور سن بلوغ تک پہنچنے سے پہلے اجتہاد کے درجے پر فائز ہوئے۔ کمسنی میں تعلیم اور اعلی فضائل کے حامل ہونے کی وجہ سے آپ اپنے خاندان اور اہل علم کے درمیان جمال الدین کے نام سے مشہور تھے۔ [3]

علمی کمالات

سنہ 676 ہجری قمری میں محقق حلی جو اپنے زمانے میں دنیائے تشیع کے مرجع تقلید تھے، کی وفات کے بعد ان کے شاگردوں اور دیگر دانشوروں نے ایک ایسی شخصیت کی تلاش شروع کیا جو شیعیان جہاں کی مرجعیت اور زعامت کیلئے سب سے لائق اور مناسب ہو۔ اس حوالے سے علامہ حلی کو اس مقام کیلئے سب سے زیادہ مناسب پایا یوں انہوں نے 28 سال کی عمر میں شیعہ مرجعیت کو قبول کیا۔

علامہ حلی پہلی شخصیت تھی جنہیں ان کی علمی مقام اور اخلاقی فضائل و کمالات کی بنا پر آیت اللہ کا لقب دیا گیا۔[4] ابن‌ حجر عسقلانی‌ (متوفی ۸۵۲ ق) نے انہیں "آیۃ فی‌ الذكاء" کا لقب دیا۔[5] شرف الدین شولستانی، شیخ بہائی اور ملا محمدباقر مجلسی‌ نے اپنے اپنے شاگردوں کو دی جانے والے اجازت ناموں میں "علامہ حلی" کو "آیت‌ اللہ‌ فی‌ العالمین‌" کے نام سے یاد کئے ہیں۔[6]

ایران میں آمد

علامہ حلی ایران کب تشریف لائے اس کی کوئی دقیق تاریخ مشخص نہیں۔ لیکن یہ احتمال دیا جاتا ہے کہ سنہ 705 ہجری قمری میں انہوں نے سلسلہ ایلخانیان کے بادشاہ سلطان محمد خدا بندہ کی دعوت پر ایران کا سفر کیا۔ تاج الدین آوی نے بادشاہ کے دربار میں علامہ حلی کی رسائی کیلئے زمینہ ہموار کیا۔ [7] علامہ حلی کی ایران میں داخلے کے بعد ایک دن کسی مجلس میں اہل سنت کے مذاہب اربعہ کے مختلف علماء منجملہ خواجہ نظام الدین عبدالملک مراغہ‌ای کے ساتھ مناظرہ کیا۔ ان مناظرے میں علامہ حلی نے امام علی(ع) کی ولایت و امامت اور مذہب شیعہ کی حقانیت کو پادشاہ کے سامنے ثابت کیا۔ یہ واقعہ پادشاہ کے مذہب شیعہ اختیار کرنے کا باعث بنا اور انہوں نے اپنا نام "الجایتو" سے سلطان محمد خدا بندہ میں تبدیل کیا اور شیعہ مذہب کو ایران کا سرکاری مذہب قرار دیا۔[8] مختلف تاریخی منابع میں سلطان محمد خدا بندہ کی مذہب شیعہ اختیار کرنے میں علامہ حلی کے کردار کی طرف اشارہ ہوا ہے۔[9]

علامہ حلی کا مشہور مناظرہ

میرزا محمد علی مدرس تبریزی اپنی کتاب ریحانۃ الادب میں علامہ مجلسی سے کتاب من لایحضرہ الفقیہ کی شرح میں لکھتے ہیں: ایک دن سلطان محمد خدا بندہ نے ایک مجلسی منعقد کیا اور اہل سنت کے بڑے بڑے علماء کو مدعو کیا نیز علامہ حلی کو بھی اس مجلس میں دعوت دی گئی۔ علامہ حلی نے مجلس میں داخل ہوتے وقت جوتے اپنی بغل میں رکھ کر پادشاہ کے قریب جا کر بیٹھ گیا۔ درباریوں نے علامہ سے پوچھا کہ کیوں آپ نے پادشاہ کو سجدہ اور احترام نہیں کیا؟ اس موقع پر علامہ نے جواب دیا: پیغمبر اکرم(ص) تمام پادشاہوں کے پادشاہ تھے اور انہیں سب سلام کرتے تھے اور قرآن میں بھی آیا ہے کہ "فَإِذَا دَخَلْتُم بُيُوتًا فَسَلِّمُوا عَلَى أَنفُسِكُمْ تَحِيَّة مِّنْ عِندِ اللَّه مُبَارَكَة طَيِّبَة(ترجمہ: جب بھی کسی گھر میں داخل ہو جاؤ تو ایک دوسرے کو سلام کیا کرو! یہ سلام خدا کے نزدیک مبارک اور پسندیدہ ہے)" [10] اس کے علاوہ ہمارے اور تمہارے درمیان اس بات میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ سجدہ صرف خدا کے ساتھ مختص ہے۔

انہوں نے کہا پس کیوں تم پادشاہ کے قریب جا کر بیٹھ گئے ہو؟ علامہ نے جواب دیا: کیونکہ اس کے علاوہ کوئی جگہ خالی نہیں تھی اور حدیث میں آیا ہے کہ جب تم کسی مجلس میں جاؤ تو جہاں کہیں جگہ خالی ہو وہیں بیٹھ جاؤ۔ پوچھا گیا: ان جوتوں کی کیا حیثیت تھی کہ تم اسے پادشاہ کے دربار میں لے آئے ہو؟ علامہ نے جواب دیا: مجھے اس بات کا خوف ہوا کہ مذہب حنفی والے میرے جوتے چوری نہ کر لیں جس طرح ان کے پیشواؤں نے پیغمبر اکرم(ص) کی جوتیاں چوری کی تھیں۔ یہ سنا تھا کہ مذہب حنفی کے ماننے والوں نے اعتراض کیا اور کہا کہ ابو حنیفہ تو پیغمبر اکرم(ص) کے زمانے میں موجود نہیں نہیں تھا۔ علامہ نے کہا معاف کیجئے گا مجھ سے غلطی ہوگئی وہ شخص شافعی تھا، اس طرح یہ گفتگو اور اعتراض شافعی، مالکی اور جنبلیوں کے ساتھ تکرار ہوا۔ اس موقع پر علامہ حلی نے پادشاہ کی طرف رخ کر کے کہا: اب حقیقت روشن ہو گئی کہ مذاہب اربعہ میں سے کسی ایک مذہب کا پیشوا پیغمبر اکرم(ص) کے زمانے میں موجود نہیں تھا اس سے پتہ چلتا ہے کہ ان کے نظریات ان کی اپنی اختراع ہے اس کا وحی اور پیغمبر اکرم(ص) کے تعلیمات سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔ لیکن مذہب شیعہ جو امیرالمؤمنین حضرت علی(ع) کے پیروکار ہیں جو پیغمبر اکرم(ص) کے وصی، جانشین اور نفس پیغمبر ہیں۔ علامہ نے اس مناظرہ کے آخر میں ایک نہایت فصیح اور بلیغ خطبہ بھی دیا جس سننے کے بعد پادشاہ نے مذہب شیعہ اختیار کیا۔[11]

علامہ سلطان محمد خدابندہ کی وفات تک ایران ‌میں مقیم رہے اور مذہب حقہ کی نشر و اشاعت میں اہم کردار ادا کیا۔ ایران میں اقامت کے دوران علامہ حلی پادشاہ کے تمام مسافرتوں میں ہمراہ رہے اور ان کی ہی تجویز پر پادشاہ نے ایک سیار مدرسہ بھی تاسیس ہوا یوں علامہ جہاں بھی جاتے خیمہ نصب کئے جاتے یوں علامہ درس و تدریس میں مشغول ہو جاتے تھے۔[12]

اساتذہ

  • شیخ یوسف سدید الدین (والد علامہ)
  • محقق حلی‏
  • سید رضی الدین علی بن طاووس‏
  • سید احمد بن طاووس‏
  • خواجہ نصیر الدین طوسی‏
  • محمد بن علی اسدی
  • یحیی بن سعید حلی
  • مفیدالدین محمد بن جہم حلی
  • کمال الدین میثم بن علی بن میثم بحرانی
  • جمال الدین حسین بن ایاز نحوی
  • محمد بن محمد بن احمد کشی
  • نجم الدین علی بن عمر کاتبی
  • برہان الدین نسفی
  • شیخ فاروقی واسطی
  • شیخ تقی الدین عبداللہ بن جعفر کوفی

شاگرد

علامہ کے بعض شاگردوں کے اسامی درج ذیل ہیں:

  • محمد بن حسن بن یوسف حلی،فخرالمحققین (فرزند علامہ)
  • سید عمیدالدین عبدالمطلب (بھانجا)‏
  • سید ضیا الدین عبداللہ حسینی (بھانجا)
  • سید محمد بن قاسم حسنی معروف بہ ابن معیہ
  • رضی الدین ابوالحسن علی بن احمد حلی
  • قطب الدین رازی
  • سید نجم الدین مہنا بن سنان مدنی
  • تاج الدین محمود بن مولا
  • تقی الدین ابراہیم بن حسین آملی
  • محمد بن علی جرجانی

تألیفات

اصل مضمون: آثار علامہ حلی


علامہ حلی نے مختلف علوم جیسے فقہ، اصول فقہ، کلام، حدیث، تفسیر، رجال، فلسفہ اور منطق میں کتابیں تصنیف کی ہیں۔ لیکن ان کی تألیفات کی تعداد کے بارے میں اختلاف ہے۔ علامہ حلی نے خود خلاصۃ الاقوال میں اپنی 57 تصانیف کا ذکر کیا ہے۔[13]

سید محسن امین اپنی کتاب اعیان الشیعہ میں لکھتے ہیں: "علامہ حلی کی سو سے زیادہ تصانیف ہیں اور میں نے ان کی 95 کتابوں کو دیکھا ہے جن میں سے کئی کتابوں کے کئی جلدیں ہیں۔[14] اسی طرح وہ فرماتے ہیں کہ علامہ کی کتاب الروضات کے تقریبا ہزار تحقیقی دستاویزات ہیں۔[15] میرزا محمد علی مدرس نیز ریحانۃ الادب[16] میں 120 تصانیف اور کتاب گلشن ابرارخطا در حوالہ: Closing </ref> missing for <ref> tag

امام زمانہ(ع) سے ملاقات

علامہ حلی کی امام مہدی(ع) کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں میں سے دو واقعات مشہور ہیں۔

تکمیل کتاب توسط امام زمانہ(ع)

پہلا واقعہ ایک کتاب سے متعلق ہے جسے علامہ نے کسی اہل سنت عالم دین سے بطور امانت لیا تھا تاکہ اس کی نسخہ بردری کی جا سکے لیکن آدھی رات کو نیند غالب آنے کی وجہ سے کتاب کی نسخہ برداری میں رکاوٹ بننے لگے اتنے میں امام زمانہ(ع) علامہ کے کمرے میں داخل ہوتے ہیں اور کتاب کی تنسیخ کا باقی ماندہ کام اپنے ذمہ لے لیتے ہیں۔ بیداری کے بعد جب علامہ حلی نے کتاب کی نسخہ برداری کی طرف دیکھا تو معلوم ہوا کہ یہ کام مکمل ہو چکا تھا۔ [17]

اس داستان کا سب سے قدیمی‌ منبع کتاب مجالس المومنین تالیف قاضی نوراللہ شوشتری ہے۔ انہوں نے اس واقعے کیلئے کوئی مکتوب منبع ذکر کئے بغیر لکھا ہے کہ یہ واقعہ مؤمنین کے درمیان مشہور ہے۔ [18]

کربلا کے راستے میں ملاقات

دوسرا واقعہ قصص العلما تالیف تنکابنی میں نقل ہوا ہے۔ مصنف کے مطابق علامہ حلی کی کربلا کی طرف سفر کے دوران راستے میں ان کی کسی سید سے ملاقات ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ گفتگو کے دوران معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ ایک بہت بڑی علمی شخصیت ہے لہذا علامہ نے اپنی علمی مشکلات کو ان سے دریافت کرنا شروع کیا اور وہ ان سوالوں کا جواب دیتے گئے۔ اسی دوران ایک دفعہ علامہ حلی سوال کرتے ہیں کہ آیا زمانہ غیبت کبری میں امام عصر(ع) سے ملاقات کا امکان ہے یا نہیں؟ اس سوال کے ساتھ علامہ حلی کے ہاتھ سے تازیانہ زمین پر گر جاتا ہے تو وہ شخص زمین سے اس تازیانہ کو اٹھا کر علامہ حلی کو دیتے ہوئے جواب دیتے ہیں کہ کیسے ممکن نہیں ہے جبکہ اس (امام زمانہ) کا ہاتھ ابھی تمہارے ہاتھ میں ہے۔ اس وقت علامہ حلی متوجہ ہوتے ہیں کہ یہ شخص خود امام زمانہ(ع) ہیں۔ یہ معلوم ہوتے ہی علامہ حلی نے خود کو امام کے قدموں میں گرا دیا۔ [19]

تنکابنی اس داستان کیلئے کوئی مآخذ ذکر کئے بغیر لوگوں کی زبانی مشہور داستانوں کے طور پر ذکر کرتے ہیں۔ [20] اپنی بات پر گواہ کے طور پر انہوں نے جس چیز کو ذکر کیا ہے وہ یہ ہے کہ علامہ اور اس شخص کے درمیان ہونے والی گفتگو میں اس شخص نے علامہ کو شیخ طوسی کی کتاب تہذیب الاحکام میں ایک حدیث کا ایڈریس بتا دیتے ہیں جس سے علامہ آگاہ نہیں تھے۔ جب علامہ اس سفر سے واپس آکر اس حدیث کو مذکورہ کتاب میں دریافت کرتے ہیں اور اس کے حاشیہ میں علامہ حلی لکھتے ہیں کہ امام عصر(ع) نے مجھے اس حدیث کی طرف رہنمائی فرمائی ہے۔ تنکابنی نے اس واقعہ کو سید محمد طباطبایی صاحب مناہل کے ایک شاگرد "ملا صفرعلی لاہیجی" سے نقل کیا ہے۔ لاہیجی اپنے استاد سے نقل کرتے ہیں کہ جنہوں نے اس کتاب اور اس میں علامہ حلی کی یاداشت کو دیکھا ہے۔ [21]

وفات

علامہ حلی سنہ ۷۱۶ قمری کو سلطان محمد خدابندہ کی وفات کی بعد اپنے آبائی شہر حلہ واپس آ کر آخر عمر تک وہیں قیام رہے۔ آخر کار 21 محرم سنہ 726 ہجری کو78 سال کی عمر کر کے "حلہ" میں وفات پا گئے۔انہیں حرم امیرالمومنین(ع) میں سپرد خاک کیا گیا۔[22]

حوالہ جات

  1. حسن بن یوسف بن مطہر حلی، رجال العلامہ، ص ۴۸
  2. اشمیتکہ، اندیشہ‌ہای کلامی علامہ حلی، ص ۲۴
  3. جمعی از مؤلفان، گلشن ابرار، ج۱، ص ۱۳۸
  4. دائرہ المعارف بزرگ اسلامی، مدخل «آیت اللہ».
  5. عسقلانی، ج۲، ص۳۱۷
  6. مجلسی‌، بحارالانوار، ج۱، ص۲۰۴-۱۰۷/۸۱.
  7. مستدرک الوسائل، ج ۲، ص۴۰۶
  8. خوانساری، روضات الجنات، ج۲، ص ۲۷۹ و ۲۸۰
  9. ابن بطوطہ، سفرنامہ، ج۲، ص ۵۷ و امین، اعیان الشیعہ، ج۲۴، ص ۲۳۱ بہ بعد
  10. سورہنور/آیت نمبر61۔
  11. مدرس، ریحانۃ الادب، ج ۳ و ۴، ص۱۶۹.
  12. خواندمیر، تاریخ حبیب السیر، ج۳، ص ۱۹۷ و شوشتری، مجالس المؤمنین، ج۲، ص ۳۶۰
  13. امین، اعیان الشیعہ، ج۵، ص۴۰۲.
  14. امین، اعیان الشیعہ، ج۵، ص۴۰۲.
  15. امین، اعیان الشیعہ، ج۵، ص۴۰۲.
  16. مدرس، ریحانہ الادب، ج۳ و ۴، ص۱۷۴.
  17. شوشتری، مجالس المؤمنین، ج۱، ص۵۷۱
  18. شوشتری، مجالس المؤمنین، ج۱، ص۵۷۱
  19. تنکابنی، قصص العلماء، ص۸۸۳
  20. تنکابنی، قصص العلماء، ص۸۸۳
  21. تنکابنی، قصص العلماء، ص۸۸۵
  22. امین، اعیان الشیعہ، ج۲۴، ص ۲۲۳ و شوشتری، مجالس المؤمنین، ج۱، ص ۵۷۴


مآخذ

  • ابن بطوطہ، محمد بن عبداللہ، سفرنامہ ابن بطوطہ
  • ابن‌ حجر عسقلانی‌، احمد، لسان‌ المیزان‌، بیروت‌، ۱۳۹۰ق‌.
  • اشمیتکہ، زابینہ، اندیشہ‌ہای کلامی علامہ حلی،ترجمہ: احمد نمایی، بنیاد پژوہش‌ہای اسلامی، مشہد، ۱۳۷۸ش.
  • امین، سیدمحسن، اعیان الشیعہ، بیروت: دارالتعارف للمطبوعات، ۱۴۰۶ق/۱۹۸۶م.
  • تہرانی، آقا بزرگ، الذریعۃ الی تصانیف الشیعۃ، بیروت، دار الاضواء، ۱۴۰۳ق.
  • نسخہ pdf تنکابنی، محمد بن سلیمان، قصص العلماء.
  • جمعی از پژوہشگران حوزہ علمیہ قم، گلشن ابرار، چ۳، قم: نشر معروف، ۱۳۸۵ش.
  • حسن بن یوسف بن مطہر حلی، رجال العلامہ، بہ اہتمام محمدصادق بحرالعلوم، نجف، حیدریہ، ۱۹۶۱ میلادی
  • خواندمیر، غیاث الدین، تاریخ حبیب السیر فی اخبار افراد البشر، بہ اہتمام جلال الدین ہمایی، تہران، کتابخانہ خیام، ۱۳۳۳ شمسی
  • خوانساری، محمدباقر، روضات الجنات فی احوال العلماء و السادات، قم، ۱۹۸۶ میلادی
  • دائرہ المعارف بزرگ اسلامی، مدخل «آیت اللہ»
  • شوشتری، قاضی نوراللہ، مجالس المؤمنین، کتابفروشی اسلامیہ، تہران، ۱۳۶۵ شمسی.
  • مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار، بیروت‌، ۱۴۰۳ق‌، ج۱، ص۳۵، ۵۸، ج۵۱، ص۳۴۳.
  • مدرس، میرزا محمدعلی، ریحانۃ الادب، چ۳، تہران: انتشارات خیام، ۱۳۶۹