ام المومنین

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
ازواج رسول خدا
امهات المؤمنین.png
خدیجہ بنت خویلد (ازدواج: ۲۵ عام الفیل)

سودہ بنت زمعہ (ازدواج: قبل از ہجرت)
عائشہ بنت ابوبکر (ازدواج: ۱ یا ۲ یا ۴ہجری)
حفصہ بنت عمر (ازدواج: ۳ہجری)
زینب بنت خزیمہ (ازدواج: ۳ہجری)
ام سلمہ بنت ابوامیہ (ازدواج: ۴ہجری)
زینب بنت جحش (ازدواج: ۵ہجری)
جویریہ بنت حارث (ازدواج: ۵ یا ۶ہجری)
رملہ بنت ابوسفیان (ازدواج: ۶ یا ۷ہجری)
ماریہ بنت شمعون (ازدواج: ۷ہجری)
صفیہ بنت حیی (ازدواج: ۷ہجری)

میمونہ بنت حارث (ازدواج: ۷ہجری)


اُم‌ُّ الْمُؤْمِنين‌، کا مطلب مومنین کی ماں ہے؛ یہ وہ لقب ہے جو اسلامی تہذیب و ثقافت میں ازواج رسولؐ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

یہ لقب‌ سورہ احزاب(۳۳) کی آیت نمبر 6 سے لیا گیا ہے جس میں پیغمبر اکرمؐ کا مؤمنین پر حق کو بیان کرتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے:«... اور ان کی بیویاں ان (مومنین) سب کی مائیں ہیں» اس آیہ مجیدہ کے نازل ہونے کے بعد مسلمان اجتماعی مناسبتوں میں پیغمبر اکرمؐ کی زوجات کی احترام کرنے پر مامور ہوئے۔

ازواج رسول کے احترام کی رعایت کے پیش نظر آنے والی احکام میں سے ایک آنحضرتؐ کی رحلت کے بعد آپ کی ازواج کے ساتھ شادی حرام ہونا اور رسول اکرمؐ کے حریم کی حفاظت کرنا ہے۔ [1]

حوالہ جات

  1. احزاب/53