صحیفہ سجادیہ کی تئیسویں دعا

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
صحیفہ سجادیہ کی تئیسویں دعا
کوائف
دیگر اسامی: تندرستی کے لئے امام سجادؑ کی دعا
موضوع: دین اور جسم میں عافیت و تندرستی کی درخواست، شیطان، جنات اور دوسروں کی مَکر و فریب سے خدا کی پناہ مانگنا
مأثور/غیرمأثور: مأثور
صادرہ از: امام سجاد علیہ السلام
راوی: متوکل بن ہارون
شیعہ منابع: صحیفہ سجادیہ
مشہور دعائیں اور زیارات
دعائے توسلدعائے کمیلدعائے ندبہدعائے سماتدعائے فرجدعائے عہددعائے ابوحمزہ ثمالیزیارت عاشورازیارت جامعہ کبیرہزیارت وارثزیارت امین‌اللہزیارت اربعین

صحیفہ سجادیہ کی تئیسویں دعا، امام سجادؑ کی مأثور دعاؤں میں سے ہے جس میں خدا سے دین، عقل، دل اور جسم میں عافیت و تندرستی کی درخواست کی گئی ہے۔ امام سجادؑ اس دعا میں خدا کا شکر ادا کرنے نیز خدا سے راہ راست کی ہدایت دریافت کرنے کے لئے دل اور زبان کا ایک ہونے پر تاکید کرتے ہوئے خدا سے مقام خشیت کی درخواست کرتے ہیں۔ اس دعا میں شیطان، جنات اور دوسروں کے مَکْر و فریب سے خدا کی پناہ مانگی گئی ہے۔

صحیفہ سجادیہ کی شروحات جیسے دیار عاشقان میں حسین انصاریان اور شہود و شناخت میں حسن ممدوحی کرمانشاہی نے فارسی میں اور کتاب ریاض السالکین میں سید علی‌ خان مدنی نے عربی میں اس دعا کی شرح کی ہیں۔

دعا و مناجات
مسجد جامع خرمشهر.jpg


مضامین

امام سجادؑ صحیفہ سجادیہ کی 23ویں دعا میں دین، عقل، دل اور جسم میں صحت و سلامتی کو خدا سے طلب فرماتے ہیں۔[1] حسن ممدوحی کرمانشاہی کے مطابق امام سجادؑ اس دعا میں خدا سے نزدیک ہونے میں موجود موانع کی برطرفی کو بھی خود خدا سے طلب کرتے ہیں۔[2] اس دعا کے مضامین درج ذیل ہیں:

  • ہر قسم کی مادی اور معنوی صحت و عافیت کی درخواست
  • دین اور دنیا میں عافیت کی درخواست
  • خشیت اور خوف خدا کی درخواست
  • امنیّت، ارادوں میں قاطعیت، واجبات کی انجام دہی اور محرمات سے دوری کی طاقت کی درخواست
  • حج و عمرہ اور قبر پیغمبر اکرمؐ کی زیارت کی درخواست ‌
  • خدا کی پرستش میں ظاہر و باطن کی ہماہنگی کی درخواست: زبان سے حمد و ثنا اور دل سے ہدایت کو قبول کرنا
  • شیطان مردود اور جنات کی شر سے خدا کی پناہ
  • مخالفین اور دشمنوں کی شر سے خدا کی پناہ
  • دوسروں کے مَکْر و فریب سے نجات پانے کی دعا۔[3]

شرحیں

صحیفہ سجادیہ کی شروحات جیسے کتاب دیار عاشقان میں حسین انصاریان،[4] شہود و شناخت میں محمد حسن ممدوحی کرمانشاہی[5] اور شرح و ترجمہ صحیفہ سجادیہ میں سید احمد فہری[6] نے فارسی میں اس دعا کی شرح لکھی ہیں۔

اسی طرح کتاب ریاض السالکین میں سید علی‌ خان مدنی،[7] فی ظلال الصحیفہ السجادیہ میں محمد جواد مغنیہ،[8] ریاض العارفین میں محمد بن محمد دارابی[9] اور آفاق الروح میں سید محمد حسین فضل‌ اللہ[10] نے عربی میں اس دعا کی شرح لکھی ہیں۔ اس کے علاوہ کتاب تعلیقات علی الصحیفہ السجادیہ میں فیض کاشانی[11] اور شرح الصحیفہ السجادیہ میں عزالدین جزائری[12] نے اس دعا کے کلمات اور الفاظ کے معانی بیان کئے ہیں۔

متن اور ترجمہ

صحیفہ سجادیہ کی تئیسویں دعا
متن ترجمہ
وَ کانَ مِنْ دُعَائِهِ علیه‌ السلام فِی طلب العافیۃ إِلَی اللَّهِ تَعَالَی

(۱) اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ، وَ أَلْبِسْنِی عَافِیتَک، وَ جَلِّلْنِی عَافِیتَک، وَ حَصِّنِّی بِعَافِیتِک، وَ أَکرِمْنِی بِعَافِیتِک، وَ أَغْنِنِی بِعَافِیتِک، وَ تَصَدَّقْ عَلَی بِعَافِیتِک، وَ هَبْ لِی عَافِیتَک وَ أَفْرِشْنِی عَافِیتَک، وَ أَصْلِحْ لِی عَافِیتَک، وَ لَا تُفَرِّقْ بَینِی وَ بَینَ عَافِیتِک فِی الدُّنْیا وَ الْآخِرَةِ.

(۲) اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ، وَ عَافِنِی عَافِیةً کافِیةً شَافِیةً عَالِیةً نَامِیةً، عَافِیةً تُوَلِّدُ فِی بَدَنِی الْعَافِیةَ، عَافِیةَ الدُّنْیا وَ الْآخِرَةِ.

(۳) وَ امْنُنْ عَلَی بِالصِّحَّةِ وَ الْأَمْنِ وَ السَّلَامَةِ فِی دِینِی وَ بَدَنِی، وَ الْبَصِیرَةِ فِی قَلْبِی، وَ النَّفَاذِ فِی أُمُورِی، وَ الْخَشْیةِ لَک، وَ الْخَوْفِ مِنْک، وَ الْقُوَّةِ عَلَی مَا أَمَرْتَنِی بِهِ مِنْ طَاعَتِک، وَ الِاجْتِنَابِ لِمَا نَهَیتَنِی عَنْهُ مِنْ مَعْصِیتِک.

(۴) اللَّهُمَّ وَ امْنُنْ عَلَی بِالْحَجِّ وَ الْعُمْرَةِ، وَ زِیارَةِ قَبْرِ رَسُولِک، صَلَواتُک عَلَیهِ وَ رَحْمَتُک وَ بَرَکاتُک عَلَیهِ وَ عَلَی آلِهِ، وَ آلِ رَسُولِک عَلَیهِمُ السَّلَامُ أَبَداً مَا أَبْقَیتَنِی فِی عَامِی هَذَا وَ فِی کلِّ عَامٍ، وَ اجْعَلْ ذَلِک مَقْبُولًا مَشْکوراً، مَذْکوراً لَدَیک، مَذْخُوراً عِنْدَک.

(۵) وَ أَنْطِقْ بِحَمْدِک وَ شُکرِک وَ ذِکرِک وَ حُسْنِ الثَّنَاءِ عَلَیک لِسَانِی، وَ اشْرَحْ لِمَرَاشِدِ دِینِک قَلْبِی.

(۶) وَ أَعِذْنِی وَ ذُرِّیتِی مِنَ الشَّیطَانِ الرَّجِیمِ، وَ مِنْ شَرِّ السَّامَّةِ وَ الْهَامَّةِ و الْعَامَّةِ وَ اللَّامَّةِ، وَ مِنْ شَرِّ کلِّ شَیطَانٍ مَرِیدٍ، وَ مِنْ شَرِّ کلِّ سُلْطَانٍ عَنِیدٍ، وَ مِنْ شَرِّ کلِّ مُتْرَفٍ حَفِیدٍ، وَ مِنْ شَرِّ کلِّ ضَعِیفٍ وَ شَدِیدٍ، وَ مِنْ شَرِّ کلِّ شَرِیفٍ وَ وَضِیعٍ، وَ مِنْ شَرِّ کلِّ صَغِیرٍ وَ کبِیرٍ، وَ مِنْ شَرِّ کلِّ قَرِیبٍ وَ بَعِیدٍ، وَ مِنْ شَرِّ کلِّ مَنْ نَصَبَ لِرَسُولِک وَ لِأَهْلِ بَیتِهِ حَرْباً مِنَ الْجِنِّ وَ الْإِنْسِ، وَ مِنْ شَرِّ کلِّ دَابَّةٍ أَنْتَ آخِذٌ بِناصِیتِها، إِنَّک عَلی صِراطٍ مُسْتَقِیمٍ.

(۷) اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ، وَ مَنْ أَرَادَنِی بِسُوءٍ فَاصْرِفْهُ عَنِّی، وَ ادْحَرْ عَنِّی مَکرَهُ، وَ ادْرَأْ عَنِّی شَرَّهُ، وَ رُدَّ کیدَهُ فِی نَحْرِهِ.

(۸) وَ اجْعَلْ بَینَ یدَیهِ سُدّاً حَتَّی تُعْمِی عَنِّی بَصَرَهُ، وَ تُصِمَّ عَنْ ذِکرِی سَمْعَهُ، وَ تُقْفِلَ دُونَ إِخْطَارِی قَلْبَهُ، وَ تُخْرِسَ عَنِّی لِسَانَهُ، وَ تَقْمَعَ رَأْسَهُ، وَ تُذِلَّ عِزَّهُ، وَ تَکسُرَ جَبَرُوتَهُ، وَ تُذِلَّ رَقَبَتَهُ، وَ تَفْسَخَ کبْرَهُ، وَ تُؤْمِنَنِی مِنْ جَمِیعِ ضَرِّهِ وَ شَرِّهِ وَ غَمْزِهِ وَ هَمْزِهِ وَ لَمْزِهِ وَ حَسَدِهِ وَ عَدَاوَتِهِ وَ حَبَائِلِهِ وَ مَصَایدِهِ وَ رَجِلِهِ وَ خَیلِهِ، إِنَّک عَزِیزٌ قَدِیرٌ.

اللہ سے عافیت مانگنے کی دعا

(۱) اے اللہ ! رحمت نازل فرما محمد اور ان کی آل پر اور مجھے اپنی عافیت کا لباس پہنا، اپنی عافیت کی ردا اوڑھا، اپنی عافیت کے ذریعہ محفوظ رکھ۔ اپنی عافیت کے ذریعہ عزت و وقار دے۔ اپنی عافیت کے ذریعہ بے نیاز کر دے۔ اپنی عافیت کی بھیک میری جھولی میں ڈال دے اپنی عافیت مجھے مرحمت فرما۔ اپنی عافیت کو میرا اوڑھنا بچھونا قرار دے۔ اپنی عافیت کی میرے لئے اصلاح و درستی فرما اور دنیا و آخرت میں میرے اور اپنی عافیت کے درمیان جدائی نہ ڈال۔

(۲) اے میرے معبود! رحمت نازل فرما محمد اورا ن کی آل پر اور مجھے ایسی عافیت دے جو بے نیاز کرنے والی، شفا بخشنے والی (امراض کی دسترس سے) بالا اور روز افزوں ہو۔ ایسی عافیت جو میرے جسم میں دنیا و آخرت کی عافیت کو جنم دے

(۳) اور صحت امن، جسم و ایمان کی سلامتی، قلبی بصیرت، نفاذ امور کی صلاحیت، بیم و خوف کا جذبہ اور جس اطاعت کا حکم دیا ہے اس کے بجا لانے کی قوت اور جن گناہوں سے منع کیا ہے ان سے اجتناب کی توفیق بخش کر مجھ پر احسان فرما

(۴) بار الہا! مجھ پر یہ احسان بھی فرما کہ جب تک تو مجھے زندہ رکھے، ہمیشہ اس سال بھی اور سال حج و عمرہ اور قبر رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور قبور آل رسول سلام اللہ علہیم کی زیارت کرتا رہوں۔ اور ان عبادات کو مقبول و پسندیدہ قابل التفات اور اپنے ہاں ذخیرہ قرار دے۔

(۵) اور حمد شکر و ذکر اور ثنائے جمیل کے نغموں سے میری زبان کو گویا رکھ اور دینی ہدایتوں کے لیے میرے دل کی گرہیں کھول دے۔

(۶) اور مجھے اور میری اولاد کو شیطان مردود اور زہریلے جانوروں، ہلاک کرنے والے حیوانوں اور دوسرے جانوروں کے گزند اور چشم بد سے پناہ دے اور ہر سرکش شیطان، ہر ظالم حکمران، ہر جمع جتھے والے مغرور، ہر کمزور اور طاقتور، ہر اعلے و ادنے، ہر چھوٹے بڑے اور ہر نزدیک اور دور والے اور جن و انس میں سے تیرے پیغمبر اور ان کے اہل بیت سے برسر پیکار ہونے والے اور ہر حیوان کے شر سے جن پر تجھے تسلط حاصل ہے محفوظ رکھ۔ اس لیے تو حق و عدل کی راہ پر ہے۔

(۷) اے اللہ ! محمد اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما اور جو مجھ سے برائی کرنا چاہے اسے مجھ سے رو گردان کر دے۔ اس کا مکر مجھ سے دور اس کا اثر مجھ سے دفع کر دے اور اس کے مکر و فریب (کے تیر) اسی کے سینہ کی طرف پلٹا دے

(۸) اور اس کے سامنے ایک دیوار کھڑی کر دے یہاں تک کہ اس کی آنکھوں کو مجھے دیکھنے سے نابینا اور اس کے کانوں کو میرا ذکر سننے سے بہرا کر دے اور اس کے دل پر قفل چڑھا دے تاکہ میرا اسے خیال نہ آئے اور میرے بارے میں کچھ کہنے سننے سے اس کی زبان کو گنگ کر دے، اس کا سر کچل دے۔ اس کی عزت پامال کر دے اس کی تمکنت کو توڑ دے اس کی گردن میں ذلت کا طوق ڈال دے، اس کا تکبر ختم کر دے۔ اور مجھے اس کی ضرر رسانی، شرپسندی، لعنہ زنی، غیبت، عیب جوئی، حسد، دشمنی اور اس کے پھندوں، ہتکھنڈوں، پیادوں اور سواروں سے اپنے حفظ و امان میں رکھ۔ یقینا تو غلبہ و اقتدار کا مالک ہے۔"

حوالہ جات

  1. مغنیہ، فی ظلال الصحیفہ السجادیہ، ۱۴۲۸ق، ص۲۳۲۔
  2. ممدوحی کرمانشاہی، شہود و شناخت، ۱۳۸۸ش، ج۲، ص۳۷۲۔
  3. انصاریان، دیار عاشقان، ۱۳۷۳ش، ج۶ ص۴۵۵-۴۷۲؛ ممدوحی، کتاب شہود و شناخت، ۱۳۸۸ش، ج۲، ص۳۷۲-۳۸۶۔
  4. انصاریان، دیار عاشقان، ۱۳۷۳ش، ج۶ ص۴۵۵-۴۷۲۔
  5. ممدوحی، کتاب شہود و شناخت، ۱۳۸۸ش، ج۲، ص۳۷۲-۳۸۶۔
  6. فہری، شرح و تفسیر صحیفہ سجادیہ، ۱۳۸۸ش، ج۲، ص۳۸۳-۳۹۰۔
  7. مدنی شیرازی، ریاض السالکین، ۱۴۳۵ق، ج۴، ص۵-۳۶۔
  8. مغنیہ، فی ظلال الصحیفہ، ۱۴۲۸ق، ص۳۰۹-۳۱۵۔
  9. دارابی، ریاض العارفین، ۱۳۷۹ش، ص۳۰۱-۳۱۰۔
  10. فضل اللہ، آفاق الروح، ۱۴۲۰ق، ج۱، ص۵۹۹-۶۱۵۔
  11. فیض کاشانی، تعلیقات علی الصحیفہ السجادیہ، ۱۴۰۷ق، ص۵۳-۵۶۔
  12. جزایری، شرح الصحیفہ السجادیہ، ۱۴۰۲، ص۱۳۲-۱۳۵۔


مآخذ

  • انصاریان، حسین، دیار عاشقان: تفسیر جامع صحیفہ سجادیہ، تہران، پیام آزادی، ۱۳۷۲ہجری شمسی۔
  • جزایری، عزالدین، شرح الصحیفۃ السجادیۃ، بیروت، دار التعارف للمطبوعات، ۱۴۰۲ھ۔
  • دارابی، محمد بن محمد، ریاض العارفین فی شرح الصحیفہ السجادیہ، تحقیق حسین درگاہی، تہران، نشر اسوہ، ۱۳۷۹ہجری شمسی۔
  • فضل‌اللہ، سید محمد حسین، آفاق الروح، بیروت، دارالمالک، ۱۴۲۰ھ۔
  • فہری، سید احمد، شرح و ترجمہ صحیفہ سجادیہ، تہران، اسوہ، ۱۳۸۸ہجری شمسی۔
  • فیض کاشانی، محمد بن مرتضی، تعلیقات علی الصحیفہ السجادیہ، تہران، مؤسسہ البحوث و التحقیقات الثقافیہ، ۱۴۰۷ھ۔
  • مدنی شیرازی، سید علی‌ خان، ریاض السالکین فی شرح صحیفۃ سیدالساجدین، قم، مؤسسہ النشر الاسلامی، ۱۴۳۵ھ۔
  • مغنیہ، محمد جواد، فی ظلال الصحیفہ السجادیہ، قم، دار الکتاب الاسلامی، ۱۴۲۸ھ۔
  • ممدوحی کرمانشاہی، حسن، شہود و شناخت، ترجمہ و شرح صحیفہ سجادیہ، مقدمہ آیت ‌اللہ جوادی آملی، قم، بوستان کتاب، ۱۳۸۸ہجری شمسی۔