مندرجات کا رخ کریں

مسودہ:نہج البلاغہ کا پہلا خطبہ

ویکی شیعہ سے
نہج البلاغہ کا پہلا خطبہ
نہج البلاغہ کا پہلا خطبہ
حدیث کے کوائف
صادر ازمشہور قول کی بنا پر یہ خطبہ امام علیؑ سے صادر ہوا
شیعہ مآخذکافی، تحف العقول، احتجاج
اہل سنت مآخذربیع الابرار، دستور معالم الحکم، مطالب‌ السؤول، تفسیر فخر رازی
مشہور احادیث
حدیث سلسلۃ الذہبحدیث ثقلینحدیث کساءمقبولہ عمر بن حنظلۃحدیث قرب نوافلحدیث معراجحدیث ولایتحدیث وصایتحدیث جنود عقل و جہلحدیث شجرہ


نہج البلاغہ کا پہلا خطبہ، اسلامی جہان بینی میں ایک وسیع مفاہیم پر مشتمل خطبہ ہے جس میں توحید، کائنات کی تخلیق، انبیاء کی بعثت، قرآن کی خصوصیات اور حج کے وجوب جیسے موضوعات پر گفتگو کی گئی ہے۔ یہ خطبہ شیعہ اور اہل سنت دونوں منابع میں تفصیلی یا بطور اقتباس نقل ہوا ہے۔

اس خطبہ کو امام علی علیہ السلام کی طرف نسبت دینے میں محققین کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔ قطب الدین راوندی نے مکمل سند کے ساتھ اور سید عبد الزہرا الحسینی الخطیب نے اس کے مضامین اور وسیع پیمانے پر نقل ہونے کو مد نظر رکھتے ہوئے امام علیؑ سے صادر ہونے کی تائید کی ہیں۔ امام کاظم علیہ السلام اور امام رضا علیہ السلام کی طرف سے بھی اس خطبے کے بعض حصے نقل ہوئے ہیں۔ جبکہ بعض محققین، حدیثی مصادر میں موجود اسناد کی روشنی میں اس خطبہ کو امام رضا علیہ السلام سے بھی منسوب کرتے ہیں۔

اجمالی تعارف اور اہمیت

نہج البلاغہ کا پہلا خطبہ اسلامی اعتقادی اصولوں کی وضاحت[1] میں ایک جامع خطبے کے طور پر جانا جاتا ہے۔[2] نہج البلاغہ کی شروحات کے علاوہ اس خطبے کی شرح میں مستقل کتابیں بھی تحریر کی گئی ہیں۔[3] روایات کے مطابق یہ خطبہ امام علی علیہ السلام نے اپنے دور حکومت کے آخری سالوں یعنی 38 سے 40ھ کے درمیان کوفہ میں ارشاد فرمایا ہے۔[4]

نہج البلاغہ کے محقق احمد پاکتچی کے مطابق سید رضی نے اس خطبے کو نہج البلاغہ میں بطور اقتباس نقل کیا ہے۔[5] تحف العقول[6] میں موجود متن کے ساتھ موازنہ کرنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس خطبے کا اصل متن اس سے زیادہ تفصیلی تھا۔[7] نہج البلاغہ کے شارح قطب راوندی نے بھی اس خطبے کا اصل متن نسبتا طویل ہونے کی طرف اشارہ کیا ہے۔[8]

مختلف دینی مباحث میں اس خطبہ سے استناد

نہج البلاغہ کے پہلے خطبے کو توحید، [9] نبوت،[10] اور امامت[11] جیسے بنیادی اعتقادات کے علاوہ بعض فلسفی مباحث جیسے عالم مادہ کا قدیم ہونا[12] اور عالم مادہ میں پہلے مخلوق [13] کے بارے میں بطور استناد پیش کئے جاتے ہیں۔ قرآن کے مفسرین نے بھی سورہ بقرہ آیت نمبر 196-203،[14] سورہ کہف کی آیت 57،[15] سورہ ہود کی آیت 7[16] اور سورہ غافر کی آیت 7[17] کی تفسیر میں بھی اس خطبے کے بعض اقتباسات سے استفادہ کیا ہے۔

اس خطبہ کی بلاغت کی وجہ سے علم بلاغت[18] اور علم صرف[19] میں بھی اس پر توجہ دی گئی ہے اور فخر رازی نے اسے قرآن کریم اور سنت نبویؐ کے بعد سب سے بہترین کلام قرار دیا ہے۔[20]

امام علی علیہ السلام کی طرف نسبت دینا

مشہور نظریے کے مطابق نہج البلاغہ کا پہلا خطبہ امام علی علیہ السلام سے صادر ہوا ہے۔[21] قطب راوندی نے اپنی کتاب "منہاج البراعہ" میں اس خطبے کو مکمل اسناد کے ساتھ نقل کیا ہے۔[22] مصادر نہج البلاغہ کے مصنف سید عبد الزہرا حسینی خطیب نے شیعہ اور اہل سنت مصادر میں مختلف افراد کے توسط سے وسیع پیمانے پر نقل ہونے کا حوالے دیتے ہوئے یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ یہ خطبہ امام علی علیہ السلام سے صادر ہوا ہے۔[23] ان کے مطابق یہ خطبہ امام علی علیہ السلام کے کلام سے اس حد تک شباہت رکھتا ہے کہ آپ کے کلام سے واقفیت رکھنے والے افراد اس خطبے کو امام علیؑ کی طرف منسوب کرنے میں کسی قسم کی تردید کا اظہار نہیں کرتے ہیں اور اس کا متن اسے سند سے بے نیاز کرتا ہے۔[24] ان کا یہ بھی خیال ہے کہ یہ خطبہ اہل بیت علیہم السلام کے توسط سے نسل در نسل منتقل ہوتا آیا ہے اور امام کاظم علیہ السلام نے فتح بن عبداللہ کے خط کے جواب میں اس کے کچھ حصے نقل کئے ہیں۔ اسی طرح امام رضا علیہ السلام نے مامون کے دربار میں اس خطبے کے بعض مطالب بیان کئے ہیں۔[25]

اس خطبے کے بعض حصے مشابہ الفاظ اور مختصر کمی بیشی کے ساتھ دیگر شیعہ مصادر جیسے تحف العقول،[26] الاحتجاج طبرسی،[27] نہج‌الحق و کشف الصدق[28] اور اہل سنت مصادر جیسے ربیع الابرار،[29]دستور معالم الحکم[30] مطالب‌السئول[31] میں امام علی علیہ السلام سے نقل ہوئے ہیں۔

امام رضا علیہ السلام کی طرف نسبت

احمد پاکتچی کے مطابق الکافی[32] اور توحید صدوق،[33] جیسے مصادر میں امام علیؑ کا نام لئے بغیر اس خطبے کے بعض حصوں کو امام کاظمؑ اور امام رضاؑ[34] سے نقل کرنے کا حوالہ دیتے ہوئے اس خطبے کو امام رضاؑ کا کلام سمجھتے ہیں۔[35] اسی طرح ان کے بقول اس خطبے کے بعض حصے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ خطبہ اسلامی دنیا میں فلسفیانہ گفتگو کے رواج پانے کے دور میں ارشاد ہوا ہے، جو ان کے مطابق امام رضا علیہ السلام کے زمانے میں پروان چڑھی نہ کہ امام علی علیہ السلام کے دور میں۔ اس کے علاوہ شیخ صدوق نے خطبے کے کچھ حصوں کو عیون اخبار الرضا اور کتاب توحید میں امام رضا علیہ السلام کی طرف منسوب کیا ہے۔[36] پاکتچی کے مطابق سید رضی سے پہلے یا بعد کے کسی مستند منبع میں یہ خطبہ امام علی علیہ السلام کی طرف منسوب نہیں کیا گیا ہے۔[37] محمد تقی شوشتری نے اپنی کتاب "بہج الصباغہ"[38] میں بھی اس نظریے کو قبول کیا ہے۔[39]

مضامین

نہج البلاغہ کے پہلے خطبے میں خدا کی معرفت اور اس کی وحدانیت کی گواہی کو دین کی بنیاد قرار دیتے ہوئے[40] خدا کی بارہ صفات بیان کی گئی ہیں۔[41] آیت اللہ جوادی آملی کے مطابق اس خطبے میں خدا کے سلبی صفات، حمد کا خدا کے لئے خاص ہونا، خدا کی نعمتوں کا عالمگیر ہونا، ان نعمتوں کو شمار کرنے میں انسان کا عاجز ہونا،[42] خدا کی ذات کی کنہ معرفت سے انسان کا قاصر ہونا، خدا کو توصیف سے پاک و منزہ قرار دینا، خداوندعالم کی ازلیت اور تقسیم پذیر نہ ہونا جیسے موضوعات کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے۔[43]

اس کے علاوہ موجودات اور ہواؤں کی تخلیق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے زمین کے استحکام کو خدا کی قدرت اور رحمت الہی کے مظاہر قرار دئے گئے ہیں[44] اور حضرت آدم کی تخلیق، فرشتوں کا انہیں سجدہ کرنا اور ابلیس کی نافرمانی کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے۔[45] آخر میں انبیاء کی بعثت کا فلسفہ، قرآن کی خصوصیات اور احکام[46] نیز حج کی فرضیت اور اس کے اسرار بیان کئے گئے ہیں۔[47]

متن اور ترجمہ

متن ترجمه
الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی لَا یَبْلُغُ مِدْحَتَہُ الْقَائِلُونَ وَ لَا یُحْصِی نَعْمَاءَہُ الْعَادُّونَ وَ لَا یُؤَدِّی حَقَّہُ الْمُجْتَہِدُونَ الَّذِی لَا یُدْرِکُہُ بُعْدُ الْہِمَمِ وَ لَا یَنَالُہُ غَوْصُ الْفِطَنِ الَّذِی لَیْسَ لِصِفَتِہِ حَدٌّ مَحْدُودٌ وَ لَا نَعْتٌ مَوْجُودٌ وَ لَا وَقْتٌ مَعْدُودٌ وَ لَا أَجَلٌ مَمْدُودٌ فَطَرَ  الْخَلَائِقَ بِقُدْرَتِہِ وَ نَشَرَ الرِّیَاحَ بِرَحْمَتِہِ وَ وَتَّدَ بِالصُّخُورِ مَیَدَانَ أَرْضِہِ: تمام حمد اس اللہ کیلئے ہے ، جس کی مدح تک بولنے والوں کی رسائی نہیں، جس کی نعمتوں کو گننے والے گن نہیں سکتے، نہ کوشش کرنے والے اس کا حق ادا کر سکتے ہیں، نہ بلند پرواز ہمتیں اسے پا سکتی ہیں، نہ عقل و فہم کی گہرائیاں اس کی تہ تک پہنچ سکتی ہیں۔ اس کے کمالِ ذات کی کوئی حد معین نہیں، نہ اس کیلئے توصیفی الفاظ ہیں، نہ اس (کی ابتدا) کیلئے کوئی وقت ہے جسے شمار میں لایا جا سکے، نہ اس کی کوئی مدت ہے جو کہیں پر ختم ہو جائے۔ اس نے مخلوقات کو اپنی قدرت سے پیدا کیا، اپنی رحمت سے ہواؤں کو چلایا اور تھرتھراتی ہوئی زمین پر پہاڑوں کی میخیں گاڑیں۔
أَوَّلُ الدِّینِ مَعْرِفَتُہُ وَ کَمَالُ مَعْرِفَتِہِ التَّصْدِیقُ بِہِ وَ کَمَالُ التَّصْدِیقِ بِہِ تَوْحِیدُہُ وَ کَمَالُ تَوْحِیدِہِ الْإِخْلَاصُ لَہُ وَ کَمَالُ الْإِخْلَاصِ لَہُ نَفْیُ الصِّفَاتِ عَنْہُ لِشَہَادَۃِ کُلِّ صِفَۃٍ أَنَّہَا غَیْرُ الْمَوْصُوفِ وَ شَہَادَۃِ کُلِّ مَوْصُوفٍ أَنَّہُ غَیْرُ الصِّفَۃِ فَمَنْ وَصَفَ اللَّہَ سُبْحَانَہُ فَقَدْ قَرَنَہُ وَ مَنْ قَرَنَہُ فَقَدْ ثَنَّاہُ وَ مَنْ ثَنَّاہُ فَقَدْ جَزَّأَہُ وَ مَنْ جَزَّأَہُ فَقَدْ جَہِلَہُ وَ مَنْ جَہِلَہُ فَقَدْ أَشَارَ إِلَیْہِ وَ مَنْ أَشَارَ إِلَیْہِ فَقَدْ حَدَّہُ وَ مَنْ حَدَّہُ فَقَدْ عَدَّہُ وَ مَنْ قَالَ فِیمَ فَقَدْ ضَمَّنَہُ وَ مَنْ قَالَ عَلَا مَ فَقَدْ أَخْلَی مِنْہُ: کَائِنٌ‏  لَا عَنْ حَدَثٍ مَوْجُودٌ لَا عَنْ عَدَمٍ مَعَ کُلِّ شَیْءٍ لَا بِمُقَارَنَۃٍ وَ غَیْرُ کُلِّ شَیْءٍ لَا بِمُزَایَلَۃٍ فَاعِلٌ لَا بِمَعْنَی الْحَرَکَاتِ وَ الْآلَۃِ بَصِیرٌ إِذْ لَا مَنْظُورَ إِلَیْہِ مِنْ خَلْقِہِ مُتَوَحِّدٌ إِذْ لَا سَکَنَ یَسْتَأْنِسُ بِہِ وَ لَا یَسْتَوْحِشُ لِفَقْدِہِ‏ دین کی ابتدا اس کی معرفت ہے، کمالِ معرفت اس کی تصدیق ہے، کمالِ تصدیق توحید ہے، کمالِ توحید تنزیہ و اخلاص ہے اور کمالِ تنزیہ و اخلاص یہ ہے کہ اس سے صفتوں کی نفی کی جائے، کیونکہ ہر صفت شاہد ہے کہ وہ اپنے موصوف کی غیر ہے اور ہر موصوف شاہد ہے کہ وہ صفت کے علاوہ کوئی چیز ہے۔ لہٰذا جس نے ذاتِ الٰہی کے علاوہ صفات مانے اس نے ذات کا ایک دوسرا ساتھی مان لیا اور جس نے اس کی ذات کا کوئی اور ساتھی مانا اس نے دوئی پیدا کی اور جس نے دوئی پیدا کی اس نے اس کیلئے جز بنا ڈالا اور جو اس کیلئے اجزا کا قائل ہوا وہ اس سے بے خبر رہا اور جو اس سے بے خبر رہا اس نے اسے قابلِ اشارہ سمجھ لیا اور جس نے اسے قابلِ اشارہ سمجھ لیا اس نے اس کی حد بندی کر دی اور جو اسے محدود سمجھا وہ اسے دوسری چیزوں ہی کی قطار میں لے آیا اور جس نے یہ کہا کہ ’’وہ کس چیز میں ہے‘‘؟ اس نے اسے کسی شے کے ضمن میں فرض کر لیا اور جس نے یہ کہا کہ ’’وہ کس چیز پر ہے؟‘‘ اس نے اور جگہیں اس سے خالی سمجھ لیں۔ وہ ہے ہوا نہیں، موجود ہے مگر عدم سے وجود میں نہیں آیا، وہ ہر شے کے ساتھ ہے نہ جسمانی اتصال کی طرح، وہ ہر چیز سے علیحدہ ہے نہ جسمانی دوری کے طور پر، وہ فاعل ہے لیکن حرکات و آلات کا محتاج نہیں، وہ اس وقت بھی دیکھنے والا تھا جب کہ مخلوقات میں کوئی چیز دکھائی دینے والی نہ تھی، وہ یگانہ ہے اس لئے کہ اس کا کوئی ساتھی ہی نہیں ہے کہ جس سے وہ مانوس ہو اور اسے کھو کر پریشان ہو جائے۔
أَنْشَأَ الْخَلْقَ إِنْشَاءً وَ ابْتَدَأَہُ ابْتِدَاءً بِلَا رَوِیَّۃٍ أَجَالَہَا وَ لَا تَجْرِبَۃٍ اسْتَفَادَہَا وَ لَا حَرَکَۃٍ أَحْدَثَہَا وَ لَا ہَمَامَۃِ نَفْسٍ اضْطَرَبَ فِیہَا أَحَالَ الْأَشْیَاءَ لِأَوْقَاتِہَا وَ [لَاءَمَ‏] لَأَمَ بَیْنَ مُخْتَلِفَاتِہَا وَ غَرَّزَ غَرَائِزَہَا وَ أَلْزَمَہَا أَشْبَاحَہَا عَالِماً بِہَا قَبْلَ ابْتِدَائِہَا مُحِیطاً بِحُدُودِہَا وَ انْتِہَائِہَا عَارِفاً بِقَرَائِنِہَا وَ أَحْنَائِہَا: ثُمَّ أَنْشَأَ سُبْحَانَہُ فَتْقَ الْأَجْوَاءِ وَ شَقَّ الْأَرْجَاءِ وَ سَکَائِکَ الْہَوَاءِ فَأَجْرَی فِیہَا مَاءً مُتَلَاطِماً تَیَّارُہُ مُتَرَاکِماً زَخَّارُہُ حَمَلَہُ عَلَی مَتْنِ الرِّیحِ الْعَاصِفَۃِ وَ الزَّعْزَعِ الْقَاصِفَۃِ فَأَمَرَہَا بِرَدِّہِ وَ سَلَّطَہَا عَلَی شَدِّہِ وَ قَرَنَہَا إِلَی حَدِّہِ الْہَوَاءُ مِنْ تَحْتِہَا فَتِیقٌ وَ الْمَاءُ مِنْ فَوْقِہَا دَفِیقٌ ثُمَّ أَنْشَأَ سُبْحَانَہُ رِیحاً اعْتَقَمَ مَہَبَّہَا وَ أَدَامَ مُرَبَّہَا وَ أَعْصَفَ مَجْرَاہَا وَ أَبْعَدَ مَنْشَأَہَا فَأَمَرَہَا بِتَصْفِیقِ الْمَاءِ الزَّخَّارِ وَ إِثَارَۃِ مَوْجِ الْبِحَارِ فَمَخَضَتْہُ مَخْضَ السِّقَاءِ وَ عَصَفَتْ بِہِ عَصْفَہَا بِالْفَضَاءِ تَرُدُّ أَوَّلَہُ [عَلَی‏] إِلَی آخِرِہِ وَ سَاجِیَہُ [عَلَی‏] إِلَی مَائِرِہِ حَتَّی عَبَّ عُبَابُہُ وَ رَمَی بِالزَّبَدِ رُکَامُہُ فَرَفَعَہُ فِی ہَوَاءٍ مُنْفَتِقٍ وَ جَوٍّ مُنْفَہِقٍ فَسَوَّی مِنْہُ سَبْعَ سَمَوَاتٍ جَعَلَ سُفْلَاہُنَّ مَوْجاً مَکْفُوفاً وَ عُلْیَاہُنَّ سَقْفاً مَحْفُوظاً وَ سَمْکاً مَرْفُوعاً بِغَیْرِ عَمَدٍ یَدْعَمُہَا وَ لَا دِسَارٍ [یَنْتَظِمُہَا] یَنْظِمُہَا ثُمَّ زَیَّنَہَا بِزِینَۃِ الْکَوَاکِبِ وَ ضِیَاءِ الثَّوَاقِبِ‏  وَ أَجْرَی فِیہَا سِراجاً مُسْتَطِیراً (وَ قَمَراً مُنِیراً) فِی فَلَکٍ دَائِرٍ وَ سَقْفٍ سَائِرٍ وَ رَقِیمٍ مَائِرٍ. اس نے پہلے پہل خلق کو ایجاد کیا بغیر کسی فکر کی جولانی کے اور بغیر کسی تجربہ کے جس سے فائدہ اٹھانے کی اسے ضرورت پڑی ہو اور بغیر کسی حرکت کے جسے اس نے پیدا کیا ہو اور بغیر کسی ولولہ اور جوش کے جس سے وہ بیتاب ہوا ہو۔ ہر چیز کو اس کے وقت کے حوالے کیا، بے جوڑ چیزوں میں توازن و ہم آہنگی پیدا کی، ہر چیز کو جداگانہ طبیعت اور مزاج کا حامل بنایا اور ان طبیعتوں کیلئے مناسب صورتیں ضروری قرار دیں۔ وہ ان چیزوں کو ان کے وجود میں آنے سے پہلے جانتا تھا، ان کی حد و نہایت پر احاطہ کئے ہوئے تھا اور ان کے نفوس و اعضاء کو پہچانتا تھا۔ پھر یہ کہ اس نے کشادہ فضا، وسیع اطراف و اکناف اور خلا کی وسعتیں خلق کیں اور ان میں ایسا پانی بہایا جس کے دریائے مواج کی لہریں طوفانی اور بحر زخار کی موجیں تہ بہ تہ تھیں، اسے تیز ہوا اور تند آندھی کی پشت پر لادا، پھر اسے پانی کے پلٹانے کا حکم دیا اور اسے اس کے پابند رکھنے پر قابو دیا اور اسے پانی کی سرحد سے ملا دیا۔ اس کے نیچے ہوا دور تک پھیلی ہوئی تھی اور اوپر پانی ٹھاٹھیں مار رہا تھا۔ پھر اللہ سبحانہ نے اس پانی کے اندر ایک ہوا خلق کی جس کا چلنا بانجھ (بے ثمر) تھا اور اسے اس کے مرکز پر قرار رکھا، اس کے جھونکے تیز کر دیئے اور اس کے چلنے کی جگہ دور و دراز تک پھیلا دی، پھر اس ہوا کو مامور کیا کہ وہ پانی کے ذخیرے کو تھپیٹرے دے اور بحر بے کراں کی موجوں کو اچھالے۔ اس ہوا نے پانی کو یوں متھ دیا جس طرح دہی کے مشکیزے کو متھا جاتا ہے اور اسے دھکیلتی ہوئی تیزی سے چلی جس طرح خالی فضا میں چلتی ہے اور پانی کے ابتدائی حصے کو آخری حصے پر اور ٹھہرے ہوئے کو چلتے ہوئے پانی پر پلٹانے لگی، یہاں تک کہ اس متلاطم پانی کی سطح بلند ہو گئی اور وہ تہ بہ تہ پانی جھاگ دینے لگا، اللہ نے وہ جھاگ کھلی ہوا اور کشادہ فضا کی طرف اٹھائی اور اس سے ساتوں آسمان پیدا کئے۔ نیچے والے آسمان کو رکی ہوئی موج کی طرح بنایا اور اوپر والے آسمان کو محفوظ چھت اور بلند عمارت کی صورت میں اس طرح قائم کیا کہ نہ ستونوں کے سہارے کی حاجت تھی، نہ بندھنوں سے جوڑنے کی ضرورت۔ پھر ان کو ستاروں کی سج دھج اور روشن تاروں کی چمک دمک سے آراستہ کیا اور ان میں ضوپاش چراغ اور جگمگاتا چاند رواں کیا جو گھومنے والے فلک، چلتی پھرتی چھت اور جنبش کھانے والی لوح میں ہے۔
ثُمَّ فَتَقَ مَا بَیْنَ السَّمَوَاتِ الْعُلَا فَمَلَأَہُنَّ أَطْوَاراً مِنْ مَلَائِکَتِہِ مِنْہُمْ سُجُودٌ لَا یَرْکَعُونَ وَ رُکُوعٌ لَا یَنْتَصِبُونَ وَ صَافُّونَ لَا یَتَزَایَلُونَ وَ مُسَبِّحُونَ لا یَسْأَمُونَ لَا یَغْشَاہُمْ نَوْمُ الْعُیُونِ وَ لَا سَہْوُ الْعُقُولِ وَ لَا فَتْرَۃُ الْأَبْدَانِ وَ لَا غَفْلَۃُ النِّسْیَانِ وَ مِنْہُمْ أُمَنَاءُ عَلَی وَحْیِہِ وَ أَلْسِنَۃٌ إِلَی رُسُلِہِ وَ مُخْتَلِفُونَ بِقَضَائِہِ وَ أَمْرِہِ وَ مِنْہُمُ الْحَفَظَۃُ لِعِبَادِہِ وَ السَّدَنَۃُ لِأَبْوَابِ جِنَانِہِ وَ مِنْہُمُ الثَّابِتَۃُ فِی الْأَرَضِینَ السُّفْلَی أَقْدَامُہُمْ وَ الْمَارِقَۃُ مِنَ السَّمَاءِ الْعُلْیَا أَعْنَاقُہُمْ وَ الْخَارِجَۃُ مِنَ الْأَقْطَارِ أَرْکَانُہُمْ وَ الْمُنَاسِبَۃُ لِقَوَائِمِ الْعَرْشِ أَکْتَافُہُمْ نَاکِسَۃٌ دُونَہُ أَبْصَارُہُمْ مُتَلَفِّعُونَ تَحْتَہُ بِأَجْنِحَتِہِمْ مَضْرُوبَۃٌ بَیْنَہُمْ وَ بَیْنَ مَنْ دُونَہُمْ حُجُبُ الْعِزَّۃِ وَ أَسْتَارُ الْقُدْرَۃِ لَا یَتَوَہَّمُونَ رَبَّہُمْ بِالتَّصْوِیرِ-وَ لَا یُجْرُونَ عَلَیْہِ صِفَاتِ الْمَصْنُوعِینَ وَ لَا یَحُدُّونَہُ بِالْأَمَاکِنِ وَ لَا یُشِیرُونَ إِلَیْہِ بِالنَّظَائِرِ پھر خداوند عالم نے بلند آسمانوں کے درمیان شگاف پیدا کئے اور ان کی وسعتوں کو طرح طرح کے فرشتوں سے بھر دیا۔ کچھ ان میں سر بسجود ہیں جو رکوع نہیں کرتے، کچھ رکوع میں ہیں جو سیدھے نہیں ہوتے، کچھ صفیں باندھے ہوئے ہیں جو اپنی جگہ نہیں چھوڑتے اور کچھ پاکیزگی بیان کر رہے ہیں جو اکتاتے نہیں، نہ ان کی آنکھوں میں نیند آتی ہے، نہ ان کی عقلوں میں بھول چوک پیدا ہوتی ہے، نہ ان کے بدنوں میں سستی و کاہلی آتی ہے، نہ ان پر نسیان کی غفلت طاری ہوتی ہے۔ ان میں کچھ تو وحی الٰہی کے امین، اس کے رسولوں کی طرف پیغام رسانی کیلئے زبانِ حق اور اس کے قطعی فیصلوں اور فرمانوں کو لے کر آنے جانے والے ہیں، کچھ اس کے بندوں کے نگہبان اور جنت کے دروازوں کے پاسبان ہیں، کچھ وہ ہیں جن کے قدم زمین کی تہ میں جمے ہوئے ہیں (اور ان کی گردنیں بلند ترین آسمانوں سے بھی باہر نکلی ہوئی ہیں) اور ان کے پہلو اطراف عالم سے بھی آگے بڑھ گئے ہیں، ان کے شانے عرش کے پایوں سے میل کھاتے ہیں، عرش کے سامنے ان کی آنکھیں جھکی ہوئی ہیں اور اس کے نیچے اپنے پروں میں لپٹے ہوئے ہیں اور ان میں اور دوسری مخلوق میں عزت کے حجاب اور قدرت کے سرا پردے حائل ہیں۔ وہ شکل و صورت کے ساتھ اپنے رب کا تصور نہیں کرتے، نہ اس پر مخلوق کی صفتیں طاری کرتے ہیں، نہ اسے محل و مکان میں گھرا ہوا سمجھتے ہیں، نہ اشباہ و نظائر سے اس کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
ثُمَّ جَمَعَ سُبْحَانَہُ مِنْ حَزْنِ الْأَرْضِ وَ سَہْلِہَا وَ عَذْبِہَا وَ سَبَخِہَا تُرْبَۃً سَنَّہَا بِالْمَاءِ حَتَّی خَلَصَتْ وَ لَاطَہَا بِالْبَلَّۃِ حَتَّی لَزَبَتْ فَجَبَلَ مِنْہَا صُورَۃً ذَاتَ أَحْنَاءٍ وَ وُصُولٍ وَ أَعْضَاءٍ وَ فُصُولٍ أَجْمَدَہَا حَتَّی اسْتَمْسَکَتْ وَ أَصْلَدَہَا حَتَّی صَلْصَلَتْ لِوَقْتٍ مَعْدُودٍ وَ أَمَدٍ [أَجَلٍ‏] مَعْلُومٍ ثُمَّ نَفَخَ فِیہَا مِنْ رُوحِہِ- [فَتَمَثَّلَتْ‏] فَمَثُلَتْ إِنْسَاناً ذَا أَذْہَانٍ یُجِیلُہَا وَ فِکَرٍ یَتَصَرَّفُ بِہَا وَ جَوَارِحَ یَخْتَدِمُہَا وَ أَدَوَاتٍ یُقَلِّبُہَا وَ مَعْرِفَۃٍ یَفْرُقُ بِہَا بَیْنَ الْحَقِّ وَ الْبَاطِلِ وَ الْأَذْوَاقِ وَ الْمَشَامِّ وَ الْأَلْوَانِ وَ الْأَجْنَاسِ مَعْجُوناً بِطِینَۃِ الْأَلْوَانِ الْمُخْتَلِفَۃِ- وَ الْأَشْبَاہِ الْمُؤْتَلِفَۃِ وَ الْأَضْدَادِ الْمُتَعَادِیَۃِ وَ الْأَخْلَاطِ الْمُتَبَایِنَۃِ مِنَ الْحَرِّ وَ الْبَرْدِ وَ الْبَلَّۃِ وَ الْجُمُودِ- [وَ الْمَسَاءَۃِ وَ السُّرُورِ] وَ اسْتَأْدَی اللَّہُ سُبْحَانَہُ الْمَلَائِکَۃَ وَدِیعَتَہُ لَدَیْہِمْ وَ عَہْدَ وَصِیَّتِہِ إِلَیْہِمْ فِی الْإِذْعَانِ بِالسُّجُودِ لَہُ وَ الْخُنُوعِ لِتَکْرِمَتِہِ فَقَالَ سُبْحَانَہُ [لَہُمْ‏] (اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِیسَ‏)- [وَ قَبِیلَہُ اعْتَرَتْہُمُ‏] اعْتَرَتْہُ الْحَمِیَّۃُ وَ غَلَبَتْ [عَلَیْہِمُ‏] عَلَیْہِ الشِّقْوَۃُ وَ [تَعَزَّزُوا] تَعَزَّزَ بِخِلْقَۃِ النَّارِ وَ [اسْتَوْہَنُوا] اسْتَوْہَنَ خَلْقَ الصَّلْصَالِ فَأَعْطَاہُ اللَّہُ النَّظِرَۃَ اسْتِحْقَاقاً لِلسُّخْطَۃِ وَ اسْتِتْمَاماً لِلْبَلِیَّۃِ وَ إِنْجَازاً لِلْعِدَۃِ فَقَالَ إِنَّکَ‏ (مِنَ الْمُنْظَرِینَ إِلی یَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُومِ‏) ثُمَّ أَسْکَنَ سُبْحَانَہُ آدَمَ دَاراً أَرْغَدَ فِیہَا [عِیشَتَہُ‏] عَیْشَہُ وَ آمَنَ فِیہَا مَحَلَّتَہُ وَ حَذَّرَہُ إِبْلِیسَ وَ عَدَاوَتَہُ فَاغْتَرَّہُ عَدُوُّہُ نَفَاسَۃً عَلَیْہِ بِدَارِ الْمُقَامِ وَ مُرَافَقَۃِ الْأَبْرَارِ فَبَاعَ الْیَقِینَ بِشَکِّہِ وَ الْعَزِیمَۃَ بِوَہْنِہِ وَ اسْتَبْدَلَ بِالْجَذَلِ وَجَلًا وَ [بِالاعْتِزَازِ] بِالاغْتِرَارِ نَدَماً ثُمَّ بَسَطَ اللَّہُ سُبْحَانَہُ لَہُ فِی تَوْبَتِہِ وَ لَقَّاہُ کَلِمَۃَ رَحْمَتِہِ وَ وَعَدَہُ الْمَرَدَّ إِلَی جَنَّتِہِ وَ أَہْبَطَہُ إِلَی دَارِ الْبَلِیَّۃِ وَ تَنَاسُلِ الذُّرِّیَّۃِ پھر اللہ نے سخت و نرم اور شیریں و شورہ زار زمین سے مٹی جمع کی، اسے پانی سے اتنا بھگویا کہ وہ صاف ہو کر نتھر گئی اور تری سے اتنا گوندھا کہ اس میں لس پیدا ہو گیا، اس سے ایک ایسی صورت بنائی جس میں موڑ ہیں اور جوڑ، اعضاء ہیں اور مختلف حصے، اسے یہاں تک سکھایا کہ وہ خود تھم سکی اور اتنا سخت کیا کہ وہ کھنکھنانے لگی۔ ایک وقت معین اور مدت معلوم تک اسے یونہی رہنے دیا۔ پھر اس میں روح پھونکی تو وہ ایسے انسان کی صورت میں کھڑی ہو گئی جو قوائے ذہنی کو حرکت دینے والا، فکری حرکات سے تصرف کرنے والا، اعضاء و جوارح سے خدمت لینے والا اور ہاتھ پیروں کو چلانے والا ہے اور ایسی شناخت کا مالک ہے جس سے حق و باطل میں تمیز کرتا ہے اور مختلف مزوں، بوؤں، رنگوں اور جنسوں میں فرق کرتا ہے۔ خود رنگا رنگ کی مٹی اور ملتی جلتی ہوئی موافق چیزوں اور مخالف ضدوں اور متضاد خلطوں سے اس کا خمیر ہوا ہے، یعنی گرمی، سردی، تری، خشکی کا پیکر ہے۔ پھر اللہ نے فرشتوں سے چاہا کہ وہ اس کی سونپی ہوئی ودیعت ادا کریں اور اس کے پیمانِ وصیت کو پورا کریں جو سجدۂ آدمؑ کے حکم کو تسلیم کرنے اور اس کی بزرگی کے سامنے تواضع و فروتنی کیلئے تھا۔ اس لئے اللہ نے کہا کہ: ’’آدم علیہ السلام کو سجدہ کرو، ابلیس کے سوا سب نے سجدہ کیا‘‘، اسے عصبیت نے گھیر لیا، بدبختی اس پر چھا گئی، آگ سے پیدا ہونے کی وجہ سے اپنے کو بزرگ و برتر سمجھا، اور کھنکھناتی ہوئی مٹی کی مخلوق کو ذلیل جانا، اللہ نے اسے مہلت دی تاکہ وہ پورے طور پر غضب کا مستحق بن جائے اور (بنی آدمؑ) کی آزمائش پایۂ تکمیل تک پہنچے اور وعدہ پورا ہو جائے۔ چنانچہ اللہ نے اس سے کہا کہ: ’’تجھے وقت معین کے دن تک کی مہلت ہے‘‘۔ پھر اللہ نے آدم علیہ السلام کو ایسے گھر میں ٹھہرایا جہاں ان کی زندگی کو خوشگوار رکھا، انہیں شیطان اور اس کی عداوت سے بھی ہوشیار کر دیا، لیکن ان کے دشمن نے ان کے جنت میں ٹھہرنے اور نیکو کاروں میں مل جل کر رہنے پر حسد کیا اور آخر کار انہیں فریب دے دیا۔ آدم علیہ السلام نے یقین کو شک اور ارادے کے استحکام کو کمزوری کے ہاتھوں بیچ ڈالا، مسرت کو خوف سے بدل لیا اور فریب خوردگی کی وجہ سے ندامت اٹھائی۔ پھر اللہ نے آدم علیہ السلام کیلئے توبہ کی گنجائش رکھی، انہیں رحمت کے کلمے سکھائے، جنت میں دوبارہ پہنچانے کا ان سے وعدہ کیا اور انہیں دارِ ابتلا و محل افزائشِ نسل میں اتار دیا۔
وَ اصْطَفَی سُبْحَانَہُ مِنْ وَلَدِہِ أَنْبِیَاءَ أَخَذَ عَلَی الْوَحْیِ مِیثَاقَہُمْ وَ عَلَی تَبْلِیغِ الرِّسَالَۃِ أَمَانَتَہُمْ لَمَّا بَدَّلَ أَکْثَرُ خَلْقِہِ عَہْدَ اللَّہِ إِلَیْہِمْ فَجَہِلُوا حَقَّہُ وَ اتَّخَذُوا الْأَنْدَادَ مَعَہُ وَ اجْتَالَتْہُمُ الشَّیَاطِینُ عَنْ مَعْرِفَتِہِ وَ اقْتَطَعَتْہُمْ عَنْ عِبَادَتِہِ فَبَعَثَ فِیہِمْ رُسُلَہُ وَ وَاتَرَ إِلَیْہِمْ أَنْبِیَاءَہُ لِیَسْتَأْدُوہُمْ مِیثَاقَ فِطْرَتِہِ وَ یُذَکِّرُوہُمْ مَنْسِیَّ نِعْمَتِہِ وَ یَحْتَجُّوا عَلَیْہِمْ بِالتَّبْلِیغِ وَ یُثِیرُوا لَہُمْ دَفَائِنَ الْعُقُولِ وَ یُرُوہُمْ آیَاتِ الْمَقْدِرَۃِ مِنْ سَقْفٍ فَوْقَہُمْ مَرْفُوعٍ وَ مِہَادٍ تَحْتَہُمْ مَوْضُوعٍ وَ مَعَایِشَ تُحْیِیہِمْ وَ آجَالٍ تُفْنِیہِمْ وَ أَوْصَابٍ تُہْرِمُہُمْ وَ أَحْدَاثٍ [تَتَتَابَعُ‏] تَتَابَعُ عَلَیْہِمْ وَ لَمْ یُخْلِ اللَّہُ سُبْحَانَہُ خَلْقَہُ مِنْ نَبِیٍّ مُرْسَلٍ أَوْ کِتَابٍ مُنْزَلٍ أَوْ حُجَّۃٍ لَازِمَۃٍ أَوْ مَحَجَّۃٍ قَائِمَۃٍ رُسُلٌ لَا تُقَصِّرُ بِہِمْ قِلَّۃُ عَدَدِہِمْ وَ لَا کَثْرَۃُ الْمُکَذِّبِینَ لَہُمْ مِنْ سَابِقٍ سُمِّیَ لَہُ مَنْ بَعْدَہُ أَوْ غَابِرٍ عَرَّفَہُ مَنْ قَبْلَہُ عَلَی ذَلِکَ نَسَلَتِ الْقُرُونُ و مَضَتِ الدُّہُورُ وَ سَلَفَتِ الْآبَاءُ وَ خَلَفَتِ الْأَبْنَاءُ اللہ سبحانہ نے ان کی اولاد سے انبیاء علیہم السلام چنے، وحی پر ان سے عہد و پیمان لیا، تبلیغ رسالت کا انہیں امین بنایا، جبکہ اکثر لوگوں نے اللہ کا عہد بدل دیا تھا، چنانچہ وہ اس کے حق سے بے خبر ہو گئے اوروں کو اس کا شریک بنا ڈالا، شیاطین نے اس کی معرفت سے انہیں روگرداں اور اس کی عبادت سے الگ کر دیا۔ اللہ نے ان میں اپنے رسولؑ مبعوث کئے اور لگاتار انبیاءؑ بھیجے تاکہ ان سے فطرت کے عہد و پیمان پورے کرائیں، اس کی بھولی ہوئی نعمتیں یاد دلائیں، پیغامِ ربانی پہنچا کر حجت تمام کریں، عقل کے دفینوں کو ابھاریں اور انہیں قدرت کی نشانیاں دکھائیں: یہ سروں پر بلند بام آسمان، ان کے نیچے بچھا ہوا فرشِ زمیں، زندہ رکھنے والا سامانِ معیشت، فنا کرنے والی اجلیں، بوڑھا کر دینے والی بیماریاں اور پے در پے آنے والے حادثات۔ اللہ سبحانہ نے اپنی مخلوق کو بغیر کسی فرستادہ پیغمبرؑ یا آسمانی کتاب یا دلیلِ قطعی یا طریق روشن کے کبھی یونہی نہیں چھوڑا۔ ایسے رسولؑ، جنہیں تعداد کی کمی اور جھٹلانے والوں کی کثرت درماندہ و عاجز نہیں کرتی تھی، ان میں کوئی سابق تھا جس نے بعد میں آنے والے کا نام و نشان بتایا، کوئی بعد میں آیا جسے پہلا پہچنوا چکا تھا۔ اسی طرح مدتیں گزر گئیں، زمانے بیت گئے، باپ داداؤں کی جگہ پر ان کی اولادیں بس گئیں۔
إِلَی أَنْ بَعَثَ اللَّہُ سُبْحَانَہُ مُحَمَّداً [ص‏] رَسُولَ اللَّہِ ص لِإِنْجَازِ عِدَتِہِ وَ إِتْمَامِ نُبُوَّتِہِ مَأْخُوذاً عَلَی النَّبِیِّینَ مِیثَاقُہُ مَشْہُورَۃً سِمَاتُہُ کَرِیماً مِیلَادُہُ وَ أَہْلُ الْأَرْضِ یَوْمَئِذٍ مِلَلٌ مُتَفَرِّقَۃٌ وَ أَہْوَاءٌ مُنْتَشِرَۃٌ وَ طَرَائِقُ مُتَشَتِّتَۃٌ بَیْنَ مُشَبِّہٍ لِلَّہِ بِخَلْقِہِ أَوْ مُلْحِدٍ فِی اسْمِہِ أَوْ مُشِیرٍ إِلَی غَیْرِہِ فَہَدَاہُمْ بِہِ مِنَ الضَّلَالَۃِ وَ أَنْقَذَہُمْ بِمَکَانِہِ مِنَ الْجَہَالَۃِ ثُمَّ اخْتَارَ سُبْحَانَہُ لِمُحَمَّدٍ ص لِقَاءَہُ وَ رَضِیَ لَہُ مَا عِنْدَہُ وَ أَکْرَمَہُ عَنْ دَارِ الدُّنْیَا وَ رَغِبَ بِہِ عَنْ مَقَامِ الْبَلْوَی فَقَبَضَہُ إِلَیْہِ کَرِیماً ص وَ خَلَّفَ فِیکُمْ مَا خَلَّفَتِ الْأَنْبِیَاءُ فِی أُمَمِہَا إِذْ لَمْ یَتْرُکُوہُمْ ہَمَلًا بِغَیْرِ طَرِیقٍ وَاضِحٍ وَ لَا عَلَمٍ قَائِمٍ- یہاں تک کہ اللہ سبحانہ نے ایفائے عہد و اِتمام نبوت کیلئے محمد ﷺ کو مبعوث کیا، جن کے متعلق نبیوں سے عہد و پیمان لیا جا چکا تھا، جن کے علاماتِ (ظہور) مشہور، محل ولادت مبارک و مسعود تھا۔ اس وقت زمین پر بسنے والوں کے مسلک جدا جدا، خواہشیں متفرق و پراگندہ اور راہیں الگ الگ تھیں۔ یوں کہ کچھ اللہ کو مخلوق سے تشبیہ دیتے، کچھ اس کے ناموں کو بگاڑ دیتے، کچھ اسے چھوڑ کر اوروں کی طرف اشارہ کرتے تھے۔ خداوند عالم نے آپؐ کی وجہ سے انہیں گمراہی سے ہدایت کی راہ پر لگایا اور آپ کے وجود سے انہیں جہالت سے چھڑایا۔ پھر اللہ سبحانہ نے محمد ﷺ کو اپنے لقاء و قرب کیلئے چنا، اپنے خاص انعامات آپؐ کیلئے پسند فرمائے اور دارِ دنیا کی بود و باش سے آپؐ کو بلند تر سمجھا اور زحمتوں سے گھری ہوئی جگہ سے آپؐ کے رخ کو موڑا اور دنیا سے با عزت آپؐ کو اٹھا لیا۔ حضرتؐ تم میں اسی طرح کی چیز چھوڑ گئے جو انبیاءؑ اپنی اُمتوں میں چھوڑتے چلے آئے تھے۔ اس لئے کہ وہ طریق واضح و نشانِ محکم قائم کئے بغیر یوں ہی بے قید و بند انہیں نہیں چھوڑتے تھے۔
کِتَابَ رَبِّکُمْ فِیکُمْ مُبَیِّناً حَلَالَہُ وَ حَرَامَہُ وَ فَرَائِضَہُ وَ فَضَائِلَہُ وَ نَاسِخَہُ وَ مَنْسُوخَہُ وَ رُخَصَہُ وَ عَزَائِمَہُ وَ خَاصَّہُ وَ عَامَّہُ وَ عِبَرَہُ وَ أَمْثَالَہُ وَ مُرْسَلَہُ وَ مَحْدُودَہُ وَ مُحْکَمَہُ وَ مُتَشَابِہَہُ مُفَسِّراً [جُمَلَہُ‏] مُجْمَلَہُ وَ مُبَیِّناً غَوَامِضَہُ بَیْنَ مَأْخُوذٍ مِیثَاقُ عِلْمِہِ وَ مُوَسَّعٍ عَلَی الْعِبَادِ فِی جَہْلِہِ وَ بَیْنَ مُثْبَتٍ فِی الْکِتَابِ فَرْضُہُ وَ مَعْلُومٍ فِی السُّنَّۃِ نَسْخُہُ وَ وَاجِبٍ فِی السُّنَّۃِ أَخْذُہُ وَ مُرَخَّصٍ فِی الْکِتَابِ تَرْکُہُ وَ بَیْنَ وَاجِبٍ [لِوَقْتِہِ‏] بِوَقْتِہِ وَ زَائِلٍ فِی مُسْتَقْبَلِہِ وَ مُبَایَنٌ بَیْنَ مَحَارِمِہِ مِنْ کَبِیرٍ أَوْعَدَ عَلَیْہِ نِیرَانَہُ أَوْ صَغِیرٍ أَرْصَدَ لَہُ غُفْرَانَہُ وَ بَیْنَ مَقْبُولٍ فِی أَدْنَاہُ [وَ] مُوَسَّعٍ فِی أَقْصَاہُ‏ پیغمبر ﷺ نے تمہارے پروردگار کی کتاب تم میں چھوڑی ہے۔ اس حالت میں کہ انہوں نے کتاب کے حلال و حرام، واجبات و مستحبات، ناسخ و منسوخ، رخص و عزائم، خاص و عام، عبر و امثال، مقید و مطلھ، محکم و متشابہ کو واضح طور سے بیان کر دیا، مجمل آیتوں کی تفسیر کر دی، اس کی گتھیوں کو سلجھا دیا۔ اس میں کچھ آیتیں وہ ہیں جن کے جاننے کی پابندی عائد کی گئی ہے اور کچھ وہ ہیں کہ اگر اس کے بندے ان سے ناواقف رہیں تو مضائقہ نہیں۔ کچھ احکام ایسے ہیں جن کا وجوب کتاب سے ثابت ہے اور حدیث سے ان کے منسوخ ہونے کا پتہ چلتا ہے اور کچھ احکام ایسے ہیں جن پر عمل کرنا حدیث کی رُو سے واجب ہے لیکن کتاب میں ان کے ترک کی اجازت ہے۔ اس کتاب میں بعض واجبات ایسے ہیں جن کا وجوب وقت سے وابستہ ہے اور زمانہ آئندہ میں ان کا وجوب برطرف ہو جاتا ہے۔ قرآن کے محرمات میں بھی تفریق ہے: کچھ کبیرہ ہیں جن کیلئے آتش جہنم کی دھمکیاں ہیں اور کچھ صغیرہ ہیں جن کیلئے مغفرت کے توقعات پیدا کئے ہیں، کچھ اعمال ایسے ہیں جن کا تھوڑا سا حصہ بھی مقبول ہے اور زیادہ سے زیادہ اضافہ کی گنجائش رکھی ہے۔
وَ فَرَضَ عَلَیْکُمْ حَجَّ بَیْتِہِ الْحَرَامِ الَّذِی جَعَلَہُ قِبْلَۃً لِلْأَنَامِ یَرِدُونَہُ وُرُودَ الْأَنْعَامِ وَ [یَوْلَہُونَ‏] یَأْلَہُونَ إِلَیْہِ [وَلَہَ‏] وُلُوہَ الْحَمَامِ وَ جَعَلَہُ سُبْحَانَہُ عَلَامَۃً لِتَوَاضُعِہِمْ لِعَظَمَتِہِ وَ إِذْعَانِہِمْ لِعِزَّتِہِ وَ اخْتَارَ مِنْ خَلْقِہِ سُمَّاعاً أَجَابُوا إِلَیْہِ دَعْوَتَہُ وَ صَدَّقُوا کَلِمَتَہُ وَ وَقَفُوا مَوَاقِفَ أَنْبِیَائِہِ وَ تَشَبَّہُوا بِمَلَائِکَتِہِ الْمُطِیفِینَ بِعَرْشِہِ یُحْرِزُونَ الْأَرْبَاحَ فِی مَتْجَرِ عِبَادَتِہِ وَ یَتَبَادَرُونَ عِنْدَہُ مَوْعِدَ مَغْفِرَتِہِ جَعَلَہُ سُبْحَانَہُ وَ تَعَالَی لِلْإِسْلَامِ عَلَماً وَ لِلْعَائِذِینَ حَرَماً [وَ] فَرَضَ حَقَّہُ وَ أَوْجَبَ حَجَّہُ وَ کَتَبَ [عَلَیْہِ‏] عَلَیْکُمْ وِفَادَتَہُ فَقَالَ سُبْحَانَہُ‏ (وَ لِلَّہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطاعَ إِلَیْہِ سَبِیلًا وَ مَنْ کَفَرَ فَإِنَّ اللَّہَ غَنِیٌّ عَنِ الْعالَمِینَ‏)[48] اللہ نے اپنے گھر کا حج تم پر واجب کیا جسے لوگوں کا قبلہ بنایا ہے، جہاں لوگ اس طرح کھنچ کر آتے ہیں جس طرح پیاسے حیوان پانی کی طرف اور اس طرح وارفتگی سے بڑھتے ہیں جس طرح کبوتر اپنے آشیانوں کی جانب۔ اللہ جل شانہ نے اس کو اپنی عظمت کے سامنے ان کی فروتنی و عاجزی اور اپنی عزت کے اعتراف کا نشان بنایا ہے۔ اس نے اپنی مخلوق میں سے سننے والے لوگ چن لئے جنہوں نے اس کی آواز پر لبیک کہی اور اس کے کلام کی تصدیق کی، وہ انبیاء علیہم السلام کی جگہوں پر ٹھہرے، عرش پر طواف کرنے والے فرشتوں سے شباہت اختیار کی، وہ اپنی عبادت کی تجارت گاہ میں منفعتوں کو سمیٹتے ہیں اور اس کی وعدہ گاہ ِمغفرت کی طرف بڑھتے ہیں۔ اللہ سبحانہ نے اس گھر کو اسلام کا نشان (اور) پناہ چاہنے والوں کیلئے حرم بنایا ہے، اس کا حج فرض اور ادائیگی حق کو واجب کیا ہے اور اس کی طرف راہ نوردی فرض کر دی ہے۔ چنانچہ اللہ نے قرآن میں فرمایا:’’اللہ کا واجب الادا حق لوگوں پر یہ ہے کہ وہ خانہ کعبہ کا حج کریں جنہیں وہاں تک پہنچنے کی استطاعت ہو اور جس نے کفر کیا تو جان لے کہ اللہ سارے جہان سے بے نیاز ہے‘‘۔[49]


حوالہ جات

  1. پاکتچی، «مطالعہ روایت‌شناختی خطبہ اول نہج‌البلاغہ با تکیہ بر الگوی علیت»، ص222۔
  2. مکارم شیرازی، پیام امام امیرالمؤمنین(ع)، 1386شمسی، ج1، ص69۔
  3. برای نمونہ نگاہ کنید بہ: خامنہ‌ای، شرح خطبہ اول در موضوع نبوت، 1399شمسی، صفحہ شناسنامہ کتاب؛ ایزدی، آیینہ حریم، تہران، 1376شمسی، صفحہ شناسنامہ کتاب.
  4. جوادی آملی، سَلُونِی قَبْلَ أَنْ تَفْقِدُونِی (تحریر نہج‌البلاغہ)، 1399شمسی، ج1، ص73۔
  5. پاکتچی، «مطالعہ روایت‌شناختی خطبہ اول نہج‌البلاغہ با تکیہ بر الگوی علیت»، ص222۔
  6. ابن‌شعبہ حرانی، تحف العقول، 1404ھ، ص61۔
  7. پاکتچی، «مطالعہ روایت‌شناختی خطبہ اول نہج‌البلاغہ با تکیہ بر الگوی علیت»، ص222۔
  8. قطب راوندی، منہاج البراعۃ فی شرح نہج‌البلاغۃ، 1406ھ، ج1، ص109۔
  9. طباطبایی، اصول فلسفہ و روش رئالیسم، تہران، ج5، ص39 و 101؛ رضایی اصفہانی، مباحث اعتقادی، 1391شمسی، ص25؛ حسن‌زادہ آملی، دروس شرح فصوص الحکم قیصری، 1387شمسی، ص107۔
  10. خامنہ‌ای، شرح خطبہ اول در موضوع نبوت، 1399شمسی، ص149؛ انصاریان، اندیشہ در اسلام، 1388، ص241۔
  11. حسینی طہرانی، امام شناسی، 1426ھ،ص326 و 346۔
  12. بہلول‌زادہ و غفاری «بررسی نظریہ قدم عالم بر اساس تفسیر المیزان و با تاکید بر خطبہ اول نہج‌البلاغہ»، ص161-173۔
  13. ہاشمی و دیگران، « اولین مخلوق عالم مادہ و آیات مبدأ خلقت با محوریت قرآن و خطبہ اول نہج‌البلاغہ»، ص28۔
  14. انصاریان، تفسیر حکیم، قم، ج6، ص51۔
  15. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1371شمسی، ج12، ص475۔
  16. قرشی بنابی، تفسیر احسن الحدیث، 1375شمسی، ج4، ص457۔
  17. شاہ عبدالعظیمی، تفسیر اثنی عشری، 1363شمسی، ج11، ص282۔
  18. طباطبایی، «تلمیحات قرآنی در خطبہ اول نہج‌البلاغہ»، ص113 و 117-136۔
  19. میرمحمودی و دیگران، «سبک‌شناسی تطبیقی ساختار صرفی خطبہ اول نہج‌البلاغہ و خطبہ‌ہای صدر اسلام با تأکید بر کارکرد و بسامد»، ص140-153۔
  20. فخر رازی، التفسیر الکبیر، 1420ھ، ج‏2، ص388۔
  21. ہاشمی خویی، منہاج البراعۃ فی شرح نہج البلاغۃ، 1400ھ، ج1، ص293؛ جوادی آملی، سَلُونِی قَبْلَ أَنْ تَفْقِدُونِی، 1399شمسی، ج1، ص73؛ ابن‌ابی‌الحدید، شرح نہج‌البلاغہ، 1404ھ، ج1، ص57.
  22. قطب راوندی، منہاج البراعۃ فی شرح نہج‌البلاغۃ، 1406ھ، ج1، ص107۔
  23. حسینی خطیب، مصادر نہج‌البلاغہ و اسانیدہ، 1395ھ، ج1، ص315۔
  24. حسینی خطیب، مصادر نہج‌البلاغہ و اسانیدہ، 1395ھ، ج1، ص315۔
  25. حسینی خطیب، مصادر نہج‌البلاغہ و اسانیدہ، 1395ھ، ج1، ص314۔
  26. ابن‌شعبہ حرانی، تحف العقول، 1404ھ، ص61۔
  27. طبرسی، الاحتجاج، 1403ھ، ج1، ص198۔
  28. علامہ حلی، نہج‌الحق و کشف الصدھ، 1982م، ص65۔
  29. زمخشری، ربیع الابرار و نصوص الاخبار، 1412ھ، ج1، ص313۔
  30. قضاعی، دستور معالم الحکم، 1401ھ، ص122۔
  31. نصیبی، مطالب السؤول فی مناقب آل الرسول، 1378شمسی، ص115۔
  32. کلینی، الکافی، 1407ھ، ج1، ص140۔
  33. شیخ صدوق، التوحید، 1398ھ، ص34۔
  34. پاکتچی، «مطالعہ روایت‌شناختی خطبہ اول نہج‌البلاغہ با تکیہ بر الگوی علیت»، ص222۔
  35. پاکتچی، نقد متن، 1391شمسی، ص326۔
  36. پاکتچی، نقد متن، 1391شمسی، ص326۔
  37. پاکتچی، نقد متن، 1391شمسی، ص326 - 328۔
  38. شوشتری، بہج الصباغہ فی شرح نہج‌البلاغہ، 1376شمسی، ج1، ص160۔
  39. پاکتچی، نقد متن، 1391شمسی، ص326 - 328۔
  40. جوادی آملی، سَلُونِی قَبْلَ أَنْ تَفْقِدُونِی (تحریر نہج‌البلاغہ)، 1399شمسی، ج1، ص105۔
  41. مکارم شیرازی، پیام امام امیرالمؤمنین(ع)، 1386شمسی، ج1، ص72۔
  42. جوادی آملی، سَلُونِی قَبْلَ أَنْ تَفْقِدُونِی (تحریر نہج‌البلاغہ)، 1399شمسی، ج1، ص79 - 83۔
  43. جوادی آملی، سَلُونِی قَبْلَ أَنْ تَفْقِدُونِی (تحریر نہج‌البلاغہ)، 1399شمسی، ج1، ص85-100۔
  44. جوادی آملی، سَلُونِی قَبْلَ أَنْ تَفْقِدُونِی (تحریر نہج‌البلاغہ)، 1399شمسی، ج1، ص102۔
  45. نہج‌البلاغہ، تصحیح صبحی صالح، خطبہ1، ص42۔
  46. جوادی آملی، سَلُونِی قَبْلَ أَنْ تَفْقِدُونِی (تحریر نہج‌البلاغہ)، 1399شمسی، ج1، ص210۔
  47. قنبری ہمدانی، داستان پیدایش: شرح و تفسیر خطبہ اول نہج‌البلاغہ، ص55۔
  48. نہج‌البلاغہ، تصحیح صبحی صالح، خطبہ1، ص39-45۔
  49. نہج البلاغۃ کا پہلا خطبہ، ترجمہ مفتی جعفر حسین، مرکز افکار اسلامی۔

مآخذ

  • ہاشمی خویی، سید حبیب‌اللہ‏، منہاج البراعۃ فی شرح نہج البلاغۃ، مترجم: حسن حسن‌زادہ آملی و محمدباقر کمرہ‌ای؛ محقق: ابراہیم میانجی، تہران‏، مکتبۃ الإسلامیۃ، چوتھی اشاعت، 1400ھ۔
  • ابن‌ابی‌الحدید، عبدالحمید بن ہبۃاللہ، شرح نہج‌البلاغہ، تصحیح، محمد ابوالفضل ابراہیم، قم، کتابخانہ عمومی آیت‌اللہ مرعشی نجفی، پہلی اشاعت، 1404ھ (نرم افزار جامع الاحادیث)
  • ابن‌شعبہ حرانی، حسن بن علی، تحف العقول، تحقیق: علی‌اکبر غفاری، قم، جامعہ مدرسین، دوسری اشاعت، 1404ھ۔
  • انصاریان، حسین، اندیشہ در اسلام، قم، دارالعرفان، 1388ہجری شمسی۔
  • انصاریان، حسین، تفسیر حکیم، قم، دار العرفان، پہلی اشاعت، بی‌تا۔
  • ایزدی، عباس، آیینہ حریم، تہران، مؤسسہ فرہنگی و ہنری ضریح، 1376ہجری شمسی۔
  • بہلول‌زادہ، قاسم و ابوالحسن غفاری «بررسی نظریہ قدم عالم بر اساس تفسیر المیزان و با تاکید بر خطبہ اول نہج‌البلاغہ»، دوفصلنامہ فلسفہ اسلامی، سال دہم، شمارہ2، پیاپی 19، پاییز و زمستان 1403ہجری شمسی۔
  • پاکتچی، احمد، مطالعہ روایت‌شناختی خطبہ اول نہج‌البلاغہ با تکیہ بر الگوی علیت، فصلنامہ پژوہش‌ہای نہج‌البلاغہ، سال ہجدہم، شمارہ3، پیاپی 62، پاییز 1398ہجری شمسی۔
  • پاکتچی، احمد، نقد متن، تہران، دانشگاہ امام صادق(ع)، پہلی اشاعت، 1391ہجری شمسی۔
  • پورعزت، علی‌اصغر، مدیریت ما، مدیریت اسلامی در پرتو نہج‌البلاغہ امام علی علیہ السلام، تہران، بنیاد نہج‌البلاغہ، 1393ہجری شمسی۔
  • جوادی آملی، عبداللہ، سَلُونِی قَبْلَ أَنْ تَفْقِدُونِی (تحریر نہج‌البلاغہ)، قم، اسراء، تیسری اشاعت، 1399ہجری شمسی۔
  • حسن‌زادہ آملی، حسن، دروس شرح فصوص الحکم قیصری، قم، مؤسسہ بوستان کتاب، 1387ہجری شمسی۔
  • حسینی خطیب، سید عبدالزہراء، مصادر نہج‌البلاغہ و اسانیدہ، بیروت، دارالزہراء، 1367ھ۔
  • حسینی طہرانی، محمدحسین، امام شناسی، مشہد، علامہ طباطبایی، 1426ھ۔
  • خامنہ‌ای، سید علی، شرح خطبہ اول در موضوع نبوت (1359ش)، تہران، انتشارات انقلاب اسلامی، 1399ہجری شمسی۔
  • دشتی، محمد، کلیدہای شناسایی نہج‌البلاغہ، قم، مؤسسہ فرہنگی تحقیقاتی امیرالمومنین علیہ السلام، 1389ہجری شمسی۔
  • رضایی اصفہانی، محمدعلی، مباحث اعتقادی، قم، نسیم حیات، 1391ہجری شمسی۔
  • زمخشری، محمود بن عمر، ربیع الابرار و نصوص الاخبار، محقق: عبدالامیر مہنا، بیروت، موسسہ الاعلمی للمطبوعات، 1412ھ۔
  • سید رضی، نہج البلاغۃ، ترجمہ حسین انصاریان، قم، دار العرفان‏، پہلی اشاعت، 1388ہجری شمسی۔
  • سیدرضی، محمد بن حسین، نہج‌البلاغۃ، تصحیح صبحی صالح، قم، ہجرت، پہلی اشاعت، 1414ھ۔
  • شاہ عبدالعظیمی، حسین، تفسیر اثنی عشری، تہران، میقات، پہلی اشاعت، 1363شمسی۔
  • طباطبایی، سید محمدحسین، اصول فلسفہ و روش رئالیسم، محشی: مرتضی مطہری، تہران، صدرا، بی‌تا.
  • طباطبایی، سید محسن، «تلمیحات قرآنی در خطبۃ اوّل نہج‌البلاغہ»، فصلنامہ پژوہش‌نامہ معارف قرآنی، سال ششم، شمارہ 23، زمستان 1394ہجری شمسی۔
  • طبرسی، احمد بن علی‏، الإحتجاج علی أہل اللجاج، محقق محمد باقر خرسان، نشر مرتضی‏، پہلی اشاعت، 1403ھ۔
  • قرشی بنابی، علی‌اکبر، تفسیر احسن الحدیث، تہران، بنیاد بعثت، دوسری اشاعت، 1375ہجری شمسی۔
  • قضاعی، محمد بن سلامہ، دستور معالم الحکم و ماثور مکارم الشیم من کلام امیر المومنین علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ، بیروت، دار الکتاب العربی، 1401ھ۔
  • قطب راوندی، سعید بن ہبہ‌اللہ، منہاج البراعۃ فی شرح نہج‌البلاغۃ، قم، کتابخانہ عمومی حضرت آیت‌اللہ العظمی مرعشی نجفی، محقق: عبد اللطیف حسینی کوہ‌کمری، 1406ھ۔
  • قنبری ہمدانی، حشمت‌اللہ، داستان پیدایش: شرح و تفسیر خطبہ اول نہج‌البلاغہ، تہران، نشر بین الملل، 1395ہجری شمسی۔
  • مکارم شیرازی، «شرح نہج‌البلاغہ (خطبہ اول بخشمسی، بخش اول)» ، ستاد قرآنی احسن الحدیث، تاریخ بازدید: 15 دی 1404ہجری شمسی۔
  • مکارم شیرازی، ناصر، پیام امام امیرالمؤمنین(ع)، تہران، دار الکتب الاسلامیۃ، پہلی اشاعت، 1386ہجری شمسی۔
  • میرمحمودی، سید ہادی، سید محمد موسوی بفروئی و احمد زارع زردینی، «سبک‌شناسی تطبیقی ساختار صرفی خطبہ اول نہج‌البلاغہ و خطبہ‌ہای صدر اسلام با تأکید بر کارکرد و بسامد»، فصلنامہ پژوہش‌ہای نہج‌البلاغہ، بیست و سوم، شمارہ 83، زمستان 1403ہجری شمسی۔
  • نصیبی، محمد بن طلحہ، مطالب السؤول فی مناقب آل الرسول: الکتاب الذی یعطیک صورۃ صادقۃ عن سیرۃ الأئمۃ الإثنی عشر، مصحح: عبدالعزیز طباطبایی، بیروت، مؤسسۃ البلاغ، 1419ھ۔
  • ہاشمی، سیدہ فاطمہ، حمیدہ آشنا و محسن احتشامی‌نیا، «عالم مادہ کا پہلا مخلوق اور آیات مبدأ خلقت قرآن اور نہج‌ البلاغہ کے پہلے خطبے کی مرکزیت میں»، فصلنامہ پژوہش‌ہای نہج‌البلاغہ، سال بیست و سوم، شمارہ 81، تابستان 1403ہجری شمسی۔