مسودہ:صرخہ

صرخہ تحریک انصاراللہ یمن کا ایک سیاسی مذہبی نعرہ ہے، جو اس تحریک کی فکری، ثقافتی اور سیاسی شناخت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ انصاراللہ کے یہاں یہ نعرہ قرآنی تعلیمات سے ماخوذ ہے اور اسے مزاحمت اور اغیار کے اثر و رسوخ کے خلاف مخالفت کے نظریے کے تحت تفسیر کی جاتی ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ نعرہ ایران کے اسلامی انقلاب کے نعروں سے متاثر ہونے کا نتیجہ ہے۔ یہ نعرہ اللہ اکبر، مردہ باد امریکہ مردہ باد اسرائیل، یہود پر لعنت جیسے الفاظ پر مشتمل ہے نیز اس میں اسلام کی فتح پر زور دیا گیا ہے۔
انصاراللہ یمن ہر سال اس نعرے کی عظمت کو اجاگر کرنے کے لیے "ہفتہ صرخہ" مناتی ہے، جس میں مختلف پروگرامز اور تقاریب شامل ہوتی ہیں۔
تعارف اور مندرجات
صرخہ کے معنی بلند آواز کے ہیں۔[1]، استکبار ستیزی کا یہ نعرہ یمن کی تحریک انصاراللہ کا سیاسی و مذہبی نعرہ ہے جسے وہ قرآنی تعلیمات سے ماخوذ سمجھتی ہے۔[2] یہ نعرہ اس تحریک کے فکری و ثقافتی ڈھانچے کا حصہ سمجھا جاتا ہے[3] اور انصاراللہ کی اجتماعات اور میڈیا میں اس کی سیاسی و شناختی علامت کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔[4] انصاراللہ کا قانونی جھنڈا سفید رنگ کا ہے جس پر صرخہ کا متن سبز اور سرخ رنگ میں مکتوب ہے۔[5] کہا جاتا ہے کہ صرخہ کا نعرہ اسلامی انقلاب ایران کے نعروں سے متاثر ہونے کا نتیجہ ہے۔[6]
صرخہ کا نعرہ سب سے پہلے تحریک انصار اللہ کے پہلے رہنما حسین بدرالدین الحوثی نے سنہ 2002ء کے اوائل میں یمن میں مرّان نامی علاقے کے مدرسہ امام الہادی میں پیش کیا۔[7] بعض لوگوں نے اس نعرے کے آغاز کی تاریخ سنہ 2000ء بتائی ہے[8] اور اسے مشرق وسطیٰ میں امریکہ اور اسرائیل کی پالیسیوں کے ردعمل اور فلسطین کی دوسری انتفاضہ کے بعد قرار دیا ہے۔[9]
صرخہ کے نعرے میں پانچ عبارتیں شامل ہیں:
- اللہ اکبر: اسے یمن کی تحریک انصاراللہ کی روحی اور معنوی قوت کے منبع کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔
- "الموت لامریکا" (مردہ باد امریکہ)۔
- "الموت لاسرائیل" (مردہ باد اسرائیل) یہ دونوں نعرے امریکی پالیسیوں کی مخالفت اور صہیونی ریاست کی نابودی کے مطالبے کو مد نظر رکھ کر لگائے جاتے ہیں ۔
- "اللعنۃ على اليہود" (لعنت یہود پر)، جو اسلام دشمن یہودیوں کے خلاف مزاحمت کے طور پر بولاجاتا ہے۔
- "النصر للاسلام" (فتح اسلام کے لیے ہے)۔[10]
صرخہ نعرے کا استعمال
حوثی اس نعرے کو استکبار کے تسلط کو کمزور کرنے کا ایک ذریعہ[11] اور دشمن کے خلاف نرم جنگ میں مقابلے کا مؤثر ہتھیار سمجھتے ہیں۔[12] صرخہ کا نعرہ ابتدائی طور پر یمن اور خطے میں بیرونی تسلط اور مداخلت کے خلاف خوف کی فضا کو توڑنے اور اعتراض آمیز جذبے کو تقویت دینے کے لیے استعمال کیا گیا۔[13] اسے خطے میں امریکہ اور اسرائیل کی پالیسیوں کے خلاف مقابلے کے اوزار کے طور پر بھی یاد کیا جاتا ہے۔[14] تحریک انصاراللہ کے تیسرے رہبر عبد الملک حوثی کے مطابق، یہ نعرہ اسلام اور مسلمانوں کے دشمنوں کے خلاف عوامی طور پر ذہن سازی اور انہیں متحد کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔[15]
کہا جاتا ہے کہ اس نعرے پر تاکید نے یمن کو اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی پالیسی سے دور رکھنے میں کردار ادا کیا ہے۔[16] نیز یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس نعرے کے بلند کئے جانے سے یمن میں امریکہ کا اثر و رسوخ کم ہوا، جس میں اس کے سفیر کا یمن سے نکالے جانے والا معاملہ بھی شامل ہے۔[17]
حسین الحوثی نے 17 جنوری 2002ء کو "الصرخہ فی وجہ المستکبرین" کے عنوان سے اپنی تقریر میں اس نعرے کو ظالموں کے خلاف جدوجہد کا پہلا قدم اور اسے یمن میں زیدیہ احیاء تحریک کا اصل نشان اور نعرہ قرار دیا۔[18]
نعرہ صرخہ پر ردعمل
نعرۂ صرخہ پر سب سے پہلا ردعمل یمن کی علی عبد اللہ صالح کی حکومت کی طرف سے آیا، جس نے اس نعرے کے بلند کئے جانے پر پابندی عائد کر دی اور حسین الحوثی اور ان کے پیروکاروں کے خلاف فوجی کارروائی کی۔[19] یمنی مفتی قاضی محمد بن محمد الوزیر نے اس نعرے کو بدعت قرار دیا۔[20] بعض ناقدین نے بھی ایسے نعروں کو سیاسی کشیدگی بڑھانے اور یمن کی بین الاقوامی سطح پر حیثیت کمزور کرنے کا سبب قرار دیا ہے۔[21] نیز اس کے ایک حصے (یہود پر لعنت) کو یہود دشمنی کی علامت قرار دے کر تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔[22]

دوسری طرف یہ نعرہ یمن کی سرحدوں سے باہر بھی پھیل گیا اور بعض قوموں اور گروہوں کی طرف سے اسے خوش آئند قرار دیا گیا ہے اور یہ محورِ مزاحمت کے ساتھ ہم آہنگی کی علامت کے طور پر جانا گیا۔[23] اور کئی احتجاجی مظاہروں میں یہ نعرہ بلند کیا گیا۔[24]
ہفتہ صرخہ
یمن کی تحریک انصاراللہ نے شوال کے آخری جمعہ کو "یوم الصرخہ" قرار دیا ہے اور ہر سال ایک ہفتے تک اس دن اور ہفتہ صرخہ کی عظمت کو اجاگرکرنے کے لیے میں تقاریب منعقد کی جاتی ہیں۔[25] یہ ہفتہ تحریک انصاراللہ یمن کی سالانہ اہم ترین تقاریب میں شمار ہوتا ہے، جس میں فوجی پریڈ اور مختلف سیمینارز کا انعقاد کیا جاتا ہے۔[26]
حوالہ جات
- ↑ «پرچم انصاراللہ یمن کدام است؟» (انصار اللہ کا پرچم کونسا ہے؟) اویس قرنی مبارزاتی ٹیم ویب سائٹ۔
- ↑ «شعار الصرخۃ امتداد لمشروع قرآني رسم للشعب اليمني مسار التحرر من ہيمنۃ القوى الخارجيہ»، الثورہ ویب سائٹ۔
- ↑ «چرا شعار صرخہ بہ نماد ہویت سیاسی در یمن تبدیل شد؟»، یمن الاسلام ویب سائٹ۔
- ↑ «چرا شعار صرخہ بہ نماد ہویت سیاسی در یمن تبدیل شد؟»، یمن الاسلام ویب سائٹ۔
- ↑ «پرچم انصاراللہ یمن کدام است؟»، اویس قرنی مبارزاتی ٹیم ویب سائٹ۔
- ↑ حلالی، «شعار حوثیہا نسخہای از شعارہای جمہوری اسلامی»، انڈپنڈنٹ نیوز ویب سائٹ؛ «استجابۃ ضعيفہ لدعوۃ الحوثيين الى الصرخہ»، الجزیرہ نیوز چینل ویب سائٹ۔
- ↑ صالح الدعانی، «البنیۃ الصوتیہ و دلالاتہا فی نص شعار الصرخہ»، ص217؛ البنوس، «الصرخہ.. ہتاف الاحرار»، 21 ستمبر نیوز ویب سائٹ؛ البہکلی، «الصرخہ فی وجہ المستکبرین...» الثورہ ویب سائٹ۔
- ↑ شاکر ابو راس، «شعار الصرخۃ من الاستضعاف إلى التمكين»، انصاراللہ ویب سائٹ۔
- ↑ شاکر ابو راس،«شعار الصرخۃ من الاستضعاف إلى التمكين»، انصاراللہ ویب سائٹ۔
- ↑ علی البجلی، «مضامين الشعار.. تجليات الرؤيۃ القرآنيہ في مواجہۃ الہيمنہ»، المسیرہ چینل ویب سائٹ۔
- ↑ عمیر، «الصرخہ.. جہاد و ارادۃ الامہ فی مواجہۃ الطغاہ»، یمنی پریس ویب سائٹ۔
- ↑ صالح الدعانی، «البنیۃ الصوتیہ و دلالاتہا فی نص شعار الصرخہ»، ص217۔
- ↑ «چرا شعار صرخہ بہ نماد ہویت سیاسی در یمن تبدیل شد؟»، یمن الاسلام ویب سائٹ۔
- ↑ صالح الدعانی، «البنیۃ الصوتیہ و دلالاتہا فی نص شعار الصرخہ»، ص217۔
- ↑ «گزیدہ بیانات سید عبدالملک الحوثی در روز صرخہ یمن(2023ء)»، اویس قرنی مبارزاتی ٹیم ویب سائٹ۔
- ↑ «شعار الصرخۃ امتداد لمشروع قرآنی...»، الثورہ ویب سائٹ۔
- ↑ «شعار الصرخۃ امتداد لمشروع قرآنی...»، الثورہ ویب سائٹ۔
- ↑ «گزیدہ بیانات سید عبدالملک الحوثی در روز صرخہ یمن(2023ء)»، اویس قرنی مبارزاتی ٹیم ویب سائٹ۔
- ↑ «السید حسین الحوثی.. الفكر الجہادی و الانتماء الیمنی»، المیادین نیوز چینل ویب سائٹ۔
- ↑ الوزیر، فتوی حول الصرخہ التی استحدثت فی بعض مساجد الیمن، شبوہ پریس ویب سائٹ۔
- ↑ «چرا شعار صرخہ بہ نماد ہویت سیاسی در یمن تبدیل شد؟»، یمن الاسلام ویب سائٹ۔
- ↑ البعوہ، «شعار الصرخہ و معاداۃ السامیہ»، انصار اللہ ویب سائٹ۔
- ↑ «چرا شعار صرخہ بہ نماد ہویت سیاسی در یمن تبدیل شد؟» (صرخہ کا نعرہ یمن میں سیاسی شناخت کی علامت کیوں بن گیا؟)، یمن الاسلام ویب سائٹ۔
- ↑ عبدالملک، «الصرخہ.. من حصریتہا فی جبال دولہ الی انتشارہا فی میادین دول»، یمنی پریس ویب سائٹ۔
- ↑ «پرچم انصاراللہ یمن کدام است؟»، اویس قرنی مبارزاتی ٹیم ویب سائٹ؛ «الصرخہ المنطلقات و الاہداف»، صعدہ نیوز ویب سائٹ۔
- ↑ «الحوثیون یحییون اسبوع الصرخہ: رسائل للاعداء و الحلفاء»، العربی الجدید ویب سائٹ۔
مآخذ
- «استجابۃ ضعيفہ لدعوۃ الحوثيين الى الصرخہ»(حوثیوں کی نعرہ صرخہ بلند کرنے کی اپیل پر کمزور ردِعمل)، الجزیرہ نیوز چینل ویب سائٹ، تاریخ درج مطلب: 5 ستمبر 2014ء، تاریخ مشاہدہ: 14 فروری 2026ء۔
- البعوہ، زید، «شعار الصرخہ و معاداۃ السامیہ»(’’صرخہ‘‘ کا نعرہ اور سامراج دشمنی)، انصار اللہ ویب سائٹ، تاریخ درج مطلب: 27 جون 2019ء، تاریخ مشاہدہ: 17 فروری 2026ء۔
- البنوس، عبدالفتاح، «الصرخہ.. ہتاف الاحرار»(صرخہ۔۔۔ آزاد لوگوں کا نعرہ)، 21ستمبر نیوز ایجنسی ویب سائٹ، تاریخ درج مطلب: 5 جون 2022ء، تاریخ مشاہدہ: 30 جنوری 2026ء۔
- «پرچم انصاراللہ یمن کدام است؟»(انصار اللہ یمن کا جھنڈا کونسا ہے)، اویس قرنی مبارزاتی ٹیم، تاریخ مشاہدہ: 7 فروری 2026ء۔
- البہکلی، صادق، «الصرخہ فی وجہ المستکبرین.. السلاح الذی لم یستطع الاعداء مواجہتہ»(مستکبرین کے منہ پر صرخہ۔۔۔ وہ ہتھیار جس کا دشمن مقابلہ نہ کر سکے)، الثورہ ویب سائٹ، تاریخ درج مطلب: 19 جون 2020ء، تاریخ مشاہدہ: 23 فروری 2026ء۔
- «چرا شعار صرخہ بہ نماد ہویت سیاسی در یمن تبدیل شد؟»(یمن میں نعرہ صرخہ سیاسی شناخت کی علامت کیوں بن گیا؟)، یمن الاسلام ویب سائٹ، تاریخ درج مطلب: 4 فروری 2026ء، تاریخ مشاہدہ: 9 فروری 2026ء۔
- حلالی، خلود، «شعار حوثیہا نسخہای از شعارہای جمہوری اسلامی»(حوثیوں کا نعرہ، اسلامی جمہوریہ ایران کے نعروں کا ایک نسخہ ہے)، انڈیپنڈٰنٹ نیوز چینل ویب سائٹ، تاریخ درج مطلب: 10 ستمبر 2019ء، تاریخ مشاہدہ: 31 جنوری 2026ء۔
- «الحوثیون یحییون اسبوع الصرخہ: رسائل للاعداء و الحلفاء»(حوثی ’’ہفتۂ صرخہ‘‘ منا رہے ہیں: دشمنوں اور اتحادیوں کے لیے پیغامات)، العربی الجدید ویب سائٹ، تاریخ درج مطلب: 22 جولائی 2017ء، تاریخ مشاہدہ: 18 فروری 2026ء۔
- «السید حسین الحوثی.. الفکر الجہادی و الانتماء الیمنی»(سید حسین حوثی۔۔۔ جہادی فکر اور یمنی وابستگی)، المیادین نیوز چینل ویب سائٹ، تاریخ درج مطلب: 17 مارچ 2023ء، تاریخ مشاہدہ: 12 جنوری 2026ء۔
- شاکر ابو راس، فہد، «شعار الصرخۃ من الاستضعاف إلى التمكين»(نعرہ صرخہ: کمزوری و بے بسی سے قوت و اقتدار تک)، انصاراللہ ویب سائٹ، تاریخ درج مطلب: 30 مئی 2023ء، تاریخ مشاہدہ: 7 جنوری 2026ء۔
- «شعار الصرخۃ امتداد لمشروع قرآني رسم للشعب اليمني مسار التحرر من ہيمنۃ القوى الخارجيہ»(نعرہ صرخہ ایک قرآنی منصوبے کا تسلسل ہے، جس نے یمنی عوام کے لیے بیرونی طاقتوں کے تسلط سے آزادی کا راستہ متعین کیا)، الثورہ ویب سائٹ، تاریخ درج مطلب: 10 مئی 2024ء، تاریخ مشاہدہ: 6 جنوری 2026ء۔
- صالح ظفران الدعانی، ثابت، «البنیۃ الصوتیہ و دلالاتہا فی نص شعار الصرخہ»(نعرہ صرخہ کے متن میں صوتی ساخت اور اس کے مفاہیم)، در مجلہ جامعۃ عمران، شمارہ چہارم، 2022ء،
- «الصرخہ المنطلقات و الاہداف»(صرخہ: بنیادیں اور اہداف)، صعدہ نیوز ویب سائٹ، تاریخ مشاہدہ: 24 فروری 2026ء۔
- عبدالملک، احمد، «الصرخہ.. من حصریتہا فی جبال دولہ الی انتشارہا فی میادین دول»(صرخہ۔۔۔ پہاڑی علاقوں تک محدود ہونے سے لے کر ریاستوں کے میدانوں میں پھیلاؤ تک)، یمنی پرس ویب سائٹ، تاریخ درج مطلب: 22 جولائی 2011ء، تاریخ مشاہدہ: 21 فروری 2026ء۔
- عمیر، احمد، «الصرخہ.. جہاد و ارادۃ الامہ فی مواجہۃ الطغاہ»(صرخہ۔۔۔ طاغوتوں کے مقابلے میں جہاد اور امت کی قوتِ ارادی)، یمنی پرس ویب سائٹ، تاریخ درج مطلب: 4 فروری 2026ء، تاریخ مشاہدہ: 14 فروری 2026ء۔
- «گزیدہ بیانات سید عبدالملک الحوثی در روز صرخہ یمن(1402)»(یمن میں یومِ صرخہ (2023ء) کے موقع پر سید عبدالملک حوثی کے منتخب بیانات)، اویس قرنی مبارزاتی ٹیم ویب سائٹ، تاریخ مشاہدہ: 14 جنوری 2026ء۔
- «علماء يتحدثون عن أہميۃ إحياء ذكرى الصرخۃ: شعار الصرخہ بدايۃ الخلاص ومشروع المرحلہ»(علماء یومِ صرخہ کی یاد منانے کی اہمیت بیان کرتے ہوئے: نعرہ صرخہ نجات کی ابتدا اور ایک نئے مرحلے کا منصوبہ ہے)، الثورہ ویب سائٹ، تاریخ درج مطلب: 23 مئی 2024ء، تاریخ مشاہدہ: 14 فروری 2026ء۔
- علی البجلی، اصیل، «مضامين الشعار.. تجليات الرؤيۃ القرآنيہ في مواجہۃ الہيمنہ»(نعرے کے مضامین۔۔۔ تسلط کے مقابلے میں قرآنی فکر کے مظاہر)، المسیرہ نیوز چینل ویب سائٹ، تاریخ درج مطلب: 13 جولائی 2025ء، تاریخ مشاہدہ: 14 فروری 2026ء۔
- الوزیر، محمد، «فتوی حول الصرخہ التی استحدثت فی بعض مساجد الیمن»(یمن کی بعض مساجد میں متعارف کرائے گئے نعرہ صرخہ کے بارے میں فتویٰ)، شبوہ پریس ویب سائٹ، تاریخ درج مطلب: 21 فروری 2015ء، تاریخ مشاہدہ: 8 فروری 2026ء۔