حسن حسن زادہ آملی

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
حسن زادہ آملی
آیت اللہ حسن زادہ آملی
ذاتی معلومات
مکمل نام حسن حسن زادہ آملی
تاریخ ولادت 1307 ھ ش
آبائی شہر آمل۔
رہایش قم۔ تہران
علمی معلومات
مادر علمی آمل، تہران، قم۔
اساتذہ علامہ سید محمد حسین طباطبائی، علامہ شعرانی، مہدی الہی قمشہ ای، سید ابو الحسن رفیعی قزوینی۔
اجازہ اجتہاد از علامہ شعرانی۔
تالیفات دروس معرفت نفس، رسالہ لقاء الله، تصحیح و تعلیق تمہید القواعد، تصحیح نہج البلاغہ، تصحیح و تعلیق اشارات، الہی‌ نامہ۔
سیاسی-سماجی فعالیت

حسن حسن زادہ آملی (ولادت ۱۳۰۷ ش)، فلسفی، عارف، خدا رسیدہ، مجتہد، ستارہ شناس اور علوم دینی و حوزوی کے استاد ہیں۔ انہوں نے علوم دینی کے بہت سے مختلف موضوعات پر کتاب تالیف کی ہیں اور علامہ حسن زادہ آملی کے نام سے شہرت حاصل کی ہے۔ ان کی نظر عرفان حقیقی کا سر چشمہ قرآن کریم ہے۔ وہ سنت فلسفہ اسلامی کی مسیر واحد سے تفسیر کرتے ہیں اور ملا صدرا کے ذریعہ جمع دین و عقل و فلسفہ کو معقول مانتے ہیں۔ شرح فصوص الحکم، تصحیح نہج البلاغہ، انسان در عرف عرفان و تصحیح کلیلہ و دمنہ ان کی تالیفات میں سے ہیں۔

سوانح حیات و تعلیم

حسن حسن زادہ آملی ۱۳۰۷ ش کے اواخر میں آمل کے علاقہ لاریجان کے ایک دیہات میں پیدا ہوئے۔[1] ۶ برس تک مکتب میں تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد سن ۱۳۲۳ ش میں مدرسہ اور حوزہ کی تعلیم کا آغاز کیا۔[2] ادبیات عرب اور دیگر ابتدائی دروس آمل میں محمد غروی، عزیز الله طبرسی، احمد اعتمادی، عبد الله اشراقی، ابو القاسم رجائی، میرزا ابو القاسم فرسی و دیگر اساتید سے پڑھے۔ اسی زمانہ میں انہوں نے حوزہ کے ابتدائی دروس کی بعض کتابیں تدریس کیں۔[3]

تہران کی طرف ہجرت

آیت اللہ حسن زادہ آملی نے حوزہ کے مقدماتی دروس کو تمام کرنے کے ساتھ آیت اللہ غروی کی تشویق پر لباس روحانیت کو زیب تن کر لیا اور 22 برس کی عمر میں مزید تعلیم کے لئے تہران کا سفر کیا۔ تہران میں ان کے اساتذہ میں سے ایک آیت اللہ سید احمد لواسانی تھے۔ حسن زادہ آملی نے ان سے کتاب شرح لمعہ اور قوانین الاصول کے بعض حصے پڑھے۔[4]

حسن زادہ آملی نے ایک طویل عرصہ تک علامہ شعرانی کے دروس میں شرکت کی اور ان سے بہت سی کتابیں پڑھیں۔ جن میں رسائل، مکاسب، کفایہ، جواہر الکلام کے کچھ حصے، اشارات ابن سینا پر شرح خواجہ نصیر الدین طوسی، اسفار اربعہ، ابن سینا کی کتاب شفاء، تفسیر مجمع البیان، شرح شاطیہ قوشچی، شرح چغمینی قاضی زاده رومی، اصول اقلیدس تحریر خواجہ طوسی، شرح علاّمہ خضری بر تذکره خواجہ، زیج بہادری، مجسطی بطلیموس تحریر خواجہ طوسی، دوره دو جلدی جامع الرواة حاج محمّد اردبیلی، قانونچہ چغمینی و تشریح کلیات قانون بو علی سینا شامل ہیں۔[5]

حسن زادہ آملی نے علامہ شعرانی سے اجازہ اجتہاد و اجازہ نقل حدیث حاصل کیا۔ اسی طرح سے انہوں نے ان کی رہنمائی کی وجہ سے آیت اللہ سید ابو الحسن رفیعی قزوینی کے دروس یعنی شرح علاّمہ فناری بر مصباح الانس اور ان کے فقہ و اصول فقہ کے درس خارج میں شرکت کی۔[6]

انہوں نے 11 برس تک مہدی الہی قمشہ ای سے حکمت منظومہ سبزواری، مباحث نفس اسفار اور تقریبا نصف کتاب شرح خواجہ بر اشارات ابن سینا کے ذریعہ کسب فیض کیا۔ اسی طرح سے انہوں نے ان کے درس تفسیر میں شرکت کی۔ نقل ہوا ہے کہ آیت اللہ قمشہ ای نے انہیں اپنے درس میں شامل کرنے کے لئے استخارہ دیکھا جب استخارہ میں و ممّا رزقناهم ینفقون[7] آیت آئی تو انہیں شرکت کی اجازت دے دی۔ بعد میں استاد شاگرد کا رشتہ بہت جزباتی نوعیت اختیار کر گیا اور استاد الہی قمشہ ای نے حسن زادہ آملی کے دیوان شعری پر مقدمہ بھی تحریر کیا۔[8]

آیت اللہ محمد تقی آملی تہران میں ان کے درس خارج فقہ و اصول فقہ کے استاد تھے۔[9] حسن‌ زاده آملی نے شرح قیصری بر فصوص الحکم و اوائل طبیعیات شفائے شیخ الرئیس کے بعض حصوں کو شیخ محمّد حسن فاضل تونی کے پاس پڑھا۔ اسی طرح سے انہوں نے ابو علی سینا کی شفاء کے بعض حصوں کے لئے میرزا احمد آشتیانی سے کسب فیض کیا۔[10]

قم کی طرف ہجرت

حسن زادہ آملی سن 1342 ش میں تہران سے قم منتقل ہو گئے اور انہوں نے وہاں 17 برس تک علامہ طباطبائی اور ان کے بھائی سید محمد حسن الہی کے دروس سے استفادہ کیا۔ اس مدت میں انہوں نے علامہ طباطبائی کے پاس علامہ محمد باقر مجلسی کی کتاب بحار الانوار کے کچھ حصے اور تمہید القواعد بھی پڑھی۔[11] اسی طرح سے وہ سید محمد حسن الہی کے فلسفہ و عرفان کے دروس میں شرکت کی۔ حسن زادہ آملی اس دورہ کو نیکی کے ساتھ یاد کرتے ہیں اور بعض اخلاقی تاثیر پذیری کی کی نسبت اس کی طرف دیتے ہیں۔ ان کے ایک دوسرے استاد سید مہدی قاضی طباطبائی فرزند سید علی قاضی تھے جو علوم غریبہ، حکمت اور عرفان میں مہارت رکھتے تھے۔[12]

تدریس

حسن زادہ آملی نے قم میں رہائش اختیار کرنے کے بعد سے شرح منظومہ کے چار دورے، شرح اشارات کے چار دورے، اسفار اربعہ کا ایک دورہ اور شرح فصوص قیصری کے چار دورے تدریس کر چکے ہیں۔ انہوں نے شرح تمہید القواعد اور مصباح الانس بھی تدریس کی ہیں۔ اسی طرح سے انہوں نے 17 سال تک ریاضیات، ہیئت، وقت اور قبلہ کے مباحث تدریس کئے ہیں۔ ان کی کتاب معرفت الوقت و القبلہ ان ہی دروس کا ثمرہ ہے۔[13]

نظریات و تصنیفات

حسن زادہ آملی فقہ، فلسفہ، اخلاق، عرفان، حکمت دینی، علم کلام، ریاضیات، نجوم، ادبیات عربی و فارسی، علوم طبیعی، طب قدیم، علوم غریبہ و باطنی جیسے علوم و موضوعات پر صاحب تصنیف ہیں۔ البتہ ان کی زیادہ تر تالیفات و افکار قرآنی مرکزیت و محوریت کے ساتھ فلسفہ و عرفان سے تعلق رکھتی ہیں۔

فلسفہ

آیت اللہ حسن زادہ آملی سنت فلسفہ اسلامی کو ایک نگاہ سے دیکھتے ہیں۔[14] ان کے شاگرد سید ید اللہ یزدان پناہ کا ماننا ہے کہ ان کے استاد فلسفہ و عرفان اسلامی کی تالیفات کو ایک ہی زمرہ میں تصور کرتے ہیں یعنی وہ جمع بین دین و فلسفہ و عرفان کے قائل ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ ملا صدری نے دورہ معقول فلسفہ اسلامی کو ایک اچھے انجام تک پہچانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ یزدان پناہ کے مطابق ان کے استاد نے سب سے زیادہ توجہ ملا صدری اور ابن عربی پر مرکوز کیں ہیں اور سب سے زیادہ ان دونوں سے اثر قبول کیا ہے۔[15] حسن زادہ آملی فلسفہ اسلامی کے یونانی ہونے کے دعوی کو رد کیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ قبل از اسلام کے فلاسفہ کے افکار و نظریات سطحی ہیں۔ اسلامی فلاسفہ نے ان افکار و نظریات کو عمق عطا کیا ہے اور ان کی تعبیر میں انہیں پختہ کیا اور پکایا ہے۔[16]

حسن زادہ آملی کے فلسفہ کے بہت سے آثار ہیں۔ جن میں کتاب الاصول الحکمیہ، رسالہ جعل، رسالہ رؤیا، رسالہ نفس الأمر، رسالہ نہج الولایہ، رسالہ فی التضّادّ، ترجمہ و تعلیق الجمع بین الرّأیین، ترجمہ و شرح سہ نمط آخر اشارات، تصحیح و تعلیق شفا، تصحیح و تعلیق اشارات، تقدیم و تصحیح و تعلیق آغاز و انجام کلامی شامل ہیں۔[17]

قرآن سرچشمہ معارف

علامہ حسن زادہ آملی قرآن کریم کو معارف الہی کا سرچشمہ قرار دیتے ہیں۔ ان کی نگاہ میں نہج البلاغہ، صحیفہ سجادیہ، اصول کافی، بحار الانوار و دیگر جوامع روایی نے قرآن کریم سے سر چشمہ حاصل کیا ہے اور وہ قرآن کا ادنی مرتبہ رکھتے ہیں۔ اقوال و فرامین معصومین علیہم السلام کی بازگشت بھی قرآن کی طرف ہوتی ہے۔[18]

عرفان

حسن زادہ آملی کی نظر میں دین عرفان باللہ و معرفت خداوند کا نام ہے اور معرفت خدا وسیع و عریض مفہوم کی حامل ہے جس میں معرفت اسماء‌ اللہ، معرفت افعال‌ الله، معرفت احکام‌ الله، معرفت کتاب‌ الله، تمام معرفتیں شامل ہو سکتی ہیں۔ حقیقت عرفان ان ہی معرفتوں کو کسب کرنے کا نام ہے۔ ان کی نگاہ میں اصیل انسان ساز عرفان قرآن کریم سے تمسک ہے اور ائمہ معصومین علیہم السلام معلمین بشر اور سفیران الہی ہیں جو انسان ساز دستور العمل یعنی قرآن کو انسانوں کے لئے تبیین کرتے ہیں۔[19]

ان کی بعض تالیفات عرفان سے تعلق رکھتی ہیں۔ جن میں الہی نامہ، رسالہ لقاء الله، رسالہ آنہ الحق، شرح فصوص الحکم، عرفان و حکمت متعالیہ، تصحیح رسالہ مکاتبات، رسالہ مفاتیح المخازن و رسالہ سیر و سلوک شامل ہیں۔[20]

ادبی آثار

حسن زادہ آملی بچپن سے ہی شعر و ادب سے شغف رکھتے تھے۔ یہ شوق اور مطالعہ ان کی بعض ادبی تخلیقات کا سبب بنا۔ جن میں تصحیح کلیلہ و دمنہ، تصحیح گلستان سعدی، مصادر اشعار منسوب بہ امیر المؤمنین(ع)، تقدیم و تصحیح و تعلیق نصاب الصبیان، دیوان اشعار، ده رسالہ فارسی، ہزار و یک نکتہ و الہی نامہ قابل ذکر ہیں۔[21]

تصحیح و حواشی

آیت اللہ حسن زادہ آملی نے 40 سال سے زیادہ عرصہ حوزہ علمیہ قم میں تدریس میں صرف کیا ہے۔ تدریس کے دوران انہوں نے بعض کتابوں کی تصحیح اور ان پر حاشیے بھی لگائے ہیں۔ ان میں تصحیح‌ نہج البلاغہ، تصحیح تفسیر خلاصة المنہج، تصحیح‌ کتاب شفا، تصحیح اسفار اربعہ، تصحیح کتاب کشف المراد، تصحیح‌ و حاشیہ بر تمہید القواعد صائن الدین و شرح بر فصوص قیصری شامل ہیں۔[22]

مشی سیاسی

علامہ حسن زادہ آملی کے شاگرد حسن رمضانی اپنے استاد کے مشی سیاسی کے سلسلہ میں کئے گئے ایک سوال کے جواب میں کہتے ہیں: ممکن ہے کہ کوئی عارف محض نہایت اہم، حساس اور سر نوشت ساز مواقع میں، جن میں وارد ہونا شرعی ذمہ داری ہو، اظہار نطر کرے۔ البتہ شان عرفان اور عارف یہ ہے کہ وہ جزئی اور غیر اہم مسائل میں دخالت نہ کرے۔ لیکن لوگ جب دور سے ان امور کو دیکھتے ہیں تو وہ ان میں تمییز نہیں کر پاتے ہیں اور تصور کرتے ہیں کہ چونکہ فلان انسان ان جزئی امور میں دخالت نہیں دیتا ہے اس لئے سمجھتے ہیں کہ وہ ہرگز سیاسی و سماجی مسائل میں دخالت نہیں کرتا ہے اور اس سے بے بہرہ ہے۔ رمضانی کہتے ہیں: شاید ان کے استاد حسن زادہ آملی کا سیاسی و سماجی مسائل میں بروز و ظہور ممکن ہے کہ بہت واضح نہ ہو یعنی یہ کہ وہ سیاسی امور میں زیادہ دخالت نہ دیتے ہوں لیکن ان کے آیت اللہ خامنہ ای کے ساتھ اچھے روابط ہیں۔[23]

حسن زادہ آملی نے حسن رمضانی سے نقل کیا کہ انقلاب اسلامی ایران کی کامیابی اور ایران سے امام خمینی کے جلا وطن ہونے قبل جب انہوں نے امام خمینی کے نصائح سنے تھے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ علماء تبلیغ میں سیاسی و سماجی و مسلمین کے مسائل کو عوام کے سامنے بیان کریں، تو وہ امام خمینی کے دیدار کے لئے تہران سے قم گئے تھے اور ان کے ہاتھوں پر بیعت کی تھی۔[24]

اسی طرح سے انہوں نے سن 1377 ش میں آیت اللہ خامنہ ای کے سفر آمل میں انہیں اپنی کتاب انسان در عرف عرفان مقدمہ لکھنے کی غرض سے تقدیم کی تھی۔[25] اسی طرح سے آیت اللہ خامنہ ای نے سن 1391 ش میں جب آیت اللہ حسن زادہ آملی مریض تھے اور تہران کے ایک اسپتال میں ایڈمٹ تھے تو انہوں نے ہاسپیٹل جا کر ان کی عیادت کی تھی۔[26]

حوالہ جات

  1. «آیت الله حسن زاده آملی حکیم، عارف، ادیب و ریاضی دان»، ۱۳۶۳ش، ص۴.
  2. «آیت الله حسن زاده آملی حکیم، عارف، ادیب و ریاضی دان»، ۱۳۶۳ش، ص۴.
  3. «مصاحبہ با آیت ‌الله حسن ‌زاده آملی»، ۱۳۶۶ش، ص۱۹-۲۰.
  4. «مصاحبہ با آیت‌ الله حسن‌ زاده آملی»، ۱۳۶۶ش، ص۲۱.
  5. «مصاحبہ با آیت‌ الله حسن‌ زاده آملی»، ۱۳۶۶ش، ص۲۲.
  6. «مصاحبہ با آیت‌ الله حسن‌ زاده آملی»، ۱۳۶۶ش، ص۲۲.
  7. سوره بقره، آیہ ۳.
  8. «آیت الله حسن زاده آملی حکیم، عارف، ادیب و ریاضی دان»، ۱۳۶۳ش، ص۵.
  9. «مصاحبہ با آیت‌ الله حسن‌ زاده آملی»، ۱۳۶۶ش، ص۲۵.
  10. «مصاحبہ با آیت‌ الله حسن‌ زاده آملی»، ۱۳۶۶ش، ص۲۵.
  11. «آیت الله حسن زاده آملی حکیم، عارف، ادیب و ریاضی دان»، ۱۳۶۳ش، ص۷.
  12. «آیت الله حسن زاده آملی حکیم، عارف، ادیب و ریاضی دان»، ۱۳۶۳ش، ص۷.
  13. «مصاحبہ با استاد حسن زاده آملی»، ۱۳۶۶ش، ص۲۶.
  14. گفت‌وگو با سید ید الله یزدان‌ پناه بہ مناسبت مراسم تجلیل از علامہ حسن‌زاده آملی.
  15. گفت‌ و گو با سید ید الله یزدان‌ پناه بہ مناسبت مراسم تجلیل از علامہ حسن‌زاده آملی.
  16. «آیت الله حسن زاده آملی حکیم، عارف، ادیب و ریاضیدان»، ۱۳۶۳ش، ص۱۲.
  17. «آیت‌الله حسن‌زاده آملی حکیم، عارف، ادیب و ریاضیدان»، ۱۳۶۳ش، ص۱۵.
  18. «آیت الله حسن زاده آملی حکیم، عارف، ادیب و ریاضیدان»، ۱۳۶۳ش، ص۱۲.
  19. حسن ‌زاده آملی، ۱۳۸۰ش، ص۱۳.
  20. «آیت‌الله حسن‌زاده آملی حکیم، عارف، ادیب و ریاضیدان»، ۱۳۶۳ش، ص۱۵.
  21. «آیت‌الله حسن‌زاده آملی حکیم، عارف، ادیب و ریاضیدان»، ۱۳۶۳ش، ص۱۵.
  22. «آیت‌الله حسن‌زاده آملی حکیم، عارف، ادیب و ریاضیدان»، ۱۳۶۳ش، ص۱۵.
  23. «گفتگو با حسن رمضانی»، ۱۳۸۹ش، ص۴۱.
  24. «گفتگو با حسن رمضانی»، ۱۳۸۹ش، ص۴۱.
  25. حسن‌زاده آملی، ۱۳۸۰ش، ص۷.
  26. عیادت رہبر انقلاب از آیت ‌الله حسن ‌زاده آملی.


مآخذ

  • «آیت الله حسن زاده آملی حکیم، عارف، ادیب و ریاضیدان»، گفتگو با آیت‌ الله حسن‌ زاده آملی، کیہان فرہنگی، شماره ۵، مرداد ۱۳۶۳ش
  • «مصاحبہ با آیت‌ الله حسن‌ زاده آملی»، مجلہ حوزه، شماره ۲۱، ۱۳۶۶ش
  • «گفتگو با حسن رمضانی»، مجلہ پنجره، شماره۸۳، ۱۳۸۹ش
  • حسن‌زاده آملی، حسن، انسان در عرف عرفان، تهران، ۱۳۸۰ش
  • «عیادت رہبر انقلاب از آیت‌ الله حسن‌زاده آملی»، پایگاه اطلاع‌ رسانی دفتر آیت‌ الله‌ خامنہ ای، تاریخ بازدید ۱۳۹۶/۱۰/۱۵