محمد جواد بلاغی نجفی

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
محمد جواد بلاغی
محمد جواد بلاغی.jpg
کوائف
تاریخ ولادت سنہ 1282 ھ
آبائی شہر نجف
تاریخ وفات سنہ 1352 ھ
مدفن حرم امام علی
علمی معلومات
اساتذہ شیخ محمد طہ نجف • حاج آقا رضا همدانی • آخوند ملا محمد کاظم خراسانی • میرزا محمد تقی شیرازی۔
شاگرد سید محمد ہادی میلانی
اجازہ اجتہاد بہ تالیفات =آلاء الرحمن فی تفسیر القرآن • الرلۃ المدرسیۃ یا المدرسۃ السیارۃ • الہدی الی دین المصطفی • التوحید والتثلیت • اعاجیب الاکاذیب و ...
خدمات
سیاسی تحریک آزادی عراق میں شمولیت۔

مُحَمد جَواد بَلاغی نَجَفی (1282۔1352 ھ)، شیعہ علماء میں سے ہیں۔ انہوں نے یہودیوں، عیسائیوں، بہائیوں اور وہابیوں سے مقابلہ میں اسلام و تشیع سے دفاع میں بہت سی کتابیں تالیف کی ہیں۔ انہوں نے تفسیر قرآن و فقہ کے موضوعات پر بھی کتابیں تصنیف کی ہیں۔ بلاغی میرزا محمد تقی شیرازی و آخوند خراسانی کے شاگرد ہیں۔

انہوں نے عیسائی مبلغین سے مقابلہ میں علمی کاوشوں کے علاوہ، انگریزوں کی استعماری حکومت کے خلاف عراقی عوام کی تحریک آزادی میں بھی حصہ لیا۔

سوانح حیات

محمد حسن بن جواد بن طالب بلاغی سنہ 1382 ہجری میں نجف میں پیدا ہوئے۔[1] بلاغی خاندان، نجف کے قدیمی ترین شیعہ علمی خاندانوں میں ہے اور کتاب تنقیح المقال کے مولف عبد اللہ مامقانی اس خاندان کے مشہور افراد میں سے ہیں۔[2]

بلاغی نے اپنی تعلیم کا آغاز نجف میں کیا۔ 24 برس کی عمر میں سنہ 1306 ہجری میں وہ کاظمین چلے گئے اور 6 برس کے بعد وہاں سے واپس آئے۔ سنہ 1326 ہجری میں انہوں نے سامرا مہاجرت کی اور 10 سال تک میرزا محمد تقی شیرازی کی شاگردی اختیار کی۔ اس کے بعد وہ کاظمین گئے اور وہاں دو سال قیام کرنے کے بعد نجف لوٹ آئے۔[3]

بلاغی نے سید موسی کاظمی جزایری کی بیٹی سے شادی کی۔[4] پیر کی رات 22 شعبان سنہ 1352 ہجری میں نجف میں ان کی وفات ہوئی اور انہیں روضہ امیرالمومنینؑ میں دفن کیا گیا۔[5]

تعلیم و کارنامے

بلاغی نجف میں حاج آقا رضا ہمدانی مولف کتاب مصباح الفقیہ و سید محمد ہندی مولف کتاب شوارع الاسلام فی شرح شرائع الاسلام کے فقہ کے درس میں شرکت کیا کرتے تھے۔ اسی طرح سے وہ آخوند خراسانی و شیخ محمد طہ نجف مؤلف کتاب اتقان المقال فی احوال الرجال کے شاگردوں میں سے تھے۔[6] انہوں نے سامرا ہجرت کرنے کے بعد وہاں میرزائے شیرازی سے مرتبط رہے اور محمد تقی شیرازی کے درس فقہ میں شریک ہوا کرتے تھے۔[7]

ان کا شمار میں نجف میں جدید علم کلام کی بناء رکھنے والوں میں کیا گیا ہے۔ انہوں نے عیسائیوں کی تبشیری و تبلیغی فعالیتوں اور اسی طرح سے دین مخالفین کی تبلیغات کے مقابلہ میں فعالیتیں انجام دیں۔ وہ فارسی، عربی، انگریزی و عبرانی زبانوں سے آشنائی رکھتے تھے۔[8] سید محمد ہادی میلانی اور اسی طرح سے نجف و قم[9] کے دیگر مراجع تقلید جیسے سید ابو القاسم خوئی[10] کا شمار ان کے کلامی مکتب کے شاگردوں کے طور پر کیا گیا ہے۔

بلاغی کا شمار سامرا میں قیام کے دوران ان علماء میں سے ہوتا تھا جنہوں نے انگریزی استعمار کے خلاف عراقی عوام کی تحریک آزادی کی جد و جہد میں فعال کردار ادا کیا۔[11] تحریک آزادی کی ان فعالیتوں کا آغاز میرزا محمد تقی شیرازی کے فتوی کے بعد ہوا۔[12] محمد جواد بلاغی کو مجاہد کا لقب بھی دیا گیا ہے۔[13]

آثار و تالیفات

تفصیلی مضمون: آثار محمد جواد بلاغی
مجموعہ آثار علامہ بلاغی

بلاغی نے مختلف موضوعات پر بہت سی کتابیں تالیف کی ہیں، جن میں سے زیادہ تر علم کلام، اسلام و قرآن سے دفاع اور یہودیت، عیسائیت، بہائیت و وہابیت کے عقائد کے رد جیسے موضوعات پر مشتمل ہیں۔ کتاب آلاء الرحمن فی تفسیر القرآن ان کی مشہور ترین تالیف ہے۔[14] ان کی تالیفات و آثار کا مجموعہ موسوعۃ العلامۃ البلاغی کے نام سے مرکز احیائے تراث اسلامی کے بعض محققین کی سعی و کوشش سے ۹ جلدوں میں شائع ہو چکا ہے۔[15] رضا استادی نے ان کی تالیفات میں ۶۰ کتابوں کی فہرست ذکر کی ہے جن میں سے فقط ۲۲ کتابیں شائع ہوئی ہیں۔[16] بعض مطبوعہ کتب کا ذکر ذیل میں کیا جا رہا ہے:

  • آلاء الرحمن فی تفسیر القرآن: اس کتاب کا شمار شیعوں کی قیمتی ترین تفسیر کے طور پر کیا گیا ہے۔ بلاغی نے اس کے مقدمہ میں اعجاز قرآن و عدم تحریف قرآن کریم کا تذکرہ کیا ہے۔ انہوں نے اس کتاب کو اپنی عمر کے آخری ایام میں تالیف کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی تفسیر سورہ نساء کی ۵۷ ویں آیت تک ہو سکی ہے۔[17]
  • التوحید و التثلیث: یہ رسالہ شامی عیسائی کے ایک رسالہ کے جواب میں تحریر کیا گیا ہے جو ۵۶ صفحات پر مشتمل ہے۔[18]
  • اعاجیب الاکاذیب: یہ رسالہ حقانیت دین اسلام کے اثبات و مسیحی مبلغین کے شبہات کے جواب میں تحریر کیا گیا ہے۔[19]
  • انوار الہدی: یہ کتاب اثبات وجود خدا و مادیت گرائی کے رد میں تحریر کی گئی ہے۔ کتاب البلاغ المبین بھی اسی موضوع پر لکھی گئی ہے۔[20]
  • نصائح الہدی و الدین الی من کان مسلما و صار بابیا: یہ رسالہ فرقہ بہائیت کے رد میں تحریر کیا گیا ہے۔[21]
  • دیوان اشعار، مجموعہ اشعار و قصائد: منجملہ قصائد میں ایک قصیدہ وہ ہے جو ابو علی سینا کے قصیدہ عینیہ کے جواب میں نظم کیا گیا ہے۔ اسی طرح سے ایک قصیدہ وہ ہے جو ایک اہل سنت عالم کی طرف سے وجود امام زمانہؑ[22] کے انکار کے رد میں نظم کیا گیا ہے۔ انہوں نے مدح اہل بیتؑ[23] میں بھی اشعار کہے ہیں اور ایک مرثیہ امام حسینؑ[24] کے حال کا بھی نظم کیا ہے جو مندرجہ ذیل شعر سے شروع ہوتا ہے:
یا تریب الخدّ فی رمض الطفوف لیتنی دونک نهبا للسیوف[25]
اے جس کا چہرہ کربلا کی گرم ریت پر خاکی ہوگیا! کاش آپ کی جگہ میں تلوار کی ضربتوں کو اپنے اوپر لے سکتا

حوالہ جات

  1. آقا بزرگ، طبقات اعلام الشیعہ، ۱۴۰۴ق، ج۱، ص۳۲۳.
  2. آقا بزرگ، طبقات اعلام الشیعہ، ۱۴۰۴ق، ج۱، ص۳۲۳.
  3. آقا بزرگ، طبقات اعلام الشیعہ، ۱۴۰۴ق، ج۱، ص۳۲۳.
  4. آقا بزرگ، طبقات اعلام الشیعہ، ۱۴۰۴ق، ج۱، ص۳۲۳.
  5. آقا بزرگ، طبقات اعلام الشیعہ، ۱۴۰۴ق، ج۱، ص۳۲۴.
  6. عقیقی بخشایشی، «شیخ محمد جواد بلاغی»، ص۲۵-۲۶.
  7. عقیقی بخشایشی، «شیخ محمد جواد بلاغی»، ص۲۶.
  8. عقیقی بخشایشی، «شیخ محمد جواد بلاغی»، ص۲۶.
  9. عقیقی بخشایشی، «شیخ محمد جواد بلاغی»، ص۲۷.
  10. یادنامہ حضرت آیت الله العظمی آقای حاج سید ابوالقاسم خویی، ۱۳۷۲ش، ص۵۸ و ۵۹.
  11. بلاغی، اسلام آیین برگزیده، [۱۳۶۰ش]، ص۱۴.
  12. بلاغی، اسلام آیین برگزیده، [۱۳۶۰ش]، ص۱۴.
  13. بلاغی، اسلام آیین برگزیده، [۱۳۶۰ش]، ص۱۴.
  14. انصاری قمی، نجوم امت (آیت الله العظمی علامہ حاج شیخ محمد جواد بلاغی)، ۱۳۷۰ش، ص۵۱.
  15. جمعی از محققان، موسوعة العلامة البلاغی، زیر نظر علی اوسط نطقی و مرکز احیاء آثار اسلامی، قم، پژوهشگاه علوم و فرهنگ اسلامی، ۱۳۸۸ش.
  16. استادی، «گوشہ ہایی از زندگانی مرحوم شیخ محمد جواد بلاغی»، ص۱۱۱-۱۱۸.
  17. استادی، «گوشہ ہایی از زندگانی مرحوم شیخ محمد جواد بلاغی»، ص۱۱۱.
  18. استادی، «گوشہ ہایی از زندگانی مرحوم شیخ محمد جواد بلاغی»، ص۱۱۲.
  19. استادی، «گوشہ ہایی از زندگانی مرحوم شیخ محمد جواد بلاغی»، ص۱۱۲.
  20. استادی، «گوشہ ہایی از زندگانی مرحوم شیخ محمد جواد بلاغی»، ص۱۱۲.
  21. استادی، «گوشہ ہایی از زندگانی مرحوم شیخ محمد جواد بلاغی»، ص۱۱۲.
  22. استادی، «گوشہ ہایی از زندگانی مرحوم شیخ محمد جواد بلاغی»، ص۱۱۸.
  23. آقا بزرگ، طبقات اعلام الشیعہ، ۱۴۰۴ق، ج۱، ص۳۲۴.
  24. گلشن ابرار، ۱۳۸۵ش، ج۲، ص۵۵۴.
  25. بعض محققین، موسوعۃ العلامۃ البلاغی، ۱۳۸۸ش، ج۸، ص۱۰۲.


مآخذ

  • آقا بزرگ طہرانی، طبقات اعلام الشیعہ؛ القسم الاول من الجز الاول (نقباء البشر فی القرن الرابع عشر)، تعلیق عبد العزیز طباطبایی، مشہد، دار المرتضی، الطبعہ الثانیہ، ۱۴۰۴ھ۔
  • استادی، رضا، «گوشہ ہایی از زندگانی مرحوم شیخ محمد جواد بلاغی»، در مجلہ مشکوۃ، ش۲۶۱، پاییز ۱۳۶۱شمسی ہجری۔
  • انصاری قمی، ناصر الدین، نجوم امت: آیت اللہ العظمی علامہ حاج شیخ محمد جواد بلاغی، نور علم، شمارہ ۴۱، ۱۳۷۰شمسی ہجری۔
  • بلاغی نجفی، محمد جواد، اسلام آیین برگزیدہ، ترجمہ سید احمد صفائی، تہران، انتشارات آفاق، ۱۳۶۰شمسی ہجری۔
  • بعض محققین، موسوعۃ علامہ بلاغی، زیر نظر: علی اوسط ناطقی، مرکز احیاء آثار اسلامی، ۱۳۸۸شمسی ہجری۔
  • عقیقی بخشایشی، عبد الرحیم، «شیخ محمد جواد بلاغی: پایہ گذار علم کلام نوین در حوزہ علمیہ نجف»، در ماہنامہ مکتب اسلام، ش۷، مہر ۱۳۶۲شمسی ہجری۔
  • جمعی از پژوہشگران حوزہ علمیہ قم، گلشن ابرار، ج۲، قم، نشر معروف، چاپ دوم، ۱۳۸۵شمسی ہجری۔
  • یادنامہ حضرت آیت اللہ العظمی آقای حاج سید ابو القاسم خویی، ۱۳۷۲ش (بر اساس نسخہ الکترونیک در سایت موسسۃ الخوئی الاسلامیہ).