مسودہ:نصاب زکات
| بعض عملی اور فقہی احکام |
|---|
| یہ مقالہ ایک فقہی موضوع کے بارے میں توصیفی تحریر ہے اور دینی اعمال کے لئے معیار نہیں بن سکتا۔ دینی اعمال کے لئے دیگر مصادر کی طرف رجوع کریں۔ |
نصابِ زکوٰۃ، سے مراد مال کا وہ معینہ مقدار ہے جس پر پہنچنے کے بعد اس پر زکوٰۃ واجب ہو جاتی ہے۔ شریعتِ اسلام میں زکوٰۃ کے ہر مورد کا نصاب معین کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر غلات اربعہ کا نصاب تقریباً 847 کیلو گرام ہے۔ جانوروں میں بھیڑ بکریوں کا پہلا نصاب چالیس (40) بھیڑ بکریاں ہیں جن کی زکوٰۃ ایک بھیڑ یا بکری ہے اور جب ان کی تعداد 121 تک پہنچ جائے تو ان کی زکوٰۃ دو بھیڑ یا بکریاں ہے۔ گائے وغیرہ میں پہلا نصاب تیس (30) گائے ہے جس کی زکوٰۃ دو سال کا ایک بچھڑا ہے اور چالیس (40) گائے پر تین سال کی ایک مادہ بچھیا زکوٰۃ کے طور پر واجب ہوتی ہے۔ مویشیوں میں زکوٰۃ واجب ہونے کی شرائط میں سے ایک یہ ہے کہ وہ سال بھر قدرتی چراگاہوں سے چرتے ہوں۔ نقدین (سونا اور چاندی) کے لئے بھی مخصوص نصاب مقرر ہیں۔
غلّات کا نصاب
فقہا کے مطابق نصابِ زکوٰۃ اس معین مقدارِ مال کو کہتے ہیں کہ جب مال اس حد تک پہنچ جائے تو اس پر زکوٰۃ واجب ہو جاتی ہے۔[1] زکات واجب ہونے والی نو چیزوں میں سے ہر ایک پر اسی وقت زکوٰۃ واجب ہوتی ہے جب وہ اپنے مقررہ نصاب تک پہنچ جائے۔
فقہا نے غلّات (گندم، جو، کھجور اور انگور) کا نصاب 847.207 کیلوگرام قرار دیا ہے۔[2] یعنی گندم، جو، کھجور اور انگور میں سے ہر ایک کی خشک پیداوار اگر اس مقدار تک پہنچ جائے تو اس پر زکوٰۃ واجب ہوگی۔[3]
فقہی منابع کے مطابق اگر گندم، جو، کھجور یا انگور کو بارش یا نہر کے پانی یا زمین کی قدرتی نمی سے سیراب کیا گیا ہو تو اس کی زکوٰۃ پیداوار کا دسواں حصہ (10 فیصد) ہے۔[4] لیکن اگر آب پاشی مصنوعی وسائل، جیسے ڈول اور ٹیوب ویل وغیرہ سے کی گئی ہو تو زکوٰۃ پیداوار کا بیسواں حصہ (5 فیصد) ہوگی۔[5] اور اگر دونوں طریقوں سے برابر مقدار میں آب پاشی کی گئی ہو تو نصف پیداوار پر 10 فیصد اور نصف پر 5 فیصد شمار کیا جائے گا، جس کا مجموعی تناسب 7.5 فیصد بنتا ہے۔[6]
آیت اللہ خوئی کے مطابق اس نصاب پر شیعہ فقہاء کا اجماع اور اتفاق ہے۔[7]
انعامِ ثلاثہ کا نصاب اور زکوٰۃ
انعامِ ثلاثہ (اونٹ، گائے اور بھیڑ بکری) کے لئے متعدد نصاب مقرر کئے گئے ہیں۔ یعنی جب ان جانوروں کی تعداد مقررہ نصاب تک پہنچ جائے تو زکوٰۃ واجب ہوتی ہے، اور ہر نصاب سے زائد تعداد اگلے نصاب تک پہنچنے سے پہلے زکوٰۃ کے حکم میں شامل نہیں ہوتی۔[8]
مویشیوں میں زکوٰۃ واجب ہونے کی شرائط میں سے ایک شرط یہ ہے کہ جانور سال بھر قدرتی چراگاہوں، جیسے میدانوں اور صحراؤں، میں چر کر گزارا کریں۔[9]
بھیڑ بکریوں کے پانچ نصاب
پہلا نصاب: 40 عدد؛ زکوٰۃ ایک بکری۔ دوسرا نصاب: 121 عدد؛ زکوٰۃ دو بکریاں۔ تیسرا نصاب: 201 عدد؛ زکوٰۃ تین بکریاں۔ چوتھا نصاب: 301 عدد؛ زکوٰۃ چار بکریاں۔ پانچواں نصاب: 400 سے شروع ہوتا ہے، اور اس کے بعد ہر 100 بکریوں پر ایک بکری زکوٰۃ دی جائے گی۔[10]
گائے کے دو نصاب
پہلا نصاب: 30 گائے؛ زکوٰۃ ایک ایسا بچھڑا جو دوسرے سال میں داخل ہو چکا ہو۔ دوسرا نصاب: 40 گائے؛ زکوٰۃ ایک ایسی مادہ بچھیا جو تیسرے سال میں داخل ہو چکی ہو۔[11]
جب گائے کی تعداد 60 ہو جائے تو زکوٰۃ دو ایسے بچھڑے ہوں گے جو دوسرے سال میں داخل ہو چکے ہوں۔ اس سے زیادہ تعداد میں زکوٰۃ کا حساب 30 اور 40 کے نصاب کی بنیاد پر کیا جاتا ہے، اس طرح کہ آخر میں یا کچھ باقی نہ بچے یا باقی ماندہ تعداد 10 سے کم ہو۔ مثلاً 70 گائے میں زکوٰۃ 30 اور 40 کے مجموعے کے مطابق شمار کی جائے گی، کیونکہ صرف 30 کے حساب سے شمار کرنے پر 10 گائیں بغیر حساب کے رہ جاتی ہیں۔[12]
اونٹ کے بارہ نصاب
پہلا نصاب 5 اونٹ ہیں جن کی زکوٰۃ ایک بکری ہے۔ یہ حکم 25 اونٹ تک جاری رہتا ہے، یعنی ہر 5 اونٹ پر ایک بکری زکوٰۃ ہوگی۔ اس کے بعد نصاب بالترتیب 26، 36 اور 46 اونٹ ہیں، جن کی زکوٰۃ بالترتیب ایک دو سالہ، ایک تین سالہ اور ایک چار سالہ اونٹنی ہے۔ اگلے نصاب 61، 76 اور 91 اونٹ ہیں، جن کی زکوٰۃ بالترتیب ایک پانچ سالہ اونٹنی، دو تین سالہ اونٹنیاں اور دو چار سالہ اونٹنیاں ہوں گی۔
اونٹوں کی زکوٰۃ کا اگلا نصاب 211 اونٹ اور اس سے زیادہ ہے۔ 211 سے اوپر تعداد کو 40 یا 50 کے مجموعوں کی بنیاد پر تقسیم کیا جا سکتا ہے؛ اس طرح کہ ہر 40 اونٹ پر ایک تین سالہ اور ہر 50 اونٹ پر ایک چار سالہ اونٹنی زکوٰۃ کے طور پر دی جائے گی۔ حساب میں 40 اور 50 کے مجموعے بھی استعمال کئے جا سکتے ہیں۔[13]
سونے اور چاندی کا نصاب
سونے اور چاندی کی زکوٰۃ اسی صورت میں واجب ہوتی ہے جب وہ رائج المعاملہ سکّوں کی شکل میں ہوں؛ لہٰذا غیر مسکوک سونے اور چاندی پر خواہ وہ کسی بھی شکل یا استعمال میں ہوں، زکوٰۃ واجب نہیں ہوتی۔[14]
سونے کے دو نصاب ہیں
پہلا نصاب: 20 مثقالِ شرعی، جو 15 معمولی مثقال مسکوک سونے کے برابر ہے۔ اس کی زکوٰۃ چالیسواں حصہ (2.5 فیصد) ہے۔ دوسرا نصاب: 4 مثقالِ شرعی، جو 3 معمولی مثقال کے برابر ہے۔ یعنی جب پہلے نصاب (15 معمولی مثقال) پر مزید 3 مثقال کا اضافہ ہو جائے تو مجموعی 18 مثقال پر زکوٰۃ واجب ہوگی۔ اس کے بعد ہر اضافی 3 مثقال پر پوری مقدار کی زکوٰۃ واجب ہوگی، لیکن اگر اضافہ 3 مثقال سے کم ہو تو اس پر زکوٰۃ واجب نہیں ہوگی۔[15] مشہور شیعہ فقہاء کے مطابق ایک مثقالِ شرعی تقریباً 3 گرام اور 456 ملی گرام کے برابر ہے۔[16]
چاندی کے دو نصاب
پہلا نصاب: 105معمولی مثقال؛ اس کی زکوٰۃ چالیسواں حصہ (2.5 فیصد) ہے۔ دوسرا نصاب: 21 معمولی مثقال؛ یعنی اگر 105 مثقال پر مزید 21 مثقال کا اضافہ ہو جائے تو 126 مثقال پر زکوٰۃ واجب ہوگی۔ اسی طرح ہر مزید 21 مثقال اضافے پر پوری مقدار کی زکوٰۃ واجب ہوگی، لیکن اگر اضافہ 21 مثقال سے کم ہو تو اس اضافی مقدار پر زکوٰۃ واجب نہیں ہوگی۔[17]
نصاب زکات کا جدول
| گروہ | نصاب | مقدار | شرط یا وضاحت |
|---|---|---|---|
| غلات | 847.207 کیلو گرام | 10% (دسواں حصہ) | قدرتی آب پاشی |
| 847.207 کیلو گرام | 5% (بیسواں حصہ) | مصنوعی آب پاشی | |
| 847.207 کیلو گرام | 7.5% | مرکب آب پاشی | |
| بھیڑ | 40 بھیڑیں | 1 بھیڑ | قدرتی چراگاہوں میں چرے۔ |
| 121 بھیڑیں | 2 بھیڑیں | قدرتی چراگاہوں میں چرے۔ | |
| 201 بھیڑیں | 3 بھیڑیں | قدرتی چراگاہوں میں چرے۔ | |
| 301 بھیڑیں | 4 بھیڑیں | قدرتی چراگاہوں میں چرے۔ | |
| 400 بھیڑیں اور اس سے زیادہ | 1 بھیڑ ہر 100 بھیڑوں پر | قدرتی چراگاہوں میں چرے۔ | |
| گائے | 30 گائے | 1 بچھڑا (دو سال میں داخل ہوا ہو) | قدرتی چراگاہوں میں چرے۔ |
| 40 گائے | 1 بچھیا (تیسرے سال میں داخل ہوئی ہو) | قدرتی چراگاہوں میں چرے۔ | |
| 60 گائے | 2 بچھڑے (دوسرے سال میں داخل ہوئے ہوں) | 30 اور 40 کے نصاب کی بنیاد پر | |
| اونٹ | 5 سے 25 اونٹ | ہر 5 اونٹوں پر ایک بھیڑ | - |
| 26 اونٹ | 1 اونٹ جو دوسرے سال میں داخل ہوا ہو | پانچواں نصاب | |
| 36 اونٹ | 1 اونٹ جو تیسرے سال میں داخل ہوا ہو | چھٹا نصاب | |
| 46 اونٹ | 1 اونٹ جو چوتھے سال میں داخل ہوا ہو | ساتواں نصاب | |
| 61 اونٹ | 1 اونٹ جو پانچویں سال میں داخل ہوا ہو | آٹھواں نصاب | |
| 76 اونٹ | 2 اونٹ جو تیسرے سال میں داخل ہوئے ہوں | نواں نصاب | |
| 91 اونٹ | 2 اونٹ جو چوتھے سال میں داخل ہوئے ہوں | دسواں نصاب | |
| 121 سے 200 اونٹ | 40 یا 50 یا 40 اور 50 کے حساب سے | پچھلے نصابوں کے مطابق عمل کریں | |
| 211 اونٹ اور اس سے زیادہ | ہر 40 اونٹ پر ایک تین سالہ اونٹ یا ہر 50 اونٹ پر 1 چار سالہ اونٹ | ||
| سونا | 20 شرعی مثقال (15 معمولی مثقال) | چالیسواں حصہ (2.5%) | پہلا نصاب |
| ہر 4 شرعی مثقال (3 معمولی مثقال) پہلے نصاب سے زیادہ | چالیسواں حصہ (2.5%) کل مال کا | پہلے نصاب کے بعد | |
| چاندی | 105 معمولی مثقال | چالیسواں حصہ (2.5%) | پہلا نصاب |
| پہلے نصاب سے زیادہ ہر 21 معمولی مثقال | چالیسواں حصہ (2.5%) کل مال کا | پہلے نصاب کے بعد |
حوالہ جات
- ↑ جوہری، الصحاح، 1376ھ، ج1، ص225؛ ابن فارس، معجم مقاییس اللغہ، 1404ھ، ج5، ص434۔
- ↑ خمینی، توضیح المسائل، 1426ھ، ص385؛ لنکرانی، رسالہ توضیح المسائل، 1426ھ، ص310۔
- ↑ بہجت، رسالہ توضیح المسائل، 1428ھ، ص285؛ مکارم شیرازی، رسالہ توضیح المسائل، 1429ھ، ص296۔
- ↑ ابن زہرہ حلبی، غنیۃ النزوع، 1417ھ، ص120؛ علامہ حلی، تذکرۃ الفقہاء، 1414ھ، ج5، ص149-150؛ شہید اول، اللمعۃ الدمشقیۃ، 1410ھ، ص50؛ طباطبائی، ریاض المسائل، ج1، ص274۔
- ↑ محقق حلی، المعتبر فی شرح المختصر، 1407ھ، ج2، ص552؛ کیدری، اصباح الشیعہ، 1416ھ، ص108؛ علامہ حلی، تحریر الاحکام، ج1، ص63۔
- ↑ اردبیلی، مجمع الفائدۃ والبرہان، 1403ھ، ج4، ص107؛ حر عاملی، ہدایۃ الامۃ، 1412ھ، ج4، ص55؛ یزدی، العروۃ الوثقی (المحشی)، 1419ھ، ج4، ص68۔
- ↑ خویی، موسوعۃ الامام الخویی، 1418ھ، ج23، ص334۔
- ↑ مدرسی، زکات و خمس در اسلام، 1367شمسی، ص26۔
- ↑ سیستانی، توضیح المسائل جامع، 1443ھ، ج2، ص420۔
- ↑ محقق حلی، شرائع الاسلام، 1408ھ، ج1، ص131-132؛ حلی، معالم الدین، 1424ھ، ج1، ص156؛ حلی، المہذب البارع، 1407ھ، ج1، ص508۔
- ↑ شہید ثانی، مسالک الافہام، 1413ھ، ج1، ص364؛ موسوی عاملی، مدارک الاحکام، 1411ھ، ج5، ص53-63؛ نجفی، جواہر الکلام، 1404ھ، ج15، ص76-85؛ محقق حلی، المختصر النافع، 1418ھ، ج1، ص54-55۔
- ↑ سیستانی، توضیح المسائل جامع، 1443ھ، ج2، ص423۔
- ↑ گلپایگانی، ہدایۃ العباد، 1413ھ، ج1، ص288؛ لنکرانی، الاحکام الواضحہ، 1422ھ، ص276؛ شبیری زنجانی، المسائل الشرعیہ، 1428ھ، ص419-422؛ سیستانی، المسائل المنتخبۃ، 1422ھ، ص243-244۔
- ↑ خمینی، توضیح المسائل، 1426ھ، ص392؛ لنکرانی، رسالہ توضیح المسائل، 1426ھ، ص316؛ بہجت، رسالہ توضیح المسائل، 1428ھ، ص293؛ مکارم شیرازی، رسالہ توضیح المسائل، 1429ھ، ص301۔
- ↑ خمینی، توضیح المسائل، 1426ھ، ص391؛ لنکرانی، رسالہ توضیح المسائل، 1426ھ، ص315-316؛ بہجت، رسالہ توضیح المسائل، 1428ھ، ص292-293؛ مکارم شیرازی، رسالہ توضیح المسائل، 1429ھ، ص300؛ سیستانی، توضیح المسائل جامع، 1443ھ، ج2، ص415-416۔
- ↑ سیستانی، توضیح المسائل جامع، 1443ھ، ج4، ص578۔
- ↑ خمینی، توضیح المسائل، 1426ھ، ص391؛ لنکرانی، رسالہ توضیح المسائل، 1426ھ، ص315-316؛ بہجت، رسالہ توضیح المسائل، 1428ھ، ص292-293؛ مکارم شیرازی، رسالہ توضیح المسائل، 1429ھ، ص300؛ سیستانی، توضیح المسائل جامع، 1443ھ، ج2، ص415-416۔
مآخذ
- ابن زہرہ حلبی، حمزۃ بن علی، غنیۃ النزوع إلی علمی الأصول و الفروع، قم، مؤسسہ امام صادق علیہ السلام، 1417ھ۔
- ابن فارس، احمد بن فارس، معجم مقاییس اللغہ، محقق مصحح: ہارون، عبدالسلام محمد، قم، مکتب الاعلام الاسلامی، 1404ھ۔
- اردبیلی، احمد بن محمد، مجمع الفائدۃ و البرہان فی شرح إرشاد الأذہان، مصحح: آقا مجتبی عراقی- علی پناہ اشتہاردی- آقا حسین یزدی اصفہانی، قم، دفتر انتشارات اسلامی وابستہ بہ جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم، 1403ھ۔
- آقابزرگ تہرانی، محمدمحسن، طبقات اعلام الشیعہ، قرن چہارم، قم، اسماعیلیان، بی تا.
- بہجت، محمدتقی، رسالہ توضیح المسائل، قم، انتشارات شفق، 1428ھ۔
- جوہری، اسماعیل بن حماد، الصحاح، بیروت، دار العلم للملایین،1376ھ۔
- حر عاملی، محمد بن حسن، ہدایۃ الأمۃ إلی أحکام الأئمۃ، مصحح: بخش حدیث در جامعہ پژوہش ہای اسلامی، مشہد، مجمع البحوث الإسلامیۃ، 1412ھ۔
- حلّی، احمد بن محمد، المہذب البارع فی شرح المختصر النافع، مصحح مجتبی عراقی، قم، دفتر انتشارات اسلامی وابستہ بہ جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم، 1407ھ۔
- حلّی، شمس الدین محمد بن شجاع القطّان، معالم الدین فی فقہ آل یاسین، قم، مصحح: بہادری، ابراہیم، مؤسسہ امام صادق علیہ السلام، 1424ھ۔
- خمینی، سید روح اللّہ، توضیح المسائل، محقق و مصحح: مسلم قلی پور گیلانی، بی جا، بی نا، 1426ھ۔
- خویی، سید ابوالقاسم، موسوعۃ الإمام الخوئی، مصحح: پژوہشگران مؤسسہ إحیاء آثار آیۃ اللہ العظمی خویی، قم، مؤسسۃ إحیاء آثار الإمام الخوئی، 1418ھ۔
- سیستانی، سید علی، توضیح المسائل جامع، مشہد، دفترآیہ اللہ سید علی سیستانی، 1443ھ۔
- سیستانی، سید علی، المسائل المنتخبۃ، قم، دفتر حضرت آیۃ اللہ سیستانی، 1422ھ۔
- شبیری زنجانی، سید موسی، المسائل الشرعیۃ، قم، مؤسسۃ نشر الفقاہۃ، 1428ھ۔
- شبیری زنجانی، سید موسی، رسالہ توضیح المسائل، قم، انتشارات سلسبیل، 1430ھ۔
- شہید اول، محمد بن مکی، اللمعۃ الدمشقیۃ فی فقہ الإمامیۃ، مصحح: محمد تقی مروارید- علی اصغر مروارید، بیروت، دار التراث، 1410ھ۔
- شہید ثانی، زین الدین بن علی عاملی، مسالک الأفہام إلی تنقیح شرائع الإسلام، مصحح: گروہ پژوہش مؤسسہ معارف اسلامی، قم، مؤسسۃ المعارف الإسلامیۃ، 1413ھ۔
- شیخ انصاری، مرتضی، کتاب الزکاۃ، محقق و مصحح: گروہ پژوہش در کنگرہ، قم، کنگرہ جہانی بزرگداشت شیخ اعظم انصاری، 1415ھ۔
- شیخ صدوق، محمّد بن علی، المقنع، محقق و مصحح: گروہ پژوہش مؤسسہ امام ہادی علیہ السلام، قم، مؤسسہ امام ہادی علیہ السلام، 1415ھ۔
- شیخ طوسی، محمد بن حسن، المبسوط فی فقہ الإمامیۃ، محقق و مصحح: سید محمد تقی کشفی، تہران، المکتبۃ المرتضویۃ لإحیاء الآثار الجعفریۃ، 1378ھ۔
- شیخ مفید، محمّد بن محمد، المقنعۃ، قم، کنگرہ جہانی ہزارہ شیخ مفید، 1413ھ۔
- صدر، سید محمدباقر، تصویری از اقتصاد اسلامی، ترجمہ دکتر جمال موسوی، تہران، روزبہ، بی تا۔
- طباطبایی، سید علی، ریاض المسائل فی تحقیق الأحکام بالدلائل، قم، مؤسسہ آل البیت علیہم السلام، بی تا۔
- علامہ حلّی، حسن بن یوسف، تحریر الأحکام الشرعیۃ علی مذہب الإمامیۃ، مشہد، مؤسسہ آل البیت علیہم السلام، بی تا.
- علامہ حلّی، حسن بن یوسف، تذکرۃ الفقہاء، مصحح: گروہ پژوہش مؤسسہ آل البیت علیہم السلام، قم، مؤسسہ آل البیت علیہم السلام، 1414ھ۔
- علامہ حلّی، حسن بن یوسف، مختلف الشیعۃ فی أحکام الشریعۃ، محقق و مصحح: گروہ پژوہش دفتر انتشارات اسلامی، قم، دفتر انتشارات اسلامی وابستہ بہ جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم، 1413ھ۔
- علامہ حلّی، حسن بن یوسف، منتہی المطلب فی تحقیق المذہب، مصحح: بخش فقہ در جامعہ پژوہش ہای اسلامی، مشہد، مجمع البحوث الإسلامیۃ، 1412ھ۔
- کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، محقق و مصحح: علی اکبر غفاری، قم، دار الکتب الإسلامیۃ، 1407ھ۔
- کیدری، قطب الدین، إصباح الشیعۃ بمصباح الشریعۃ، مصحح: ابراہیم بہادری مراغی، قم، مؤسسہ امام صادق علیہ السلام، 1416ھ۔
- گلپایگانی، سید محمدرضا، ہدایۃ العباد، مصحح: علی ثابتی ہمدانی- علی نیری ہمدانی، قم، دار القرآن الکریم، 1413ھ۔
- فاضل لنکرانی، محمد، الأحکام الواضحۃ قم، مرکز فقہی ائمہ اطہار علیہم السلام، 1422ھ۔
- فاضل لنکرانی، محمد، رسالہ توضیح المسائل، قم، بی نا، 1426ھ۔
- مجلسی، محمدباقر، بیست و پنج رسالہ فارسی، (رسالہ خمس و زکات)، تحقیق رجایی، قم، کتابخانہ آیت اللّہ مرعشی، 1412ھ۔
- مجلسی، محمدباقر، مرآۃ العقول فی شرح أخبار آل الرسول، محقق و مصحح: سید ہاشم رسولی، تہران، دار الکتب الإسلامیۃ، 1404ھ۔
- محقق حلّی، جعفر بن حسن، المختصر النافع فی فقہ الإمامیۃ، قم، مؤسسۃ المطبوعات الدینیۃ، 1418ھ۔
- محقق حلّی، جعفر بن حسن، المعتبر فی شرح المختصر، محقق و مصحح: محمد علی حیدری- سید مہدی شمس الدین- سید ابو محمد مرتضوی- سید علی موسوی، قم، مؤسسہ سید الشہداء علیہ السلام، 1407ھ۔
- محقق حلّی، جعفر بن حسن، شرائع الإسلام فی مسائل الحلال و الحرام، مصحح: عبدالحسین محمدعلی بقال، قم، مؤسسہ اسماعیلیان، 1408ھ۔
- مدرسی، محمدرضا، زکات و خمس در اسلام، قم، موسسہ در راہ حق 1367ہجری شمسی۔
- مغربی، نعمان بن محمد، دعائم الإسلام، قم، مؤسسہ آل البیت علیہم السلام، 1385ھ۔
- مکارم شیرازی، ناصر، رسالہ توضیح المسائل، قم، انتشارات مدرسہ امام علی بن ابی طالب علیہ السلام، 1429ھ۔
- منتظری، حسینعلی، کتاب الزکاۃ، قم، مرکز جہانی مطالعات اسلامی، 1409ھ۔
- موسوی عاملی، محمد بن علی، مدارک الأحکام فی شرح عبادات شرائع الإسلام، بیروت، مؤسسہ آل البیت، 1411ھ۔
- نجاشی، احمد بن علی، رجال النجاشی- فہرست أسماء مصنفی الشیعۃ، محقق و مصحح: سید موسی شبیری زنجانی، قم، دفتر انتشارات اسلامی وابستہ بہ جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم، 1407ھ۔
- نجفی، محمدحسن، جواہر الکلام فی شرح شرائع الإسلام، محقق و مصحح عباس قوچانی- علی آخوندی، بیروت، دار إحیاء التراث العربی، 1404ھ،
- وحید خراسانی، حسین، توضیح المسائل، قم، مدرسہ امام باقر علیہ السلام، 1428ھ۔
- یزدی، سید محمدکاظم، العروۃ الوثقی فیما تعم بہ البلوی(المحشّی)، مصحح: احمد محسنی سبزواری، قم، دفتر انتشارات اسلامی وابستہ بہ جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم، 1419ھ۔