نفقہ

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
مشہور احکام
توضیح المسائل2.png
نماز
واجب نمازیں یومیہ نمازیںنماز جمعہنماز عیدنماز آیاتنماز میت
مستحب نمازیں نماز تہجدنماز غفیلہنماز جعفر طیارنماز امام زمانہنماز استسقاءنماز شب قدرنماز وحشتنماز شکرنماز استغاثہدیگر نمازیں
دیگر عبادات
روزہخمسزکاتحججہاد
امر بالمعروف و نہی عن المنکرتولیتبری
احکام طہارت
وضوغسلتیممنجاساتمطہرات
مدنی احکام
وکالتوصیتضمانتکفالتارث
عائلی احکام
شادی بیاهمتعہتعَدُّدِ اَزواجنشوز
طلاقمہریہرضاعہمبستریاستمتاع
عدالتی احکام
قضاوتدیّتحدودقصاصتعزیر
اقتصادی احکام
خرید و فروخت (بیع)اجارہقرضسود
دیگر احکام
حجابصدقہنذرتقلیدکھانے پینے کے آدابوقفاعتکاف
متعلقہ موضوعات
بلوغفقہشرعی احکامتوضیح المسائل
واجبحراممستحبمباحمکروہ

نفقہ، ضروری مخارج جیسے خوراک، لباس اور مسکن کو کہا جاتا ہے زندگی گزارنے کی لئے جن کی ضرورت ہے. شادی، رشتہ داری اور ملکیت اس کے اصلی اسباب ہیں.[1]

والدین اور اولاد کونان و نفقہ(خرچ) ضرورت کی حالت میں اور بیوی کا نفقہ واجب، اور دوسرے رشتے داروں کا خرچ و نفقہ مستحب ہے. بیوی کا نان و نفقہ طلاق کے بعد ختم ہو جاتا ہے.

لفظی اور اصطلاحی معنی

نفقہ کا لفظی معنی خرچا، روزانہ کا خرچا، نفقہ دینا یعنی کسی دوسرے کی سرپرستی کرنا اور اس کی کھانے پینے کی ضرورت کو پورا کرنا ہے. فقہی اصطلاح میں ایسے مال کو کہتے ہیں کہ جو ایک شخص کی حیثیت کے مطابق اس کی زندگی گزارنے کے لئے کافی ہو اور وہ درج ذیل ہے کھانے پینے کا خرچا، لباس، اور مسکن.[2]فقہاء نے نفقہ کے معنی کی طرف زیادہ توجہ نہیں دی، بلکہ زیادہ تر اس کے مصادیق کو بیان کیا ہے. انکی نظر میں شادی، رشتہ داری اور ملکیت نفقہ کے اسباب سے ہیں.[3]

قرآن میں

قرآن کی بعض آیات میں نفقہ کی طرف اشارہ ہوا ہے.

  • وَ عَلی الْمَوْلُودِ لَهُ رِزْقُهُنَّ وَ كِسوَتهُنَّ بِالمَعْرُوفِ(ترجمہ: اس درمیان صاحب اولاد کا فرض ہے کہ ماؤں کی روٹی اور کپڑے کا مناسب طریقہ سے انتظام کرے.)[4]
  • اَلرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَی النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللَّـهُ بَعْضَهُمْ عَلَی بَعْضٍ وَبِمَا أَنْفَقُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ(ترجمہ: مرد عورتوں کے حاکم اور نگراں ہیں ان فضیلتوں کی بنا پر جو خد انے بعض کو بعض پر دی ہیں اور اس بنا پر کہ انہوں نے عورتوں پر اپنا مال خرچ کیا ہے.)[5]

بیوی کا نفقہ

بیوی کا نان و نفقہ شوہر کے ذمے ہے اور اس کی ادائیگی کے لئے کسی قسم کی کوئی شرط نہیں ہے.[6]بیوی کا نفقہ اس کی شان اور مقام کے مطابق ہونا چاہیے. مثال کے طور پر اگر شادی سے پہلے اس کی بیوی نے کام کے لئے ملازمہ رکھی ہوئی تھی تو شادی کے بعد شوہر کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس کے لئے خادمہ رکھے اور یہ اس کے نان ونفقہ میں شمار ہوتا ہے. فقہی نگاہ میں عورت کے نفقہ کے لئے کوئی خاص مقدار معین نہیں ہوئی، اور اتنا ہو کہ اس کی ضروریات جیسے خوراک، لباس اور رہن سہن کی جگہ وغیرہ کے لئے کافی ہو.

نفقہ کی مقدار

عورت کے نفقہ کو معین کرنے کے بارے فقہ میں اختلاف ہے. بعض نے صرف خاوند کی مالی حالت کو مدنظر رکھا ہے، بعض نے صرف زوجہ اور بعض نے دونوں کی حالت کو نفقہ کا معیار معین کرنے کے لئے قرار دیا ہے. صرف خاوند کی مالی حالت کے لئے شیعہ فقہ میں سورہ طلاق کی آیت نمبر ٧ سند کے طور پر بیان کی گئی ہے.[7]لیکن اس نظریے کی مخالفین کی نظر یہ ہے کہ خاوند مالی طور پر اپنی حیثیت کے مطابق جتنا خرچا دے سکتا ہے دے اور باقی اس کے عہدے پر نہیں ہے، وہ اسی آیت کے اگلے حصے میں استناد کرتے ہیں.[8]جواہر الکلام کے مولف کی نظر میں یہ آیت غیر زوجہ کے بارے میں ہے کہ جو اس پر قادر نہ ہو اس کے عہدے سے ساقط ہو جائے گی.[9]

بعض شیعہ فقہاء کی نظر میں اگر خاوند بیوی کا نان و نفقہ ادا نہ کر سکے تو اس صورت میں بیوی حق فسق نکاح رکھتی ہے. انکی سند سورہ بقرہ کی آیت نمبر ٢٢٩ ہے.[10]انکی نظر میں بیوی کو نفقہ دینے کے بغیر رکھنا امساک بہ معروف نہیں اور حاکم کے نہ ہونے کی صورت میں، بیوی فسخ کا حق رکھتی ہے. اکثر فقہاء کی نگاہ میں بیوی کو یہ حق حاصل نہیں ہے.[11]

احکام

  • عدت کی مدت میں عورت کا نفقہ شوہر کے ذمے ہے.
  • دائمی زوجہ کا نفقہ واجب ہے.
  • عورت کا نفقہ نافرمانی یا طلاق کی صورت میں ساقط ہو جاتا ہے.
  • مرتد ہونے کی صورت میں نفقہ ساقط ہو جاتا ہے.[12]

والدین اور اولاد کا نفقہ

شیعہ فقہاء نے نفقہ کے لئے اولاد کی کوئی خاص عمر معین نہیں کی ہے، بلکہ فرزند کے نفقہ کے بارے میں، شرط یہ ہے کہ فرزند ضرورت مند ہو اور والد بھی دینے کی حیثیت رکھتا ہو.

اگر والدین ضرورت مند ہیں تو اولاد پر انکا نفقہ واجب ہے اور اگر اولاد نہیں یا وہ نفقہ ادا کرنے کی طاقت نہیں رکھتے تو اس صورت میں پوتوں اور نواسوں کا حق ہے.[13]اولاد کا نفقہ والد کے ذمے ہے اور اگر والد کی وفات ہو گئی ہو یا نفقہ دینے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو، یہ دادا کے ذمے ہے، اور اگر دادا زندہ نہ ہو یا نفقہ دینے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو یہ والدہ کے ذمے ہے اور اگر والدہ بھی نہ ہو یا اس کی اپنی مشکلات ہوں، تو اس صورت میں والد یا والدہ کے خاندان میں سے کسی کوئی بھی یہ نفقہ ادا کرنا ہو گا. [14]

دوسروں سے پہلے اپنا اور اپنی بیوی کا نفقہ مقدم ہے.[15]اگر کوئی نفقہ دینے کی طاقت رکھتا ہو، لیکن نفقہ نہ دے تو اس صورت میں اسے حاکم نفقہ دینے کے لئے مجبور کر سکتا ہے.[16]

حوالہ جات

  1. امام خمینی، تحریرالوسیله، ج۲، ص۳۱۳.
  2. دهخدا، ج۱۴، ص۲۲۶۴۱.
  3. امام خمینی، تحریر الوسیله، ج۲، ص۳۱۳.
  4. بقره/۲۳۳.
  5. نساء، آیه ۳۴.
  6. امام خمینی، تحریرالوسیله، ج۲، ص۳۱۹.
  7. لِینفِق ذُو سَعَة مِن سَعَتِهِ و مَن قُدِرَ عَلَیهِ رِزقُهُ فَلینفِق مِمّا ءاتهُ اللَّـهُ...».
  8. سَیجعَلُ اللَّـهُ بَعدَ عُسر یسرا.
  9. نجفی، جواهرالکلام، ج۳۱، ص۳۳. ۳۳۳.
  10. «الطَّلاقُ مَرَّتانِ فَاِمسَاک بِمَعروف اَو تَسریحٌ بِاِحسن»
  11. امام خمینی، تحریرالوسیله، ج۲، ص۲۸۷.
  12. امام خمینی، تحریرالوسیله، ج۲، ص۳۱۴-۳۱۴.
  13. امام خمینی، تحریرالوسیله، ج۲، ص۳۲۲-۳۲۳.
  14. امام خمینی، تحریرالوسیله، ج۲، ص۳۲۲-۳۲۳.
  15. امام خمینی، تحریرالوسیله، ج۲، ص۳۱۹.
  16. امام خمینی، تحریرالوسیله، ج۲، ص۳۲۳.


مآخذ

  • تحریرالوسیلة‌
  • دھخدا