مندرجات کا رخ کریں

مسودہ:ہمسرداری

ویکی شیعہ سے

ہمسرداری یا ہمسری میاں بیوی کے مابین باہمی تعلقات کے سلسلے میں ایک ایسی مہارت ہے جس کی بنیاد پر زوجین ایک دوسرے کے اختلافات، صلاحیتوں اور حساسیتوں کو پہچان کر ایک دوسرے کی جسمانی، عاطفی، نفسیاتی اور جنسی ضروریات کا خیال رکھتے ہوئے انہیں پورا کرتے ہیں۔

علمائے اسلام نے قرآن اور احادیث کی روشنی میں زوجین میں سے ہر ایک کے لیے کچھ آداب اور شرعی ذمہ داریاں متعین کی ہیں اور انہیں ایک صحت مند، پائیدار اور باوقار ازدواجی زندگی کے لیے ناگزیر قرار دیا ہے۔ ان ذمہ داریوں میں امانت داری، مالی ضروریات کی فراہمی، حسنِ سلوک کے آداب کی پابندی، عاطفی اور جنسی ضروریات کی تکمیل اور گھریلو امور میں باہمی تعاون شامل ہیں۔

اسلام میاں بیوی کے درمیان محبت اور دوستی پر خاص زور دیتا ہے۔ علمائے اسلام اس سلسلے میں رسول اکرمؐ اور ائمہ معصومینؑ کو کامیاب نمونوں کے طور پر پیش کرتے ہیں۔

ہمسرداری کا تصور زوجین کے حقوق اور عائلی اخلاقیات کے عنوان سے بھی زیرِ بحث آیا ہے اور اس موضوع پر متعدد کتابیں بھی تصنیف کی گئی ہیں، جن میں ابراہیم امینی کی ہمسرداری کے موضوع پر لکھی گئی کتاب قابل ذکر ہے۔

مفہوم کی وضاحت

ہمسرداری یا ہمسری زوجین کے باہمی تعلقات کے سلسلے میں ایک ایسی مہارت ہے جس کے ذریعے میاں بیوی ایک دوسرے کی صلاحیتوں، اختلافات اور حساس پہلوؤں کو سمجھ کر ایک دوسرے کی جسمانی، عاطفی (احساساتی)، نفسیاتی اور جنسی ضروریات پوری کرنے کے قابل ہوتے ہیں۔[حوالہ درکار] محققین کے مطابق ہمسرداری کی مہارت سے آگاہی اور اس پر عمل گھریلو سکون، خدا پسند معیارِ زندگی میں بہتری اور زوجین کے مابین اختلافات میں کمی کا باعث بنتا ہے۔[1]

اسلامی مآخذ میں ہمسرداری کا مقام

کہتے ہیں کہ قرآن مجید کی بعض آیات؛ جن میں سورہ نساء کی آیت 19 اور سورہ بقرہ کی آیت 228 شامل ہیں؛ ہمسرداری کی رعایت کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔[2] اسی طرح شیعہ اور اہل سنت کے روائی مآخذ میں رسول اکرمؐ اور ائمۂ معصومینؑ سے زوجین کے باہمی فرائض کے بارے میں متعدد روایات منقول ہیں۔[3] مثال کے طور پر کتاب الکافی میں ہمسرداری سے متعلق روایات کو "شوہر کی جانب سے اپنی بیوی کا احترام"،[4] "شوہر پر بیوی کا حق"[5] اور "بیوی کے ساتھ نرمی اور بردباری"[6] جیسے عنوانات کے تحت جمع کیا گیا ہے۔

قدیم اسلامی آثار میں یہ موضوع عموماً "میاں بیوی کے ایک دوسرے پر حقوق" جیسے عناوین کے تحت بیان ہوا ہے[7] اور بعض اخلاقی کتب میں علمائے اسلام نے اس کے لیے مستقل ابواب قائم کیے ہیں۔[8] مثال کے طور پر طبرسی نے مکارم الاخلاق میں اور سید عبد اللہ شبر نے اپنی الاخلاق نامی کتاب میں اسی عنوان سے ابواب قائم کر کے روایات کی بنیاد پر ہمسرداری سے متعلق ہدایات پیش کی ہیں۔[9]

پندرھویں صدی ہجری میں ہمسرداری کو "عائلی اخلاق" کے عنوان سے خاص توجہ دی گئی[10] اور خاندانی نفسیات (سائیکولوجی) کے مباحث میں بھی صحت مند اور پائیدار ازدواجی زندگی میں اس کے اصولوں اور کردار پر گفتگو کی گئی ہے۔[11]

میاں بیوی کے باہمی حقوق و فرائض

محققین نے قرآن، احادیث اور معصومینؑ کی سیرت کی روشنی میں میاں بیوی کے لیے کچھ ذمہ داریاں بیان کی ہیں۔ عورت کے فرائض میں امانت داری، پاکدامنی کی پابندی[12] اور ازدواجی حقوق کے سلسلے میں شوہر کی اطاعت،[13] جیسے ہم بستری میں تعاون اور بغیر اجازت گھر سے باہر نہ جانا، شامل ہیں۔[14] بعض روایات میں عورت کی اچھی شوہر داری (حُسنِ تبعّل) کو جہاد کے برابر قرار دیا گیا ہے۔[15] شوہر کے فرائض میں خاندان کی دینی اور مالی ضروریات کی فراہمی (نفقہ[16] بیوی اور دیگر اہلِ خانہ کی سرپرستی اور ان کو تحفظ فراہم کرنے جیسی ذمہ داریاں[17] شامل ہیں۔

ہمسرداری کے آداب

ازدواجی زندگی کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے بعض آداب کی سفارش کی گئی ہے؛ جن میں نیک رفتاری،[18] عاطفی اور جنسی ضروریات کا خیال رکھنا،[19] ایک دوسرے کے لیے آرائش و زینت کرنا،[20] گھریلو امور میں باہمی تعاون،[21] باہمی احترام،[22] ایک دوسرے کے ساتھ وفاداری،[23] قناعت پسندی،[24] ایک دوسرے کی لغزشوں سے چشم پوشی اور عیب جوئی سے پرہیز کرنا[25] شامل ہیں۔

محبت اور رحمت

علمائے اسلام کے نزدیک دینِ اسلام میاں بیوی کے درمیان محبت اور رحمت و ہمدردی پر خاص زور دیتا ہے۔[26] رسول اکرمؐ سے روایت ہے کہ جب میاں بیوی ایک دوسرے کو محبت بھری نگاہ سے دیکھتے ہیں یا ایک دوسرے کا ہاتھ تھامتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کو رحمت کی نظر سے دیکھتا ہے اور ان کے گناہوں کو معاف کر دیتا ہے۔[27] اسی طرح آیتِ قرآنی "وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّۃً وَرَحْمَۃً" (اللہ کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ اس نے تمہارے (میاں بیوی کے) درمیان محبت اور رحمت (نرم دلی و ہمدردی) پیدا کر دی) کو ازدواجی زندگی کی مضبوطی میں محبت اور رحمت کی اہمیت کی واضح دلیل قرار دیا جاتا ہے۔[28]

میاں بیوی کے مابین اختلافات کا حل

روایات میں میاں بیوی کو ازدواجی زندگی کے امور میں صبر کرنے اور ایک دوسرے کی لغزشوں پر برداشت اور درگزر کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔[29] آپس میں اختلافات پیدا ہونے کی صورت میں سب سے پہلے خود میاں بیوی کو باہمی گفتگو اور مؤثر رابطے کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اگر اس طریقے سے اختلاف حل نہ ہو تو سورہ نساء کی آیت 35 کے مطابق، عورت اور مرد کے خاندانوں میں سے کسی کو ثالث مقرر کر کے ان کے مابین امور کی اصلاح کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔[30]

تاریخِ اسلام میں ہمسری کے چند نمونے

تمام مسلمان رسولِ اکرمؐ کو ہمسرداری کا پہلا اور سب سے کامیاب نمونہ قرار دیتے ہیں۔ آنحضرتؐ کی سیرت کے بارے میں بیان ہوا ہے کہ آپ اپنی ازواج مطہرات کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آتے تھے اور آپؐ فرمایا کرتے تھے کہ تم میں بہترین لوگ وہ ہیں جو اپنی بیویوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرتے ہیں۔[31] آپؐ گھریلو امور میں اپنی ازواج کی مدد کیا کرتے تھے[32] اور ان کی لغزشوں سے درگزر فرماتے تھے۔[33]

ائمہ معصومینؑ کو بھی ہمسرداری کے کامیاب نمونوں کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ ائمہؑ نے گھریلو زندگی کے تمام پہلوؤں پر توجہ دی، خواہ وہ میاں بیوی کے درمیان وفاداری اور محبت کا مسئلہ ہو یا گھریلو زندگی میں ان کے کردار اور ذمہ داریوں کی بات ہو یا اولاد کی تربیت کا معاملہ۔[34]

بعض محققین نے بعض علماکی ازدواجی زندگی کو بھی اسلام میں ہمسرداری کے کامیاب نمونوں میں شمار کیا ہے۔[35]

ایران کے ذرائع ابلاغ میں ہمسرداری سے متعلق پروگرامز

اسلامی جمہوریہ ایران میں گھریلو زندگی اور ہمسرداری کی مہارتوں کی تعلیم کے لیے ٹیلی ویژن اور ریڈیو پر مختلف نوعیت کے پروگرامز نشر کیے جاتے ہیں۔ ان میں "عائلی اخلاق" نامی ٹی وی پروگرام شامل ہے جسے سید علی اکبر موسوی حسینی نے سنہ 1980ء اور 1990ء کی دہائی میں ایران ٹی وی چینل 3 پر پیش کیا۔[36] اسی طرح سلامت نامی ٹی وی چینل پر "زن و شوہر کے درمیان صحیح تعلقات اور ہمسرداری کی مہارتیں" کے عنوان سے پروگرام نشر ہوا[37] نیز "ریڈیونما سلامت" پر "میرا شریکِ حیات" نامی پروگرام پیش کیا گیا۔[38]

مونوگرافی

ہمسرداری کا اسلامی نقطۂ نظر کے موضوع پر مستقل طور پر لکھی جانے والی بعض اہم فارسی کتب درج ذیل ہیں:

  • کتاب "ہمسرداری"، تصنیف؛ ابراہیم امینی۔ اس کتاب میں قرآن اور روایات کی روشنی میں زوجین کے آداب اور فرائض بیان کیے گئے ہیں۔[39] ایران میں یہ کتاب سنہ 2023ء تک 41 مرتبہ شائع ہوچکی ہے۔
  • کتاب "سیرۂ ہمسرداریِ ائمۂ معصومینؑ"، تصنیف؛ ید اللہ مقدسی۔ یہ کتاب 508 صفحات پر مشتمل ہے اور "پژوہشگاہ علوم و فرہنگ اسلامی" سے شائع ہوئی ہے۔[40]
  • کتاب "آیینِ ہمسرداری اور اسلام میں زندگی کے آداب"، تصنیف؛ سید محمد حسینی بہارانچی۔ یہ کتاب 256 صفحات پر مشتمل ہے اور قرآن، روایات اور سیرۂ معصومینؑ کی روشنی میں ہمسرداری کے آداب پر بحث کرتی ہے۔[41]

حوالہ جات

  1. امینی، ہمسرداری، 1389شمسی، ص10.
  2. سورہ نساء، آیہ 19؛ سورہ بقرہ، آیہ 228؛ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1374شمسی، ج2، ص156 و ج3، ص320؛ محمدی ری‌شہری، تحکیم خانوادہ از نگاہ قرآن و حدیث، 1389شمسی، ص383.
  3. ملاحظہ کیجیے: علامہ مجلسی، بحار الانوار، 1403ھ، ج103، ص228؛ نوری، مستدرک الوسائل، ج14، ص249-250؛ ابی‌داوود، سنن ابی‌داوود، المکتبۃ العصریۃ، ج2، ص244-245.
  4. کلینی، الکافی، 1407ھ، ج5، ص509.
  5. کلینی، الکافی، 1407ھ، ج5، ص510.
  6. کلینی، الکافی، 1407ھ، ج5، ص513.
  7. ملاحظہ کیجیے: غزالی، احیاء العلوم، دار الکتاب العربی، ج4، ص133-147؛ شبر، الاخلاق، 1429ھ، ج1، ص299
  8. ملاحظہ کجیے: غزالی، احیاء العلوم، دار الکتاب العربی، ج4، ص133-147؛ شبر، الاخلاق، 1429ھ، ج1، ص299
  9. طبرسی، مکارم الاخلاق، 1370شمسی، ص213؛ شبر، الاخلاق، 1429ھ، ج1، ص299.
  10. ملاحظہ کیجیے: امینی، ہمسرداری، 1389شمسی، ص11؛ جمعی از نویسندگان، اخلاق خانوادہ، 1391شمسی، ص15-17.
  11. ملکی، روانشناسی خانوادہ، 1395شمسی، ص12 و 15.
  12. طباطبایی، المیزان، 1393ھ، ج4، ص344؛ محمدی ری‌شہری، تحکیم خانوادہ از نگاہ قرآن و حدیث، 1389شمسی، ص407؛ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1374شمسی، ج3، ص371.
  13. فاخری، اخلاق خانوادہ، 1378شمسی، ج2، ص117.
  14. مکارم شیرازی، احکام بانوان، 1386شمسی، ص175.
  15. کلینی، الکافی، 1407ھ، ج5، ص507.
  16. محمدی ری‌شہری، تحکیم خانوادہ از نگاہ قرآن و حدیث، 1389شمسی، ص398.
  17. طباطبایی، المیزان، 1393ھ، ج4، ص215.
  18. شیخ صدوق، عیون اخبار الرضا، منشورات جہان، ج2، ص38؛ محمدی ری‌شہری، تحکیم خانوادہ از نگاہ قرآن و حدیث، 1389شمسی، ص382.
  19. محمدی ری‌شہری، تحکیم خانوادہ از نگاہ قرآن و حدیث، 1389شمسی، ص386-391.
  20. پایندہ، نہج الفصاحۃ، دنیای دانش، ص226؛ عسکری، «سیرہ پیشوایان در رفتار با ہمسر»، ص76.
  21. محمدی ری‌شہری، تحکیم خانوادہ از نگاہ قرآن و حدیث، 1389شمسی، ص392-394.
  22. محمدی ری‌شہری، تحکیم خانوادہ از نگاہ قرآن و حدیث، 1389شمسی، ص394-396.
  23. امینی، ہمسرداری، 1389شمسی، ص152-153.
  24. محمدی ری‌شہری، تحکیم خانوادہ از نگاہ قرآن و حدیث، 1389شمسی، ص397.
  25. امینی، ہمسرداری، 1389شمسی، ص113-116؛ محمدی ری‌شہری، تحکیم خانوادہ از نگاہ قرآن و حدیث، 1389شمسی، ص397.
  26. محمدی ری‌شہری، تحکیم خانوادہ از نگاہ قرآن و حدیث، 1389شمسی، ص380-381.
  27. محمدی ری‌شہری، تحکیم خانوادہ از نگاہ قرآن و حدیث، 1389شمسی، ص381.
  28. کاشانی، منہج الصادقین، تہران، ج7، ص170.
  29. محمدی ری‌شہری، تحکیم خانوادہ از نگاہ قرآن و حدیث، 1389شمسی، ص237-240؛ حسینی بہارانچی، آیین ہمسرداری و آداب زندگی در اسلام، 1385شمسی، ص118.
  30. طباطبایی، المیزان، 1393ھ، ج4، ص346.
  31. ملاحضہ کیجیے: پایندہ، نہج‌الفصاحۃ، ص472.
  32. ہندی، کنز العمال، 1401ھ، ج16، ص408؛ محمدی ری‌شہری، تحکیم خانوادہ از نگاہ قرآن و حدیث، 1389شمسی، ص220.
  33. عابدینی، «شیوہ ہمسرداری پیامبر(ص) بہ گزارش قرآن»، ص177.
  34. مقدسی، سیرہ ہمسرداری امامان معصوم(ع)، 1401شمسی، ص13-14؛ کریمی‌نیا و دیگران، «بررسی شیوہ رفتاری ائمہ(ع) در زندگی مشترک»، ص204-207.
  35. ملاحظہ کیجیے: آزاد، «شیوہ‌ہای ہمسرداری ہمسران علماء»، ص25-26.
  36. «برپایی مراسم تشییع حجت‌الاسلام والمسلمین حسینی»، سایت خبرگزاری ایسنا.
  37. «روابط صحیح بین زن و شوہر و مہارت ہای ہمسرداری»، سایت شبکہ سلامت.
  38. «ہمسر من»، سایت رادیونما-سلامت.
  39. امینی، ہمسرداری، 1389شمسی، ص11.
  40. مقدسی، سیرہ ہمسرداری امامان معصوم(ع)، 1401شمسی، ص14.
  41. حسینی بہارانچی، آیین ہمسرداری و آداب زندگی در اسلام، 1385شمسی، ص13.

مآخذ

  • قرآن کریم۔
  • ابی‌داوود، سلیمان بن اشعث، سنن ابی‌داوود، بیروت، المکتبۃ العصریۃ، بی‌تا۔
  • امینی، ابراہیم، ہمسرداری، قم، بوستان کتاب، 1389ہجری شمسی۔
  • پایندہ، ابوالقاسم، نہج الفصاحۃ، قم، انتشارات دنیای دانش، بی‌تا۔
  • جمعی از نویسندگان، اخلاق خانوادہ، قم، دفتر نشر معارف، 1391ہجری شمسی۔
  • حسینی بہارانچی، سید محمد، آیین ہمسرداری و آداب زندگی در اسلام، قم، نشر عطر عترت، 1385ہجری شمسی۔
  • «روابط صحیح بین زن و شوہر و مہارت ہای ہمسرداری»، سایت شبکہ سلامت، تاریخ درج مطلب: 19 مرداد 1402ش، تاریخ بازدید: 21 آبان 1404ہجری شمسی۔
  • عسکری، اسلام‌پور، «سیرہ پیشوایان در رفتار با ہمسر»، نشریہ فرہنگ کوثر، شمارہ 59، پاییز 1383ہجری شمسی۔
  • علامہ مجلسی، محمدباقر، بحار الانوار، بیروت، دار الوفاء، 1403ھ۔
  • شبر، سید عبداللہ، الاخلاق، کربلا، مکتبۃ العتبۃ الحسینیۃ المقدسۃ، 1429ھ۔
  • شیخ صدوق، محمد بن علی، عیون اخبار الرضا، قم، منشورات جہان، بی‌تا۔
  • طباطبایی، سید محمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن، بیروت، مؤسسۃ الأعلمی للمطبوعات، 1393ھ۔
  • طبرسی، حسن بن فضل، مکارم الاخلاق، قم، الشریف الرضی، 1370ہجری شمسی۔
  • عابدینی، احمد، «شیوہ ہمسرداری پیامبر(ص) بہ گزارش قرآن»، نشریہ بینات، شمارہ 52، زمستان 1385ہجری شمسی۔
  • غزالی، ابوحامد، احیاء علوم الدین، بیروت، دار الکتاب العربی، بی‌تا۔
  • کریمی‌نیا و دیگران، «بررسی شیوہ رفتاری ائمہ(ع) در زندگی مشترک»، مجلہ پیشرفت‌ہای نوین در روانشناسی، علوم تربیتی و آموزش و پرورش، شمارہ 44، بہمن 1400ہجری شمسی۔
  • کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، تصحیح علی‌اکبر غفاری و محمد آخوندی، تہران، دار الکتب الاسلامیۃ، 1407ھ۔
  • متقی ہندی، علی بن حسام‌الدین، کنز العمال فی سنن الاقوال و الاعمال، بیروت، دار الکتب العلمیۃ، 1419ھ۔
  • محمدی ری‌شہری، محمد، تحکیم خانوادہ از نگاہ قرآن و حدیث، قم، انتشارات دار الحدیث، چاپ دوم، 1389ہجری شمسی۔
  • مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران، دار الکتب الاسلامیۃ، 1374ہجری شمسی۔
  • مکارم شیرازی، ناصر، احکام بانوان، قم، مدرسۃ الامام علی بن ابی‌طالب(ع)، 1386ہجری شمسی۔
  • مکارم شیرازی، ناصر، شیوہ ہمسری در خانوادہ، قم، انتشارات نسل جوان، 1381ہجری شمسی۔
  • ملکی، حسن، روانشناسی خانوادہ، تہران، انتشارات آوای نور، 1395ہجری شمسی۔
  • مقدسی، یداللہ، سیرہ ہمسرداری امامان معصوم(ع)، قم، پژوہشگاہ فرہنگ و علوم اسلامی، 1401ہجری شمسی۔
  • نوری، میرزاحسین، مستدرک الوسائل، قم، مؤسسہ آل البیت(ع)، 1408ھ۔
  • «ہمسر من»، سایت رادیونما-سلامت، تاریخ درج مطلب: 27 اردیبہشت 1404شمسی، تاریخ بازدید: 21 آبان 1404ہجری شمسی۔