مقداد بن عبد اللہ حلی

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
مقداد بن عبد اللہ حلی
ذاتی کوائف
لقب فاضل مقداد، فاضل سیوری
نسب قبیلۂ بنی اسد
آبائی شہر سیور
تاریخ وفات ۸۲۶ ھ ق
مدفن نجف،
مذہب شیعہ اثنا عشری
علمی و دینی معلومات
اساتذہ شہید اول، فخرالمحققین، عمید الدین، سید ضیاءالدین
شاگرد ابن قطّان، عبدالملک بن شمس الدین قمی،

شیخ علی بن حسن بن علالہ، شیخ حسن بن راشد حلّی

کتابیں اللوامع الہیہ، کنز العرفان

النافع یوم الحشر فی شرح الباب الحادی عشر،...


مِقْداد بن عَبد اللہ بن محمد حلّی سُیوُری (متوفی ۸۲۶ ق)، شیعہ متکلم فقیہ جو فاضل مقداد کے نام سے جانے جاتے تھے۔ قریہ سیور میں پیدا ہوئے جو عراق کے شہر حلہ کے پاس واقع ہے اور ان کا تعلق بنی اسد قبیلہ سے تھا۔ علمی و معنوی مراحل طے کرنے کے بعد نجف میں سکونت اختیار کی اور وہیں فوت ہوئے۔ وہ شہید اول کے شاگردوں میں سے ہیں اور ان سے روایت بھی کرتے ہیں۔ ابن قطّان اور حسن بن راشد حلی ان کے شاگردوں میں سے ہیں۔ فقہ میں انکی کتاب کنز العرفان فی الفقہ ہے کہ جس میں قرآن پاک کی ان آیات سے بحث کی گئی ہے جن میں احکام بیان ہوئے ہیں۔ اللوامع الالہیہ فی المباحث الکلامیہ ان کے اہم کلامی آثار میں سے ہے۔

تعارف

ابو عبد اللہ مقداد بن عبداللہ بن محمّد بن حسین بن محمّد سیوری حلّی أسدی غروی معروف بنام فاضل سیوری اور فاضل مقداد شیعہ فقہا اور متکلمین میں تھے۔ جنہوں نے انکے حالات زندگی لکھے انہیں اچھے الفاظ سے یاد کیا اور ان کی تعریف کی ہے۔

فاضل مقداد کی زندگی کے متعلق کوئی واضح مطالب ثبت نہیں ہوئے ہیں۔ جو کچھ لکھا گیا اس کے مطابق عراق کے شہر حلہ کے نزدیکی دیہات سیور سے تھے۔ ان کا تعلق بنی اسد سے تھا۔ جب شہید اول نے نجف ہجرت کی تو ان کی شاگردی اختیار کی اور آخر کار ۸۲۶ ہجری قمری میں نجف میں فوت ہوئے اور وہیں مدفون ہیں۔[1]

تاسیس مدرسہ

قاضل مقداد نے حوزه علمیہ نجف اشرف میں ایک مدرسہ کی بنیاد رکھی جو نجف کے قدیمی ترین مدارس میں سے شمار ہوتا ہے۔ اس مدرسہ کی بنیاد (۸۲۶ ق) میں رکھی گئی۔[2] یہ آجکل نجف شہر کے مشراق نامی محلے میں واقع ہے جو مسجد اصاغہ کے سامنے ہے۔ یہ دسویں صدی ہجری کے آخری سالوں تک آباد تھا۔ اسکے بعد ویران ہو گیا۔ یہاں تک کہ سلیم خان شیرازی نے ۱۲۵۰ ق نے اسے نئے سرے سے تعمیر کیا اور اسی وجہ سے مدرسہ سلیمیہ کے نام سے معروف ہوا۔

اس مدرسے کے دروازے پر لکھی ہوئی تاریخ کے مطابق اسکی آخری تعمیرات ۱۳۴۰ ق میں وکیل سید ابو القاسم کے ہاتھوں انجام پائی۔ یہ ایک چھوٹا سا مدرسہ ہے جو مدرسہ سلیمیہ کے نام سے معروف ہے اور اس میں موجود کمروں کی تعداد ۱۲ ہے۔[3]

اساتذہ اور شاگرد

فاضل مقداد کے اساتذہ کے نام:

فاضل مقداد کے بعض شاگردوں کے اسما:

  • شیخ شمس الدین محمد بن شجاع قطّان انصاری حلی، معروف ابن قطّان
  • رضی الدین عبدالملک بن شمس الدین اسحاق بن عبدالملک بن محمد بن محمد بن فتحان حافظ قمی
  • شیخ زین الدین علی بن حسن بن علالہ
  • شیخ حسن بن راشد حلّی[4]

بعض منابع میں ابوالحسن علی بن ہلال جزائری کو بھی ان کا شاگرد کہا گیا ہے لیکن سید محمدعلی قاضی طباطبائی نے اللوامع الالہیہ کے مقدمے میں چند دلائل کی بنا پر اس نظریے کو رد کیا ہے۔[5]

تألیفات

  1. رسالہ آداب الحج؛
  2. الادعیہ الثلاثون؛
  3. الاربعون حدیثاً؛
  4. ارشاد الطالبین إلی نہج المسترشدین؛
  5. شرح الفیہ شہید اول؛
  6. الانوار الجلیہ فی شرح الفصول النصیریہ از خواجہ نصیر الدین طوسی؛
  7. تجوید البراعہ فی شرح تجرید البلاغہ؛
  8. التنقیح الرائع فی شرح مختصر الشرائع؛
  9. الجامع الفوائد فی تلخیص القواعد؛
  10. شرح سی فصل خواجہ نصیر الدین طوسی؛
  11. کنز العرفان فی فقہ القرآن؛
  12. اللوامع الہیہ فی المباحث الکلامیہ؛
  13. النافع یوم الحشر فی شرح الباب الحادی عشر؛
  14. نضد القواعد الفقہیہ علی مذہب الامامیہ؛
  15. نہج السّداد فی شرح واجب الاعتقاد علامہ؛
  16. شرح مبادئ الاصول علامہ؛
  17. تفسیر مغمضات القرآن.[6]

حوالہ جات

  1. فاضل مقداد، کنز العرفان فی فقہ القرآن، ۱۳۶۹ش، مقدمه: ص۴-۵
  2. فاضل مقداد، اللوامع الالہیہ، مقدمہ قاضی طباطبائی، ۱۳۸۰ش، ص۵۵.
  3. سایت فرهیختگان.
  4. فاضل مقداد، کنز العرفان فی فقہ القرآن، ۱۳۶۹ش، مقدمہ: ص۸ - ۹.
  5. فاضل مقداد، اللوامع الالہیہ، مقدمہ قاضی طباطبائی، ۱۳۸۰ش، ص۵۵.
  6. فاضل مقداد، کنز العرفان، ۱۳۶۹ش، مقدمہ: ص۱۰-۱۴.


منابع

  • دائرة المعارف تشیع، انتشارات حکمت، ۱۳۹۰ش.
  • فاضل مقداد، کنز العرفان فی فقہ القرآن، تہران: انتشارات مرتضوی، ۱۳۶۹ش.
  • فاضل مقداد، اللوامع الالہیہ فی المباحث الکلامیہ، تحقیق و تعلیق: سید محمدعلی قاضی طباطبائی، بوستان کتاب، قم، ۱۳۸۰ش.