مسودہ:وراثت میں بیوی کا حصہ
| یہ مقالہ ایک فقہی موضوع کے بارے میں توصیفی تحریر ہے اور دینی اعمال کے لئے معیار نہیں بن سکتا۔ دینی اعمال کے لئے دیگر مصادر کی طرف رجوع کریں۔ |
| بعض عملی اور فقہی احکام |
|---|
وراثت میں بیوی کا حصہ، شوہر کی موت کے بعد اس کے ترکے سے بیوی کو ملنے والے حصے کو کہا جاتا ہے۔ سورہ نساء آیت نمبر 12 کے مطابق اگر شوہر کی اولاد ہو تو بیوی کو شوہر کے ترکے کا آٹھواں حصہ اور اگر اولاد نہ ہو تو چوتھائی حصہ وراثت میں ملے گا۔ اگر مرد کی متعدد بیویاں ہوں تو یہ حصہ (آٹھواں یا چوتھائی) ان سب میں مشترکہ طور پر تقسیم ہوگا۔
ارث کے معاملے میں فقہ اور قانون کے اختلافی مسائل میں سے ایک بیوی کا شوہر کی بعض غیر منقولہ جائیداد سے محروم رہنا ہے۔ اگرچہ وراثت کے طبقوں میں میاں بیوی کا ایک دوسرے سے ارث پانے کے اصول پر اجماع ہے، لیکن امامیہ فقہاء میں سے ابن جنید اسکافی کے علاوہ سب اس بات پر عقیدے رکھتے ہیں کہ بیوی زمین سے وراثت نہیں پاتی۔ اس حکم کی تفصیلات میں بھی مختلف آراء پائی جاتی ہیں: کچھ کا کہنا ہے کہ پابندی تمام اقسام کی زمینوں پر لاگو ہوتی ہے، جبکہ بعض اسے صرف رہائشی زمینوں تک محدود سمجھتے ہیں اور بعض فقہاء کا ماننا ہے کہ بیوی زمین کی "عین" (اصل جائیداد) سے تو وراثت نہیں پاتی، لیکن اس کی "قیمت" سے وراثت ضرور پاتی ہے۔ اس حکم میں تمام خواتین شامل ہیں یا یہ حکم صرف بے اولاد خواتین پر لاگوہ ہوتا ہے، اس سلسلے میں بھی فقہاء کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔
مقام بحث
شوہر کی موت کے بعد اس کی جائیداد سے دوسرے ورثاء کی طرح اس کی بیوی کو بھی ایک مشخص حصہ ملتا ہے۔[1] مسلمانوں کا اس بات پر اجماع ہے کہ میاں بیوی وراثت کے تمام طبقوں میں شامل ہیں[2] اسی طرح اجماع اور سورہ نساء آیت نمبر 12 کے مطابق اگر شوہر کی اولاد ہو تو بیوی شوہر کے ترکے کا آٹھواں حصہ اور اگر اولاد نہ ہو تو چوتھائی حصہ وراثت میں پاتی ہے۔[3] نیز اگر مرد کی متعدد بیویاں ہوں تو یہ حصہ (آٹھواں یا چوتھائی) ان سب میں مساوی طور پر تقسیم ہوتا ہے اور ہر ایک کو مکمل حصہ نہیں ملتا۔[4]
اس سلسلے میں فقہ اور قانون کے اختلافی مباحث میں سے ایک شوہر کی غیر منقولہ جائیداد (عقار) سے بیوی کو وراثت ملنے اور نہ ملنے کا مسئلہ ہے۔[5] اہل سنت کے چاروں مسالک کے فقہاء اس بات کے قائل ہیں کہ بیوی کو شوہر کی تمام جائیداد، خواہ منقول ہو یا غیر منقول، سے وراثت پاتی ہیں؛[6] لیکن شیعہ فقہاء سوائے ابن جنید اسکافی کے، اس بات کے معتقد ہیں کہ بیوی زمین سے وراثت نہیں پاتی، لیکن عمارتوں اور اس میں استعمال ہونے والی چیزوں کی قیمت سے وراثت پاتی ہے۔[7]
اس حکم کی تفصیلات میں بھی اختلاف پایا جاتا ہے؛ منجملہ ان میں غیر منقولہ جائیداد کی حدود میں اختلاف اور یہ کہ آیا وراثت سے محرومی کا حکم تمام خواتین پر لاگو ہوتی ہے یا صرف بے اولاد عورتوں پر۔[8] یہ اختلافات ایران کے شہری قانون میں بھی موجود ہیں جو وقت کے ساتھ ساتھ وراثت کے قوانین میں تبدیلیوں کا سبب بنے ہیں۔[9]
بیوی کا زمین کی وراثت سے محروم ہونا
بیوی کا شوہر کی وراثت کے ایک حصے سے محروم ہونا امامیہ فقہ کی خصوصیات میں سے ایک سمجھا جاتا ہے اور اس قول کو ابن جنید اسکافی کے علاوہ مشہور فقہاء قبول کرتے ہیں۔[10] ابن جنید کا ماننا ہے کہ بیوی دیگر ورثاء کی طرح شوہر کے تمام اموال، خواہ منقول ہوں یا غیر منقول کی عین اور قیمت سے وراثت پاتی ہے۔[11]
مشہور متقدم فقہاء کا ماننا ہے کہ بیوی ہر قسم کی زمینوں اور درختوں کی عین اور قیمت سے ارث نہیں پاتی ہے، لیکن عمارت کی قیمت سے وراثت پاتی ہے؛[12] اس نظریے پر اجماع اور احادیث کے ذریعے استدلال کیا جاتا ہے۔[13] اس کے برعکس، بعض کا ماننا ہے کہ بیوی کو ہر قسم کی زمینوں کی عین اور قیمت سے ارث نہیں ملتی، لیکن عمارت اور درختوں کی قیمت سے وراثت پاتی ہے؛[14] اس نظریہ کو پندرھویں صدی کے مشہور فقہاء نے قبول کیا ہے۔[15] اسی طرح بیوی کو رہائشی زمینوں کی عین اور قیمت سے ارث نہ ملنا اور زرعی زمینوں اور عمارت کی قیمت سے وراثت پانا،[16] اور اس محرومی کو صرف زمین کی عین تک محدود کرنا[17] اس موضوع کے بارے میں موجود دو دیگر اقوال ہیں۔
زمین میں ارث سے محرومیت کا بے اولاد عورتوں سے مختص ہونا
شوہر کی وراثت کے بعض حصوں سے بیوی کی محرومیت کی عمومیت کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے؛ مشہور متقدم فقہاء اس محرومیت کو تمام عورتوں پر لاگو سمجھتے ہیں،[18] لیکن بعض متقدمین[19] اور مشہور متاخرین اسے صرف بے اولاد عورتوں کے ساتھ مختص سمجھتے ہیں۔[20]
بعض روایات میں اس حکم کی حکمت بیوہ عورت کی دوسری شادی یا اس سے پیدا ہونے والے بچوں کے ذریعے ورثاء کی جائیداد میں غیروں کے داخل ہونے سے روکنا بیان کی گئی ہے۔[21]
بیوی کا زمین سے ارث پانے میں اختلاف کی وجوہات
اس سلسلے میں موجود تمام نظریات کی دلیل آیت میراث زوجین اور روایات[22] ہیں؛ لیکن ان میں موجود اختلاف کو روایات کے تعارض کو حل کرنے کے طریقہ کار میں فقہاء کے اختلاف کا نتیجہ سمجھا گیا ہے۔[23] شیخ حر عاملی کا ماننا ہے کہ ابن جنید کے نظریے کی دلیل امام صادق علیہ السلام سے مروی ایک حدیث ہے جسے شیخ طوسی نے تقیہ پر اور شیخ صدوق نے اسے بیوی کے بے اولاد ہونے پر حمل کیا ہے۔[24]
تصنیفات
اس موضوع پر عربی اور فارسی میں متعدد تصانیف موجود ہیں؛ جن میں شیخ الشریعہ اصفہانی کی کتاب صیانۃ الابانۃ یا ابانۃ المختار فی ارث الزوجۃ من ثمن العقار آیت اللہ جعفر سبحانی کے مقدمے کے ساتھ، آیت اللہ گلپایگانی کی کتاب میراث الزوجۃ اور فخرالدین صانعی کی کتاب ارث زوجہ از منظر فقیہ اہل بیت عصمت و طہارت(ع) شامل ہیں۔
حوالہ جات
- ↑ نجفی، جواہر الکلام، 1404ھ، ج39، ص196۔
- ↑ سبحانی، نظام الارث فی الشریعة الاسلامیة الغراء، 1415ھ، ص307۔
- ↑ نجفی، جواہر الکلام، 1404ھ، ج39، ص207۔
- ↑ علامہ حلی، قواعد الاحکام، 1413ھ، ج3، ص375؛ امام خمینی، تحریر الوسیله، دار العلم، ج2، ص397۔
- ↑ عابدینی، «بیوی کا شوہر کی تمام یا بعض جائیداد سے ارث پانا؟»، ص41-43، مجله فقه۔
- ↑ شیخ طوسی، الخلاف، 1407ھ، ج4، ص116۔
- ↑ شہید ثانی، مسالک الافهام، 1413ھ، ج13، ص184۔
- ↑ شہید ثانی، مسالک الافهام، 1413ھ، ج13، ص184و190۔
- ↑ صادقیمقدم، «تحول در حقوق ارث زن از اموال غیر منقول شوهر»، نشریه دانش حقوق مدنی۔
- ↑ شہید ثانی، مسالک الافهام، 1413ھ، ج13، ص184۔
- ↑ ابن جنید، مجموعة فتاوی ابن جنید، 1416ھ، ص336۔
- ↑ شیخ طوسی، النهایه، 1400ھ، ص642؛ ابوالصلاح حلبی، الکافی فی الفقه، 1403ھ، ص374؛ محقق حلی، شرائع الاسلام، 1408ھ، ج4، ص28-29۔
- ↑ شیخ طوسی، الخلاف، 1407ھ، ج4، ص116۔
- ↑ علامہ حلی، قواعد الاحکام، 1413ھ، ج3، ص376؛ شہید اول، الدروس، 1417ھ، ج2، ص358۔
- ↑ امام خمینی، تحریر الوسیله، دار العلم، ج2، ص397؛ حکیم، منهاج الصالحین، 1410ھ، ج2، ص407؛ خویی، منهاج الصالحین، 1410ھ، ج2، ص372؛ تبریزی، منهاج الصالحین، 1426ھ، ج2، ص470؛ وحید خراسانی، منهاج الصالحین، 1428ھ، ج3، ص426؛ سیستانی، منهاج الصالحین، 1417ھ، ج3، ص351۔
- ↑ شیخ مفید، المقنعه، 1413ھ، ص687؛ ابن ادریس، السرائر، 1410ھ، ج3، ص258-259؛ محقق حلی، المختصر النافع، 1418ھ، ج2، ص272۔
- ↑ سید مرتضی، الانتصار، 1415ھ، ص585؛ علامہ حلی، مختلف الشیعه، 1413ھ، ج9، ص53؛ «بیوی کا شوہر کی زمین اور غیر منقول اموال سے ارث پانا »، دفتر مقام معظم رهبری کی آفیشل ویب سائٹ۔
- ↑ شیخ مفید، المقنعه، 1413ھ، ص687؛ سید مرتضی، الانتصار، 1415ھ، ص585؛ شیخ طوسی، الاستبصار، 1390ھ، ج4، ص154؛ ابن ادریس، السرائر، 1410ھ، ج3، ص258-259۔
- ↑ شیخ صدوق، کتاب من لا یحضره الفقیه، 1413ھ، ج4، ص349؛ محقق حلی، شرائع الاسلام، 1408ھ، ج4، ص28-29۔
- ↑ شہید ثانی، مسالک الافهام، 1413ھ، ج13، ص190-191۔
- ↑ شہید ثانی، مسالک الافهام، 1413ھ، ج13، ص192۔
- ↑ حرّ عاملی، وسائل الشیعه، 1409ھ، ج26، ص205-212۔
- ↑ شہید ثانی، مسالک الافهام، 1413ھ، ج13، ص186-190۔
- ↑ حرّ عاملی، وسائل الشیعه، 1409ھ، ج26، ص213۔
مآخذ
- «بیوی کا شوہر کی زمین اور غیر منقول اموال سے ارث پانا »، دفتر مقام معظم رهبری کی آفیشل ویب سائٹ، تاریخ مشاہدہ: 18 اپریل سنہ 2026ء۔
- ابنادریس، محمد بن منصور، السرائر الحاوی لتحریر الفتاوی، قم، دفتر انتشارات اسلامى وابسته به جامعه مدرسين حوزه علميه قم، 1410ھ۔
- ابنجنید، محمد بن احمد، مجموعة فتاوی ابن جنید، (جمعآوری علیپناه اشتهاردی)، قم، دفتر انتشارات اسلامى وابسته به جامعه مدرسين حوزه علميه قم، 1416ھ۔
- ابوالصلاح حلبی، تقیالدین بن نجمالدین، الکافی فی الفقه، اصفهان، کتابخانه عمومی امام امیرالمؤمنین(ع)، 1403ھ۔
- امام خمینی، سید روحالله، تحریر الوسیله، قم، دار العلم، بیتا.
- تبریزی، جواد بن علی، منهاج الصالحین، قم، مجمع الامام المهدی(عج)، 1426ھ۔
- حرّ عاملی، محمد بن حسن، وسائل الشیعه، قم، مؤسسة آل البیت(ع)، 1409ھ۔
- حکیم، سید محسن، منهاج الصالحین، بیروت، دار التعارف للمطبوعات، 1410ھ۔
- خویی، سید ابوالقاسم، منهاج الصالحین، قم، نشر مدینة العلم، 1410ھ۔
- سبحانی، جعفر، نظام الارث فی الشریعة الاسلامیة الغراء، قم، مؤسسه امام صادق(ع)، 1415ھ۔
- سید مرتضی، علی بن حسین، الانتصار فی انفرادات الامامیه، قم، دفتر انتشارات اسلامى وابسته به جامعه مدرسين حوزه علميه قم، 1415ھ۔
- سیستانی، سید علی، منهاج الصالحین، قم، دفتر آیتالله سیستانی، 1417ھ۔
- شهید اول، محمد بن مکی، الدروس الشرعیه فی فقه الامامیه، قم، دفتر انتشارات اسلامى وابسته به جامعه مدرسين حوزه علميه قم، 1417ھ۔
- شهید ثانی، زینالدین بن علی، مسالک الافهام الی تنقیح شرائع الاسلام، قم، مؤسسة المعارف الاسلامیه، 1413ھ۔
- شیخ صدوھ، محمد علی، کتاب من لا یحضره الفقیه، قم، دفتر انتشارات اسلامى وابسته به جامعه مدرسين حوزه علميه قم، 1413ھ۔
- شیخ طوسی، محمد بن حسن، الاستبصار فی ما اختلف من الاخبار، تهران، دار الکتب الاسلامیه، 1390ھ۔
- شیخ طوسی، محمد بن حسن، الخلاف، قم، دفتر انتشارات اسلامى وابسته به جامعه مدرسين حوزه علميه قم، 1407ھ۔
- شیخ طوسی، محمد بن حسن، النهایه فی مجرد الفقه و الفتاوی، بیروت، دار الکتاب العربی، 1400ھ۔
- شیخ مفید، محمد بن محمد، المقنعه، قم، کنگره جهانی هزاره شیخ مفید، 1413ھ۔
- صادقیمقدم، محمدحسن، «تحول در حقوق ارث زن از اموال غیر منقول شوهر»، نشریه دانش حقوق مدنی، شماره2، اسفند 1391ہجری شمسی۔
- عابدینی، احمد، «بیوی کا شوہر کی تمام یا بعض جائیداد سے ارث پانا؟»، مجله فقه (فقہ میں ایک نئی کاوش)، شماره15، 1388ہجری شمسی۔
- علامه حلی، حسن بن یوسف، قواعد الاحکام، قم، دفتر انتشارات اسلامى وابسته به جامعه مدرسين حوزه علميه قم، 1413ھ۔
- علامه حلی، حسن بن یوسف، مختلف الشیعه فی احکام الشریعه، قم، دفتر انتشارات اسلامى وابسته به جامعه مدرسين حوزه علميه قم، 1413ھ۔
- «قانون مدنی میں اصلاح کا قانون»، مجلس شواری اسلامی کا تحقیقاتی مرکز، تاریخ مشاہدہ: 18 اپریل سنہ 2026ء۔
- «قانون مدنی»، مجلس شواری اسلامی کا تحقیقاتی مرکز، تاریخ تصویب: 8 مئی 1928ء، تاریخ مشاہدہ: 18 اپریل سنہ 2026ء۔
- محقق حلی، جعفر بن حسن، المختصر النافع فی فقه الامامیه، قم، مؤسسة المطبوعات الدینیه، 1418ھ۔
- محقق حلی، جعفر بن حسن، شرائع الاسلام فی مسائل الحلال و الحرام، قم، انتشارات اسماعیلیان، 1408ھ۔
- نجفی، محمدحسن، جواهر الکلام فی شرح شرائع الاسلام، بیروت، دار احیاء التراث العربی، 1404ھ۔
- وحید خراسانی، حسین، منهاج الصالحین، قم، مدرسه امام باقر(ع)، 1428ھ۔