ابو سہل نوبختی

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
ابو سہل نوبختی
کوائف
مکمل نام اسماعیل بن علی بن اسحاق بن ابی سہل ابن نوبخت
نسب نوبختی
تاریخ ولادت 237 ھ، بغداد
تاریخ وفات شوال 311 ھ،
مدفن کاظمین
نامور اقرباء حسن بن موسی نوبختی،
علمی معلومات
شاگرد علی بن وصیف ناشئ اصغر، محمد بن بشر حمدونی سوسنجردی، مظفر بن محمد بلخی۔
تالیفات الاستیفاء فی الامامہ، التنبیہ فی الامامہ، الرد علی الغلاۃ، ابطال القیاس و ...
خدمات
سیاسی نواب امام مہدی کا دفاع


ابو سہل نوبختی اسماعیل بن علی بن اسحاق بن نوبخت (۲۳۷ ـ شوال ۳۱۱ق) بغداد کا معروف شیعہ امامی متکلم تھا جو خاندان نوبختیان سے تھا۔وہ غیبت صغری کے زمانے میں امامیہ مذہب کا بلند مرتبہ رہنما جانا جاتا تھا۔ وہ امامیہ مسلک سے تعلق رکھنے والے عام شیعوں میں خاص مرتبے کا حامل تھا۔ اس نے اپنی زندگی کا زیادہ حصہ امامت اور خاص طور پر امام زمانہ کی غیبت سے متعلق ابحاث میں گزارا۔

ابوسہل نے بچپنے میں امام زمانہ سے ملاقات کا شرف حاصل کیا نیز حسین بن روح نوبختی کی سفارت کے دور میں اس سے قریبی تعلقات تھے۔

زندگی‌ نامہ

ابوسہل کے والد کی ابتدائی زندگی کے بارے میں کوئی معلمات نہیں ہے۔ امامیہ کے رجال کے اہم مصادر میں اس کی پیدائش اور فوتگی کے متعلق کوئی اشارہ نہیں ہوا البتہ اہل سنت کی رجالی کتب میں اسکے بارے میں منقول ہے۔ وہ ظاہرا بغداد میں پیدا ہوا اور وہیں پلا بڑا۔ اقبال ذہبی کے قول سے استناد کرتے ہوئے ابو سہل کی پیدائش شوال ۳۱۱ق سمجھتا ہے۔[1] ممکن ہے کہ وہ بغداد میں فوت ہوا ہو لیکن واسط میں اس کی وفات کے احتمال کو بھی رد نہیں کیا جا سکتا۔ کہتے ہیں کہ اس کا مقبرہ حرم کاظمین میں ہے۔[2]

ابوسہل کے دو بیٹے علی و یعقوب اسحاق (مقتول ۳۲۲ق) کہے گئے ہیں۔[3] اس کا ایک بھائی ابوجعفر محمد تھا جس نے علم کلام میں اپنے بھائی ابو سہل کا مسلک اختیار کیا ہوا تھا۔[4] اسی طرح حسن بن موسی نوبختی مشہور امامی متکلم اور فرق الشیعہ اور الآراء و الدیانات کا مؤلف اس کا خواہر زادہ تھا[5]

علمی مقام

ابوسہل نے علم کلام اور امامیہ عقائد کی تعلیم امامیہ کے مشائخ سے حاصل کی تھی لیکن ایسا ظاہر نہیں ہوتا کہ اس نے علم کلام کی تعلیم صرف امامیہ سے حاصل کی ہو بلکہ شیوخ کے پاس حصول علم سے زیادہ اس نے ان کے آثار کے مطالعہ اور دقت میں وقت زیادہ گزارا۔ نیز اس نے معتزلیوں سے علم حاصل نہیں کیا بلکہ ان کے آثار سے زیادہ فائدہ حاصل کیا ہے۔[6] اسکی شہرت اگرچہ علم کلام میں مہارت کی وجہ سے تھی لیکن اس کے باوجود شعر گوئی میں ید طولی رکھتا نیز ادب کا حامی اور ماہر خطاط شمار ہوتا تھا۔[7]

وہ ثعلب سے مراودہ رکھتا تھا اور اس نے ادب کی اخبار اس سے نقل کی ہیں۔[8] نیز اس سے اشعار نقل کئے ہیں۔[9] ابوسہل ابن رومی اور بحتری سے بھی مراودہ رکھتا تھا خاص طور پر ابن رومی کے حامیوں میں سے تھا۔چنانچہ یہ دونوں بھی خاندان نوبخت اور ابوسہل کے مداحوں میں سے تھے۔ ابن رومی کے دیوان میں بہت سے اشعار ابو سہل کی تعریف میں دیکھنے کو ملتے ہیں ۔[10] ابوسہل اور بحتری کے درمیان تعلقات کی روایات بھی موجود ہیں جیسا کہ صولی[11] کی روایت سے ظاہر ہوتا ہے وہ باہمی ایک دوسرے کے ساتھ ادبی نشستیں رکھتے تھے۔ بحتری نے بھی ابوسہل کی مدح بیان کی ہے۔[12] جبکہ دوسری جانب ابوالفرج اصفہانی[13] نے روایت کی ہے کہ بحتری ابوسہل کے اشعار کو پسند نہیں کرتا تھا۔

کلامی نظریات

ابن ندیم اسے شیعوں کے بزرگوں میں شمار کرنے کے بعد کہتا ہے: متکلمین کی ایک جماعت اس کے درس میں بیٹھتی تھی۔[14] نجاشی کہا ہے: ابوسہل امامیہ اور غیر امامیہ کا شیخ تھا۔[15] شیخ طوسی نیز اسے الفہرست میں بغداد کا شیخ اور بزرگ متکلم کہتا ہے نیز اسے نوبختیوں کا راہنما کہتا ہے۔[16] اسی طرح ابن حجر عسقلانی اسے معتزلی متکلمین کا ایک شناختہ شدہ چہرہ سمجھتا ہے۔[17]

ابو سہل نے امامیہ کے ایک حساس ترین زمانے (غیبت صغری) می زندگی گزاری ہے اور اس نے اہنی زندگی کا بیشتر حصہ بحث امامت کے زیر سایہ بسر کیا اور خاص طور پر غیبت امام زمانہ(ع) کی ابحاث میں مشغول رہا۔ اس لحاظ سے کہا جا سکتا ہے کہ یہ ان پہلے درجے کے مؤلفین میں سے ہے جس نے امامت کے موضوع پر گفتگو کی۔ نیز ابوسہل خود ان افراد میں سے ہے کہ جس نے امام مہدی سے اپنے بچپنے میں ملاقات کی۔[18] شیخ صدوق نے التنبیہ فی الامامۃ نامی کتاب سے اپنی تالیف کمال الدین میں بحث امامت کا حصہ نقل کیا ہے۔

سید مرتضی نے اسکی تالیفات کی بنیاد پر اظہار نظر کیا ہے۔ ابو سہل نے وجوب امامت اور اوصاف امام عقلی استدلال کے ذریعے بھث کو بیان کیا اگرچہ کبھی کبھار ان دلائل کی تائید میں روایات وغیرہ سے استناد کرتا ہے۔[19] سید مرتضی کے مطابق ابوسہل نے امامت سے مربوط مسائل میں دلائل کے اسی راستے کو اختیار کیا ہے جس طرح اس سے پہلے ابوعیسی ورّاق اور ابن راوندی استدلال کرتے تھے یہانتک کہ وہ انکی دلیلوں سے استناد کرتا ہے۔[20]

اس نے حلاج کی مخالفت میں قیام کیا کہ جس اپنے آپ کو امام غایب(ع) باب اور نمایندہ کہا۔ جیسا کہ منقول ہے کہ ابو سہل نے دو مرتبہ اسے مورد استہزا قرار دیا اور اس کی کرامات کا مذاق اڑایا۔ اس طرح اس نے حلاج کی شخصیت کو لوگوں میں مجروح ہی نہیں کیا بلکہ اس کے امامیہ میں سے ہونے کے دعوا کو بے بنیاد ظاہر کیا جس کا وہ مدعی تھا۔[21]

ابن ندیم نے ابوسہل کے احوال میں یاد آوری کی ہے کہ امام مہدی(ع) کے بارے میں ایسے مخصوص نظریات کا قائل تھا جن کا اس سے پہلے کوئی قائل نہیں تھا اور اس نے اس کا یہ نظریہ بیان کیا کہ وہ قائل تھا کہ امام زمان غیبت کے زمانے میں فوت ہو گئے اور پھر ان کا فرزند جانشین ہوا اس طرح امامت باپ سے بیٹے کو منتقل ہوئی اور یہ سلسلہ مشیت خداوندی کے مطابق اسی طرح ظہور امام تک جاری رہے گا۔[22] لیکن اس وقت ابو سہل کے دسترسی میں موجود نظریات کے مطابق یہ بات درست نظر نہیں آتی ہے۔[23]

اساتذہ اور شاگرد

اسکے مشائخ کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہے مصادر میں صرف مرزبانی کا نام آیا ہے کہ جس سے اس ادب کی روایات نقل کی ہیں۔[24]

ابوسہل کے علم کلام اور ادبیات میں شاگرد تھے جن میں سے بعض نے اس کے علم کلام آگے منتقل کیا۔ اس کے بیٹے ابوالحسن علی نے علم و ادب اپنے باپ کے پاس حاصل کیا،[25] نیز ابوبکر محمد بن یحیی صولی، ابوعلی حسین بن قاسم کوکبی ثابت اور احمد بن محمد حلوانی کا نام بھی ان کے شاگردوں میں لیا گیا ہے۔[26] لیکن اس کے پاس علم کلام پڑھنے والے اہم ترین شاگرد درج ذیل ہیں:

سیاسی فعالیت

غیبت صغری کے زمانے میں بغداد میں ابو سہل امامی شیعوں کا رہبر اور ایک بلند پایہ حامی سمجھا جاتا تھا اور عام شیعوں میں ایک مخصوص مرتبے کا حامل تھا۔[30] گرچہ اس زمانے میں تشیع کی رہبری نواب اربعہ کے پاس تھی لیکن حکومت میں دیوانی اور حکومتی عہدے دار ہونے کی وجہ سے سیاسی اور اجتماعی شعبوں میں تشیع کی پاسداری میں اس کا اہم کردار رہا۔

مزید بر آں کہ اعتقادی اور کلامی مسائل میں مخالفین سے بحث و مباحثے اور عقائد امامیہ کے دفاع میں تالیفات کی وجہ سے امام زمان(ع) کے ان سفیروں کے ساتھ مل کر بنیادی نقش ادا کر سکا کہ جنکی اکثر ذمہ داری امامیہ معاشرے کی رہبری، حفاظت ان کی مالی سرپرستی کرنا تھی۔

حکومتی منصب

ظاہری طور پر ابوسہل اپنی عمر کے اکثر ایام میں دبیر کے منصب پر رہا۔ مرزبانی،[31] کے کہنے کے مطابق ابوسہل وزارت قاسم ابن عبیداللہ بن سلیمان(۲۸۸ ـ ۲۹۱ق) کے دور میں سزا کے طور زندانی ہوا اور قوی احتمال یہ ہے کہ ایسا وزیر کی شیعہ مخالف سیاست کی وجہ سے ہوا۔

وزارت ابن فرات شیعی کے زمانے میں ابو سہل اعلی منصب دار تھا اور وزارت کے قریب کا عہدے دار تھا۔[32]

ربیع الثانی ۳۱۱ق، میں مقتدر عباسی نے تیسری مرتبہ ابوالحسن علی بن محمد بن فرات کو وزارت دی اور حامد بن عباس و علی بن عیسی بن جراح کو وزارت سے ہٹا دیا۔ابن فرات مختلف وجہات کی بنا پر حامد سے خصومت رکھتا تھا۔ اس نے وزارت پر منصوب ہونے کے بعد ابوالعلاء محمد بن علی بَزوفَری اور ابو سہل نوبختی کو یہ ذمہ داری سونپی کہ واسط جا کر حامد بن عباس سے نمٹیں۔ جو اموام اسے دیوان کو دینے ہیں وہ اس سے واپس لیں۔ کہا گیا ہے کہ ابو سہل نے وزیر کی خواہش کے برعکس اس سے نرمی کا برتاؤ کرتے ہوئے جو کچھ انہیں کہا گیا تھا اس سے زیادہ کچھ نہیں کہا۔[33]

نواب امام زمان(ع) کا دفاع

قرائن سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ امام عصر(ع) کے وکلا کا مکمل دفاع کرتا تھا جیسا کہ حسین بن روح نوبختی کی سفارت کے دوران اس سے قریبی رابطہ تھا۔ایک اور روایت کے مطابق ابو سہل اور دیگر بزرگان امامیہ ابوجعفر محمد بن عثمان عمری کی وفات کے وقت اس کے پاس موجود تھے اور اس نے اپنے آگاہ ہونے کے بعد انہیں حسین بن روح نوبختی کی جانشنیی سے آگاہ کیا۔[34]

آثار

بہت سے آثار کی اس کی طرف نسبت دی گئی ہے[35] کہ ان میں سے کتاب التنبیہ کا کچھ حصہ اور ظاہراً ایک دو صفحے کتاب الانوار کے علاوہ کچھ موجود نہیں ہے: اس کے آثار کو ۶ حصوں میں ترتیب دیا جا سکتا ہے:

  • امامت سے متعلق
  1. الاستیفاء فی الامام‍ۃ، کہ ابن شہر آشوب[36] نے اس کی اچھے الفاظ میں تعریف کی اور شاید وہ کتاب ان کے پاس موجود تھی۔
  2. الانوار فی تواریخ الائمۃ[37]
  3. التنبیہ فی الامام‍ۃ؛ نجاشی نے کہااس نے اسے اپنے استاد شیخ مفید کے پاس قرائت کیا۔[38] یہ کتاب تاریخ دورہ غیبت صغری سے متعلق ہونے کی وجہ سے نہایت اہمیت کی حامل ہے۔
  4. الجمل فی الامامـۃ؛
  5. الرد علی محمد بن الازہر فی الامامۃ. شاید اس مراد محمد بن ازہر، ابوجعفر محمد بن الازہر کاتب (متوفی ۲۷۹ق) ہے کہ جو اہل سنت کے محدثین میں سے تھا۔ [39]

ابن شہرآشوب نے اثبات الامامۃ کے نام سے ایک کتاب بھی ذکر کی ہے۔[40] کہ احتمالاً ہمان الجمل فی الامامۃ است.

  • غیراثناعشری فرقوں کے ردود
  1. الرد علی الطاہری فی الامام‍ۃ، یہ کتاب علی بن حسن بن محمد طاہری کی امامت کے بارے میں لکھی کتاب کا جواب ہے۔ [41]
  2. الرد علی الغلاۃ، کہ ابو سہل کے زمانے میں غالیوں کے متحرک گروہوں کو دیکھتے ہوئے اس کتاب کی ضرورت تالیف کی بیان گر ہے۔
  • اصول فقہ سے متعلق
  1. ابطال القیاس؛
  2. الرد علی عیسی بن ابان یا النقض علی عیسی بن ابان فی الاجتہاد. عیسی بن ابان (د ۲۲۱ق) کہ جو فقہائے حنفی میں سے تھا اور قیاس کے معتقد تھا۔؛[42]
  3. نقض اجتہاد الرأی کہ جو ابن راوندی کا رد ہے ؛
  4. نقض رسال‍ۃ الشافعی، کہ کو شافعی کے اصول فقہ میں الرسالۃ کا رد ہے؛
  1. الاحتجاج لنبوۃ النبی(ص)؛
  2. تثبیت الرسال‍ۃ؛
  3. الرد علی الیہود؛
  4. نقض عبث الحکمۃ؛
  • علم کلام سے مخصوص
  1. الارجاء؛
  2. التوحید؛
  3. حدث (حدوث) العالم؛
  4. الحکایۃ و المحکی؛
  5. الخصوص و العموم و الاسماء و الاحکام؛
  6. کتاب الخواطر؛
  7. الصفات؛
  8. کتاب فی استحال‍ۃ رؤیۃ القدی؛
  9. الکلام فی الانسان، کہ احتمالاً یہ وہی کتاب ہے جسے نجاشی با عنوان کتاب الانسان و الرد علی ابن الراوندی سے ذکر کرتا ہے؛[43]
  10. کتاب المعرف‍ۃ؛
  11. کتاب النفی و الاثبات؛
  • مسائل کلامی میں ( امامت و نبوت) کے علاوہ ردود
  1. الرد علی ابی العتاہی‍ۃ فی التوحید فی شعرہ؛
  2. الرد علی اصحاب الصفات؛
  3. الرد علی من قال بالمخلوق (الرد علی المجبرہ فی المخلوق)؛
  4. السبک، کتاب التاج کا رد ہے جو ابن راوندی نے لکھی اور اس میں عالمکو قدیم ثابت کرنے کی کوشش کی ہے اور ضرورت وجود صانع کا انکار کیا ہے؛
  5. مجالس ثابت بن قرۃ، کہ ظاہراً ثابت بن قرہ صابی (د ۲۸۸ق) سے ہونے والے مناظرات کا متن ہے کہ جو خود معروف فلسفی اور منطقی تھا اور وہ ابو سہل کی علمیت اور وسیع مطالعہ کا معترف تھا۔ قابل توجہ یہ ہے کہ خود ثابت کے آثار میں ایک کتاب بنام جواباتہ عن مسائل سألہ عنہا ابوسہل النوبختی ذکر کرتے ہیں۔؛[44]
  6. مجالسۃ مع ابی علی الجبائی بالاہواز. ابوسہل نے اہواز میں نامی گرامی معتزلی متکلم ابوعلی جبائی (درگذشت ۳۰۳ق) مناظرے کئے جنہیں کتابی شکل میں جمع کیا؛
  7. نقض مسأل‍ۃ ابی عیسی الوراق فی قدم الاجسام؛

حوالہ جات

  1. خاندان نوبختی، ص۱۰۰
  2. نک: دایرہ المعارف ایرانیکا ذیل مدخل
  3. نک: خاندان نوبختی ، ص۱۰۵، ص۱۸۱ ـ ۱۹۲
  4. نک‍ : الفہرست، ص۲۲۵؛ نیز نک: خاندان نوبختی، ص۱۲۴
  5. نک: الفہرست ابن ندیم، ص۲۲۵
  6. نک‍ : ”Imamism and Muetazilite? Theology“, Le Shlism? ، ص۱۶
  7. رجال نجاشی، ص۳۱؛ الوافی بالوفیات، ج۹، ص۱۷۱
  8. نک: اخبار البحتری، ص۶۵؛ معجم الشعراء، ص۱۰۶، ۲۴۲؛ "اخبار ابی نواس"، ص۲۹۳
  9. نک‍ : دیوان ابن رومی، ج۱، ص۱۵۰؛ معجم الشعراء، ص۴۲۴؛ الوافی بالوفیات، ج۹، ص۱۷۲؛ معجم الادباء، ج۴، ص۱۵۹ ـ ۱۶۰
  10. نک: دیوان ابن رومی، ج۱، ص۱۵۴، ج۲، ص۶۱۵، جاہای مختلف
  11. اخبار البحتری، ص۶۵
  12. دیوان بحتری، ج۳، ص۱۸۴۰
  13. الاغانی، ج۲۱، ص۴۳
  14. الفہرست ابن ندیم، ص۲۲۵
  15. رجال نجاشی، ص۳۱
  16. ص ۱۲؛ نیز نک: نقض، ص۸۱، ص۱۸۶
  17. لسان المیزان، ج۱، ص۴۲۴؛ نیز نک: الملل و النحل، ج۱، ص۱۹۰
  18. نک: الغیب‍ۃ، ص۲۷۲ ـ ۲۷۳
  19. الشافی، ج۱، ص۹۸
  20. الشافی، ج۱، ص۹۸
  21. «صل‍ۃ تاریخ الطبری»، ص۸۷، ۹۴؛ نشوار المحاضرہ، ج۱، ص۱۶۱؛ الغیبۃ، ص۴۰۱ ـ ۴۰۲
  22. الفہرست ابن ندیم، ص۲۲۵
  23. نک‍ : خاندان نوبختی ، ۱۱۱؛ نیز نک‍ : المغنی، ج۲۰(۲)، ص۱۸۵، کہ جس نے ابو سہل کی امامت کے بارے میں ایک عجیب نظر بیان کی ہے۔
  24. الموشح، ص۲۴۲
  25. نک‍ : الوافی بالوفیات، ج۹، ص۱۷۲
  26. اخبار البحتری، ص۱۲۰؛ الموشح، ۲۴۲؛ تاریخ بغداد، ج۱۰، ص۵۴؛ نیز نک‍ : الغیبہ، ص۲۷۱
  27. الفہرست ابن ندیم، ص۲۲۵
  28. الفہرست ابن ندیم، ۲۲۶
  29. رجال نجاشی، ص۴۲۲
  30. نک: الغیبۃ، ص۴۰۱
  31. معجم الشعراء، ص۴۲۴
  32. رجال نجاشی، ص۳۱
  33. نک‍ : الوزراء، ص۳۹ ـ ۴۱؛ تکمل‍ۃ تاریخ الطبری، ج۱، ص۳۲ ـ ۳۳
  34. الغیبۃ، ص۳۷۱ ـ ۳۷۲
  35. نک: الفہرست ابن ندیم، ص۲۲۵؛ رجال نجاشی، ص۳۱ ـ ۳۲؛ الفہرست طوسی، ص۱۲ ـ ۱۳
  36. معالم العلماء، ص۸
  37. نک: ابن بابویہ، ۲/۴۷۴ وطوسی، الغیب‍ـہ، ۲۷۱ ـ ۲۷۳، کہ احتمالاً اسی سے مطالب نقل کئے ہیں۔
  38. رجال نجاشی، ص۳۱
  39. نک‍ : تاریخ بغداد، ج۲، ص۸۳ ـ ۸۴
  40. معالم العلماء، ص۸
  41. نک: رجال نجاشی، ۲۵۴ ـ ۲۵۵
  42. نک: تاریخ بغداد، ج۱۱، ص۱۵۷ ـ ۱۶۰
  43. رجال نجاشی، ۲۵۴ ـ ۲۵۵
  44. تاریخ الحکماء، ص۱۱۸


مآخذ

  • ابن حجر عسقلانی، احمد بن علی، لسان المیزان، حیدرآباد دکن، ۱۳۲۹ ـ ۱۳۳۱ ق.
  • ابن رومی، علی بن عباس، دیوان، تحقیق حسین نصار، قاہرہ، ۱۹۷۳ ـ ۱۹۷۷ م.
  • ابن شہرآشوب، محمد بن علی، معالم العلماء، تحقیق محمدصادق بحرالعلوم، نجف ۱۳۸۰ق/۱۹۶۱م.
  • ابن منظور، محمدبن مکرم، «اخبار ابی نواس»، ہمراہ الاغانی، ابوالفرج اصفہانی، تحقیق محمد ابوالفضل ابراہیم و دیگران، قاہرہ، ۱۳۹۳ق/ ۱۹۷۳ م.
  • اقبال آشتیانی، عباس، خاندان نوبختی، تہران، ۱۳۱۱ ش.
  • بحتری، ولید بن عبید، دیوان، تحقیق حسن کامل صیرفی، قاہرہ، ۱۹۶۴ م.
  • تنوخی، محسن بن علی، نشوار المحاضرہ، تحقیق عبود شالجی، بیروت، ۱۳۹۱ق/۱۹۷۱ م.
  • خطیب بغدادی، احمدبن علی، تاریخ بغداد، قاہرہ، ۱۳۴۹ ق.
  • خطیب بغدادی، الشافی فی الامام‍ـہ، تحقیق عبدالزہراء خطیب، تہران، ۱۴۰۷ق/۱۹۸۶م.
  • شہرستانی، محمد بن عبدالکریم، الملل و النحل، تحقیق عبدالعزیز محمد وکیل، قاہرہ، ۱۳۸۷ق/۱۹۶۸م.
  • صایی، ہلال بن محسن، الوزراء، تحقیق عبدالستار احمد فراج، قاہرہ، ۱۹۵۸ م.
  • صفدی، خلیل بن ایبک، الوافی بالوفیات، تحقیق فان اس، بیروت، ۱۳۹۳ق/۱۹۷۳م.
  • صولی، محمدبن یحیی، اخبار البحتری، تحقیق صالح اشتر، دمشق، ۱۳۷۸ق/ ۱۹۵۸م.
  • صولی، محمدبن یحیی، الغیب‍ـہ، تحقیق عبداللہ تہرانی و علی احمد ناصح، قم، ۱۴۱۱ ق.
  • صولی، محمدبن یحیی، الفہرست، تحقیق محمد صادق بحرالعلوم، نجف، ۱۳۸۰ق/۱۹۶۰ م.
  • قاضی عبدالجبار ہمدانی، تثبیت دلائل النبوہ، تحقیق عبدالکریم عثمن، بیروت، ۱۳۸۶ق/۱۹۶۶م.
  • قاضی عبدالجبار ہمدانی، المغنی، تحقیق عبدالحلیم محمود و دیگران، قاہرہ، ۱۳۸۰ق/۱۹۶۰م.
  • قرطبی، عریب بن سعد، «صل‍ۃ تاریخ الطبری»، تاریخ طبری، ج ۱۱.
  • قزوینی رازی، عبدالجلیل، نقض، تحقیق جلال الدین محدث، تہران، ۱۳۵۸ ش.
  • قفطی، علی بن یوسف، تاریخ الحکماء، تحقیق یولیوس لیپرت، لایپزیگ، ۱۹۰۳ م.
  • مرزبانی، محمدبن عمران، معجم الشعراء، تحقیق عبدالستار احمد فراج، قاہرہ، ۱۳۷۹ق/۱۹۶۰ م.
  • مرزبانی، محمدبن عمران، الموشح، تحقیق محب الدین خطیب، قاہرہ، ۱۳۸۵ ق.
  • مرزبانی، محمدبن عمران، «اجوب‍ـہ المسائل السروی‍ـہ»، عدہ رسائل، قم، مکتبۃ المفید.
  • نجاشی، احمدبن علی، رجال، تحقیق موسی شبیری، زنجانی، قم، ۱۴۰۷ ق.
  • ہمدانی، محمد بن عبدالملک، تکمل‍ۃ تاریخ الطبری، تحقیق البرت یوسف کنعان، بیروت، ۱۹۶۱ م.
  • یاقوت حموی، معجم الادباء.
  • Madelung, W., ”Imamism and Muetazilite? Theology“, Le Shlism? Imamtie, Paris,1970.

بیرونی رابط