حسین وحید خراسانی

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
حسین وحید خراسانی
حسین وحید خراسانی
کوائف
مکمل نام حسین وحید خراسانی
تاریخ ولادت ۱۳۰۰ ش
آبائی شہر نیشاپور
علمی معلومات
مادر علمی نیشاپور، مشہد، نجف اشرف
اساتذہ آیت اللہ خوئی، سید محمد حجت کوہ کمرہ ای، سید محسن الحکیم، سید عبد الہادی شیرازی۔
اجازہ اجتہاد از سید محمد حجت کوہ کمرہ ای۔
تالیفات شرح بر شرائع الاسلام، حاشیہ بر کفایہ، حاشیہ بر مکاسب محرمہ ...
خدمات

حسین وحید خراسانی (ولادت 1300 ش)، قم میں مقیم مراجع تقلید، آیت اللہ العظمی سید ابو القاسم خوئی کے شاگردوں اور حوزہ علمیہ قم کے فقہ و اصول کے اساتید میں سے ہیں۔ انہوں نے دینی و حوزوی تعلیم نیشاپور، مشہد اور نجف اشرف میں حاصل کی ہے۔ حوزہ علمیہ قم میں ان کا اصول فقہ کا درس خارج پر رونق ترین دروس میں سے ہے۔

وہ طلاب علوم دینی کے لئے فلسفہ کی تعلیم کے مخالفین میں سے ہیں۔ ان کے مطابق قرآن و احادیث انسانی ضروریات کے تمام علوم و معارف کا احصی کئے ہوئے ہیں۔ شرح شرائع الاسلام، حاشیہ بر کفایت الاصول و حاشیہ بر مَکاسِب مُحَرَّمہ ان کی تألیفات میں سے ہیں۔

تعلیم و اساتید

وحید خراسانی یکم فروردین ۱۳۰۰ ش بمطابق ۱۱ رجب المرجب ۱۳۳۹ ھ ق میں شہر نیشاپور میں ہیدا ہوئے۔[1] عربی ادب کی تعلیم کے بعد انہوں نے دورہ سطح کے دروس کو استاد محمد نہاوندی کے پاس پڑھا۔ اس کے بعد فقہ کے درس خارج کے لئے استاد میرزا مہدی اصفہانی اور استاد میرزا مہدی آشتیانی کے دروس میں شریک ہوئے۔[2]

انہوں نے فلسفہ کی تعلیم میرزا ابو القاسم الہی اور میرزا مہدی آشتیانی کے پاس حاصل کی۔[3] انہوں نے ۱۳۲۷ ش میں شہر ری میں سید محمد حجت کوہ کمرہ ای سے علمی مباحثہ و گفتگو کے بعد ان سے اجازہ اجتہاد حاصل کیا۔[4] ۲۷ برس کی عمر میں وہ نجف گئے اور انہوں نے وہاں سید عبد الہادی شیرازی، سید محسن الحکیم اور خاص طور پر سید ابو القاسم خوئی کے دروس میں شرکت کی۔[5]

قم میں قیام و تدریس

حسین وحید خراسانی ۱۳۹۰ ھ ق میں ایران واپس آئے اور ابتدا میں انہوں نے مشہد کے طلاب اور علما کے اصرار پر ایک سال تک وہاں تدریس کی۔ اس کے بعد وہ دینی و حوزوی علوم کی تدریس کے لئے قم آ گئے۔[6] حوزہ علمیہ قم میں ان کے فقہ و اصول کے دروس خارج سب سے زیادہ مجمع والے دروس میں سے ہیں۔[7]

مرجعیت

مسجد اعظم قم میں ان کے درس خارج کا ایک منظر۔

1373 ش میں مرجع وقت محمد علی اراکی کے انتقال کے بعد جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم نے سات افراد کے اسماء پیش کئے اور ان کی تقلید کو جائز قرار دیا۔ ان سات افراد میں حسین وحید خراسانی کا نام بھی شامل تھا۔[8]

تالیفات

ان کی ویب سائٹ کے مطابق ان کے بعض تصنیفات یہ ہیں: توضیح المسائل، احکام مہاجران، حلقہ وصل رسالت و امامت، آشنایی با اصول دین، مناسک حج، بہ یاد اول مظلوم روزگار، ریحانہ رسول الله، بہ یاد آن کہ مذہب حق یادگار اوست، بہ یاد بضعہ خاتم الانبیاء در طوس حضرت شمس الشموس و بہ یاد آخرین خلیفہ و حجت پروردگار۔[9] شرح بر شرائع الاسلام، حاشیہ بر کفایت الاصول، حاشیہ بر مکاسب محرمہ و حاشیہ بر العروۃ الوثقی ان کی دیگر تالیفات ہیں۔[10]

فلسفہ کی مخالفت

وحید خراسانی فلسفہ کو ایک بے فائدہ علم تصور کرتے ہیں اور اس کی تعلیم کے مخالف ہیں۔[11] ان کے مطابق قرآن و احادیث اہل بیت (ع) نے انسانی ضرورت کے تمام علوم و معارف کو انسان کے حوالے کر دیا ہے۔[12]

وہ طلاب علوم دینی کو نصیحت فرماتے ہیں کہ وہ فلسفہ کے بجای قرآن و روایات پر اہنا وقت صرف کریں۔[13]

حضرت زہرا کی شہادت پر چھٹی کی درخواست

حسین وحید خراسانی نے ۱۳۷۹ ش میں جمہوری اسلامی ایران کے صدر مملکت سید محمد خاتمی سے ملاقات میں ان سے درخواست کی وہ حضرت فاطمہ زہرا (ع) کی شہادت کے روز سرکاری چھٹی کا اعلان کریں۔[14] ان کی یہ درخواست صدر کی موافقت کے ساتھ حکومتی نشست میں پیش ہوئی اور اسے پاس ہونے کے لئے پارلیامینٹ بھیجا گیا۔[15] وہاں اس بل کے پاس ہونے کے بعد اس دن ایران میں سرکاری چھٹی کا اعلان کر دیا گیا۔[16]

حضرت عباس کے چہرہ کی نمائش کی مخالفت

ٓآیت اللہ وحید خراسانی نے ۱۳۸۹ ش میں حوزہ علمیہ قم میں مبلغین کے ایک اجلاس میں مختار نامہ سریل میں حضرت ابو الفضل العباس کے چہرے کو دکھائے جانے کے فیصلہ پر شدید اعتراض کیا اور متنبہ کیا کہ اگر ایسا کیا گیا تو کچھ بھی کہنا اور کچھ بھی پیش آنا ممکن ہو جائے گا۔[17] اسی طرح سے انہوں نے کربلا میں موجود میں بعض دینی شخصیتوں جیسے حضرت عباس (ع) کے چہرے کو رستاخیز نامی فیلم میں دکھائے جانے کے سلسلہ میں کئے گئے سوال کے جواب میں فرمایا: ایسا کرنا جائز نہیں ہے۔[18]

حوالہ جات

  1. «زندگی‌ نامہ آیت‌ الله العظمی وحید خراسانی»، وبگاه مؤسسہ جہانی سبطین، ۵ آذر، ۱۳۸۸ش، دیده‌ شده در ۲۶ اردیبہشت ۱۳۹۷ش.
  2. «زندگی‌ نامہ آیت‌ الله العظمی وحید خراسانی»، وبگاه مؤسسہ جہانی سبطین، ۵ آذر، ۱۳۸۸ش، دیده‌ شده در ۲۶ اردیبهشت ۱۳۹۷ش.
  3. «زندگی‌ نامہ آیت‌ الله العظمی وحید خراسانی»، وبگاه مؤسسہ جہانی سبطین، ۵ آذر، ۱۳۸۸ش، دیده‌شده در ۲۶ اردیبہشت ۱۳۹۷ش.
  4. «زندگی‌ نامہ آیت‌ الله العظمی وحید خراسانی»، وبگاه مؤسسہ جہانی سبطین، ۵ آذر، ۱۳۸۸ش، دیده‌ شده در ۲۶ اردیبهشت ۱۳۹۷ش.
  5. «زندگی‌ نامہ آیت‌ الله العظمی وحید خراسانی»، وبگاه مؤسسہ جہانی سبطین، ۵ آذر، ۱۳۸۸ش، دیده‌ شده در ۲۶ اردیبہشت ۱۳۹۷ش.
  6. «زندگی‌ نامہ آیت‌ الله العظمی وحید خراسانی»، وبگاه مؤسسہ جہانی سبطین، ۵ آذر، ۱۳۸۸ش، دیده‌ شده در ۲۶ اردیبہشت ۱۳۹۷ش.
  7. «زندگی‌ نامہ آیت‌ الله العظمی وحید خراسانی»، وبگاه مؤسسہ جہانی سبطین، ۵ آذر، ۱۳۸۸ش، دیده‌ شده در ۲۶ اردیبہشت ۱۳۹۷ش.
  8. وبگاه جامعہ مدرسین حوزه علمیہ قم، «بيانيہ مہم درباره‌ مرجعيت‌ پس از رحلت حضرت آیت‌ الله العظمی اراکی»، وبگاه جامعہ مدرسین حوزه علمیہ قم، دیده‌ شده در ۶ خرداد ۱۳۹۷.
  9. «آثار و تألیفات»، وبگاه دفتر مرجع عالیقدر شیعہ، حضرت آیت‌ الله العظمی وحید خراسانی، دیده‌ شده در ۶ خرداد ۱۳۹۷.
  10. «زندگی‌ نامہ آیت‌ الله العظمی وحید خراسانی»، وبگاه مؤسسہ جہانی سبطین، ۵ آذر، ۱۳۸۸ش، دیده‌ شده در ۲۶ اردیبہشت ۱۳۹۷ش.
  11. «آیت‌ الله العظمی وحید خراسانی و نقد فلسفہ و عرفان»، وبگاه مرجع ما، ۲۰دی ۱۳۹۱، دیده‌ شده در ۶ خرداد ۱۳۹۷.
  12. «آیت‌ الله وحید خراسانی: عاشق فلسفہ بودم»، وبگاه تابناک، ۹ بہمن ۱۳۹۲، دیده‌ شده در ۶ خرداد ۱۳۹۷.
  13. «آیت‌ الله وحید خراسانی: عاشق فلسفہ بودم»، وبگاه تابناک، ۹ ہہمن ۱۳۹۲، دیده‌ شده در ۶ خرداد ۱۳۹۷.
  14. «ماجرای تعطیل شدن روز شہادت حضرت زہرا»، وبگاه مشرق‌ نیوز، ۴ اردیبہشت ۱۳۹۱، دیده‌ شده در ۶ خرداد ۱۳۹۷.
  15. «ناگفتہ ہای تصویب تعطیلی سالروز شہادت حضرت زہرا»، وبگاه شیعہ نیوز، ۴ اردیبہشت ۱۳۹۱، دیده‌ شده در ۵ خرداد ۱۳۹۷.
  16. «ناگفتہ ہای تصویب تعطیلی سالروز شہادت حضرت زہرا»، وبگاه شیعہ نیوز، ۴ اردیبہشت ۱۳۹۱، دیده‌ شده در ۵ خرداد ۱۳۹۷.
  17. «هشدار و تہدید شدید اللحن آیت‌ الله وحید خراسانی در مورد نمایش چہره حضرت ابو الفضل در سریال مختار»، وبگاه خبر آنلاین، ۱۳ آذر ۱۳۸۹، دیده‌ شده در ۷ خرداد ۱۳۹۷.
  18. «اطلاعیہ آیت‌ الله وحید خراسانی درباره فیلم رستاخیز»، وبگاه مشرق‌ نیوز، ۲۳ تیر ۱۳۹۴، دیده‌ شده در ۷ خرداد ۱۳۹۷.


مآخذ

  • آثار و تألیفات، وبگاه دفتر مرجع عالی قدر شیعہ، حضرت آیت‌ الله العظمی وحید خراسانی، دیده‌ شده در ۶ خرداد ۱۳۹۷۔
  • آیت‌ الله العظمی وحید خراسانی و نقد فلسفہ و عرفان»، وبگاه مرجع ما، ۲۰ دی ۱۳۹۱، دیده‌ شده در ۶ خرداد ۱۳۹۷۔
  • آیت‌ الله وحید خراسانی: عاشق فلسفہ بودم، وبگاه تابناک، ۹ بہمن ۱۳۹۲، دیده‌ شده در ۶ خرداد ۱۳۹۷۔
  • اطلاعیہ آیت‌ الله وحید خراسانی درباره فیلم رستاخیز»، وبگاه مشرق‌ نیوز، ۲۳ تیر ۱۳۹۴، دیده‌ شده در ۷ خرداد ۱۳۹۷۔
  • بيانيہ مہم درباره‌ مرجعيت‌ پس از رحلت حضرت آیت‌ الله العظمی اراکی»، وبگاه جامعہ مدرسین حوزه علمیہ قم، دیده‌ شده در ۶ خرداد ۱۳۹۷۔
  • زندگی‌ نامہ آیت‌ الله العظمی وحید خراسانی، وبگاه مؤسسہ جہانی سبطین، ۵ آذر، ۱۳۸۸ش، دیده‌ شده در ۲۶ اردیبهشت ۱۳۹۷ش۔
  • ماجرای تعطیل شدن روز شہادت حضرت زہرا»، وبگاه مشرق‌ نیوز، ۴ اردیبہشت ۱۳۹۱، دیده‌ شده در ۶ خرداد ۱۳۹۷۔
  • ناگفتہ ہای تصویب تعطیلی سالروز شہادت حضرت زہرا»، وبگاه شیعہ نیوز، ۴ اردیبہشت ۱۳۹۱، دیده‌ شده در ۵ خرداد ۱۳۹۷۔
  • ہشدار و تہدید شدید اللحن آیت‌ الله وحید خراسانی در مورد نمایش چہره حضرت ابو الفضل در سریال مختار»، وبگاه خبر آنلاین، ۱۳ آذر ۱۳۸۹، دیده‌ شده در ۷ خرداد ۱۳۹۷۔