اسد اللہ

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

شیعوں کے پہلے امام
حضرت علی علیہ السلام


حیات
واقعۂ غدیرلیلۃ المبیتیوم الدارمختصر زندگی نامہ


علمی ورثہ
نہج البلاغہغرر الحکم و درر الکلمخطبۂ شقشقیہبے الف خطبہبے نقطہ خطبہحرم


فضائل
فضائل اہل‌بیت، آیت ولایت • آیت اہل‌الذکر • آیت شراء • آیت اولی‌الامر • آیت تطہیر • آیت مباہلہ • آیت مودت • آیت صادقین-حدیث مدینۃالعلم • حدیث رایت • حدیث سفینہ • حدیث کساء • خطبہ غدیر • حدیث منزلت • حدیث یوم‌الدار • حدیث ولایتسدالابوابحدیث وصایت


اصحاب
عمار بن یاسرمالک اشترابوذر غفاریعبیداللہ بن ابی رافعحجر بن عدیدیگر افراد

اسد اللہ شیر خدا کے معنی میں جب کسی انسان کے لئے استعمال ہوتا ہے تو اس سے اس شخص کی غیر معمولی بہادری مراد لئے جاتے ہیں۔ یہ لقب حمزہ بن عبدالمطلب [1] اور امام علیؑ [2] کے لئے استعمال ہوا ہے۔

حمزہ

حضرت حمزہ کو جنگوں میں بہادری دکھانے کی وجہ سے "اسد اللہ" (خدا کا شیر) [3] اور "لیث اللہ" کہتے تھے۔ [4]

حدیثی اور تاریخی مآخذ میں مذکور بعض احادیث کے مطابق عرش کے ستون پر حضرت حمزہ کے بار میں "اسد اللہ" اور "اسد رسول اللہ" جیسے القاب لکھا ہوا ہے۔[5]

حمزہ جو اشعار جنگ بدر میں پڑھتا اس میں خود کو اسد اللہ اور اسد رسول اللہ کہتا تھا۔[6] اور جو زیارت نامہ اس سے منسوب ہے اس میں بھی اسے اسی لقب سے سلام دیا گیا ہے۔ [7]

امام علیؑ

پیغمبر اسلام(ص) نے امام علیؑ کو "اسد اللہ" اور "اسد الرسول" کا لقب عطا فرمایا تھا۔ [8] بعض مآخذ کے مطابق امام علیؑ کو "اسد اللہ الغالب" (یعنی اللہ کا شیر جو کامیاب ہے) کا لقب بھی دیا گیا ہے۔[9]

شیعہ "اسد اللہ الغالب" کو امام علیؑ کا لقب سمجھتے ہیں۔ بعض شیعہ ذاکر اور خطیب، جو خطبہ اپنی تقریر سے پہلے پڑھتے ہیں اس میں امام علیؑ کو "اسد اللہ الغالب" سے یاد کرتے ہیں۔ اسی طرح "اسد اللہ" جسے فارسی میں (شیر خدا) کہتے ہیں، فارشی شاعروں من جملہ مروزی، [10] سعدی[11]، عطار نیشابوری، [12] اور شہریار وغیرہ نے اپنے اشعار میں استعمال کئے ہیں۔

علی آن شیر خدا شاه عرب اُلفتی داشته با این دل شب
علی، خدا کا شیر اور عرب کا بادشاہ رات کی تاریکی کے ساتھ الفت رکھتے تھے۔
شب ز اسرار علی آگاه است دل شب محرم سرّالله است
رات علی کے اسرار سے آگاہ ہے رات کی تاریکی محرم سرّالله ہے۔[13]


حوالہ جات

  1. ابن عبدالبر، الاستیعاب، ۱۴۱۲ق، ج۱، ص۳۶۹۔
  2. ابن شہر آشوب، مناقب آل ابی‌طالب، ۱۳۷۹ق، ج۳، ص۲۵۹۔
  3. ابن حیون، شرح الاخبار فی فضائل الائمہ، ۱۴۰۹ق، ج۳، ص۲۲۸۔
  4. ابن حجر، الاصابہ، ۱۴۱۵ق، ج۵، ص۵۱۲۔
  5. کلینی، الکافی، ۱۴۰۷، ج۱، ص۲۲۴۔
  6. واقدی، المغازی، ۱۴۰۹ق، ج۱، ص۶۸؛ مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ق، ج۱، ص۷۴۔
  7. ابن قولویہ قمی، کامل الزیارات، ۱۳۵۶ش، ص۲۲۔
  8. ابن شہر آشوب، مناقب آل ابی‌طالب، ۱۳۷۹ق، ج۳، ص۲۵۹؛ مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ق، ج۳۹، ص۷۳-۷۴۔
  9. مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ق، ج۳۴، ص۲۶۸۔
  10. کسایی مروزی، دیوان اشعار، مدح حضرت علی ؑ۔
  11. سعدی، مواعظ، قصائد، قصیده ش۱۔
  12. عطار نیشابوری، منطق الطیر فی فضائل الخلفا، فی فضیلۃ امرالمؤمنین علی بن ابی‌طالبؑ
  13. شہریار، دیوان اشعار، ص۱۸۶۔


مآخذ

  • ابن حجر عسقلانی، احمد بن علی، الاصابہ فی تمییز الصحابہ، تحقیق: عادل احمد عبدالموجود و علی محمد معوض، بیروت، دارالکتب العلمیہ، ۱۴۱۵ق/۱۹۹۵م۔
  • ابن حیون مغربی، نعمان بن محمد، شرح الاخبار فی فضائل الائمۃالاطہار علیہم‌السلام، تصحیح: محمدحسین حسینی جلالی، قم، جامعہ مدرسین، ۱۴۰۹ق۔
  • ابن شہر آشوب مازندرانی، محمد بن علی،مناقب آل ابی‌طالب علیہم‌السلام، قم، علامہ، ۱۳۷۹ق۔
  • ابن عبدالبر، یوسف بن عبدالله، الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب، تحقیق: علی محمد البجاوی، بیروت، دارالجیل، ۱۴۱۲ق/۱۹۹۲م۔
  • ابن قولویہ، جعفر بن محمد، کامل الزیارات، تصحیح: عبدالحسین امینی، نجف، دارالمرتضویہ، ۱۳۵۶ش۔
  • ابن ہشام، عبدالملک بن ہشام، السیرة النبویہ، تحقیق: مصطفی السقا و ابراہیم الابیاری و عبدالحفیظ شبلی، بیروت، دارالمعرفہ، بی‌تا۔
  • بلاذری، احمد بن یحیی، جمل من انساب الاشراف، تحقیق: سہیل زکار و ریاض زرکلی، بیروت، دارالفکر، ۱۴۱۷ق/۱۹۹۶م۔
  • کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، تصحیح: علی اکبر غفاری و محمد آخوندی، تہران، دارالکتب الاسلامیہ، ۱۴۰۷ق۔
  • مجلسی، محمد باقر، بحارالانوار، تصحیح: جمعی از محققان، بیروت، داراحیا التراث العربی، ۱۴۰۳ق۔
  • مستوفی قزوینی، حمدالله بن ابی‌بکر، تحقیق: عبدالحسین نوائی، تہران، امیرکبیر، ۱۳۶۴ش۔
  • مفید، محمد بن محمد، الارشاد فی معرفۃ حجج الله علی العباد، تصحیح: مؤسسۃ آل البیت علیہم‌السلام، قم، کنگره شیخ مفید، ۱۴۱۳ق۔
  • واقدی، محمد بن عمر، المغازی، تحقیق: مارسدن جونس، بیروت، مؤسسۃ الاعلمی، ۱۴۰۹ق/۱۹۸۹م۔
  • یعقوبی، احمد بن ابی‌یعقوب، تاریخ الیعقوبی، بیروت، دارصادر، بی‌تا۔