تاج العلماء

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
تاج العلما
کوائف
مکمل نام سید علی محمد نقوی نصیر آبادی
لقب/کنیت تاج العلما
نسب نقوی نصیر آباد
تاریخ ولادت 1262 ھ۔1846 ء
آبائی شہر لکھنؤ، نصیر آباد
تاریخ وفات 1312 ھ۔ 1894 ء
نامور اقرباء سلطان العلما (والد)، سید دلدار علی نقوی (دادا)
علمی معلومات
اساتذہ محمد علی لكهنوی، محمد عباس شوشتری، احمد علی احمد آبادی، میرزا علی نقی طباطبایی ...
اجازہ روایت از زین العابدین مازندرانی، علی بحر العلوم، راضی نجفی و حسین فاضل اردكانی
خدمات


علی محمد بن محمد بن دلدار علی نقوی نصیر آبادی (1262۔1312 ھ) تاج العلماء کے نام سے معروف بر صغیر ہندوستان کے فقیہ، علم اصول فقہ کے عالم اور کثیر التالیف مصنف تھے۔ انہوں نے علم کلام میں تشیع کے دفاع میں متعدد کتابیں تصنیف کیں اور مذہب کا دفاع کیا۔ تاج العلماء معتدل اخباری تھے اور اس زمانہ میں ہندوستان میں رایج شدت پسند اخباریت پر تنقید کیا کرتے تھے۔ وہ سیاسی و سماجی مسائل اور برطانوی و انگریزی استعمار سے مقابلے میں فعال تھے۔ اسی طرح سے وہ اردو زبان کی تقویت جسے وہ ہندوستان کے مسلمانوں کے اتحاد کا سبب سمجھتے تھے، کی راہ میں اپنی تالیف و ترجمہ کے ذریعہ سعی کرتے تھے۔

ںسب

تاج العلما کی ولادت لکھنو (ریاست یو پی کے موجودہ مرکز) کے قریب نصیر آباد کے علمی و فقہی خاندان می ہوئی۔[1] ان کے والد سلطان العلما بزرگ علما میں سے تھے۔ بعض افراد ان کا شمار اپنے زمانے کے مجتہد و مروج دین کے عنوان سے کرتے ہیں۔ [2]ان کے جد اعلی سید دلدار علی نقوی (غفران مآب) بھی علما میں سے تھے اور نہایت شہرت یافتہ تھے۔

تعلیم

تاج العلما نے ابتدائی تعلیم محمد علی لكهنوی، ملقب بہ قائمة الدین، محمد عباس شوشتری و احمد علی احمد آبادی جیسے بزرگوں سے حاصل کی۔ اس کے بعد انہوں نے اپنے والد سے فقہ و اصول اور دوسرے علوم نقلی و عقلی کی تعلیم حاصل کی۔ ۱۲۸۴ یا ۱۲۸۵ ھ میں والد کے انتقال کے بعد انہوں نے عتبات عالیات کی زیارت اور وہاں سے علما سے کسب فیض کے لئے کربلا کا سفر کیا۔ اس وقت تک وہ علمی اعتبار سے کافی رشد اور متعدد کتابیں تالیف کر چکے تھے، وہاں وہ میرزا علی نقی طباطبائی جیسے بزرگ عالم کی طرف سے مورد احترام قرار پائے۔[3]

اسی طرح سے انہوں نے وہاں زین العابدین مازندرانی، علی بحر العلوم، راضی نجفی و حسین فاضل اردكانی جیسے شیعہ علما کو درک کیا اور ان سے اجازہ روایت اخذ کیا۔[4] ان اجازات کی تاریخ تقریبا ماہ شوال سے ذی القعدہ تک کی ہے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کا قیام وہاں چند ماہ سے بھی کم تھا۔[5] ظاہرا اس سفر کے بعد وہ اپنے وطن واپس آ گئے اور اس کے بعد کسی اور زمانہ میں انہوں نے حج بیت اللہ کے لئے حجاز کا سفر کیا ہے۔[6]

علمی و سماجی شخصیت

ان کی علمی زندگی کے سلسلہ میں منابع میں کوئی خاص معلومات ذکر نہیں ہوئی ہے لیکن مختلف علوم میں ان کی تالیفات سے ہندوستانی معاشرہ میں ان کی علمی و سماجی حیثیت کا پتہ چلتا ہے۔ جبکہ آقا بزرگ تہرانی شیعوں کے نزدیک علم قرآن و تفسیر کے مرتبہ کے ذکر میں ان کا شمار سید مرتضی، امین الاسلام طبرسی، قطب راوندی و فخر الدین طریحی جسیی ہستیوں کے ساتھ کیا ہے۔[7] جس سے ان کے بلند علمی مرتبے کا پتہ چلتا ہے۔ اسی طرح سے انہوں نے اخباریت سے مقابلہ کے لئے اصولی مجتہدین[8] تربیت کئے اور اس سلسلہ میں کئی کتابیں تصنیف کیں۔

انہوں نے بہت سے شاگردوں کی تربیت کے علاوہ جن کا تذکرہ منابع میں ہوا ہے، مدتوں مسجد جامع نواب باغ میں امام جماعت کے فرایض انجام دیئے اور یہ سلسلہ ان کی رحلت تک جاری رہا۔[9]

فکری مسائل کی تبیین

وہ تمام فکری و نظریاتی میدان میں حاضر نظر آتے ہیں۔ مثلا وہ اخباریت کے سلسلہ میں متعدل رویہ اخذ کرکے شدت پسند اخباریوں پر تنقید کرتے ہیں۔ اسی طرح سے وہ سر سید احمد خان کے افکار و نظریات و دین کو ماڈرن بنانے کے مقابلہ میں کئی کتابیں تالیف کرکے اظہار نظر کرتے ہیں۔ دوسرے ادیان کے سلسلہ میں کتابیں تصنیف کرکے وہ ہندوستان کے اسلامی معاشرہ کو ان میں موجود دیگر ادیان کے سماج سے پیش آنے والے خطرات سے محفوظ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

برطانوی استعمار سے مقابلہ

وہ سماجی امور میں بھی فعال تھے۔ برطانوی استعمار کے خلاف وہ غیر مسلحانہ مقابلہ کا نظریہ رکھتے تھے اور اس سلسلہ میں فعالیت انجام دیتے تھے۔

اردو زبان کی ترویج

انیسویں صدی عیسوی کے آخر برسوں میں انگریز ہندوستان میں ہندی زبان کو فروغ دینا چاہتے تھے اور ان کے مقابلے میں مسلمان اردو زبان کو فروغ دینا چاہتے تھے۔[10] اس ماحول میں سر سید احمد خان نے انجمن حمایت اردو اور اس کے بعد جامعہ دفاع اردو اور اس جیسے دیگر جامعہ لکھنو میں معرض وجود میں آئے تا کہ اردو زبان کو فروغ دے سکیں۔[11] تاج العلما نے بھی اس مہم کو انجام دینے کی غرض سے اردو زبان میں تالیف و ترجمہ کا آغاز کیا۔

تصنیف و تالیف

تاج العلما نے فقہ، اصول، کلام و سیاست جیسے مختلف موضوعات پر بہت سی کتابیں تالیف کی ہیں۔

فقہی و اصولی کتب

  • عماد الاجتہاد: یہ کتاب فقہ استدلالی کے موضوع پر ہے اور ان کی اہم ترین فقہی و اصولی تالیف میں شمار ہوتی ہے۔ انہوں نے اس کتاب میں ہندوستان میں رائج اخباری تفکر کا جواب دیا ہے۔ البتہ اس سلسلہ میں انہوں نے معتدل رویہ اختیار کیا ہے۔[12]

فقہ و اصول میں ان کی بعض دیگر تالیفات مندرجہ ذیل ہیں:

  • رسالہ حكمیہ
  • رسالہ در نماز جمعہ
  • رسالہ قصاص
  • مسئلہ ربائیہ
  • مناسک الحج
  • وقایہ الذمار
  • ارشاد الصائمین الی احکام الدین
  • رسالہ ای در حلیت طعـام (ظاهراً اہل کتاب)
  • فصل الخطاب
  • گوهر شب چراغ۔[13]
  • المتن المتین: انہوں نے اس کتاب میں غبار و دخان سے روزہ باطل نہ ہونے کے سلسلہ میں اپنی رائے و حکم کو بیان کیا ہے۔ محمد حسین شہرستانی نے الشرح المبین نامی کتاب میں اس کتاب پر تنقید کی ہے اور تاج العلما نے اپنا دفاع کرتے ہوئے التعلیق الانیق نامی کتاب تحریر کی۔ یہ کتابیں ایک ساتھ ایک مجموعہ میں لکھنو سے سنگی شکل میں طبع ہو چکی ہیں۔[14]

تالیفات علم کلام

ان کی علم کلام کے سلسلہ کی تالیفات کو کئی حصوں مین تقسیم کیا جا سکتا ہے:

دینی نو اندیشی پر تنقید

جو کچھ نظریہ عقل گرائی کے عنوان سے سر سید احمد خان کے نظریہ فطرت و طبیعت انسانی کے عنوان سے ان کے عقائد میں ظاہر ہوا ہے اور جو دینی اصول و مبانی[15] کے سلسلہ میں مکمل طور پر ان کے عقلی افکار سے تعلق رکھتا ہے اور جو نظریہ نیچر و طبیعت کے نام سے شہرت رکھتا ہے، تاج العلما اس کے سخت مخالف تھے اور انہوں نے اس نظریہ کے خلاف دو کتابیں تالیف کیں:

  • حواشی القرآن (مطبوعہ)، سر سید احمد خان کی تفسیر و هو الهدی و الفرقان کے ضمن میں ان کے نظریات پر تنقید۔
  • الاحتجاج العلوی یا ضربت علویہ (فارسی) بہ رد آراء نیچـری۔[16]

اہل کتاب کے رد میں

تاج العلما نے نقد اہل کتاب[17] کے سلسلہ میں ہونے والے جلسات میں حاضری کے علاوہ اس موضوع پر کئی کتابیں بھی تالیف کی ہیں۔ ان میں سے بعض یہ ہیں:

  • احتجاج علوی: دیگر ادیان و فرق کے ساتھ امام علی علیہ السلام کے مناظرات۔
  • رد بر كشیش عماد الدین۔
  • رسالہ فی السم الیهودیہ للنبی۔
  • الصول العلویہ للذب عن الملة المحمدیہ (فارسی)۔
  • عماد الدین ملاذ المؤمنین: مسیحیت کے رد میں۔
  • لحن داوودی: مسیحی مولف کی كتاب نغمۀ طنبوری کے رد میں۔
  • یهودیہ۔[18]
  • اثنا عشریہ فی بشارة الاحمدیہ، (عهدین میں رسول خدا (ص) کے بارے بشارات)۔[19]
  • عدیمة المثالیة فی تجویز التصویر غیر المجسم (جواز ترسیم چہره انبیا[20]

علم کلام کی دیگر کتب

  • الزاد القلیل (طبع ۱۳۲۸ ھ): توحید و عدل جیسے موضوعات پر۔
  • جواب المسائل الزنجباریہ: عصمت حضرت آدم (ع) کے موضوع پر۔
  • طریق النجاة فی بعض المسائل الكلامیہ (فارسی)[21]
  • رسالہ کلامی: سر مونڈھنے کے بارے میں۔[22]

تالیفات اردو

جیسا کہ اشارہ کیا گیا انہوں نے ہندوستان کے مسلمانوں کے درمیان اتحاد کے تقویت کے لئے اردو زبان کی ترویج کی۔ اس مقصد سے انہوں نے اردو میں کئی کتابیں تالیف و ترجمہ کیں۔ ذیل میں ان میں سے بعض کا ذکر کیا جا رہا ہے:

ان کی اردو کی اکثر تصنیفات مواعظ و اخلاق کے موضوعات پر مشتمل ہیں۔

آثار سیاسی

تاج العلما بھی سر سید احمد خان کی طرح انگریزوں سے غیر مسلحانہ مقابلہ کے حامی تھے[25] اور ہندوستان کے مسلمانوں کے سیاسی افکار میں موجود مشکل اور اس ضعف کے سبب کو حس کر رہے تھے۔ ان ہی نظریات کی بنا پر انہوں نے کتابیں تالیف کیں۔ جن کا ذکر ذیل میں کیا جا رہا ہے:

  • اسلامی ریاست کے ضعف کے اسباب اور اس کا علاج۔[26]
  • سیاست مدنی کے عجیب مسائل (سیاست و حکومت کے موضوع پر)۔[27]
  • امام زمان (عج) میں جہاد کے عدم جواز پر رسالہ۔[28]
  • رسالہ جہادیہ (فقہ[29]

دیگر کتب

حوالہ جات

  1. برای اختلاف در تاریخ تولد، نك‌: لکهنوی، ج۲، ص۱۵۳؛ صدرالافاضل، ص۳۶۵؛ آقابزرگ، طبقات، ج۱ (۴)، ص۱۶۲۴؛ حسینی، ج۱، ص۴۱۲
  2. آقابزرگ، الذریعة، ج۴، ص۱۲۰
  3. لکهنوی، ج۲، ص۱۵۳-۱۵۶
  4. لکهنوی، ج۲، ص۱۵۶-۱۵۷؛ صدر الافاضل، ص۳۶۶؛ حسینی، ج۱، ص۴۱۲
  5. حسینی، ج۱، ص۴۱۲
  6. صدر الافاضل، ص۳۶۶
  7. الذریعة، ج۴، ص۲۳۳
  8. نگاه کریں: لکهنوی، ج۲، ص۳۶۷-۳۶۸
  9. لکهنوی، ج۲، ص۱۵۷-۱۵۹
  10. احمد، ص۲۶۰-۲۶۱
  11. زکریا، ۱۳ff؛ هاردی، ص۱۸۹ به بعد
  12. لكهنوی، مدرس، ج۲، ص۱۶۲؛ آقا بزرگ، طبقات، ج۱ (۴)، ص۱۶۲۵
  13. ن ك‌: الذریعہ، ج۵، ص۱۹۱، ج۱۸، ص۲۵۰؛ لکهنوی، ج۲، ص۱۶۱-۱۶۲؛ نیز صدر الافاضل، ص۳۶۸؛ مدرس، ج۱، ص۳۱۹
  14. ن ك‌: لكهنوی، ج۲، ص۱۶۰-۱۶۳؛ صدر الافاضل، ص۳۶۸؛ آقا بزرگ، الذریعہ، ج۱۹، ص۷۱-۷۲
  15. نک: دایرة المعارف بزرگ اسلامی، ج۹، ص۲۴۷؛ اسمیث، ص۱۵
  16. لكهنوی، ج۲، ص۱۶۱؛ آقا بزرگ، الذریعة، ج۱، ص۲۸۳؛ ج۱۵، ص۱۱۶
  17. صدر الافاضل، ص۳۶۶-۳۶۷
  18. لكهنوی، ج۲، ص۱۶۱-۱۶۲؛ صدر الافاضل، ص۳۶۸؛ آقا بزرگ، وہی، ج۱۲، ص۲۳۲، ج۱۵، ص۳۳۱، ج۱۸، ص۲۹۷
  19. مشار، فهرست...، ص۱۸، مؤلفین...، ج۴، ص۵۹۶
  20. لکهنوی، ج۲، ص۱۶۰؛ آقا بزرگ، طبقات، ج۱ (۴)، ص۱۶۲۶
  21. آقابزرگ، الذریعة، ج۱۵، ص۱۶۹-۱۷۰
  22. لكهنوی، ج۲، ص۱۶۲
  23. آقابزرگ، الذریعه، ج۴، ص۱۲۷
  24. نگاه کریں: لکهنوی، ج۲، ص۱۶۰-۱۶۲؛ صدر الافاضل، ص۳۶۸؛ مدرس، ج۱، ص۳۲۰؛ نیز منزوی، ج۴، ص۲۲۳۴
  25. برای چنین موضعی از سوی سیداحمد، نگاه کنید: فخرداعی، ج۱، (ص) «ج»
  26. لكهنوی، ج۲، ص۱۶۲
  27. لكهنوی، ج۲، ص۱۶۲
  28. صدرالافاضل، ص۳۶۸
  29. لكهنوی، ج۲، ص۱۶۱؛ آقا بزرگ، همان، ج۵، ص۲۹۷
  30. ن ک: لکنهوی، ج۲، ص۱۶۰-۱۶۱؛ آقا بزرگ، الذریعخ، ج۲۱، ص۲۸۲؛ مشار، فهرست، ص۲۶۵
  31. نقوی، ج۱، ص۱۰۵؛ لکهنوی، ج۲، ص۱۶۱-۱۶۲؛ آقا بزرگ،‌ وہی، ج۴، ص۱۸، ج۱۰، ص۱۷۳، ج۱۳، ص۲۱۴، ۲۲۴
  32. آقا بزرگ، ج۴، ص۱۰۲؛ ج۱۳، ص۲۵۴؛ ج۲۳، ص۲۷۱
  33. آقا بزرگ، ج۶، ص۲۶۴، ج۱۷، ص۴
  34. آقا بزرگ، ج۷، ص۲۴۵؛ لکهنوی، ج۲، ص۱۶۲


مآخذ

  • آقا بزرگ، الذریعہ
  • آقا بزرگ، طبقات اعلام الشیعہ، بخش نقباء البشر، مشهد، ۱۴۰۴ق
  • حسینی، احمد، تراجم الرجال، قم، ۱۴۱۴ق
  • صدر الافاضل، مرتضی حسین، مطلع انوار، کراچی، ۱۴۰۲ق/۱۹۸۲ ع
  • فخر داعی گیلانی، محمد تقی، مقدمہ بر ترجمہ و تفسیر القرآن سید احمد خان، تهران، علمی
  • لکهنوی، محمد مهدی، نجوم السماء، قم، ۱۳۹۶ق/۱۹۷۶ ع
  • مدرس، محمد علی، ریحانة الادب، تبریز، انتشارات شفق
  • مشار، خان بابا، فهرست کتابهای چاپی عربی، تهران، ۱۳۴۴ش
  • وہی، مؤلفین کتب چاپی فارسی و عربی، تهران، ۱۳۴۲ش
  • منزوی، خطی مشترک
  • نقوی، حسین عارف، فهرست آثار چاپی شیعہ در شبہ قاره، اسلام آباد، مرکز تحقیقات فارسی ایران و پاکستان
  • ہاردی، پ، مسلمانان هند بریتانیا، ترجمۀ حسن لاهوتی، مشهد، ۱۳۶۹ش

Ahmad, A., Studies in Islamic Culture in the Indian Environment, Lahore, ۱۹۷۰.*

A Socio- intellectual History of the Isnā ‘Asharī Shī’īs in India, New Delhi, ۱۹۸۶;Rizvi, A. A.*

Smith, W. C., Modern Islam in India, London, ۱۹۴۶.*

Zakaria, R., introd. Glimpses of Urdu Literature, *Bombay, ۱۹۶۱.*