سید محمد کاظم طباطبایی یزدی

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
سید محمدکاظم طباطبائی یزدی.jpg
کوائف
نام: سید محمد کاظم طباطبایی یزدی
لقب: سید یزدی
وجہ شہرت: مرجع تقلید
پیدائش: 1247 ہجری
مقام پیدائش یزد، ایران
محل زندگی: یزد
مدفن: نجف؛ حرم امام علی
مذہب: شیعہ
اساتذہ: سید محمد باقر خوانساری، سید محمد حسن شیرازی، شیخ مہدی آل کاشف الغطاء۔
شاگرد: سید حسین طباطبائی قمی، شیخ عبد الکریم حائری یزدی، شیخ محمد حسین کاشف الغطاء، محمد تقی بافقی، آقا ضیاء عراقی، آیت اللہ بروجردی۔
قلمی آثار: العروۃ الوثقی، مکاسب شیخ انصاری پر حاشیہ، فرائد الاصول پر حاشیہ وغیرہ۔

سید محمد کاظم طباطبایی یزدی (1247-1337 ھ)، کتاب العروۃ الوثقی کے مصنف اور شیعہ فقہاء میں سے تھے۔ اس وقت کے شیعہ مرجع تقلید سید محمد حسن شیرازی کی وفات کے بعد آپ مرجعیت کے عہدے پر فائز ہوئے۔ آپ نہضت مشروطہ کے مخالفین میں سے تھے اسی بنا پر آپ اور آخوند خراسانی کے درمیان اس حوالے سے اختلاف رہتا تھا۔ اٹل کی جانب سے لیبیا، برطانیہ کی جانب سے عراق اور روس کی جانب سے ایران پر مسلط جنگوں میں آپ نے مسلمانوں پر اپنے وطن کے دفاع کے واجب ہونے کا فتوا دیا۔

زندگی‌ نامہ

سید محمد کاظم سنہ 1247 ہجری یا سنہ 1248 ہجری میں پیدا ہوئے۔[1] آپ طباطبائی خاندان کے سادات میں سے ہیں جن کا نسب سید کمال الدین حسن -جو روارہ میں مدفون ہیں- کے ذریعے امام حسنؑ کے پوتے ابراہیم غمر سے جا ملتا ہے۔[2]

آپ کے والد سید عبد العظیم ایران کے شہر یزد کے کسی گاؤں میں زراعت کے پیشے سے منسلک تھے۔ بعد میں اس گاؤں کا نام بھی آپ ہی کے نام سے معروف ہوا۔ آخر کار آپ بروز سوموار 28 رجب سنہ 1337 ہجری کو بیماری کی وجہ سے اس دنیا سے رخصت کر گئے۔ آپ نجف اشرف، حرم امام علی میں مدفون ہیں۔[3]

آپ نے حاج ملا حسن اور ملا کاظم تبریزی کی بیٹی سے شادی کی، جس کے نتیجے میں آپ کو خدا نے پانچ (5) بیٹے عطا کئے:

  • محمد طباطبایی، جو سنہ 1334 ہجری میں برطانیہ کے غاصبوں کے ہاتھوں شہادت کے درجے پر فائز ہوئے۔
  • محمود، اپنے والد کی زندگی میں ہی فوت کر گئے۔
  • سید احمد
  • سید علی جو اپنے والد کے بعد مرجعیت اور حوزہ علمیہ کی سرپرستی کے عہدے پر فائز ہوئے اور سنہ 1370 ہجری میں وفات پائی۔
  • سید اسداللہ۔

حیات علمی

تعلیم

آپ نے مقدمات تک کی تعلیم یزد میں ہی مدرسہ محسنیہ یا دومنار میں حاصل کی۔ اس کے بعد اعلی تعلیم کیلئے آپ مشہد چلے گئے جہاں آپ نے حوزہ کے سطوح تک اپنی تعلیم مکمل کی۔ دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ آپ نے مروجہ علوم میں ہیئت، نجوم اور ریاضی بھی سیکھتے رہے۔ اس کے بعد اصفہان چلے گئے وہاں آپ نے مدرسہ صدر میں داخلہ لیا اور شیخ محمد باقر نجفی کے دروس میں شرکت کرتے تھے۔ میرزای نایینی، سید اسماعیل صدر، شیخ الشریعہ اصفہانی اور سید مصطفی کاشانی بھی اس زمانے میں محمد باقر نجفی کے دروس میں حاضر ہوتے تھے۔

سید محمد باقر خوانساری جو صاحب روضات الجنات کے نام سے معروف تھے، ان کے بھائی میرزا محمد ہاشم چہارسوقی، ملا محمد جعفر آبادہ‌ای اصفہان میں آپ کے دیگر اساتید میں سے ہیں۔

سنہ 1281 ہجری کو محمد باقر نجفی کی اجازت سے عراق چلے گئے۔ کرمانشاہ کے قریب پہنچے تھے کہ شیخ مرتضی انصاری کی رحلت کی خبر سے مطلع ہوئے یوں آپ کو شیخ انصاری کے دروس میں شرکت کرنے کی توفیق نہیں ہوئی۔ نجف میں آپ مدرسہ صدر میں پڑھتے تھے۔

اساتذہ

  • اصفہان میں:
  • نجف میں:

شاگردان

کہا جاتا ہے کہ آپ کے دروس میں 200 سے 300 علماء شرکت کرتے تھے۔[4]

مرجعیت

آپ سنہ 1312 ہجری قمری میں میرزائے شیرازی کی وفات کے بعد مرجعیت پر پہنچے۔ شیخ محمد طہ کی رحلت کے بعد سنہ 1323 ہجری کو آپ کی مرجعیت کا پیغام مختلف عرب ممالک سمیت ایران، قفقاز اور بر صغیر کے مختلف ملکوں کی طرف بھیجا گیا۔

قلمی آثار

  1. العروۃ الوثقی (کتاب)، فقہ میں
  2. اجتماع الامر و النہی
  3. الاستصحاب
  4. التعادل و التراجیح
  5. رسالۃ فی منجزات المریض
  6. حاشیہ بر مکاسب شایخ انصاری
  7. فقہی موضوعات سے مربوط السؤال و الجواب جسے کاشف الغطاء نے تدوین کیا۔
  8. حجیۃ الظن فی عدد الرکعات و کیفیۃ صلوۃ الاحتیاط
  9. الصحیفۃ الکاظمیۃ، مختلف دعاوں اور مناجات پر مشتمل ہے جسے آپ نے خود انشاء کیا ہے۔
  10. ملحقات العروۃ الوثقی
  11. بستان راز و گلستان نیاز، جو فارسی میں الہی نامہ کے نام سے معروف ہے۔
  12. الکلمات الجامعہ و الحکم النافعہ کلمات قصار با انشای ایشان
  13. فرائد الاصول پر حاشیہ
  14. رسالۃ فی ارث الزوجۃ من الثمن و العقار
  15. اشعار

سماجی خدمات

نجف اشرف میں مدرسہ سید یزدی کا ایک منظر

نجف میں مدرسہ سید کاظم یزدی جو دو منزلوں میں 80 کمروں پر مشمتل ہے یہ مدرسہ سنہ 1327 ہجری قمری کو سنتی معماری کے ساتھ تعمیر کیا گیا۔ اسی طرح آپ نے نجف میں زائرین کیلئے ایک مسافر خانہ یا زائر سرا بھی تعمیر کیا۔

سیاست

سید کاظم یزدی آخوند خراسانی کے ہم عصر تھے لیکن آخوند کے برخلاف آپ کو سیاست سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ البتہ عمر کے آخری سالوں میں آپ نے سیاست میں بھی دخالت دینا شروع کیا اور جب بھی کسی خطرے کا احساس کیا فورا بیانات اور ٹیلگراف وغیرہ کے ذریعے اپنی رائے کا اظہار کرتے رہے جو ایران کے سیاسی معاملات میں متأثر کن ثابت ہوتے تھے۔ مشروطہ کی تحریک کے خاموش ہونے کے بعد آپ نے دوبارہ سیاست سے کنارہ کشی اختیار کی۔[5] سیاست سے دور رہنے کے باوجود بھی جب آپ نے پہلی جنگ عظیم کے موقع پر مسلمانوں پر اپنے وطن کے دفاع کے واجب ہونے کا فتوا دیا اس جہاد میں برطانیہ کے خلاف برسر پیکار رہ کر آپ کا ایک بیٹا بھی شہید ہوا۔[6]

اسلامیہ کمپنی کی حمایت

سنہ 1316 ہجری قمری کو بعض متدین افراد نے اقتصادی معاملات میں بے گانوں کی مداخلت کو روکنے کیلئے اصفہان میں ایک اسلامی کمپنی کی بنیاد رکھی۔ سید جمال الدین واعظ اصفہانی نے اس کمپنی کو کامیاب کرنے کیلئے لباس التقوی کے نام سے ایک رسالہ لکھا جس میں انہوں نے قرآن و حدیث سے تمسک کرتے ہوئے ایرانیوں کو غیر ملکی مصنوعات کے استعمال سے منع کرتے ہوئے اسلامی کمپنی کی حمایت کرنے کو مسلمانوں کا وظیفہ قرار دیا۔

اس رسالے پر آخوند خراسانی، حاج میرزا حسین حاج میرزا خلیل، فاضل شربیانی، میرزا حسین نوری، شریعت اصفہانی، سید اسماعیل صدر اور سید محمد کاظم طباطبائی یزدی جیسے مایہ ناز علماء نے تقریظ لکھی۔ اس کتاب پر اپنی تقریظ میں آپ یوں لکھتے ہیں: ہر ممکن طریقے سے غیر ملکی مصنوعات سے پرہیز کرنا ضروری ہے۔[7]

لیبیا میں اٹلی کی مداخلت کے خلاف فتوا
”اس دور میں جہاں یورپی ممالک جیسے اٹلی طرابلس پر، روس ایران کے شمالی علاقوں پر جبکہ برطانیہ ایران کے جنوبی علاقوں پر حملہ کر کے اسلام کو نابود کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں، تمام مسلمان پر واجب ہے کہ وہ مسلمان ملکوں سے کفار کو پیچھے دھکیلنے کیلئے خود کو تیار کریں اور ان متجاوزین کو نکال باہر کرنے میں جانی اور مالی قربانی سے دریغ نہ کریں۔ کیونکہ یہ کام اہم اسلامی فرائض میں سے ہے تاکہ خدا کے فضل و کرم سے تمام اسلامی ممالک غیر مسلم ممالک کے شر سے محفوظ رہ سکیں۔ سید محمد کاظم طباطبائی …»
علی دوانی، نہضت روحانیون ایران، بنیاد فرہنگی امام رضا علیہ‌السلام، ص ۱۳۱ بہ نقل از آیت اللہ سید ہبۃ الدین شہرستانی، مجلہ العلم، سال دوم، شمارہ ۶

لیبی میں اٹلی کی مداخلت کے خلاف فتوا

سنہ 1329 ہجری کو اٹلی کی جانب سے لیبیا نیز روس اور انگلینڈ کی جانب سے ایران پر کئے جانے والے حملات کے خلاف سید کاظم یزدی نے فتوا صادر کیا۔

انگلینڈ کے خلاف جہاد کا اعلان

پہلی جنگ عظیم میں انگلینڈ کی طرف سے عراق پر قبضہ کرنے کے بعد سید کاظم یزدی، میرزا محمد تقی شیرازی اور شیخ الشریعہ اصفہانی نے انگلینڈ کے خلاف جہاد کا اعلان کیا جس کے نتیجے میں عراق کے علماء کے ساتھ ایران کے بھی بعض علماء نے عراق کے دفاع کیلئے جنگ لڑنا شروع کیا۔ اس جہاد میں شرکت کرنے والے علماء میں آپ کا بیٹا سید محمد طباطبائی، آپ کے بھائی سید محمود طباطبایی، سید مصطفی کاشانی اور ان کا بیٹا سید ابو القاسم کاشانی، سید محمد تقی خوانساری، محمد مہدی خالصی اور ان کا بیٹا محمد خالصی زادہ، سید اسماعیل یزدی، سید محمد سعید حبوبی، سید علی تبریزی، میرزا مہدی خراسانی فرزند آیت‌ اللہ خراسانی، شیخ محمد رضا شیرازی فرزند میرزا محمد تقی شیرازی، سید محسن حکیم اور محمد حسین کاشف الغطا شامل تھے۔ آپ نے اس زمانے میں کوفہ میں موجود اپنے نمائندے کے نام انگلینڈ کے خلاف جہاد کا فتوا صادر کیا۔

کوفے میں اپنے نمائندے کے نام انگلینڈ کے خلاف فتوا
«سید بزرگوار، سیدعلی قزوینی ادام اللّہ توفیقک: مسلمان مملاک پر کفار کے حملے کے خلاف ہمارا فتوای ہر جگہ پھیل چکا ہے۔ دشمن کے نزدیک ہونے کی وجہ سے کام بہت سخت ہو چکا ہے اور مشکلات میں کافی اضافہ ہوا ہے اس بنا پر ہر شخص پر واجب ہے کہ دشمن کو اسلامی ممالک سے پیچھے دھکیلنے میں ہر ممکن کوشش سے دریغ نہ کریں۔ اگر جنگ نہ کر سکتا ہو اور کوئی شرعی غذر رکھتا ہو ان پر واجب ہے کہ مختلف دیہاتوں میں جا کر لوگوں کو جنگ کیلئے آمادہ کریں۔ لہذا آپ پر واجب ہے کہ جو کچھ آپ تک پہنچا ہے اسے دوسروں تک پہنچائیں کیونکہ اسلام کی حفاظت ہر صورت میں ہر شخص پر واجب ہے۔ النصر من اللہ تعالی ان شاء اللّہ تعالی سید محمّد کاظم طباطبائی»
متن عربی این فتوا در مجلہ عربی اضواء چاپ بغداد، سال سوم، ش۔ ۱۰ آمدہ است۔ بہ نقل از دوانی، پیشین، ص ۲۱۴۔

مشروطہ

مشروطہ کی تحریک کے آپ مخالفین میں سے تھے اسی بنا پر آپ پارلیمنٹ کی طرف سے مشروطہ بل پر بغیر کسی شرط و شروط کے دستخط کرنے کے مخالف تھے اور اس کی حمایت کرنے کیلئے آپ نے یہ شرط رکھی کہ مجلس کی اس وقت حمایت کی جائے گی جب اس کے تمام مصوبات شریعت مطابق ہو۔ مشروطہ پر آپ کا تنقیدی نظریہ کسی حد تک شیخ فضل اللہ نوری کے نظریات کے مطابق تھا اسی لئے جب شیخ نے حرم حضرت عبد العظیم میں احتجاج کیا تو آپ نے ان کی مکمل حمایت کا اعلان کیا۔

آخوند خراسانی کے ساتھ رابطہ

تعامل

  • مسیو نوز کی معزولی کی حمایت: ان دو مراجمع عظام نے نوز کی معزولی کی حمایت کے ذریعے پہلی بار سیاست باقاعدہ مداخلت کئے۔ آخوند اور سید یزدی نے جمادی الثانی 1323 ہجری کو بعض تجار کی درخواست کے جواب میں نوز کو ظالم قرار دیتے ہوئے لوگوں کے ساتھ اس کے برتاؤ کو غلط اور ناروا قرار دیا۔[8]
  • اصفہان اسلامک کپمنی کی حمایت: ٹیکسٹائل مصنوعات میں ایرانی عوام کی ضروریات کو پورا کرنے نیز بیرون ملک وابستگی کے خاتمے کیلئے سنہ 1316 ہجری کو اصفہان اسلامک کپمنی کی بیناد رکھی گئی۔ آقا نجفی اصفہانی اور ان کے بھائی آقا نور اللہ نجفی اصفہانی اس کمپنی کے بنیاد گزاروں میں سے تھے۔ علماء نے اس کمپنی کی حمایت اور لوگوں کو ملکی مصنوعات کی خریداری میں ترغیب دیتے کی خاطر بیانات دینا شروع کئے۔ آخوند خراسانی، سید اسماعیل بن سید صدر الدین عاملی، حاج میرزا حسین نوری، حاج میرزا خلیل، سید محمد کاظم یزدی، محمد غروی شربیانی، محمد حسین مامقانی اور شیخ الشریعہ اصفہانی نے اس شرکت کی حمایت کا اعلان کئے۔
  • روس اور انگلینڈ کا ایران میں داخلہ: نہضت مشروطہ میں سید یزدی اور آخوند کا ایک دوسرے کے مد مقابل کھڑے ہونے کے بعد روس کی جانب سے ایران کو دیا جانے والا الٹی میٹم، آذربایحان میں روسی افواج کا داخلہ اور انگینڈ کی فوج کے ایران کے جنوب میں داخل ہونے کے بعد آخوند اپنے مقلدین کے ساتھ مل کر غیر ملکیوں کو ایران سے نکال باہر کرنے کی غرض سے ایران تشریف لے گئے۔ اس واقعے میں نجف میں مقیم علماء نے بھی آخوند کی حمایت کا اعلان کیا۔ شروع میں سید یزدی نے آخوند کا ساتھ نہیں دیا۔ لیکن بعد میں سید نے سیاست میں اپنے موقف میں تبدیلی لاتے ہوئے علماء کے اتحاد میں شامل ہوئے اور غیر ملکی کفار کے ساتھ جہاد اور مغربی ثقافتی یلغار کو روکنے کے وجوب پر فتوے صادر کئے۔
تقابل

سید یزدی اور آخوند خراسانی کی سیاسی زندگی بہت سے دیر شروع ہوئی اور ان دونوں بزرگواروں نے اپنی زندگی کے آخری حصے میں سیاست میں قدم رکھا۔ سیاسی زندگی میں ان دو بزرگواروں کے درمیان پہلا اختلاف نہضت مشروطہ کے معاملے میں سامنے آیا جس کا فائدہ خواستہ یا ناخواستہ وقت کے حکمران محمد علی شاہ کو ہی ہوتا تھا۔ اگرچہ سید یزدی کی سیاسی سرگرمیاں آخوند کی نسبت بہت کم تھی اور ان کی سیاسی سرگرمیاں صرف کچھ تلگراف اور بیانات میں خلاصہ ہوتی تھیں لیکن مرجعیت کے مقام پر فائز ہونے کی وجہ سے ان کی فعالیتیں زیادہ مؤثر واقع ہوتی تھیں۔

آخوند خراسانی علمی اور نظری طور پر مشروطیت اور پارلمانٹیرزم (Parliamentarianism) کے حامی تھے اور آخر عمر تک اس موقف سے دستبردار نہیں ہوئے۔[9] لیکن سید یزدی آزادی، پارلیمنٹ اور ڈیموکریسی جیسے اصطلاحات کو مطرح کرتے ہوئے مشروطہ کے مخالفین کے صف میں شامل ہو گئے۔

نہضت مشروطہ سے پہلے تک عالم سیاست سے دور رہنے کی وجہ سے سیاسی اور سماجی معاملات میں سید یزدی کے سیاسی موقف کا صحیح تجزیہ و تحلیل نہیں کیا جا سکتا۔ مشروطہ سے مربوط قانونی بل پر دستخط نہ کرنے کے ذریعے سید یزدی نے علناً مشروطہ کے حامیوں کی مخالفت کا اظہار کیا۔

جس وقت شیخ فضل اللہ اور ان کے حامی حرم عبد العظیم حسنی میں احتجاج میں مصروف تھے آپ واحد بلند پایہ عالم دین تھے جس نے قاطعانہ ان کی حمایت اور تعاون کیا۔ ملا محمد آملی کو بھیجے گئے تلگراف میں استعمال کئے گئے عبارات آپ کی مشروطہ کے حامیوں سے شدید اختلاف کی نشاندھی کرتی ہیں۔

موجودہ حوادث اور فتنوں میں خاموش رہنے میں زیادہ مصلحت دیکھتے ہوئے ان جیسے امور میں مداخلت کرنے کو اپنے لئے سزاوار نہیں سمجھتا تھا لیکن زندیقوں اور ملحدین کی جانب سے ایران کے علمی اور ثقافتی حلقوں میں پے در پے فضولیات اور کفریات کے پرچار سے بہت زیادہ رنجیدہ خاطر ہوا اور اس بنا پر ان کے روک تھام کو شرعی وظیفہ سمجھتا ہوں۔ مورخہ 22 جمادی الاولی کو اس الہی وظیفے کی انجام دھی کی خاطر نجف اشرف سے ایک ٹلگراف ارسال کیا ہوں جو انشاء الله وہاں پونچ گیا ہوگا۔ امید ہے جناب عالی کی کوششوں سے مذکورہ کفریات کی روک تھام میں مؤثر واقع ہوگا۔ جس سے ایک تو بتدریج بزرگان کے اوپر لگائے گئے الزامات کا خاتمہ ہوگا اور دوسری طرف سے لوگوں کے اعتقادات کی حفاظت کا باعث بنے گا۔ الاحقر محمد کاظم الطباطبایی بہ تاریخ 23 جمادی الاول 1325 ھ۔[10]

سید یزدی ان ٹلگرافوں اور دیگر بیانات کے ذریعے واضح طور پر مشروطیت کو کفر اور الحاد کے مساوی قرار دیتے ہوئے اسے حریت موہومہ اور بعض گمراہ کن اخبارات اور مکاتب کی پیدوار سمجھتے تھے۔

لیکن ان کے مقابلے میں آخوند خراسانی تقریباً اپنی تمام ٹلگرافوں میں مشروطہ کی کامیابی کے سلسلے میں انجام پانے والے ہر اقدام کو امام معصوم کی رکاب میں جہاد کے برابر سمجھتے تھے۔[11]

میدان توپخانہ کے واقعے اور شیخ فضل اللہ نوری کا علی اعلان مشروطہ کے مخالفین کا ساتھ دینے کے بعد آخوند نے شیخ فضل الله کے مفسد فی الارض ہونے کا فتوا دیا۔[12] اور دوسرے ٹلگراف میں انہیں شہر بدر کرنے کا مطالبہ کیا۔[13]

23 جمادی‌الاول سنہ 1326 ہجری قمری کو پارلیمنٹ پر توپوں کے حملے کے بعد استبداد صغیر اور علما کے ساتھ اختلافات کا نیا دور شورع ہوا۔ آخوند خراسانی نے مشروطہ کو باقی رکھنے کیلئے ٹلگراف بھیجنے سے لے کر مالیات دینے کی حرمت اور محمد علی‌ شاہ کے خلاف جہاد کے وجوب کے کے فتوے ذریعے بہت کوشش کی۔[14] دوسری طرف سے سید یزدی نے مشروطہ کے دوام کو روکنے کیلئے اس کی حرمت کا فتوا جاری کیا۔[15]

سید یزدی کے عمدہ حامیوں میں نجف اور کربلا کے اطراف میں آباد شیعہ قبائل شامل تھے جو ہر روز عربوں کی طرز پر ہوسہ کرتے تھے اور مشروطہ کے خلاف اشعار پڑھتے تھے۔[16]

نجف کے شیعوں کے دو گروہوں میں تقسیم -اگرچہ ایک محدود وقت کیلئے ہی کیوں نہ ہو- ہونے کی وجہ سے سید یزدی اور آخوند خراسانی جو غالباً عمومی محافل میں ایک دوسرے کے ساتھ عزت و احترام سے پیش آتے تھے، ایک دوسرے کے مد مقابل کھڑے ہونے لگے۔[17]

عین السلطنہ کے روزنامچے سے معلوم ہوتا ہے کہ علماء نجف کا دو گروہوں میں بٹ جانے کا معاملہ تہران کے محافل و مجالس میں مورد بحث واقع ہوتا تھا۔ اس بارے میں وہ لکھتے ہیں: سید یزدی کو نجف سے نکالنا چاہتے تھے، یہاں تک کہ وہ کوفہ تک گئے لیکن اعراب دوبارہ انہیں نجف واپس لے آئے اور جنگ کیلئے حاضر ہو گئے۔ رات کو آخوند کے گھر میں آگ لگا دیا گیا۔ صبح اس کی ذمہ داری اعراب پر لگا دیا گیا لیکن وہ اس کے منکر تھے اور کہتے تھے کہ خود آخوند کے حامیوں نے ہم پر الزام لگانے کیلئے ایسا کیا ہے۔[18] کہا جاتا ہے کہ سید یزدی کی طرف سے مشروطہ کی مخالفت میں عثمانی حکومت کا عمل دخل بھی تھا کیوں وہ اس بات سے خائف تھے کہ یہ مشروطہ ایران کے بعد کہیں عثمانی حکومت کا دامن بھی نہ جلا دے۔[19]

مشروطہ‌ کے حامیوں کا سید یزدی کے خلاف ہرزہ سرائی

سید یزدی کی نہضت مشروطہ کی مخالفت کی وجہ سے اس نہضت کے حامیوں کے درمیان ان کا کوئی مقام و منزلت نہیں تھا اور مشروطہ کے بعد یہ لوگ آپ کو اچھے الفاظ میں یاد نہیں کرتے تھے۔ ملک‌ زادہ آپ کو ایک بے نظیر ریاکار سمجھتے تھے جس سے سب سے زیادہ مشروطہ اور اس کے حامیوں سے اظہار نفرت کرتے تھے۔[20]اس کا خیال تھا کہ سید یزدی کو عثمانی حکومت کی حمایت حاصل تھی اور محمد علی شاہ کی طرف سے انہیں بہت زیادہ مال و دولت دیا جاتا تھا۔[21] کسروی نیز اس بات کے معتقد تھے کہ نہضت مشروطہ میں آخوند کی مخالفت در حقیقت وہ اپنے مقاصد کے حصول کیلئے کرتے تھے اور اپنی مرجعیت کے سوا وہ کسی اور چیز کے پیچھے نہیں تھے اور ملک و ملت کی بات یہاں صرف دکھانے کیلئے تھی۔[22] مشروطہ کے مخالفین میں آخوند کی بھی یہی حالت تھی۔

حوالہ جات

  1. ریحانۃ الادب، میرزا محمد علی مدرس تبریزی، ج ۶، ص ۳۹۱
  2. اعیان الشیعہ، سید محسن امین، ج ۱۰، ص ۴۳
  3. اعیان الشیعہ، سید محسن امین، ج ۱۰، ص ۴۸
  4. مظفر نامدار، اسوہ فقاہت و سیاست، مندرج در کتاب تأملاتی سیاسی در تاریخ تفکر اسلامی بہ اہتمام موسی نجفی، ج ۵، تہران، پژوہشگاہ علوم انسانی و مطالعات فرہنگی، ص ۲۶
  5. دولت آبادی، ج۴، ص۱۳۔
  6. بہشتی سرشت، ص ۴۰۳
  7. عبد الہادی حائری، تشیع و مشروطیت در ایران، تہران، امیرکبیر، ص۱۳۱، بہ نقل از سیدجمال‌الدین اصفہانی، لباس التقوی، ص ۲-۱۵
  8. شریف کاشانی، ۱۳۶۲، ج۱، ص۲۵۔
  9. کفایی، ۱۳۵۹؛ ۲۷۸ کے بعد
  10. رسائل، اعلامیہ ہا، مکتوبات۔۔۔ و روزنامہ شیخ شہید فضل اللہ نوری، ۱۳۶۲:ج۱، ص۲۵۵
  11. ظہیر الدولہ، ۱۳۶۷، ص ۴۰۳؛ قوچانی، ۱۳۷۸، ص۴۰؛ سیاست نامہ خراسانی، ۱۳۸۵؛ ص ۲۱۰
  12. روزنامہ خورشید، س ۱،ش ۹۰، سوم ذی حجہ ۱۳۲۵؛ تفرشی حسینی، ۱۳۵۱؛ ص ۶۳
  13. سیاست نامہ خراسانی، ۱۳۸۵، ص ۱۸۰
  14. کلانتر باغمیشہ (شرف الدولہ) ص ۲۲۶؛ شریف کاشانی، ج ۱، ص ۲۲۳؛ ملک زادہ، ج۴، ص ۸۳۹؛ حبل المتین کلکتہ، ص ۱۶،ش ۱۷، ۱۴ شوال ۱۳۲۶، ص ۱
  15. حبل المتین کلکتہ، س ۱۶،ش ۲۰، ۵ ذیقعدہ ۱۳۲۶، ص ۶
  16. کسروی، ص ۳۹۹
  17. ناظم الاسلام، ص ۳۱۷
  18. عین السلطنہ، ج ۳، ص ۲۳۲۷
  19. ہمانجا؛ ملک زادہ، ج ۳، ص ۵۱۲
  20. ملک زادہ، ج۳، ص ۵۱۲
  21. ملک زادہ؛ نیز دولت آبادی، ج۳، ص ۳۲
  22. کسروی، ص ۳۹۷


مآخذ

  • سید محسن امین، اعیان الشیعہ، دارالتعارف للمطبوعات، بیروت
  • محمدعلی مدرس تبریزی، ریحانۃ الادب،
  • مظفر نامدار، اسوہ فقاہت و سیاست، منتدرج در کتاب تأملاتی سیاسی در تاریخ تفکر اسلامی بہ اہتمام موسی نجفی، تہران، پژوہش گاہ علوم انسانی و مطالعات فرہنگی
  • عبدالہادی حائری، تشیع و مشروطیت در ایران، تہران، امیر کبیر
  • رسائل، اعلامیہ ہا، مکتوبات... و روزنامہ شیخ شہید فضل اللہ نوری، ۱۳۶۲
  • سیاست نامہ خراسانی، ۱۳۸۵
  • محسن بہشتی سرشت، حسین حاتمی؛ http://www.ensani.ir/fa/content/۱۴۴۹۷۶/default.aspx تقابل و تعامل آخوند ملا محمد کاظم خراسانی و سید محمد کاظم یزدی در جریان انقلاب مشروطہ؛ فصلنامہ علمی پژوہشی علوم انسانی دانشگاہ الزہرا ۱۳۸۷ شمارہ ۷۱