عبد الکریم حائری

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
شیخ عبد الکریم حائری
شیخ عبدالکریم حائری 2.jpg
ذاتی معلومات
مکمل نام عبد الکریم حائری یزدی
تاریخ ولادت ۱۲۷۶ ھجری قمری
آبائی شہر مہرجرد، میبد
تاریخ وفات ۱۷ ذی القعدۃ ۱۳۵۵ ق
مدفن حرم حضرت معصومہ (ع) قم
علمی معلومات
اساتذہ سید محمد فشارکی، میرزا محمد تقی شیرازی، میرزا محمد حسن شیرازی، آخوند خراسانی، شیخ فضل اللہ نوری۔
شاگرد امام خمینی، شریعت مداری، سید احمد خوانساری، سید محمد رضا گلپایگانی، محمد علی اراکی۔
تالیفات درر الفوائد، کتاب النکاح، کتاب الرضاع، کتاب المواریث، کتاب الصلوۃ۔
سیاسی-سماجی فعالیت
سماجی تاسیس حوزہ علمیہ قم، زعیم حوزہ علمیہ قم۔

عبد الکریم حائری یزدی (۱۲۷۶۔ ۱۳۵۵ ق) آیت اللہ، موسس اور حاج شیخ کے نام سے معروف شیعہ مراجع تقلید میں سے ہیں۔ حوزہ علمیہ قم کے بانی و موسس اور ۱۳۰۱ سے ۱۳۱۵ ش تک اس کے زعیم رہے ہیں۔

حائری نے ایک طویل مدت تک کربلا و سامرا و نجف اشرف کے حوزات علمیہ میں تعلیم حاصل کی۔ وہ سن ۱۳۳۳ ق مطابق ۱۲۹۳ ش میں ہمیشہ کے لئے ایران لوٹ آئے اور ابتدائ میں حوزہ علمیہ اراک کی مدیریت میں مشغول ہوئے۔ آیت اللہ حائری ۱۳۴۰ ق (۱۳۰۰ ش) میں قم کے علمائ کی دعوت پر قم آ گئے اور حوزہ علمیہ قم کی تشکیل و تاسیس اور اس کی مدیریت کے سبب وہیں قیام پذیر ہو گئے۔

شیخ حائری اپنی زعامت کے زمانہ میں ہر چیز سے زیادہ حوزہ علمیہ کے ثبات اور ترقی و ارتقا کے نظام کے سلسلہ میں فکرمند رہتے تھے۔ حوزہ کی تعلیمی روش میں تبدیلی، ابواب فقہی کا تخصصی کرنا، حوزہ کے طلاب کی سطح علمی کو بلند کرنا، حتی خارجی زبانوں کی تعلیم دینا، خلاصہ یہ کہ محقق و مجتہد تربیت کرنا ان کے اہداف میں شامل تھا۔

شیخ حائری نے خود کو مراجع تقلید کی فہرست میں شامل نہیں کیا اور سید محمد کاظم طباطبایی یزدی (۱۳۳۷ ھ) کی رحلت کے بعد انہوں نے عتبات عالیات کی زیارت پر جانے اور مرجعیت کے منصب کو قبول کرنے سے انکار کر دیا اور ایران میں قیام کرنے کو اپنا فریضہ سمجھا۔ اس کے باوجود قم میں ان کی شہرت میں اضافہ ہونے کے ساتھ ہی بہت سے ایرانیوں حتی دوسرے ممالک کے افراد نے بھی ان کی تقلید کرنا شروع کر دی۔

حائری سیاست سے پرہیز کرتے تھے اور انقلاب مشروطہ کے معاملات میں بھی انہوں نے دوری اختیار کی لیکن اپنے سماجی مقام کے سبب آخر عمر میں سیاست میں حصہ لینے پر مجبور پر انہیں مجبور ہونا پڑا اور ۱۳۱۴ ش میں کشف حجاب کے مسئلہ پر انہوں نے اعتراض کیا اور جب تک زندہ رہے رضا شاہ سے ان کے روابط خراب رہے۔

ان کے بعض شاگرد جن میں امام خمینی، محمد علی اراکی، سید محمد رضا موسوی گلپایگانی، شریعت مداری اور خوانساری شامل ہیں، مرجعیت کے مقام و منصب تک پہنچے۔ شیخ حائری سماجی امور میں بھی فعال تھے۔ ان کے منجملہ عام المنفعہ و رفاہی کاموں میں قم کے سہامیہ ہاسپیٹل کی تاسیس اور فاطمی ہاسپیٹل کی تعمیر کی طرف تشویق کرنا شامل ہے۔

نسب، ولادت، وفات و اولاد

عبد الکریم حائری ۱۲۷۶ ق[1] میں میبد کے علاقہ مہرجرد کے ایک مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد محمد جعفر کو ایک دیندار اور پرہیز گار انسان بتایا گیا ہے۔[2]

ان کے پانچ بچے تھے دو بیٹے جن کے اسماء مرتضی اور مہدی ہیں، اور تین بیٹیاں جن کی شادیاں محمد تویسرکانی، احمد ہمدانی اور سید محمد محقق داماد سے ہوئیں۔[3]

شیخ حائری کی وفات ۱۷ ذی القعدہ ۱۳۵۵ ق (۱۰ بہمن ۱۳۵۵ ش) میں قم میں تقریبا ۱۵ سال قیام کرنے کے بعد ہوئی۔ حکومت کی طرف سے محدودیت ایجاد کئے جانے کے باوجود ان کی جنازہ کی شان کے ساتھ تشییع ہوئی اور آیت اللہ سید صادق قمی نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی اور انہیں حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کے حرم میں مسجد بالای سر میں دفن کیا گیا۔[4]

تعلیم و تحصیل

ایران

شیخ عبد الکریم حائری کے خالو میر ابو جعفر نے ان میں بے پناہ استعداد دیکھی تو وہ انہیں اپنے ساتھ اپنے شہر اردکان لے گئے اور مکتب میں ان کا داخلہ کرایا۔ کچھ ہی عرصہ کے بعد ان کے والد کا انتقال ہو گیا اور وہ اپنی والدہ کے پاس مہرجرد میں رہے۔[5]

کچھ مدت کے بعد وہ یزد گئے اور مدرسہ محمد تقی خان جو مدرسہ خان کے نام سے معروف تھا، میں سکونت اختیار کی اور وہاں سید حسین وامق، سید یحیی بزرگ جو مجتہد یزدی کے نام سے معروف تھے، جیسے علمائ سے ادبیات عرب پڑھی۔[6]

عراق

انہوں نے اپنی تعلیم کو جاری رکھنے کے لئے ۱۲۹۸ ق میں اپنی والدہ کے ہمراہ عراق کا سفر کیا۔ پہلے وہ کربلا گئے اور وہاں تقریبا دو سال تک فاضل اردکانی کے زیر نظر اس سلسلہ کو آگے بڑھایا۔ فقہ و اصول فقہ کے سطوح کے دروس کو وہاں پڑھا۔[7] اس کے بعد انہوں نے اپنے تعلیمی سلسلہ کو آگے اور میرزا محمد حسن شیرازی سے استفادہ کرنے کے لئے سامرا کا رخ کیا۔[8]

سامرا میں عبد الکریم حائری کا دورہ تعلیمی ۱۳۰۰ سے ۱۳۱۲ ق پر محیط ہے جس میں پہلے دو سے تین سال انہوں نے سطوح عالی کے فقہ و اصول کے دروس شیخ فضل اللہ نوری، میرزا ابراہیم محلاتی زیرازی، میرزا مہدی شیرازی جیسے اساتذہ کے محضر میں مکمل کئے۔ اس کے بعد فقہ و اصول کے درس خارج کے لئے سید محمد فشارکی اصفہانی اور میرزا محمد تقی شیرازی اور کچھ مدت تک میرزا محمد حسن شیرازی کے دروس میں شرکت کی[9] اور میرزا حسین نوری کے اجازہ روایت حاصل کیا۔[10]

سید محمد فشارکی اور عبد الکریم حائری نے میرزای بزرگ (متوفی ۱۳۱۲ ق) کے انتقال کے چند ماہ کے بعد سامرا سے نجف اشرف نقل مکان کیا۔[11] حائری نجف اشرف میں سید محمد فشارکی اور آخوند خراسانی[12] کے دروس میں شرکت کیا کرتے تھے اور وہ سید محمد فشارکی کے آخر عمر میں ان کی دیکھ بھال اور مراقبت کیا کرتے تھے۔[13]

ایران واپسی

عبد الکریم حائری سید محمد فشارکی کی رحلت کے بعد ۱۳۱۶ ق میں ایران واپس آ گئے اور سلطان آباد (موجودہ اراک) میں انہوں نے حوزہ درس تشکیل دیا۔[14]

عراق کا دوبارہ سفر

۱۳۲۴ ق میں عبد الکریم حائری حوزہ اراک کی فعالیت میں استقلال نہ ہونے اور انقلاب مشروطہ[15] کی وجہ حالات نا امن ہونے کے سبب نجف اشرف واپس لوٹ گئے[16] اور دوبارہ آخوند خراسانی کے درس میں شریک ہونے لگے اور ان کے علاوہ سید محمد کاظم طباطبایی یزدی درس میں بھی شرکت کرتے رہے۔ البتہ وہ انقلاب مشروطہ کے موافقین و مخالفین کے اختلاف و نزاع سے دور رہنے کی غرض سے کچھ ماہ کے بعد کربلا چلے گئے۔[17]

وہ تقریبا ۸ سال تک کربلا میں رہے اور اسی زمانہ میں وہ حائری کے لقب سے ملقب ہوئے۔ انہوں نے کربلا میں تدریس کرنا شروع کر دی اور مشروطہ کے سلسلہ کی صف آرایی سے محفوظ رہنے اور اس معاملہ میں اپنی بے طرفی ثابت کرنے کی غرض سے ایک کتاب آخوند خراسانی کی اور ایک کتاب سید محمد کاظم طباطبایی یزدی کی تدریس کیا کرتے تھے۔[18]

ایران واپسی

ان کے کربلا میں قیام کے دوران ان سے اراک لوٹ آنے سلسلہ میں کئی بار درخواست کی جاری رہی۔ آخر کار وہ اپریل ۱۳۳۳ ق مطابق ۱۲۹۳ ش[19] میں اراک پلٹ آئے اور آٹھ سال کے قیام کے زمانہ میں انہوں نے وہاں حوزہ چلانے کے ساتھ ساتھ فقہ و اصول کی تدریس بھی جاری رکھی۔

عبد الکریم حائری نے میرزا محمد تقی شیرازی کے خط کے جواب میں جو انہوں نے سید محمد کاظم یزدی طباطبایی (۱۳۳۷ ق۔ ۱۲۹۸ ش) کے انتقال کے بعد انہیں تحریر کیا تھا اور جس میں انہوں نے ان سے نجف اشرف لوٹ آنے اور منصب مرجعیت کے لئے مہیا ہونے کو کہا تھا، ایران میں قیام کو اپنا فریضہ بتایا اور انہوں نے ایران اور اہل ایران کو گمراہی اور انحطاط فکری کے راستے پر گامزن ہونے کے خدشہ اور تشویس کا اظہار کیا۔[20]

حوزہ علمیہ قم کی تاسیس

۱۳۳۷ ق میں عبد الکریم حائری نے امام علی رضا علیہ السلام کی زیارت کے قصد سے مشہد مقدس کا سفر کیا اور راستہ میں کچھ دن قم میں قیام کیا اور اس شہر کے حالات اور حوزہ علمیہ سے متعارف ہوئے۔[21]

ماہ رجب ۱۳۴۰ ق میں انہوں نے ایک بار پھر قم کے بعض علمائ کی دعوت پر اور حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کی زیارت کے قصد سے قم کا سفر کیا۔ وہاں وہ علمائ اور مومنین کے استقبال اور قم میں قیام کرنے کی خواہش سے روبرو ہوئے۔ پہلے تو وہ کشمکش کا شکار ہوئے لیکن پھر بعد میں انہوں نے بعض علمائ خاص طور پر محمد تقی بافقی کے اسرار پر فیصلہ استخارہ پر چھوڑا اور استخارہ کرنے کے بعد انہوں میں قم میں قیام کرنے کا ارادہ کر لیا۔ اور وہ ارادہ قم میں عظیم حوزہ علمیہ کی تاسیس کا سبب بنا اور عبد الکریم حائری کو آیت اللہ اور موسس کا لقب دیا گیا۔[22]

سید محمد تقی خوانساری کے علاوہ جو ان کے ہمراہ قم آئے تھے، ان کے بہت سے شاگرد جن میں سید احمد خوانساری، سید روح اللہ خمینی، سید محمد رضا گلپایگانی اور محمد علی اراکی[23] شامل ہیں، قم منتقل ہو گئے۔

سید ابو الحسن اصفہانی اور میرزا محمد حسین نائینی، جنہوں نے ۱۳۰۲ ش میں عراق سے جلا وطن ہونے کے بعد تقریبا آٹھ ماہ قم میں قیام کیا۔ انہوں نے بھی حوزہ علمیہ قم کے استحکام اور ثبات میں نہایت اہم کردار ادا کیا۔[24]

حوزہ علمیہ قم کی شہرت ہونے اور وہاں علمائ و اساتذہ اور مختلف حوزات کے طلاب اور جدید طلاب کے وارد ہونے کی وجہ طلاب کی تعداد ایک ہزار سے زیادہ ہو گئے۔[25]

عبد الکریم حائری چونکہ شیعوں کے بزرگ حوزات علمیہ سامرا، نجف اور کربلا سے آشنائی رکھتے تھے اور انہیں ان کے مدیریت کے شیوہ اور روش، سابقہ ذمہ داران کی خامی و خوبی کی اطلاع تھی اور وہ اراک کے حوزہ میں اس کا تجربہ حاصل کر چکے تھے، اور وہ ہر چیز سے زیادہ حوزہ کے ثبات اور ارتقائ کے سلسلہ میں فکر اور پلاننگ کرتے تھے۔ حوزہ کی تعلیمی روش میں تبدیلی، ابواب فقہی کا تخصصی کرنا، حوزہ کے طلاب کی سطح علمی کو بلند کرنا، حتی خارجی زبانوں کی تعلیم دینا، خلاصہ یہ کہ محقق و مجتہد تربیت کرنا ان کے اہداف میں شامل تھا۔[26]

مرجعیت

حالانکہ شیخ عبد الکریم حائری نے کبھی بھی خود کو معرض مرجعیت میں قرار نہیں دیا بلکہ انہوں نے حوزہ عراق کے علمی ماحول کو ترک کرکے اس سے فاصلہ اختیار کر لیا تھا۔ ۱۳۳۷ ش سے ۱۳۳۹ ش تک سید محمد کاظم یزدی، شیخ الشریعہ اصفہانی اور محمد تقی شیرازی کے ارتحال کے بعد تک حائری اراک میں مقیم تھے اور بعض افراد جو مرجع تقلید کی تلاش میں تھے انہوں نے ان کی طرف رجوع کیا۔

ان کے قم کی طرف ہجرت اور وہاں سے ان کی شہرت میں اضافہ ہونے کے بعد سے رفتہ رفتہ ان کے مقلدین کی تعداد میں بھی اضافہ ہونے لگا اور یہاں تک کہ بہت سے ایرانی حتی غیر ایرانی اور دوسرے ممالک کے افراد جیسے عراقی و لبنانی ان کی تقلید کرنے لگے۔[27]

شیوہ تدریس

شیخ عبد الکریم حائری حوزہ علمیہ سامرا کے مکتب کی روش اور میرزای شیرازی کی روش سے الہام لیتے ہوئے تدریس کیا کرتے تھے۔ اس روش کے مطابق، کسی مسئلہ کو پیش کرنے کے بعد، اس پر بغیر کسی طرح کا اظہار نظر کئے بغیر، پہلے مختلف نظریات اور ان کے دلائل کا بیان ہوتا پھر استاد شاگردوں سے نظر خواہی کرتا اور ان سے تبادلہ خیال کرنے کے بعد، تمام آرائ و نظریات کی جمع بندی پیش کرتا ہے۔ اس کے بعد اپنا نظریہ پیش کرتا ہے اور آخر میں شاگردوں کو اجازہ ہوتی تھی کہ وہ استاد کے نظریہ پر بحث اور اس پر اعتراض اور تنقید کریں۔

اسی طرح وہ روزانہ اگلے درس کے موضوع کے بارے میں اطلاع دے دیتے تھے، موضوع درس معین کر دیتے تھے تا کہ طلاب اس کا پہلے سے مطالعہ کرکے کلاس میں حاضر ہوں۔ ان کا یہ ماننا تھا کہ اصول فقہ کے مباحث مختصر اور عملی طور پر ذکر کئے جائیں۔ اسی سبب سے انہوں نے اپنی تالیف درر الاصول میں اسی روش پر عمل کیا ہے اور وہ اصول فقہ کا مکمل دورہ چار سال کی مدت میں مکمل کر لیتے تھے۔[28]

اساتذہ

عبد الکریم حائری نے اپنی زندگی میں بڑے نامور اساتذہ سے استفادہ کیا ہے۔ ان کے بعض اساتذہ درج ذیل ہیں:

شاگرد

عبد الکریم حائری کے دروس سے ایسے علمائ کی تربیت ہوئی جن میں سے بعض اپنے دور میں مرجعیت کے مقام تک پہچے ہیں۔ ذیل میں ان کے شاگردوں کا ذکر کیا جا رہا ہے:

اوصاف

خصوصیات و عام المنفعہ کارنامے

عبد الکریم حائری خوش اخلاق، شوخ طبع، معتدل اور ظاہر سازی و ریا کاری سے دور رہنے والے انسان تھے۔ وجوہات شرعیہ کے استعمال میں بےحد محتاط تھے اور ان کی زندگی میں زہد اور سادہ زیستی حاکم تھی۔[32]

وہ طلاب علوم دینی کی وضع زندگی کا خاص خیال رکھتے تھے اور ان کی مشکلات کو حل کرنے کے سلسلہ میں خاص توجہ دیتے تھے۔ کبھی کبھی وہ بذات خود ان کے کمروں میں جاتے تھے اور ان کے درس و مباحثہ کی طرف توجہ کے بارے میں آگاہی حاصل کرتے تھے اور محنتی و پر کار افراد کی تشویق کیا کرتے تھے۔[33]

وہ عوام کے آرام اور آسایش اور ان کی مختلف پریشانیوں کو دور کرنے کا بہت خیال رکھتے تھے۔ ان کے منجملہ عام المنفعہ کاموں میں قم کے سہامیہ اسپتال کی تاسیس اور فاطمی اسپتال کی تاسیس و تعمیر کے سلسلہ میں تشویق شامل ہیں۔[34]

وہ اہل بیت (ع) سے بےحد تعلق خاطر رکھتے تھے۔ جوانی کے ایام میں وہ سامرا میں نوحہ خوانی کرتے تھے۔ انہوں نے ایران میں ایام فاطمیہ دوم (اول سے سوم جمادی الثانی) میں سوگواری کو رواج دیا۔ انہوں نے تعزیہ اور شبیہ خوانی کی جگہ روضہ خوانی کی مجالس کو رواج دیا اور وہ مذہبی مجالس و محافل میں غیر مستند چیزوں کے بیان کرنے سے روکنے کی کوشش کرتے تھے۔[35]

سیاسی میدان میں

بہت سے شواہد موجود ہیں جن پر تکیہ کرتے ہوئے شیخ عبد الکریم حائری کو بنیادی طور پر ایک غیر سیاسی شخصیت قرار دیا جا سکتا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان کا سیاسی مسائل میں دخالت نہ کرنا، بلکہ شدت کے ساتھ اس سے کنارہ کشی اختیار کرنا، وہ بھی اس قدر شدت سے کہ اس چیز نے بعض افراد میں حیرت بلکہ اعتراض کا جزبہ پیدا کر دیا،[36] مصلحت سے زیادہ ان کی طبع خاطر سے تعلق رکھتا تھا۔

ان کا رویہ قم میں وارد ہونے سے پہلے بھی حکومت ایران کے ساتھ نا مرتبط سیاسی مسائل کو لیکر ایسا ہی تھا۔ مثلا ان علمائ کے درمیان جنہوں نے سن 1330 ق کے محرم میں، جب عبد الکریم حائری کربلا میں موجود تھے، غیر ملکی افواج کے قبضہ کے اعتراض میں نجف و کربلا کو ترک کرکے کاظمین کا رخ کیا اور تقربیا تین ماہ وہاں قیام کیا جن میں میرزا محمد تقی شیرازی، شیخ الشریعہ اصفہانی، نائینی، سید ابو الحسن اصفہانی و آقا ضیاء عراقی کا ذکر منابع تاریخی میں ذکر ہوا ہے،[37] لیکن اس فہرست میں حائری شامل نہیں ہیں۔ لہذا انہیں ان کے استاد فشارکی کی طرح ان علمائ میں شمار کرنا چاہیئے جو نہ صرف یہ کہ مسائل سیاسی میں حصہ نہیں لیتے تھے بلکہ سیاسی و جنجالی مسائل سے دور ہی رہتے تھے۔[38]

عبد الکریم حائری کو اپنے سماجی مقام کی وجہ سے آخر عمر میں سیاسی امور میں حصہ لینے پر مجبور ہونا پڑا۔ ان برسوں میں ان کے لئے سب سے اہم چیلینچ رضا شاہ کے ساتھ تعلق نبھانا تھا۔ جس زمانہ میں رضا شاہ فوج کا سالار تھا اس زمانہ میں ان دونوں نے درمیان نسبتا بہتر روابط تھے۔[39] رضا شاہ کے تخت سلطنت پر بیٹھنے سے لیکر کشف حجاب کا مسئلہ پیش آنے سے پہلے تک دونوں کے درمیان روابط کو نہ اچھا کہا جا سکتا ہے نہ ہی برا۔[40] لیکن ۱۳۱۴ ش میں کشف حجاب کے واقعہ کے بعد سے شیخ کے انتقال ۱۳۱۵ ش تک دونوں کے تعلقات خراب رہے۔ کشف حجاب کا واقعہ پیش آنے کے بعد شیخ نے ۱۱ تیر ۱۳۱۴ ش کو رضا شاہ کو ٹیلی گرام کے ذریعہ اس قانون کو خلاف شرع ہونے کا اعلان کیا اور اس سے اسے روکنے کی اپیل کی۔[41] اس کے بعد سے ان دونوں کے درمیان روابط بطور کلی قطع ہو گئے اور حتی شیخ کے پاس آنے جانے والوں پر بھی نظر رکھی جانے لگی۔[42]

البتہ بعض افراد نے ان کے بہت سے سیاسی مسائل اور حکومت معاملات میں ٹکراو سے اجتناب اور دوری کا مہم ترین سبب حوزہ علمیہ قم کے تحفظ کا اہتمام ذکر کیا ہے۔ ان کے نظریات کے مطابق شیخ حائری آگاہی رکھتے ہوئے اور متوجہ ہوئے بھی حکومت سے مربوط معاملات میں وارد نہیں ہوتے تھے۔ چونکہ ان کا ماننا تھا کہ ایسے دور اور حالات میں رضا شاہ پہلوی کے مقابلہ میں موقف اختیار کرنے کا نتیجہ سوائے حوزہ علمیہ قم کی تباہی اور بربادی کے کچھ نہ ہوتا۔ لہذا انہوں نے نہایت دور اندیشی، درایت، برد باری کے ساتھ عمل کرتے ہوئے ایران میں حوزہ بلکہ دین و مذہب کی حیات کو باقی رکھا۔[43]

تالیفات

عبد الکریم حائری کی مہم ترین کتاب درر الفوائد ہے جسے درر الاصول بھی کہا جاتا ہے۔ اس تالیف میں ایک طرف تو ان کے استاد فشارکی کے اصولی ریشہ اور مبانی کا تذکرہ کیا گیا ہے تو دوسری طرف اس میں آخوند خراسانی کے مہم ترین اصولی آرا و نظریات بیان کئے گئے ہیں۔

ان کے اپنے اظہار کے مطابق انہوں نے اس کتاب کی پہلی جلد میں اپنے استاد فشارکی اور دوسری جلد میں آخوند خراسانی کے نظریات سے استفادہ کیا ہے۔[44]

ان کے بعض شاگردوں جیسے میرزا محمود آشتیانی، میرزا محمد ثقفی، محمد علی اراکی و سید محمد رضا گلپایگانی نے ان کی کتاب درر الفوائد پر تعلیقات لکھی ہیں۔ جن میں سے بعض طبع ہو چکی ہیں۔[45]

قم میں قیام کے دوران بیحد مشغول رہنے کے سبب انہیں تالیف کتب کا موقع کم فراہم ہوا۔ اس کے باوجود انہوں نے گرانقدر کتب تالیف کی ہیں جنہیں چار قسموں میں بیان کیا جا سکتا ہے:

تالیفات: ان کی پانچ تالیفات ذکر ہوئی ہیں جن کے اسمائ یہ ہیں: درر الفوائد، کتاب النکاح، کتاب الرضاع، کتاب المواریث اور کتاب الصلوۃ۔[46]

کتب فقہی پر حواشی: جیسے سید محمد کاظم یزدی کی کتاب العروۃ الوثقی اور ملا مہدی نراقی کی تالیف انیس التجار پر حاشیے۔[47]

اپنے اساتذہ کے دروس پر تقریرات لکھنا: اس کے ضمن فقط ان کے استاد فشارکی کے اصول فقہ کے دروس کی تقریرات ذکر ہوئی ہیں۔[48]

ان کے دروس کی تقریرات: ان تقریرات کو ان کے شاگردوں نے تحریر کیا ہے: جیسے رسالۃ الاجتہاد والتقلید، کتاب البیع و کتاب التجارۃ، یہ تینوں کو محمد علی اراکی نے تدوین کیا ہے اور ان کے دروس کی تقریرات کو سید محمد رضا گلپایگانی و میرزا محمود آشتیانی نے تحریر کیا ہے۔[49]

توضیح المسائل اور کتب فتاوی: جیسے ذخیرۃ المعاد، مجمع الاحکام، مجمع المسائل، منتخب الرسائل، وسیلۃ النجات اور مناسک حج بطور مستقل ذکر ہوئی ہیں۔[50]

گوشہ عکس

حوالہ جات

  1. بامداد، ج۲، ص۲۷۵
  2. کریمی جoرمی، ص۱۳ ـ ۱۴
  3. فیاضی، ص۱۱۴ ـ ۱۱۵
  4. حسینی زنجانی، ج۱، ص۱۰۷؛ امینی، مروری...، ص۲۰، ۳۶ ـ ۳۷
  5. کریمی جهرمی، ص۲۰ ـ ۲۱
  6. مرسلوند، ج۳، ص۵۹
  7. کریمی جهرمی، ص۲۳ ـ ۲۴
  8. حائری یزدی، مرتضی، ص۸۰ ـ ۸۲
  9. حائری یزدی، مرتضی، ص۸۷ ـ ۸۸ و ۹۳ ـ ۹۴
  10. حبیب آبادی، ج۶، ص۲۱۱۸
  11. شریف رازی، ج۱، ص۲۸۳ ـ ۲۸۴
  12. استادی، ص۵۱
  13. حائری یزدی، مرتضی، ص۳۹ و ۸۷ ـ ۸۸
  14. استادی، ص۴۴ ـ ۵۱
  15. محقق داماد، مصطفی ص۴۳ ـ ۴۴؛ صدرایی خویی، ص۱۷؛ نیکوبرش، ص۴۶ ـ ۴۷
  16. بامداد، ج۲، ص۲۷۵
  17. کریمی جهرمی، ص۵۵
  18. کریمی جہرمی، ص۵۵ ـ ۵۶
  19. صفوت تبریزی، ص۷۳
  20. آقا بزرگ طهرانی، طبقات...، قسم ۳، ص۱۱۶۴؛ کریمی جهرمی، ص۵۶؛ صدرایی خویی، ص۱۷ ـ ۱۸
  21. شریف رازی، ج۱، ص۲۸۶؛ مرسلوند، ج۳، ص۵۹ ـ ۶۰
  22. آقا بزرگ طهرانی، طبقات...، قسم ۳، ص۱۱۵۹؛ فیض قمی، ج۱، ص۳۳۱ ـ ۳۳۴؛ کریمی جهرمی، ص۵۸ ـ ۵۹
  23. استادی، ص۵۴ ـ ۶۴
  24. آقا بزرگ طهرانی، طبقات...، قسم ۳، ص۱۱۶۰ ـ ۱۱۶۱؛ صفوت تبریزی، ص۷۷
  25. استادی، ص۷۷ ـ ۷۸
  26. حسینی زنجانی، ج۱، ص۱۲۴؛ کریمی جهرمی، ص۴۷؛ مصطفی محقق داماد، ص۶۷ ـ ۶۸، ۸۷ ـ ۸۸، ۹۲
  27. مستوفی، ج۳، ص۶۰۱؛ حائری یزدی، مهدی، ص۱۸، ۷۶
  28. کریمی جهرمی، ص۷۴ ـ ۷۵؛ محقق داماد، علی، ص۵۰، ۵۵
  29. حائری یزدی، ص۳۹-۸۰-۸۲-۸۷
  30. شریف رازی، ج۱، ص۵۹، ۸۷ـ ۸۸
  31. جعفر سعیدی (پژوم)، ۱۳۸۶، ص ۵۰.
  32. کریمی جهرمی، ص۵۲ ـ ۵۴؛ محقق داماد، علی، ص۴۷۴۸
  33. محقق داماد، علی، ص۴۱ ـ ۴۲
  34. روزنامه اطلاعات، ۳۰ و ۳۱ فروردین ۱۳۱۰
  35. کریمی جهرمی، ص۴۸ ـ ۵۰؛ رضوی، ص۱۵۱ ـ ۱۵۴
  36. کریمی جہرمی، ص۶۱ ـ ۶۲؛ حائری، عبدالحسین، ص۱۶۱ ـ ۱۶۲
  37. نظام الدین زاده، ص۱۵۴ ـ ۱۵۵
  38. شکوری، ص۱۱۶ به بعد؛ امینی، اہتمام...، ص۱۹۱
  39. دولت آبادی، ج۴، ص۲۸۹
  40. حائری یزدی، مهدی، ص۶۴
  41. حائری یزدی، مہدی، ص۸۳
  42. حائری یزدی، مہدی، ص۶۵
  43. شریف رازی، ج۱، ص۲۹ ـ ۳۰، ۵۳ ـ ۵۴؛ امینی، اہتمام...، ص۱۹۸
  44. طبسی، ص۶۳
  45. کریمی جهرمی، ص۱۰۳ ـ ۱۰۵
  46. کریمی جهرمی، ص۹۹ ـ ۱۰۱
  47. آقا بزرگ طہرانی، الذریعہ، ج۲، ص۴۵۳ و ج۲۰، ص۱۵ و ج۲۲، ص۴۰۵ ـ ۴۰۶ و ج۲۵، ص۸۷
  48. آقا بزرگ طہرانی، الذریعہ...، ج۴، ص۳۷۸
  49. کریمی جهرمی، ص۱۰۵
  50. آقا بزرگ تہرانی، الذریعہ، ج۲، ص۴۵۳ و ج۲۰، ص۱۵ و ج۲۲، ص۴۰۵ ـ ۴۰۶ و ج۲۵، ص۸۷

منابع

  • آقا بزرگ طہرانی، الذریعہ الی تصانیف الشیعہ، چاپ علی نقی منزوی و احمد منزوی، بیروت، ۱۴۰۳.
  • آقا بزرگ طهرانی، طبقات اعلام الشیعہ، مشہد، ۱۴۰۴.
  • استادی، یاد نامہ حضرت آیت اللّه العظمی اراکی، اراک، ۱۳۷۵ش.
  • امینی، اہتمام آیت اللّه حاج شیخ عبد الکریم حائری در تأسیس و حراست از حوزه علمیہ قم بہ کوشش محمد کاظم شمس، عبد الہادی اشرفی، و جواد آہنگر، قم، بوستان کتاب قم، ۱۳۸۳ش.
  • امینی، مروری بر زندگی آیت اللّه حاج شیخ عبد الکریم حائری یزدی: بنیان گذار حوزه علمیہ قم بہ روایت اسناد، گنجینہ اسناد، سال ۵، دفتر ۳ و ۴.
  • بامداد، شرح حال رجال ایران در قرن ۱۲ و ۱۳ و ۱۴ ہجری، تہران ۱۳۴۷ش.
  • حائری یزدی، مہدی، خاطرات دکتر مهدی حائری یزدی، بہ کوشش حبیب لاجوردی، تہران، ۱۳۸۱ش.
  • حائری، عبد الحسین، مصاحبہ با استاد عبد الحسین حائری، حوزه، سال ۲۱، ش ۵.
  • حائری یزدی، مرتضی، سرّ دلبران: عرفان و توحید ناب در ضمن داستان ها، بہ کوشش رضا استادی، قم، ۱۳۷۷ش.
  • حبیب آبادی، مکارم الآثار در احوال رجال در قرن ۱۳ و ۱۴ ہجری، ج۶، اصفہان، ۱۳۶۴ش.
  • حسینی زنجانی، الکلام یجرّ الکلام، قم، ۱۳۶۸ش.
  • دولت آبادی، حیات یحیی، تہران، ۱۳۶۲ش.
  • رضوی، حاج شیخ عبد الکریم حائری و سامان دادن بہ تبلیغات دینی »، حوزه، سال ۲۱، ش ۵.
  • روزنامه اطلاعات.
  • شکوری، مرجع دور اندیش و صبور: آیت اللّه حائری، مؤسس حوزه علمیہ قم، یاد، ش ۱۷.
  • شریف رازی، گنجینہ دانشمندان، تہران، ۱۳۵۲ـ۱۳۵۴ش.
  • صفوت تبریزی، زندگی نامہ آیت اللّه حاج شیخ عبد الکریم حائری، بہ کوشش علی صدرایی خویی، حوزه، سال ۲۱، ش ۵.
  • صدرایی خویی، آیت اللّه اراکی: یک قرن وارستگی، تہران، ۱۳۸۲ش.
  • طبسی، مصاحبہ با آیت اللّه حاج شیخ محمد رضا طبسی، حوزه، سال ۶، ش ۴.
  • فیاضی، زندگی نامہ و شخصیت اجتماعی ـ سیاسی آیت اللّه العظمی حاج شیخ عبد الکریم حائری، تہران، ۱۳۷۸ش.
  • فیض قمی، کتاب گنجینہ آثار قم، قم، ۱۳۴۹ـ۱۳۵۰ش.
  • کریمی جہرمی، آیت اللّه مؤسّس مرحوم آقای حاج شیخ عبد الکریم حائری، قم، ۱۳۷۲ش.
  • محقق داماد، علی، مصاحبہ با حضرت آیت اللّه حاج سید علی آقا محقق داماد، حوزه، سال ۲۱، ش ۶.
  • محقق داماد، مصطفی، مصاحبہ با حجة الاسلام و المسلمین دکتر سید مصطفی محقق داماد، حوزه، سال ۲۱، ش ۵.
  • مرسلوند، زندگی نامہ رجال و مشاہیر ایران، ج۳، تہران، ۱۳۷۳ش.
  • سعیدی (پژوم)، جعفر، یادگاری ماندگار، تہران: سایہ، ۱۳۸۶.
  • مستوفی، شرح زندگانی من، یا، تاریخ اجتماعی و اداری دوره قاجاریہ، تہران، ۱۳۶۰ش.
  • نظام الدین زاده، ہجوم روس و اقدامات رؤسای دین برای حفظ ایران، بہ کوشش نصراللّه صالحی، تہران، ۱۳۷۷ش.
  • نیکو برش، بررسی عملکرد سیاسی آیت اللّه حاج شیخ عبد الکریم حائری یزدی از سال ۱۳۰۱ تا سال ۱۳۱۵ه ش، تہران، ۱۳۸۱ش.

بیرونی لینک