ابن ابی جمہور احسائی

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
ابن ابی جمہور احسائی
ذاتی معلومات
مکمل نام محمد بن زین الدین علی بن ابراہیم بن حسن بن ابراہیم بن ابی جمہور اَحْسائی
لقب/کنیت ابن ابی جمہور
تاریخ ولادت نویں صدی ہجری قمری
آبائی شہر احساء
علمی معلومات
اساتذہ علی بن ابراہیم بن ابی جمہور، حسن بن عبدالکریم فتال غروی،...
شاگرد سید محسن رضوی قمی، شیخ شرف الدین محمود طالقانی،....
اجازہ روایت از شیخ شرف الدین حسن بن عبدالكریم فتّال،شیخ علی بن ہلال جزایری
اجازہ روایت سید محسن رضوی قمی،
تالیفات عوالی الّلئالی العزیزیہ فی الاحادیث الدّینیہ،معین الفکر،....
سیاسی-سماجی فعالیت

محمد بن زین الدین علی بن ابراہیم بن حسن بن ابراہیم بن ابی جمہور اَحْسائی یا لحَصْاوی (زندہ 904ھ ق /1499 عیسوی) شیعہ محدّث، فقیہ، متكلم صوفی عالم تھے۔ کتاب عوالی اللئالی العزیزیۃ فی الاحادیث الدینیۃ ان کے اہم آثار میں سے ہے۔

نسب و ولادت

ابن ابی جمہور نویں صدی ہجری قمری کے پہلے پچاس سالوں کے دوران احساء کے تَیمیہ یا تہیمیہ[1] نامی گاؤں میں پیدا ہوئے۔ آپ ایک علمی اور با تقوا خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ ولادت کی دقیق تاریخ معلوم نہیں ہے۔ ان کے والد شیخ زین الدین علی اور داد شیخ ابراہیم علما میں سے تھے۔[2]

علمی زندگی

تعلیمی مراحل

ابتدائی تعلیم اپنے والد اور مقامی علما کے پاس حاصل کی۔اس کے بعد عراق گئے اور نجف میں شیخ شرف الدین حسن بن عبدالكریم فتّال کی شاگردی اختیار کی۔ [3] نیز ان سے اجازہ روایت لیا[4] ۸۷۷ق /1472 عیسوی میں شام کے راستے زیارت کعبہ کیلئے گئے۔ اس سفر کے دوران ایک ماہ کے قریب جبل عامل اور معروف شیعہ نشین علاقے «كَرَك نوح »[5] نامی جگہ رکے رہے اور یہاں شیخ علی بن ہلال جزایری، کے درس میں شریک ہوئے جو ابوالعباس احمد بن فہد حلّی کے شاگردوں میں سے تھے۔[6] نیز ان سے بھی اجازہ روایت لیا۔[7]

اس سفر کے بعد احساء میں واپس لوٹ آئے اور عتبات کی زیارت کیلئے چند مرتبہ گئے اور وہاں سے امام رضا(ع) کی زیارت کے قصد سے طوس گئے۔ عمر کا باقی حصہ خراسان میں گزارا اور یہاں سے مسلسل اطراف میں سفر کیلئے دوسرے شہروں میں جاتے رہے۔

اساتذہ

  • علی بن ابراہیم بن ابی جمہور (والد)
  • حسن بن عبدالکریم فتال غروی
  • عبداللہ بن فتح اللہ واعظ قمی
  • علی بن ہلال جزائری
  • حرزالدین اوالی
  • سید محمد بن موسی موسوی حسینی احسائی

تلامذہ

ابن ابی جمہور کے شاگرد کہ جنہوں نے ان سے اجازۂ روایت لیا:

  • سید محسن رضوی قمی: ابن ابی جمہور نے اسے اجازہ قرائت اور عوالی اللئالی کی املا کا اجازہ دیا۔
  • شیخ ربیعۃ بن جمعہ
  • شیخ شرف الدین محمود طالقانی
  • شیخ شمس الدین محمد بن صالح غروی.[8]
  • جلال الدین بہرام بن بہرام استرآبادی
  • محمد بن صالح غروی
  • سیف الدین احسائی
  • عطاءاللہ بن نصراللہ سروی استرآبادی

اہل سنت سے مناظرہ

ابن ابی جمہور نے طوس میں تدریس اور تألیف کے علاوہ علمائے اہل سنت سے تشیع کی حقانیت اور خلافت علی (ع) کے اثبات میں مناظرے کئے جیسے فاضل ہروی کے ساتھ 878 ھ ق میں سید محسن رضوی کے گھر مناظرہ ہوا اور اسے لاجواب کیا۔[9] اگرچہ مناظرات کے متن میں اس کے نام کی وضاحت موجود نہیں لیکن احتمال ہے کہ فاضل ہروی کا نام شیخ الاسلام احمد بن یحیی بن سعدالدین تفتازانی تھا کہ جو 30سال تک ہرات میں قاضی کے عہدے پر فائز رہا اور آخرکار916ھ ق /1510 عیسوی میں علمائے ہرات کے دستور پر شاہ اسماعیل صفوی نے اسے قتل کروادیا۔[10]

آثار

۱. عوالی الّلئالی العزیزیہ فی الاحادیث الدّینیہ، یا عوالی الّلئالی الحدیثیہ علی مذہب الامامیہ: یہ ایک شیعہ روائی مجموعہ ہے جس میں سات طریق سے شیعہ روایات جمع کی گئی ہیں۔
كتاب عوالی اللئالی شروع سے ہی علما کے مورد توجہ رہی جیسا کہ سید نعمت اللہ جزائری نے اس کتاب پر شرح لکھی جس کا نام جواہر الغوالی یا مدینہ الحدیث تھا۔
۲. مُجْلی مِرآۃ المُنجی، یہ علم کلام کے ساتھ علم فلسفہ کی ابحاث پر مشتمل ہے جس میں عرفانی اور سیر و سلوك متصوّفہ کے قواعد و اصول بیان ہوئے نیز تہذیب اخلاق کا خلاصہ ہے کہ جس کی تالیف صفر 896/دسمبر 1490 کو تمام ہوئی۔[11] یہ کتاب اس کے اپنے رسالہ مسلك الافہام فی علم الكلام کی شرح ہے۔
ابن ابی جمہور نے اس کتاب میں کوشش کی ہے کہ علم كلام اور فلسفہ خاص طور پر افكار شیخ اشراق) اور عرفان (عقائد ابن عربی اور اسکے شارحین) کے نظریات کو باہم مطابقت نیز آیات و شیعہ روایات کی تاویل کے ذریعے تصوف کے درمیان سازگاری قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔[12]
۳.رسالۃ الاقطاب الفقہیہ و الوظائف الدینیہ علی مذہب الامامیہ: اس کتاب میں فقہی قواعد کو تدوین کیا ہے۔ یہ شہید اول کی کتاب القواعد کی مانند ہے۔[13]
۴. رسالۃ البرمكیہ فی فقہ الصلوہ الیومیہ،[14]: اس رسالے کو شیخ کے زمانے میں ان کے شاگردوں اور اس سے فائدہ حاصل کرنے کرنے والوں نے فارسی میں تالیف کیا۔[15]
۵. الانوار المشہدیہ فی شرح الرّسالہ البرمكیہ: رسالہ برمكیہ مذكور.[16] کی شرح ہے۔
۶. التّحفہ الحسینیہ فی شرح الرّسالہ الالفیہ،[17]: اس رسالے کے اصل متن کا نام الالفیہ فی فقہ الصلاۃ ہے جو شہید اول کا ہے۔
۷. المسالك الجامعیہ فی شرح الالفیہ الشہیدیہ: الفیہ شہید اول کی شرح ہے جس کا ایک نسخہ آستان قدس میں موجود ہے۔[18]
۸. تحفۃ القاصدین فی معرفہ اصطلاح المحدّثین.[19]
۹. بدایہ النہایہ فی الحكمہ الاشراقیہ.[20]
۱۰. رسالہ معین الفكر، كتاب باب حادی عشر؛[21] کی شرح ہے۔
۱۱. رسالۃ المناظرہ مع الفاضل الہروی: مؤلف کے تین مناظراتی نشستوں کی شرح ہے جو فاضل ہروی سے ہوا تھی ۔ ان نشستوں میں مسألہ امامت و اثبات حقّانیت علی (ع) کے بارے میں گفتگو ہے۔ سید نور اللہ شوشتری[22]قسمتی از این مناظرہ را بہ فارسی نقل كردہ است.[23]
۱۲. رسالہ زادالمسافرین فی اصول الدّین اور اس کی شرح بنام کشف البراہین۔ [24]

اقوال علما

ابن ابی جمہور اگرچہ فقہ، حدیث و کلام میں تبحر رکھتے تھے لیکن اس کے باوجود علما اور فقہا کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنے ہیں اس کی وجہ ان کے فلسفے اور تصوف کی جانب رجحان تھا۔ یہ رجحان انکی کتاب مجلی میں واضھ ہے۔ نیز نقل روایت میں سہل انگار تھے اور روایات مُرسل اور آحاد کہ جن کی راوی اہل سنت تھے انہیں نقل کرتے تھے۔[25]

اس کے مقابلے میں علما کی ایک جماعت نے ان کی تعریف کی اور علما کی طرف سے ہونے والے اعتراضات کے جوابات دئے ہیں مثلا سید نعمت اللہ جزائری کی جواہر الغوالی فی شرح العوالی اور محدث نوری مستدرک الوسائل[26] و آیت اللہ مرعشی رسالہ الرّدود و النّقود[27]

وفات

ابن ابی جمہور کے سن وفات کا دقیق علم نہیں ہے لیکن قرائن کی بنا پر کہا جا سکتا ہے کہ شیخ ذیقعد سال 904/ جون1499 تک زندہ تھے کیونکہ اپنے شاگردوں اور دوستوں کے کہنے پر باب حادی عشر کے حاشیے معین الفکر پر یہ تاریخ مرقوم کی۔[28]ان کا مقام دفن بھی معلوم نہیں ہے۔

حوالہ جات

  1. ابن أبي جمہور، النور المنجي من الظلام، ج۲، ص۶۵۷
  2. بحرانی، علی بن حسن، ص۳۹۹.
  3. شوشتری، ج۱، ص۵۸۱.
  4. خوانساری، ج۷، ص۳۲؛ قمی، فوائد الرضویہ، ص۳۸۳.
  5. شوشتری، ج۱، ص۷۸.
  6. شوشتری، ج۱، ص۵۸۱.
  7. افندی اصفہانی، ج۵، ص۱۱۵؛ قمی، فوائد الرضویہ، ص۳۸۳.
  8. خوانساری، ج۷، ص۳۴؛ قمی، الكنی و الالقاب، ج۱، ص۱۹۲.
  9. بحرانی، یوسف بن احمد، ص۱۶۶.
  10. الشیبی، ص۳۳۲.
  11. ابن ابی جمہور، المجلی، ج۴، ص۵۸۵.
  12. كربن، ص۲۰۹.
  13. آقابزرگ، ج۲، ص۲۷۳.
  14. آقا بزرگ، ج۳، ص۸۸.
  15. مشكوہ، ۳ (۵) /۱۸۲۷
  16. آقابزرگ، ج۲، ص۴۴۱؛ مشكوہ، ۳ (۵) /۱۸۲۷
  17. آقابزرگ، ج۳، ص۴۳۰.
  18. آقابزرگ، ج۳، ص۴۳۰، ج۱۳، ص۱۱۴.
  19. آقابزرگ، ج۳، ص۴۶۱.
  20. آقابزرگ، ج۳، ص۵۹.
  21. آقابزرگ، ج۱۳، ص۱۲۳.
  22. شوشتری، ج۱، ص۵۸۲.
  23. مشكوہ، ۳ (۱) /۶۲۷
  24. شوشتری، ج۱، ص۵۸۲.
  25. بحرانی، یوسف، ص۱۶۷؛ مامقانی، ج۳، ص۱۵۱.
  26. نوری، حسين ، مستدرک الوسائل، ج۳، ص۳۶۱-۳۶۵
  27. مرعشی، ص۲.
  28. مشكوہ، ۳/ (۱) ۵۸۷


مآخذ

  • آستان قدس، فہرست.
  • آقابزرگ، الذریعہ.
  • ابن ابی جمہور، محمد، عوالی اللئالی بہ كوشش مجتبی عراقی، قم، ۱۴۰۳ق /۱۹۸۳م.
  • ہمو، مجلی مرا¸ہ المنجی، تہران، ۱۳۲۴ق.
  • الأحسائي ، محمد ابن أبي جمہور، النور المنجي من الظلام، بيروت، دار المحجۃ.
  • افندی اصفہانی، عبداللہ، ریاض العلماء،ق م، ۱۴۰۱ق.
  • بحرانی، علی بن حسن، انوار البدرین فی تراجم علماء القطیف و الاحساء و البحرین، بہ كوشش محمد علی محمد رضا الطبسی، نجف، ۱۳۷۷ق.
  • بحرانی، یوسف بن احمد، لؤلؤہالبحرین، بہ كوشش محمد صادق بحرالعلوم، قم. مؤسسہ آل البیت.
  • بغدادی، اسماعیل، ایضاح المكنون، استانبول، ۱۹۴۵-۱۹۴۷م.
  • حاجی خلیفہ، مصطفی، كشف الظنون، استانبول، ۱۹۴۱م.
  • حرّعاملی، محمد، الامل الا¸مل، بغداد، ۱۳۸۵ق /۱۹۶۵م.
  • خوانساری، محمدباقر، روضات الجنّات، تہران، ۱۳۹۰ق.
  • دانش پژوہ، محمدتقی، «سہ فیلسوف ایرانی »، مہر،(س) ۱۰، شم ۱، بہار، ۱۳۴۳ش، ص۸۲ -۸۴
  • شوشتری، قاضی نوراللہ، مجالس المؤمنین، تہران، ۱۳۷۵ق.
  • الشیبی، كامل مصطفی، تشیع و تصوف، ترجمہ علیرضا ذكاوتی قراگزلو، تہران، ۱۳۵۹ش.
  • قمی، عباس، فوائد الرّضویہ، تہران، ۱۳۲۷ش.
  • قمی، عباس، الكنی و الالقاب، تہران، ۱۳۹۷ق.
  • قمی، عباس، ہدیہ الاحباب، تہران، ۱۳۶۳ش.
  • كربن، ہانری، تاریخ فلسفہ اسلامی، ترجمہ اسداللہ مبشّری، تہران، ۱۳۵۸ش.
  • مامقانی، عبداللہ، تنقیح المقال، نجف، ۱۳۵۲ق /۱۹۳۳م.
  • مجلسی، محمد باقر، بحارالانوار، بیروت، ۱۳۹۸ق.
  • مرعشی، شہاب الدین، الردود و النقود [ضمیمہ عوالی اللئالی]، قم، ۱۴۰۳ق.
  • مركزی و مركز اسناد، خطی.
  • مشكوہ، خطی.
  • ملك، خطی.
  • نوری، حسین، مستدرك الوسائل، تہران، ۱۳۱۸-۱۳۲۱ق.

بیرونی رابط