عبد اللہ جوادی آملی

ویکی شیعہ سے
(عبدالله جوادی آملی سے رجوع مکرر)
عبد اللہ جوادی آملی
آیت اللہ جوادی آملی
کوائف
مکمل نامعبد اللہ جوادی آملی
تاریخ ولادتسنہ 1933 ء
آبائی شہرآمل۔
علمی معلومات
مادر علمیآمل، تہران، قم۔
اساتذہآیت اللہ بروجردیعلامہ سید محمد حسین طباطبائیسید محمد محقق دامادامام خمینی۔
تالیفاتتفسیر تسنیم، مفاتیح الحیات، رحیق مختوم، زن در آیینہ جمال و جلال، شریعت در آیینہ معرفت، ادب فنای مقربان (شرح زیارت جامعہ کبیرهتوضیح المسائل و ...
خدمات
سیاسیعضو مجلس خبرگان قانون اساسی، نمایندگی دوره اول و دوم مجلس خبرگان رہبری، امام جمعہ قم۔


عبد اللہ جوادی آملی (ولادت 1933 ء)، فلسفی، فقیہ، مفسر قرآن، استاد حوزہ علمیہ قم اور شیعہ مراجع تقلید میں سے ہیں۔ وہ امام خمینی و علامہ طباطبائی کے شاگرد ہیں اور تقریبا 60 برسوں سے قم و تہران کے حوزات علمیہ میں فلسفہ، عرفان، فقہ و تفسیر جیسے علوم کی تدریس میں مشغول ہیں۔ انہوں نے بہت سی کتابیں تالیف کی ہیں جن میں تفسیر تسنیم اور رحیق مختوم (شرح اسفار اربعہ) شامل ہیں۔

جوادی آملی انقلاب اسلامی ایران کے بعد سے مجلس خبرگان قانون اساسی، جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم اور مجلس خبرگان رہبری جیسے اداروں کے عضو رہ چکے ہیں۔ اسی طرح سے وہ ہجری شمسی کی 70 اور 80 کی دہائی میں شہر قم کے امام جمعہ بھی رہ چکے ہیں۔ سنہ 1987 ء میں وہ سابق متحدہ روس کے رہبر گورباچوف کو امام خمینی کا خط پہنچانے کی ذمہ داری بھی ادا کر چکے ہیں۔

جوادی آملی فلسفہ میں حکمت متعالیہ کے پیرو ہیں۔ وہ علوم انسانی و سائنسی علوم کے دائرہ کار میں علوم دینی کے وجود کو قبول کرتے ہیں۔ ان کے بعض متفاوت و مختلف فتاوی میں خواتین کے لئے خاتون مرجع تقلید کی تقلید کا جواز، جواز تغییر جنسیت اور طہارت اہل کتاب جیسے مسائل شامل ہیں۔

تحصیل علم

عبد اللہ جوادی آملی سنہ 1933 ء میں آمل میں پیدا ہوئے۔[1] ان کے والد اس شہر کے عالم دین تھے۔[2] 1325 ھ ش میں انہوں نے حوزہ علمیہ آمل میں اپنی تعلیم کا آغاز کیا اور 5 سال کی مدت میں عربی ادب، منطق، اصول فقہ، فقہ، تفسیر قرآن و حدیث کی تعلیم حاصل کی۔[3]

1329 شمسی میں وہ تہران گئے اور وہاں مدرسہ مروی میں 5 سال تک تحصیل علم میں مشغول رہے۔ اس عرصہ میں انہوں نے محمد تقی آملی، ابو الحسن شعرانی، مہدی الہی قمشہ ای اور محمد حسین تونی جیسے اساتذہ سے کسب فیض کیا۔ انہوں نے فقہ و اصول کے ساتھ فلسفہ و عرفان کی تعلیم بھی حاصل کی اور ساتھ ہی ساتھ وہ حوزوی دروس کی تدریس بھی کرتے رہے۔[4] 1334 ھ ش میں وہ حوزہ علمیہ قم میں وارد ہوئے اور حوزہ کے تخصصی دروس کو آیت اللہ بروجردی، آیت‌ الله سید محمد محقق داماد، میرزا ہاشم آملی، امام خمینی اور علامہ طباطبایی جیسے علماء سے حاصل کیا۔[5]

تدریس

تفسیر تسنیم

جوادی آملی نے حوزوی دروس کی تدریس کی ابتداء جوانی میں ہی اسی زمانہ میں کر دی تھی جب وہ تہران کے مدرسہ میں زیر تعلیم تھے۔[6] ان کے علمی کارناموں میں سے ایک ان کا 60 سالہ تدریسی سلسلہ ہے جس میں انہوں نے حوزہ کے مختلف موضوعات کے دروس جیسے فقہ، فلسفہ، عرفان و تفسیر قرآن تدریس کئے۔ اس عرصہ میں انہوں نے حوزہ علمیہ قم میں ملا صدرا کی کتاب اسفار اربعہ بھی تدریس کی ہے۔[7]

ان کے درس تفسیر کا سلسلہ 1355 ھ ش میں شروع ہوا تھا۔[8] ان کا درس تفسیر اور درس خارج فقہ قم کی مسجد اعظم میں ہوتا ہے۔[9]

مرجعیت

جوادی آملی کے دفاتر مرجعیت قم، تہران، شہر ری، تبریز، ارومیہ، زنجان، آمل اور شیراز جیسے شہروں میں قائم ہو چکے ہیں۔[10] ان کے استفتاءات پر مشتمل کتاب اور توضیح المسائل نشر و شائع ہو چکی ہیں۔

افکار و نظریات

ان کے بعض شاگردوں کے مطابق ان کے افکار کی مرکزیت حکمت متعالیہ کے نظریہ پر استوار ہے۔ لہذا وہ عقل و عرفان و قرآن میں ہم آہنگی کا نظریہ رکھتے ہیں اور ان تینوں کے معارف میں عدم موزونیت نہیں پاتے ہیں۔[11] ان کے نظریہ کے مطابق عقل، دین کے مقابل میں نہیں ہے بلکہ دین کا چراغ ہے اور اس سے اعتقادی و اخلاقی تعلیمات اور دین کے فقہی و حقوقی قوانین کے فہم کی راہ میں استفادہ کیا جا سکتا ہے۔[12]

علم دین

جوادی آملی علم دینی پر یقین رکھتے ہیں۔ ان کے نظریات کے مطابق عقل سے مراد محض عقل نظری نہیں ہے بلکہ اس میں عقل عملی بھی شامل ہے اور یہی سبب ہے کہ علوم تجربی، علوم طبیعی و علوم انسانی کا بھی احاطہ کرتے ہیں۔[13] ان کا ماننا ہے کہ علم بذات خود دین سے تعارض نہیں رکھتا ہے۔[14] علوم تجربی ہمیں جہان طبیعت کی شناخت کراتے ہیں اور اس جہت سے کہ جہان مخلوق خدا ہے، یہ علوم ہمیں فعل خدا کا نظارہ کراتے ہیں۔ لہذا ان علوم کو دینی سمجھنا چاہئے۔[15]

وہ اس استدلال سے یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ علم اگر واقعی و حقیقی علم ہے تو وہ غیر دینی و الحادی ہو ہی نہیں سکتا ہے۔[16]

سیاسی نظریات

جوادی آملی نظریہ ولایت فقیہ کے حامی ہیں۔ انہوں نے اپنی کتاب ولایت فقیہ، ولایتِ فقاہت و عدالت میں تین طرح کے دلائل، دلیل عقلی محض، دلیل مرکب عقل و نقل (روایت) اور دلیل نقلی محض، ذکر کئے ہیں۔[17] ان کی دلیل مرکب عقل و نقل کا مفہوم یہ ہے کہ ایک طرف تو اسلام میں سماجی و سیاسی احکام جیسے حج،[18] جہاد،[19] حدود و تعزیرات[20] اور قوانین مالی جیسے انفال و خمس[21] موجود ہیں جن کا اجرا معصوم کی غیبت کے زمانہ میں فقط فقیہ جامع الشرایط کے ذریعہ ہی ممکن ہے[22] تو دوسرے طرف عقل حکم کرتی ہے کہ خداوند عالم نے غیبت معصوم کے زمانہ میں اسلامی معاشرہ کو بے سر پرست نہیں چھوڑا ہے، لہذا اس عرصہ میں جامع الشرایط فقہاء، معصومین کے جانشین کے طور پر معاشرہ کے ذمہ دار ہیں۔[23]

مخصوص فتاوی

جوادی آملی کی توضیح المسائل میں دوسرے فقہاء کی توضیح المسائل کے خلاف فرق، الیکشن، تذہیب قرآن، حق تالیف و نشر، قرض کو دوسرے کے حوالے کرنا، مہنگائی کے باوجود دین پر عمل کرنا، پوسٹ مارٹم، تغییر جنسیت، عزاداری، حوادث میں امداد رسانی اور احکام اہل کتاب جیسے موضوعات کے احکام بیان ہوئے ہیں۔[24]

خواتین کے لئے خاتون اعلم مرجع تقلید کی تقلید کا جائز ہونا،[25] طہارت اہل کتاب،[26] تغییر جنسیت کا جواز[27] اور طباعت، ترجمہ، سی ڈی پروگرام کی تولید و نشر کے حق کا محفوظ ہونا،[28] ان کے منجملہ مختلف فتاوی میں سے ہیں۔

سیاسی و سماجی کارنامے

جوادی آملی، امام خمینی کا خط دینے کے سلسلہ میں سابق روسی صدر میخائیل گورباچوف سے ملاقات کرتے ہوئے۔

اگرچہ ہمیشہ ہی ان کی سب سے زیادہ مشغولیت علمی کاموں کے سلسلہ میں رہی ہے۔ اس کے باجود وہ انقلاب اسلامی ایران سے پہلے بھی اور بعد میں بھی سیاسی و سماجی امور میں مشارکت کرتے رہے ہیں۔ انقلاب اسلامی سے قبل وہ امام خمینی کے نظریات کے مروج رہے ہیں، جس کے سبب انہیں کئی بار تبلیغ اور تقریر سے منع اور گرفتار بھی کیا گیا۔[29]

انقلاب اسلامی کے بعد ایران کے جیف جسٹس، شورای عالی قضائی کے رکن،[30] عدالتی قوانین و لائحات کے نوٹس کی تیاری،[31] دو بار مجلس خبرگان رہبری کی رکنیت اور جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم کی رکنیت جیسے عہدوں پر ان کی خدمات و فعالیت رہیں ہیں۔[32]

جوادی آملی نے سن 1376 ش میں آیت اللہ منتظری کی تقریر کے خلاف مسجد اعظم قم میں ہوئے مظاہرے میں شرکت کی۔[33] اسی طرح سے انہوں نے سن 1378 ش میں آیت اللہ مصباح کے خلاف شائع ہونے والے کارٹون کے خلاف ہوئے دھرنے میں تقریر کرتے ہوئے حکومت وقت کے ثقافتی ادارہ پر تنقید کی۔[34]

وہ 70 اور 80 شمسی کی دہائی میں شہر قم کے امام جمعہ بھی رہے۔[35] انہوں نے سن 1388 میں نماز جمعہ کی امامت کے عہدہ استعفا دے دیا۔[36]

سفر متحدہ روس و امریکہ

جوادی آملی کو سن 1367 ش میں محمد جواد لاریجانی اور مرضیہ حدیدہ چی (دباغ)[37] کے ہمراہ امام خمینی کا خط سابق متحدہ روس کے رہبر وقت میخائیل گورباچوف کو پہچانے اور ان کے سامنے پڑھنے کی ذمہ دی گئی۔[38] انہوں نے اس ملاقات کے بعد امام خمینی کے پیغام پر آوای توحید کے نام سے ایک شرح لکھی اور اس کتاب کو یوروپ کی بعض مذہبی شخصیتوں کو بطور پر تحفہ بھیجا۔[39] انہوں نے سن 1379 ش مطابق 2000 عسیوی میں ہزارہ ادیان نامی کانفرنس میں جمہوری اسلامی ایران کے رہبر آیت اللہ خامنہ ای کے پیغام کو پڑھنے کے لئے نیویارک (امریکہ) سفر کیا۔[40]

مرکز اسراء و ادارہ امام حسن عسکری

شہر قم کے علمی مراکز میں سے ایک بنیاد بین‌المللی علوم وحیانی اِسراء نامی ادارہ آیت اللہ جوادی آملی کے زیر نظر کام کرتا ہے۔ جس کا مقصد ان کے نظریات کے مطابق علوم اسلامی کی تبیین و توسیع اور اسی طرح سے علوم اسلامی کے سلسلہ میں محققین کو تعلیم و تربیت دینا ہے۔[41] اسی طرح سے جوادی آملی کے زیر نظر ایک اور ادارہ جس کا نام مؤسسہ آموزش عالی حوزوی امام حسن عسکری (ع) ہے، وہ بھی کام کرتا ہے جو سن 1378 ش میں شہر آمل میں تاسیس کیا گیا ہے۔[42]

آثار و تالیفات

جوادی آملی نے مختلف موضوعات جیسے فقہ، تفسیر، فلسفہ و حدیث پر کتاب تالیف کی ہے۔ ان کی تفسیر جو ان کے سلسلہ دروس کا نتیجہ ہے، تسنیم کے نام[43] سے 45 جلدوں میں شائع ہو چکی ہے۔[44] ان کی ایک دوسری تالیف رحیق مختوم، ملا صدرا کی کتاب اسفار اربعہ کے تیسرے دورہ تدریس کا نتیجہ ہے[45] جس کی 20 ویں جلد کی رونمائی ماہ اردیبہست 1397 ش میں ہوئی ہے۔[46]

ان کی دوسری تصنیفات میں مفاتیح الحیات، زن در آیینہ جمال و جلال، شریعت در آیینہ معرفت، ادب فنای مقربان (شرح زیارت جامعہ کبیره) و توضیح المسائل وغیرہ شامل ہیں۔

حوالہ جات

  1. «زندگی ‌نامہ حضرت آیت الله جوادی آملی از زبان خودشان»، وبگاه پایگاه اطلاع ‌رسانی حوزه، ۱۸ تیر ۱۳۸۵ش، دیده‌ شده در ۲۵ اردیبہشت ۱۳۹۷
  2. وبگاه«زندگی‌ نامہ حضرت آیت الله جوادی آملی از زبان خودشان»، وبگاه پایگاه اطلاع‌ رسانی حوزه، ۱۸ تیر ۱۳۸۵ش، دیده ‌شده در ۲۵ اردیبهشت ۱۳۹۷
  3. بند علی، مہر استاد، ۱۳۹۱، ص۳۷
  4. «حیات علمی و قرآنی آیت ‌الله جوادی آملی»، وبگاه بنیاد بین المللی علوم وحیانی اسراء، دیده‌ شده در ۲۹ اردیبهشت ۱۳۹۷
  5. «حیات علمی و قرآنی آیت‌ الله جوادی آملی»، وبگاه بنیاد بین المللی علوم وحیانی اسراء، دیده‌ شده در ۲۹ اردیبہشت ۱۳۹۷
  6. «حیات علمی و قرآنی آیت‌ الله جوادی آملی»، وبگاه بنیاد بین المللی علوم وحیانی اسراء، دیده‌ شده در ۲۹ اردیبہشت ۱۳۹۷
  7. «حیات علمی و قرآنی آیت‌ الله جوادی آملی»، وبگاه بنیاد بین المللی علوم وحیانی اسراء، دیده ‌شده در ۲۹ اردیبہشت ۱۳۹۷
  8. «حیات علمی و قرآنی آیت‌ الله جوادی آملی»، وبگاه بنیاد بین المللی علوم وحیانی اسراء، دیده‌ شده در ۲۹ اردیبهشت ۱۳۹۷.
  9. «برنامہ دروس آیت‌ الله جوادی آملی»، وبگاه پایگاه اطلاع‌ رسانی حوزه، ۳۰ شهریور ۱۳۸۹، دیده‌ شده در ۲۹ اردیبهشت ۱۳۹۷
  10. «دفاتر معظم ‌لہ»، وبگاه بنیاد بین‌المللی علوم وحیانی اسراء، دیده‌ شده در ۶ خرداد ۱۳۹۷
  11. مصطفی ‌پور، «منظومہ فکری آیت الله جوادی آملی»، وبگاه پژوهشگاه معارج، دیده ‌شده‌ در ۲۵ تیر ۱۳۹۶ش
  12. واعظی، «علم دینی از منظر آیت ‌الله جوادی آملی»، ص۱۰
  13. واعظی، «علم دینی از منظر آیت ‌الله جوادی آملی»، ص۱۱و۱۲
  14. واعظی، «علم دینی از منظر آیت‌ الله جوادی آملی»، ص۱۵.
  15. واعظی، «علم دینی از منظر آیت‌ الله جوادی آملی»، ص۱۶
  16. واعظی، «علم دینی از منظر آیت‌ الله جوادی آملی»، ص۱۶
  17. نگاه کریں جوادی آملی، ولایت فقیہ، ۱۳۷۸، ص۱۵۰ تا۱۸۴
  18. نگاه کریں جوادی آملی، ولایت فقیہ، ص۱۶۸.
  19. نگاه کریں جوادی آملی، ولایت فقیہ، ص۱۶۸.
  20. نگاه کریں جوادی آملی، ولایت فقیہ، ۱۳۷۸، ص۱70
  21. نگاه کریں جوادی آملی، ولایت فقیہ، ۱۳۷۸، ص۱۷۱و۱۷۲
  22. نگاه کریں جوادی آملی، ولایت فقیہ، ۱۳۷۸، ص۱۶۸
  23. نگاه کریں جوادی آملی، ولایت فقیہ، ۱۳۷۸، ص۱۶۸
  24. روزنامہ جمہوری اسلامی، ۱۲ مہر ۱۳۹۵، ص۱۲
  25. جوادی آملی، عبدالله، رسالہ عملیہ، ج اول، ص۲۲
  26. جوادی آملی، عبدالله، رسالہ عملیہ، ج اول، ص۴۱۳.
  27. جوادی آملی، عبدالله، رسالہ عملیہ، ج اول، ص۴۰۱
  28. جوادی آملی، عبدالله، رسالہ عملیہ، ج اول، ص۳۹۰
  29. بند علی، سعید، مہر استاد، نسخہ الکترونیک، ۱۳۹۱، ص۱۹۱ و ۱۹۲
  30. بند علی، سعید، مہر استاد، نسخہ الکترونیک، ۱۳۹۱، ص۲۰۱
  31. بند علی، سعید، مہر استاد، نسخہ الکترونیک، ۱۳۹۱، ص۲۰۴.
  32. مدرسی، تاریخچہ زندگی آیت‌ الله شیخ عبدالله جوادی آملی
  33. مدرسی، تاریخچہ زندگی آیت‌ الله شیخ عبدالله جوادی آملی
  34. مدرسی، تاریخچہ زندگی آیت‌ الله شیخ عبدالله جوادی آملی
  35. نگاه کریں «خطبہ های نماز جمعہ»، وبگاه بنیاد بین المللی علوم وحیانی اسراء، دیده‌ شده در ۶ خرداد ۱۳۹۷
  36. «آخرین خطبہ نماز جمعه آیت‌ الله جوادی آملی قرائت شد»، وبگاه خبرگزاری فارس، ۶ آذر ۱۳۸۸، دیده‌ شده در ۲۴ تیر ۱۳۹۶
  37. «ماجرای نامہ امام بہ گورباچف بہ قلم حضرت آیت الله جوادی آملی»، وبگاه پایگاه اطلاع‌ رسانی حوزه، ۱۲ بہمن ۱۳۹۵، دیده ‌شده در ۱ خرداد ۱۳۹۷
  38. مدرسی، تاریخچہ زندگی آیت‌ الله شیخ عبدالله جوادی آملی
  39. مدرسی، تاریخچہ زندگی آیت‌ الله شیخ عبدالله جوادی آملی
  40. مدرسی، تاریخچہ زندگی آیت‌ الله شیخ عبدالله جوادی آملی
  41. اساس نامہ بنیاد بین المللی علوم وحیانی اسراء، وبگاه مرکز پژوهش‌ ہای مجلس، ۲۴ آذر ۱۳۹۲، دیده‌ شده در ۲۶ تیر ۱۳۹۶
  42. نیم ‌نگاہی بہ بنیاد بین‌المللی علوم وحیانی اِسراء، افق حوزه، ص۱۲
  43. نگاه کریں جوادی آملی، تسنیم، ۱۳۸۸ش، ج۱، ص۲۵. نگاه کریں جوادی آملی، تسنیم، ۱۳۸۸ش، ج۱، ص۲۵.
  44. «انتشار جلد ۴۵ تفسیر تسنیم»، وبگاه مرکز بین‌المللی نشر اسراء، دیده‌شده در ۱۱ خرداد ۱۳۹۷
  45. «حیات علمی و قرآنی آیت‌ الله جوادی آملی»، وبگاه بنیاد بین المللی علوم وحیانی اسراء، دیده ‌شده در ۲۹ اردیبهشت ۱۳۹۷
  46. «رونمایی از جلدہای ۱۷ تا ۲۰ رحیق مختوم در کنگره بین المللی توسعہ و تعالی علوم بر پایہ عقلانیت وحیانی»، وبگاه بنیاد بین المللی علوم وحیانی اسراء، ۱۵ اردیبہشت ۱۳۹۷، دیده‌ شده در ۲۹ اردیبہشت ۱۳۹۷.

مآخذ

  • «آخرین خطبہ نماز جمعہ آیت‌ الله جوادی آملی قرائت شد»، وبگاه خبر گزاری فارس، ۶ آذر ۱۳۸۸، دیده‌ شده در ۲۴ تیر ۱۳۹۶۔
  • «اساس نامہ بنیاد بین المللی علوم وحیانی اسراء»، وبگاه مرکز پژوهش‌ ہای مجلس، ۲۴ آذر ۱۳۹۲، دیده‌ شده در ۲۶ تیر ۱۳۹۶۔
  • «انتشار جلد ۴۵ تفسیر تسنیم»، وبگاه مرکز بین‌المللی نشر اسراء، دیده‌ شده در ۱۱ خرداد ۱۳۹۷۔
  • «برنامہ دروس آیت‌ الله جوادی آملی»، وبگاه پایگاه اطلاع‌ رسانی حوزه، ۳۰ شہریور ۱۳۸۹، دیده‌ شده در ۲۹ اردیبہشت ۱۳۹۷۔
  • بند علی، سعید، مہر استاد، نسخہ الکترونیک، نرم افزار حکیم۔
  • جوادی آملی، عبد الله، تسنیم، تحقیق علی اسلامی، قم، مرکز نشر اسراء، چاپ ہشتم، ۱۳۸۸۔
  • جوادی آملی، عبد الله، رسالہ عملیہ، نسخہ الکترونیک، ج اول۔
  • جوادی آملی، عبد الله، ولایت فقیہ ولایت فقاہت و عدالت، تنظیم محمد محرابی، قم، مرکز نشر اسراء، چاپ اول، ۱۳۷۸۔
  • «حیات علمی و قرآنی آیت‌ الله جوادی آملی»، وبگاه بنیاد بین المللی علوم وحیانی اسراء، دیده‌ شده در ۲۹ اردیبہشت ۱۳۹۷۔
  • نگاه کریں «خطبہ ہای نماز جمعہ»، وبگاه بنیاد بین المللی علوم وحیانی اسراء، دیده‌شده در ۶ خرداد ۱۳۹۷۔
  • «دفاتر معظم‌ لہ»، وبگاه بنیاد بین‌ المللی علوم وحیانی اسراء، دیده‌ شده در ۶ خرداد ۱۳۹۷۔
  • «زندگی‌ نامہ حضرت آیة الله جوادی آملی از زبان خودشان»، وبگاه پایگاه اطلاع‌ رسانی حوزه، ۱۸ تیر ۱۳۸۵ش، دیده‌ شده در ۲۵ اردیبہشت ۱۳۹۷۔
  • روزنامہ جمہوری اسلامی، دوشنبہ ۱۲ مہر ۱۳۹۵ش۔
  • «رونمایی از جلدہای ۱۷ تا ۲۰ رحیق مختوم در کنگره بین المللی توسعہ و تعالی علوم بر پایہ عقلانیت وحیانی»، وبگاه بنیاد بین المللی علوم وحیانی اسراء، ۱۵ اردیبهشت ۱۳۹۷، دیده‌ شده در ۲۹ اردیبهشت ۱۳۹۷۔
  • غفاریان، متین، «گفتگوی خردمندانہ»، گزارشی از مناظره انتقادی آیت الله حائری یزدی و آیت الله جوادی آملی درباره ولایت، در مجلہ خردنامہ ہمشہری، ۲۵ فروردین ۱۳۸۴ - شماره ۴۶ (ص ۸ تا ۱۱)۔
  • «ماجرای نامہ امام بہ گورباچف بہ قلم حضرت آیت الله جوادی آملی»، وبگاه پایگاه اطلاع‌ رسانی حوزه، ۱۲ بہمن ۱۳۹۵، دیده‌ شده در ۱ خرداد ۱۳۹۷۔
  • مدرسی، فرید، «تاریخچہ زندگی آیت‌ الله شیخ عبد الله جوادی آملی»، شہروند، ش۵۵، تیر۱۳۸۷۔
  • مصطفی‌ پور، محمدرضا، «منظومہ فکری آیت الله جوادی آملی»، وبگاه پژوهشگاه معارج، دیده‌ شده‌در ۲۵ تیر ۱۳۹۶ش۔
  • «نیم‌ نگاہی بہ بنیاد بین‌ المللی علوم وحیانی اِسراء»، افق حوزه، ش۳۶۴، ۱ خرداد ۱۳۹۲۔
  • واعظی، احمد، «علم دینی از منظر آیت الله جوادی آملی»، روش‌ شناسی علوم انسانی، ش۵۴، ۱۳۸۷۔