حافظ بشیر حسین نجفی

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
حافظ بشیر حسین نجفی
حافظ بشیر حسین نجفی.jpg
آیت اللہ حافظ بشیر حسین نجفی
ذاتی معلومات
مکمل نام حافظ بشیر حسین نجفی
تاریخ ولادت 1942ء (جالندھر ہندوستان)
آبائی شہر جالندھر(ہند)،لاہور(پاکستان)
نامور اقرباء مولانا خادم حسین، مولانا محمد ابراہیم
علمی معلومات
اساتذہ شیخ محمد کاظم تبریزی، شیخ محمد حسین اصفہانی، سید محمد روحانی، سید ابو القاسم خوئیؒ،
تالیفات شرح معالم الاصول،شرح کفایۃ الاصول،رسالۃ فی دائرة الہندیہ و تعیین القبلہ،تعلیقہ علی شرح التجرید......
سیاسی-سماجی فعالیت
سماجی اسکولوں کا قیام، مؤسسہ انوار النجفیہ، درسی کتب کی طباعت، ...
ویب سائٹ http://www.alnajafy.com/

حافظ بشیر حسین نجفی دنیائے تشیع کے مرجع تقلید ہیں۔ عراقی شہر نجف میں حوزۂ علمیہ کے زعیم مانے جاتے ہیں نیز اس وقت نجف میں علم اصول فقہ اور علم فقہ کے معروف اساتید میں سے شمار ہوتے ہیں۔ 39 کے قریب کتابوں کے مؤلف ہیں۔ عراق میں سابق فوجی حکمران صدام حسین کی حکومت کے دوران نجف میں حوزوی تعلیم کے سلسلے کو اس دور کے نامساعد حالات میں جاری رکھنے میں آپ کی خصوصی کاوشیں شامل ہیں۔ اسی طرح عراق میں عوامی حکومت کے قیام کے بعد نجف سمیت دیگر مختلف علاقوں میں در پیش مشکلات کے حل کیلئے نجف میں مختلف مدارس کا قیام، دینی کتابوں کی طباعت، طلبہ کیلئے تعلیمی قوانین کا اجرا، نجف میں بجلی کی فراہمی، زائرین، غرباء اور حاجتمندوں کی مشکلات کے حل کیلئے آپ کی سرپرستی میں کئے جانے والے مختلف اقدامات کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

خاندان

  • نام: بشیر حسین بن صادق علی بن محمد ابراہیم
  • مقام و تاریخ پیدائش:جالندھر(ہندوستان)، 1942ء

آپ کا خاندان بنیادی طور پر ہند و پاک کی تقسیم سے پہلے ہندوستان کے صوبے پنجاب کے شہر جالندھر میں آباد تھا۔ پاک و ہند کی تقسیم کے بعد پاکستان کے معروف شہر لاہور کے مضافات میں باٹا پور نامی جگہ آکر آباد ہوا۔جہاں تشیع موجود نہ تھی اور آپ کے خاندان کی مذہبی تبلیغات کی بدولت وہاں تشیع پھیلی کیونکہ آپ کے دادا اور چچا مولانا خادم حسین عالم دین تھے۔[1]

تعلیم و تربیت

ابتدائی دینی تعلیم اپنے دادا محمد ابراہیم بن عبد اللہ اور چچا خادم حسین کے پاس حاصل کی اور پھر قرآن حفظ کیا۔1961ء سے لے کر 1965ء تک لاہور کے دینی مدرسے جامعۃ المنتظر (موجودہ جامع المنتظر) میں داخل ہوئے جہاں مولانا شیخ اختر عباس سے تعلیم حاصل کی ۔ 1965ء میں نجف اشرف گئے۔

نجف اشرف

1965ء میں نجف اشرف گئے جہاں درج ذیل اساتذہ سے کسب فیض کیا:

  • سید ابو القاسم خوئی(مسلسل اٹھارہ سال درس خارج میں شریک رہے)۔
  • شیخ مرزا محمد کاظم تبریری(کفایۃ الاصول اور کچھ بحث خارج پڑھی)۔
  • محمد علی افغانی۔
  • سید محمد روحانی(سات سال درس خارج پڑھا)۔
  • شیخ راستی۔[2]
  • شیخ محمد حسین اصفہانی۔

تدریس

جامعۃ المنتظر میں تدریسی فرائض انجام دئے اور 1966ء میں نجف اشرف آکر باقاعدہ تدریسی خدمات انجام دینا شروع کیں اور 1974ء میں باقاعدہ درس خارج کا آغاز کیا جس کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔

تالیفات

آپ کی عربی تالیفات کے درج ذیل اسما ہیں:

  • الدین القیم (رسالہ عملیہ کہ جو ٣ جلدوں پر مشتمل ہے)
  • وقفۃ مع مقلدی الموتیٰ
  • مرقات الاصول
  • مناسک الحج
  • خیر الصحائف فی احکام العفائف
  • مئۃ سوال حول الخمس
  • ہدیہ الناشئۃ
  • احکام الصوم
  • ستبقی النجف رائدۃ حوزات العالم
  • الخریت العتیدفی احکام التقلید
  • مصطفی دین القیم
  • المرشد الشفیق الی حج البیت العتیق
  • المنہل العذب لمن ہو مغترب
  • بحوث فقہیۃ معاصرۃ
  • الشعائرالحسینیۃ ومراسیم العزاء
  • الی الشباب
  • شرح معالم الاصول
  • رسالۃ فی اعتکاف
  • ولادت امام مہدی
  • رسالۃ فی احکام الغیبۃ
  • رسالۃ فی قاعدۃ ما یضمن بصحیح
  • شرح کفایۃ الاصول
  • تنقیح الرواۃ
  • بحث مفصل فی علم الدرایۃ
  • شرح منظومۃ الحکیم السبزواری (قسم المنطق )
  • شرح مطالب القوانین فی الاصول
  • رسالۃ فی دائرۃ الہندیہ و تعیین القبلہ
  • تعلیقہ علی شرح التجرید
  • بحث علی ارث شرح اللمعۃ
  • رسالۃ فی احکام الرادیووتلفزیون والتمثیل
  • رسالۃ الخمس استدلالیۃ
  • الغدیر اطالۃ واعمال
  • رسالۃ فی صلاۃ الجمعۃ
  • تائب حبیب اللہ


ان میں سے بعض کتابوں کا مختلف زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔

حوالہ جات

  1. حسین عارف نقوی،تذکرہ علمائے امامیہ پاکستان،65
  2. حسین عارف نقوی،تذکرہ علمائے امامیہ پاکستان،65/66۔


مآخذ

سید حسین عارف نقوی،تذکرہ علمائے امامیہ پاکستان،مرکز تحقیقات فارسی ایران و پاکستان(اسلام آباد)