حزین لاہیجی

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
حزین لاہیجی
شہر بنارس (ہند) میں ان کا مقبرہ
ذاتی معلومات
مکمل نام محمد علی بن ابی طالب
تاریخ ولادت 27 ربیع الثانی 1103 ھ
تاریخ وفات 11 جمادی الاول 1180 ھ
مدفن روضہ فاطمان، بنارس (ہندوستان)
علمی معلومات
تالیفات دیوان شعر: مثنوی ساقی‌ نامہ، تذکرة العاشقین، خرابات، آثار فلسفی: شرح تجرید، کنہ المرام و رسالہ تجرد نفس، آثار کلامی: رسالہ امامت و بشارت‌ النبوت، آثار رجالی: اخبار صفی‌ الدین حلی و تذکرة المعاصرین، آثار تاریخی: واقعات ایران و ہند، و تاریخ حزین۔
سیاسی-سماجی فعالیت
سماجی شاعر، مورخ و فلسفی۔


محمد علی بن ابی‌ طالب (۱۱۰۳۔۱۱۸۰ ھ)، تخلص حزین لاہیجی، بارہویں صدی ہجری کے مشہور شیعہ شاعر اور مورخ ہیں۔ ان کا شمار ہندی طرز شاعری کے آخری شعراء میں ہوتا ہے۔ فلسفہ، علم کلام، تاریخ، سیرت جیسے موضوعات ہر ان کی تصنیفات اور دیوان شعری موجود ہیں۔

انہوں نے اپنی زندگی میں بہت سارے سفر کئے اور کچھ عرصہ انہوں نے شہر بنارس میں بھی زندگی بسر کی اور وہیں پر دفن ہیں۔

سوانح حیات

حزین لاہیجی کا سنگ قبر

حزین لاہیجی کی ولادت ۲۷ ربیع الثانی ۱۱۰۳ ھ میں اصفہان میں ہوئی۔[1] ان کا سلسلہ نسب ۱۶ واسطوں سے ساتویں صدی ہجری کے عارف اور شیخ صفی الدین اردبیلی (متوفی ۷۳۵ ھ) کے مرشد شیخ ابراہیم زاہد گیلانی سے ملتا ہے۔[2]

ان کے خاندان کا آبائی وطن آستارا تھا۔ ان کے اجداد میں سے آٹھویں جد شہاب الدین علی نے لاہیجان ہجرت کر لی تھی۔[3] حزین کے والد نے جوانی میں آقا حسین خوانساری (متوفی ۱۰۹۹ ھ) سے استفادہ کرنے کی غرض سے اصفہان کا سفر کیا اور وہیں مقیم ہو گئے۔ وہاں پر انہوں نے ایک پارسا انسان کی بیٹی سے شادی کی، جن سے ان کے چار بیٹے ہوئے۔ حزین ان میں سب سے بڑے تھے۔[4]

۱۱ جمادی الاول ۱۱۸۰ ھ میں بنارس (ہندوستان) میں ان کی وفات ہوئی اور انہیں فاطمان نامی جگہ پر دفن کیا گیا۔ ان کا مقبرہ بنارس اور ہندوستان کے بہت سی عوام کی زیارت گاہ ہے۔[5]

اساتید

محمد علی نے ۴ برس کی عمر میں ملا شاہ محمد شیرازی کے پاس اپنی تعلیم کا آغاز کیا۔ آٹھ سال کی عمر میں ملا حسین قاری سے تجوید و قرائت قرآن کے فنون سیکھے اور شرح جامی بر کافیہ، شرح ایساغوجی، شرھ مطالع اور من لا یحضرہ الفقیہ جیسی دروس کی کتابوں کو اپنے والد سے پڑھا۔ اسی دوران ان کے اندر ملکہ شعری پروان چڑھا۔ لیکن انہوں نے والد کی طرف سے منع کئے جانے کی وجہ سے اسے آشکار نہیں کیا۔[6]

حزین نے جو سفر اپنے والد کے ہمراہ کئے ان میں بھی انہوں نے ان سے علمی استفادہ کیا۔ حزین نے والد کے ہمراہ اپنے لاہیجان کے پہلے سفر میں ہر منزل (قیام گاہ) پر ان سے شرح تجرید اور زبدۃ الاصول پڑھی۔[7]

وہ ادیان کے سلسلہ میں بھی مطالعہ اور تحقیق کیا کرتے تھے۔ انہوں نے انجیل مسیحی عالم آوانوس اور توریت اصفہان کے ایک یہودی عالم شعیب سے پڑھی۔ حزین فارس کے سفر کے دوران شہر بیضا میں ایک زرتشتی عالم سے آشنا ہوئے اور انہوں نے زرتشتیوں کے بنیادی عقائد کو ان سے حاصل کیا۔[8]

اسفار

1123 ھ میں ان کی والدین کے انتقال کے بعد چھوٹے بھائیوں اور دادی کی کفالت ان کے ذمہ آ جاتی ہے۔[9] افغانیوں کے اصفہان پر اور حملے اور اس کے محاصرہ کی وجہ سے ان کے دو بھائیوں اور دادی کا بیماری میں انتقال ہو جاتا ہے اور اس واقعہ میں ان کا کتب خانہ جو انہیں ان کے والد سے میراث میں ملا تھا، غارت ہو جاتا ہے اور وہ خود شدید بیمار ہو جاتے ہیں۔[10] محرم 1135 ھ میں وہ حلیہ تبدیل کرکے شہر کے بعض بزرگان کے ساتھ شہر سے خارج ہونے میں کامیاب ہو جاتے ہیں وہاں سے پہلے خوانسار اور اس کے بعد خرم آباد جاتے ہیں۔ اس عرصہ میں ان کا تقریبا ایک سال فکری و روحی اعتبار سے شدید فشار میں گزرتا ہے یہاں تک کہ انہیں ان کے محفوظات و تحصیلات کسی بھی بات کا ہوش نہیں رہتا ہے۔ ان دو سالوں میں جب وہ خرم آباد میں مقیم رہے انہوں نے شرح اشارات، کافی اور تفسیر بیضاوی کی تدریس کی۔[11] اس عرصہ میں ایران کی مغربی سرحدوں پر ناگفتہ بہ حالات اور عثمانیوں کی لشکر کشی نے وہاں کی عوام میں اضطراب پیدا کر دیا۔ حزین عوام کو دشمن سے مقابلہ کی طرف تشویق کرتے رہے اور خود ستر افراد کے ساتھ ہمدان کی طرف روانہ ہوئے تا کہ عثمانوں کے محاصرہ میں استقامت کرنے والے افراد کے ساتھ تعاون کر سکیں۔ اس کے بعد وہ شوشتر کے راستہ ہویزہ اور بصرہ گئے اور حج کا ارادہ کیا لیکن بیمار پڑ گئے لہذا ایران واپش آ گئے۔ جس وقت عثمانی حکومت نے آذربائیجان کو اپنے قبضہ میں کر لیا وہ کرمان شاہ اور تویسرکان کے راستہ نجف چلے گئے اور تین سال کے بعد ایران واپس آئے اور اس کے بعد پہلے تہران پھر اصفہان میں گئے۔ 6 ماہ تک وہاں قیام کیا اور ملکی امور کے سلسلہ میں شاہ طہماسب دوم کو نصیحت کی۔ لیکن جب شاہ کے رویہ میں کوئی تبدیلی نہیں دیکھی تو وہ اصفہان سے خارج ہو گئے۔[12]

حزین 1145 ھ میں حج کا سفر کیا اور 1146 ھ میں بندر عباس سے کشتی کے ذریعہ سواحل ھند کی طرف روانہ ہوئے۔[13] انہوں نے دو سال ملتان میں قیام کیا۔ اس کے بعد وہ دہلی گئے۔ اس عرصہ میں وہ مستقل بیمار تھے۔ یہاں تک کہ انہوں نے 1154 ھ میں دہلی میں قیام کے دوران اپنے خود نوشت سوانح حیات لکھنی شروع کی۔[14] ہندوستانی مصنفین نے ان کے سفروں کا تذکرہ کیا ہے۔[15] ان کی زندگی کے سلسلہ میں مطالعہ ان کے ہم عصر شعراء بلکہ ایران کے تمام شعراء میں ان کے کثرت سفر کے اعتبار سے اہمیت رکھتا ہے اور جس قدر حادثات ان کی زندگی میں پیش آئے ہیں اتنے شاید ہی کسی شاعر کے حصے میں آئے ہوں گے۔[16]

دہلی میں محمد شاہ نے حزین کے لئے حکومت کی طرف سے وظیفہ مقرر کیا تا کہ ان کی زندگی آسودہ خاطر رہے۔ لیکن چونکہ انہوں نے اپنے اشعار میں ہندوستان اور وہاں کی عوام کی ہجو کی تھی لہذا دہلی نے شعراء نے اس بات کی مخالفت کی۔ حزین نے جب دیکھا کہ حالات سازگار نہیں ہیں تو وہ بنارس چلے گئے اور آخر عمر تک وہیں رہے۔[17] ہندوستانیوں کی ہجو کے باوجود وہاں کی عوام خاص طور پر اہل بنارس ان کے لئے بیحد احترام کے قائل تھے اور انہیں ایک پاک انسان مانتے تھے۔[18]

اشعار

ایران کے شہر لاہیجان میں قائم ان کی یادگار

ان کے عرفان کے استاد شیخ خلیل اللہ طالقانی نے انہیں حزین تخلص عطا کرکے ان کی شاعری کو آشکار کیا اور جب ایک محفل میں حزین نے اپنے والد کی موجودگی میں محتشم کاشانی کے اشعار کے جواب میں اپنے اشعار پڑھے تو ان کے والد نے بھی انہیں تشویق کیا۔[19] ان کے اشعار ان کے زمانہ میں ہندوستان میں بہت شہرت رکھتے تھے اور ان کے اشعار کے نقد میں کئی رسالے تحریر کئے گئے۔ ان میں سب سے اہم رسالہ تنبیہ الغافلین فی الاعتراض علی اشعار الحزین جسے 1156 ھ میں سراج الدین علی آرزو خان نے تالیف کیا۔ ایک اور رسالہ محمد عظیم ثبات نے تالیف کیا۔ اسی طرح سے تیرہویں صدی ہجری میں دیگر 6 رسالے ان کی حمایت یا نقد میں تحریر کئے گئے۔ جس سے ہندوستان کی عوام میں ان کے اشعار کی اہمیت و مقبولیت کا اندازہ ہو جاتا ہے۔[20] والہ داغستانی نے تذکرہ ریاض الشعراء میں ان کے اشعار پر بیحد تنقید کرنے کے باوجود انواع شعر میں ان کی جامعیت کی تعریف کی ہے۔[21]

حزین نے اکثر اصناف شعری میں طبع آزمائی کی ہے۔

قصائد: قصائد میں وہ زیادہ تر انوری و خاقاىی کی پیروی کرتے ہیں[22] اور اس کی دلیل ان دونوں شعراء کی منظر کشی ہے۔ حالانکہ حزین کے اشعار ان دونوں شاعروں کے قصائد کے مقابلہ میں بنیادی طور پر کم اہمیت اور سست ہیں۔ انہوں نے ایک قصیدہ ناصر خسرو کے اشعار کی پیروی میں کہا ہے[23] جس میں نہ صرف یہ کہ انہوں ان کے اصلی طرز سخن کی رعایت نہیں کی ہے بلکہ اس میں انہوں نے ایسے افعال کا ذکر کیا ہے جو سب کے سب زبان و ادب کے اصولوں کے منافی ہیں۔[24] حزین نے کئی قصائد پیغمبر اکرم (ص)[25]، امام علی (ع)[26] اور امام علی رضا (ع)[27] کے سلسلہ میں نظم کئے ہیں:

ای وای بر اسیری کز یاد رفتہ باشد در دام مانده باشد صیاد رفتہ باشد
آه از دمی کہ تنہا، با داغ او چو لالہ در خون نشستہ باشم چون باد رفتہ باشد
امشب صدای تیشہ از بیستون نیامد شاید بہ خواب شیرین، فرهاد رفتہ باشد
خونش بہ تیغ حسرت یا رب حلال بادا صیدی کہ از کمندت آزاد رفتہ باشد
از آه دردناکی سازم خبر دلت را وقتی کہ کوه صبرم بر باد رفتہ باشد
رحم است بر اسیری کز گرد دام زلفت؟ با صد امیدواری ناشاد رفتہ باشد
شادم کہ از رقیبان دامن کشان گذشتی گو مشت خاک ما هم، بر باد رفتہ باشد
پرشور از حزین است امروز کوه و صحرا مجنون گذشتہ باشد فرهاد رفتہ باشد
[28]
لاہیجان میں ان کی یادگار

غزلیات: حزین کے غزلیات کا دیوان تقریبا سات ہزار اشعار پر مشتمل ہے۔ ان کی غزلیں ہندوستانی و اصفہانی طرز شاعری کے آخری و برجستہ نمونوں میں سے ہیں۔ ان کے اشعار ہندوستانی طرز شاعری کے ان کے معاصرین و متقدمین شعراء کے برخلاف تخیل و بیان کے اعتبار سے بیحد واضح اور فصیح ہیں۔ صائب اور کلیم کے بعد اس طرز شاعری کے دیگر چند مہم شعراء کے بعد حزین کا شمار اس روش و طرز کے صف اول کے شعراء میں ہوتا ہے۔[29] ان کے اشعار ہندوستانی طرز و روش شاعری کے قدیم و جدید درمیان حد فاصل ہیں۔[30] اس طرز کے شعراء کی بنسبت ان کی غزل کے اشعار زیادہ عاشقانہ و عارفانہ ہیں۔ انہوں نے اپنے عرفانی اشعار میں جو عراقی طرز سخن کی خصوصیات رکھتے ہیں، اکثر اوقات عطار، مولوی اور سید قاسم انوار کی پیروی کی ہے۔[31] حسینی سنبلھی[32] حزین کو قدیم و جدید شاعری کا استاد مانتے ہیں۔ خوشگو[33] انہیں حافظ و سعدی کے پیرو کے طور پر پیش کرتے ہیں کیونکہ وہ ہندوستانی طرز شاعری کے شعراء کے سلسلہ میں کسی خاص اہمیت کے قائل نہیں تھے۔ حزین کے اشعار میں کثرت سے عارفانہ و صوفیانہ اشعار و مضامین کے باوجود اس بات کے قطعی دلائل دیکھنے میں نہیں آتے ہیں جس کی بنیاد پر انہیں کسی صوفی سلسلہ سے منتسب کیا جا سکے۔[34]

عربی اشعار: حزین نے عربی زبان میں بھی اشعار کہے ہیں جو بعض لے مطابق ان کے فارسی اشعار کے ہم پایہ نہیں ہیں۔[35]

مجموعے و دیوان شعری: کلیات حزین کے مندرجات سے معلوم ہوتا ہے[36] کہ وہ قصد رکھتے تھے کہ خمسہ نظامی کے مقابل پانچ دیوان نظم کریں۔[37] ان کا پہلا شعری مجموعہ مثنوی ساقی نامہ پر مشتمل ہے جس میں ایک ہزار اشعار ہیں۔ ان کا دوسرا دیوان تذکرۃ العاشقین ہے جسے انہوں نے شیراز سے واپسی اور اصفہان میں قیام کے زمانہ میں نظم کیا۔ اس میں دس ہزار ابیات ہیں۔ انہوں ںے اپنے تیسرے مجموعہ کو جس میں تقریبا چار ہزار بیت ہیں، شیراز میں اور چوتھے دیوان کو جس میں 1200 اشعار پر مشتمل ایک مثنوی بھی شامل ہے جس کا نام خرابات ہے، مشہد میں نظم کیا اور انہوں نے اپنا پانچواں دیوان قیام ہندوستان کے دوران تدوین کیا۔ اس نتکہ کی طرف فقط مقدمہ تذکرہ المعاصرین میں اشارہ کیا گیا ہے۔[38]

تصنیفات

ان کے مطبوعہ دیوان کا عکس

ان کے منظوم و منثور آثار و تالیفات میں 53 کتابیں شامل ہیں۔

شعر: ان کے آثار میں اشعار باقی ہیں۔ چونکہ حزین نے اپنی عمر کا کافی حصہ علوم عقلی و نقلی کے کسب میں بسر کیا اور اپنے زمانہ کے 16 اساتید کے سامنے زانوئے ادب تہہ کیا۔[39] ان کے بہت سے آثار علمی و دینی موضوعات پر واضح و مستحکم انداز میں موجود ہیں۔[40] بہت سے مآخذ میں انہیں علمائے بزرگ اور جامع انواع علوم ذکر کیا گیا ہے۔[41]

کلیات حزین: جو لکھنو اور کانپور سے طبع ہوا ہے۔ اس میں ان کا چوتھا دیوان شامل ہے جس میں قصائد، غزلیات، رباعیات، قطعات اور چمن و انجمن، خرابات، مطمح الانظار، فرہنگ نامہ اور صفیر دل جیسی مثنویات شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ایک دیباچہ ہے جسے 1172 ھ میں تحریر کیا گیا ہے اور اسی طرح سے اس میں حدیقہ ثانی یا ودیعۃ البدیعہ نامی ایک مثنوی ہے جو حدیقہ سنایی کی تقلید میں نظم کی گئی ہے۔[42] دیوان حزین 1376 ش میں ذبیح اللہ صاحبکار سعی و کوشش سے تہران سے شائع ہوا ہے۔

فلسفی و کلامی تصنیفات: حزین کی منظوم تصنیفات میں 16 کتابیں فلسفہ کے موضوعات (شرح تجرید، کنہ المرام، و رسالہ تجرد نفس) پر ہیں۔ 4 کتابیں علم کلام کے موضوعات (جیسے رسالہ امامت و بشارت النبوت) پر ہیں۔ 5 کتابیں شخصیات (منجملہ اخبار صفی الدین حلی و تذکرۃ المعاصرین) کے بارے میں ہیں۔ ان میں مہم ترین کتاب تذکرۃ المعاصرین ہے۔ جو مولف کے معاصر ایک سو دانشمندان و شعراء کی سوانح حیات پر مشتمل ہے اور جسے مولف نے فقط اپنے حافظے سے 1165 ھ کے اواخر میں ہندوستان میں تحریر کیا تھا۔ یہ کتاب 1375 ش میں تہران سے معصومہ سالک کی سعی و کوشش سے طبع ہو چکی ہے۔

تاریخی آثار: ان کی دو کتابیں تاریخ کے موضوع پر بھی ہیں: تاریخ ایران و ہند و تاریخ حزین۔ یہ دونوں کتابیں اصفہان پر افغانیوں کے حملے اور نادر شاہ افشار کی سلطنت کے سلسلہ میں تاریخ کے قیمتی مآخذ میں سے ہیں۔ تاریخ حزین بلفور کی سعی و کوشش سے 1247 مطابق 1831 ع میں لندن سے شائع ہو چکی ہے۔

پراکندہ تالیفات: ان کے مختلف موضوعات پر مشتمل پراکندہ رسائل کا مجموعہ (جیسے رسالہ اوزان و مقادیر، المذاکرات فی المحاضرات و شرح قصیدہ لامیہ) اور ان کے ساتھ ان کے 9 دیگر رسائل رسائل حزین لاہیجی کے نام سے علی اوجبی اور بعض دیگر افراد کی سعی و کوشش سے 1377 ش میں تہران سے شائع ہو چکا ہے۔ ظاہرا ان کی خود نوشت سوانح حیات اشعار کی صورت میں موجود تھیں جو افغانیوں کے حملہ میں ان کے کتب خانہ سے غارت ہو گئی اور احتمالا اس کے واحد نسخہ کو براون نے برطانیہ کے میوزیم میں دیکھا ہے۔[43]

حوالہ جات

  1. حزین لاہیجی، تاریخ حزین، ج۱، ص۱۸.
  2. حزین لاہیجی، تاریخ حزین، ج۱، ص۵.
  3. حزین لاہیجی، تاریخ حزین، ج۱، ص۵ـ۶؛ نوزاد، «حزین لاہیجی»، ج۱، ص۳۰۵، نے شہر اردبیل کو شہاب الدین کے محل اقامت کے طور پر ذکر کیا ہے۔
  4. حزین‌لاہیجی، تاریخ حزین، ج۱، ص۱۱ـ۱۳.
  5. احمد علی، ہفت آسمان، ص۱۶۴؛ شوشتری، تحفة العالم، ج۱، ص۴۱۵، ذیل التحفہ
  6. حزین‌لاہیجی، تاریخ حزین، ج۱، ص۱۸ـ ۲۱.
  7. حزین‌لاہیجی، تاریخ حزین، ج۱، ص۴۵ـ۴۷.
  8. حزین‌لاہیجی، تاریخ حزین، ج۱، ص۱۵.
  9. حزین‌لاہیجی، تاریخ حزین، ج۱، ص۱۵، نیز رجوع کریں ص۱۰۰ـ۱۰۱.
  10. حزین‌لاہیجی، تاریخ حزین، ج۱، ص۱۱۰ـ۱۱۲
  11. حزین‌لاہیجی، تاریخ حزین، ج۱، ص۱۱۳ـ ۱۱۸
  12. رجوع کریں حزین‌لاہیجی، تاریخ حزین، ج۱، ص۱۱۳ـ۱۹۰
  13. رجوع کریں حزین‌ لاہیجی، تاریخ حزین، ج۱، ص۱۹۱ـ ۲۳۳
  14. رجوع کریں مذکورہ کتاب، ص۲۴۳ـ ۲۴۴، ۲۷۳، ۲۷۶
  15. رجوع کریں والہ داغستانی، تذکره ریاض‌الشعراء، ج۲، ص۶۳۲ـ ۶۳۵؛ بلگرامی، مآثر الکرام، ج۱، ص۱۹۴؛ احمد علی، ص۱۶۲
  16. شفیعی کدکنی، ج۱، ص۷۲،
  17. بلگرامی، مآثرالکرام، ج۱، ص۱۹۴؛ گوپاموی، کتاب تذکره نتائج‌الافکار، ج۱، ص۱۹۸ـ۲۰۰.
  18. رجوع کریں ہاشمی سندیلوی، تذکره مخزن‌الغرائب، ج۱، ص۸۰۴؛ داس خوشگو، سفینہ خوشگو، ج۱، ص۲۹۱ـ۲۹۲.
  19. حزین‌لاهیجی، تاریخ حزین، ج۱، ص۲۲، ۲۷ـ۳۰.
  20. شفیعی کدکنی، ج۱، ص۱۷ـ ۱۸.
  21. والہ داغستانی، تذکره ریاض‌ الشعراء، ج۱، ص۶۵۷.
  22. حزین‌لاہیجی، دیوان، ج۱، ص۵۵۹ـ۵۶۱، ص۶۲۱، ص۶۲۳،
  23. حزین‌لاهیجی، دیوان، ج۱، ص۵۵۱ـ۵۵۲،
  24. شفیعی کدکنی، ج۱، ص۱۷ـ ۱۸،
  25. حزین‌لاهیجی، دیوان، ج۱، ص۵۵۲ـ۵۶۲،
  26. حزین‌لاهیجی، دیوان، ج۱، ص۵۶۷ـ ۵۹۵.
  27. حزین‌لاهیجی، دیوان، ج۱، ص۵۹۵ـ ۶۰۱.
  28. م. سرشک، حزین لاهیجی، ص۱۴۱.
  29. شفیعی کدکنی، ج۱، ص۱۰۸،
  30. صفا، گنج سخن، ج۳، ص۱۳۴.
  31. شفیعی کدکنی، ج۱، ص۱۰۸ـ۱۱۰.
  32. دوست حسینی‌ سنبهلی، تذکره حسینی، ج۱، ص۱۰۷.
  33. داس خوشگو، سفینه خوشگو، ج۱، ص۲۹۱، دفتر۳.
  34. شفیعی کدکنی، ج۱، ص۹۲.
  35. ہرومل سدارنگانی، پارسی‌گویان ہند و سند، ج۱، ص۱۶۳؛ حسن‌ خان، شمع‌ انجمن، ج۱، ص۱۳۱.
  36. حزین‌لاهیجی، کلیات حزین، ج۱، ص۹،و ص۱۲۳.
  37. سدارنگانی، پارسی‌گویان ہند و سند، ج۱، ص۱۶۲؛ نقوی، تذکره‌ نویسی فارسی در ہند و پاکستان، ج۱، ص۳۶۳،
  38. تاریخ حزین، ج۱، ص۳۱، ص۹۷ـ۹۸، ص۱۰۰ـ ۱۰۱، ص۱۶۳ـ ۱۶۴؛ حزین‌ لاہیجی، تذکرة المعاصرین، مقدمہ سالک، ص۶۴ـ۶۵.
  39. حزین‌ لاہیجی، تذکرة المعاصرین، مقدمہ سالک، ص۴۵ـ۴۶.
  40. بہار، سبک‌ شناسی، ج۳، ص۳۱۰؛ شفیعی کدکنی، ج۱، ص۱۰۳.
  41. مدرس‌ تبریزی، ریحانة الادب، ج۲، ص۴۱؛ شوشتری، تحفة العالم، ج۱، ص۴۱۴.
  42. حزین‌لاہیجی، تذکرة المعاصرین، مقدمہ سالک، ص۶۵ـ۶۶.
  43. براون، ج۴، ص۲۷۸ و پانویس۴

مآخذ

  • میر غلام علی‌ بن نوح آزاد بلگرامی، مآثر الکرام، دفتر۲، حیدر آباد، دکن، ۱۳۳۱/۱۹۱۳
  • احمد علی، ہفت آسمان، کلکتہ ۱۸۷۳، چاپ افسٹ تہران، ۱۹۶۵ ع
  • محمد تقی بہار، سبک‌ شناسی، یا، تاریخ تطور نثر فارسی، تہران ۱۳۵۵ـ۱۳۵۶ش
  • محمد علی‌ بن ابی‌ طالب حزین‌ لاہیجی، تاریخ حزین، چاپ اف سی بلفور، لندن، ۱۸۳۱ ع
  • محمد علی‌ بن ابی‌ طالب حزین‌ لاہیجی، تذکرة المعاصرین، چاپ معصومہ سالک، تہران، ۱۳۷۵ش
  • محمد علی‌ بن ابی‌ طالب حزین‌ لاہیجی، دیوان، چاپ ذبیح‌ اللّه صاحبکار، تہران، ۱۳۷۴ش
  • محمد علی‌ بن ابی‌ طالب حزین‌ لاہیجی، کلیات حزین، نسخہ خطی کتابخانہ (ش ۱) مجلس شورای اسلامی، ش ۹۷۱
  • میر حسین دوست حسینی‌ سنبهلی، تذکره حسینی، چاپ سنگی، لکهنو، ۱۲۹۲ ع
  • بندر بن‌ داس خوشگو، سفینہ خوشگو، دفتر۳، چاپ سید شاه‌ محمد عطاء الرحمان عطا کاکوی، پٹنہ، ۱۳۷۸/۱۹۵۹
  • ہرومل سدارنگانی، پارسی‌ گویان ہند و سند، تہران، ۱۳۵۵ش.
  • محمد رضا شفیعی کدکنی، شاعری در ہجوم منتقدان: نقد ادبی در سبک ہندی پیرامون شعر حزین لاہیجی، تہران، ۱۳۷۵ش
  • عبد اللطیف‌ بن ابی طالب شوشتری، تحفة العالم، و، ذیل التحفہ، چاپ صمد موحد، تہران، ۱۳۶۳ش
  • صدیق حسن‌ خان، شمع‌انجمن، چاپ سنگی بهوپال، ۱۲۹۳
  • ذبیح‌ اللّه صفا، گنج سخن: شاعران بزرگ پارسی‌ گوی و منتخب آثار آنان، تہران، ۱۹۶۹ ع
  • محمد قدرت‌ اللّه گوپاموی، کتاب تذکره نتائج‌ الافکار، بمبئی، ۱۳۳۶ش
  • محمد علی مدرس‌ تبریزی، ریحانة الادب، تہران، ۱۳۶۹ش
  • علی رضا نقوی، تذکره‌ نویسی فارسی در ہند و پاکستان، تہران، ۱۳۴۳ش
  • فریدون نوزاد، «حزین لاہیجی»، ارمغان، دوره ۳۹، ش ۵ (مرداد ۱۳۴۹)
  • علی قلی‌ بن محمد علی والہ داغستانی، تذکره ریاض‌ الشعراء، چاپ محسن ناجی نصر آبادی، تہران، ۱۳۸۴ش
  • احمد علی ہاشمی سنڈیلوی، تذکره مخزن‌ الغرائب، چاپ محمد باقر، لاہور، ۱۹۶۸ـ۱۹۷۰ ع
  • م. سرشک، حزین لاہیجی (زندگی و زیبا ترین غزل‌ہای او)، تہران، نشر توس، اسفند، ۱۳۴۲ش