مسودہ:فقہ حکومتی
فقہ حکومتی (فقہ الحکومۃ) فقہ فردی (جو صرف ایک شخص کے فعل سے تعلق رکھتا ہے) کے مقابل ایک ایسا جامع اور ہمہ گیر فقہی زاویۂ نظر ہے جس میں فقیہ تمام فقہی احکام کو مکلف افراد کی صرف انفرادی زندگی کے نظم و نسق کے لیے نہیں، بلکہ دینی حکومت کی ضروریات پوری کرنے اور پورے معاشرے کے نظم و نسق کو چلانے کے مقصد سے استنباط کرتا ہے۔ اس بنا پر فقہ حکومتی کا دائرہ فقہ سیاسی کے برعکس، جو خاص طور پر سیاست و اقتدار سے متعلق مسائل کا جائزہ لیتی ہے، صرف سیاسی موضوعات تک محدود نہیں رہتا بلکہ فقہ کے تمام ابواب کو اپنے اندر سمو لیتا ہے۔
فقہ حکومتی کی اس نوعیت کا نقطۂ نظر فقہِ فردی کے مقابل میں قرار پاتا ہے۔ فقہِ فردی بنیادی طور پر ایک مسلمان فرد کے شرعی فرائض متعین کرتی ہے، جبکہ معاشرے کی اجتماعی شناخت اور اجتماعی تقاضوں پر نسبتاً کم توجہ دیتی ہے۔ شیعہ فقہ میں عصرِ غیبت کے طویل دور میں، شیعہ اقلیت میں ہونے اور فقہاء کے تقیہ کی حالت میں زندگی گزارنے جیسے اسباب کی وجہ سے یہی رجحان غالب رہا۔ تاہم عصرِ حاضر میں، خصوصاً ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد، امام خمینی اور سید علی حسینی خامنہ ای کی فکری بنیاد پر شیعہ فقہ میں حکومتی نقطۂ نظر کو فروغ ملا۔ کہا جاتا ہے کہ فقہ حکومتی کی ضرورت اس نظریے سے پیدا ہوتی ہے کہ فقہ اور حکومت کے مابین گہرا اور وسیع تعلق پایا جاتا ہے۔ اسی لیے اس طرزِ فکر کو فقہاء کی اجتماعی و سماجی قیادت اور عصرِ غیبت میں دینی حکومت کے قیام کے لیے ناگزیر قرار دیا گیا ہے۔
محققین نے فقہ حکومتی کی متعدد نمایاں خصوصیات بیان کی ہیں، جن میں اجتہاد میں زمان و مکان کے تقاضوں کو ملحوظ رکھنا، فقہ اور شریعت کو ایک جامع نظام کے طور پر دیکھنا، مقاصدِ شریعت اور احکام کے مصالح و علل پر خصوصی توجہ دینا، عدل کو بنیادی معیار قرار دینا، نئے پیش آنے والے مسائل میں غیر ضروری فقہی احتیاط سے اجتناب کرنا اور حکومتی احکام کی عملی افادیت پر زور دینا وغیرہ شامل ہیں۔ اسی طرح فقہ حکومتی کی بنیادی اساسوں میں شریعت کی جامعیت اور ابدیت، دین اور سیاست کا باہمی امتزاج، انسانی سعادت کے لیے حکومت کی ضرورت، امامت اور ولایت کی اہمیت اور فقہی احکام کو شہریوں کے لیے لازمی قوانین کی صورت دینے کا امکان جیسے عناصر بھی شامل ہیں۔
شرعی دلائل سے احکام اخذ کرنے کا انداز مختلف ہونا، بعض مواقع پر اسلامی حکومت کے تحفظ کو بعض شرعی احکام پر مقدم سمجھا جانا اور معاشرے کے نظم و نسق میں احکام کے عملی اثرات اور افادیت کی طرف خاص توجہ فقہ حکومتی کے اہم نتائج میں شمار کیا جاتا ہے۔
معنی و مفہوم
"تحجر کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص اسلام اور فقہِ اسلام کی بنیاد پر معاشرہ تعمیر کرنا چاہتا ہو، وہ صرف احکام کے ظاہری پہلو پر اکتفا کرے اور اسلامی احکام و معارف کی اس فطری وسعت کو، جہاں اس کی گنجائش موجود ہے، نہ سمجھ سکے اور ایک ملت، ایک نظام اور ایک ملک کی ضروریات کے مطابق ان کا حل اور رہنمائی فراہم نہ کر سکے۔ اگر ایسے سیاسی نظام کی قیادت، جو اسلام کی بنیاد پر قائم ہو یا آئندہ قائم ہونے والا ہو، اسی قسم کی ذہنیت کے حامل افراد کے ہاتھ میں ہو، تو یقیناً اسلام بدنام ہوگا اور اسلامی معارف و احکام کا لامحدود سرچشمہ معاشرے کی صحیح رہنمائی نہیں کر سکے گا۔ امام خمینی اس آفت سے محفوظ تھے۔ چونکہ شیعہ فقہاء اور خود شیعہ معاشرہ طویل عرصے تک اسلامی دنیا میں اقتدار اور حکومت سے محروم رہا، اس لیے شیعہ فقہ ایک غیر حکومتی اور فردی فقہ کی صورت اختیار کر گئی تھی۔ امامِ راحل نے شیعہ فقہ کو اسی فردی دائرے سے نکال کر فقہ حکومتی کی سمت گامزن کیا۔"[1]
فقہ حکومتی سے مراد فقہی احکام کے ایک جامع اور ہمہ گیر تصور کا نام ہے، نہ کہ فقہ کے کسی ایک محدود حصے کا۔ فقہ کے اس جامع اور ہمہ گیر نقطۂ نظر کے مطابق فقیہ شرعی احکام کو دینی حکومت کی ضروریات پوری کرنے کے مقصد سے دینی متون سے احکام استنباط و استخراج کرتا ہے۔[2] اس بنیاد پر فقیہ جب شرعی احکام کو ان کے منابع سے اخذ کرتا ہے تو وہ صرف حکومت کی ضروریات کو نہیں دیکھتا، بلکہ مومنین اور مکلف افراد کی انفرادی ضروریات کو بھی معاشرے اور حکومت کی مجموعی ضروریات اور حالات کے تناظر میں پیش نظر رکھتا ہے؛[3] اسی لیے کہا جاتا ہے کہ فقہ حکومتی صرف سیاسی مباحث تک محدود نہیں بلکہ فقہ کے تمام ابواب پر محیط ہے۔[4]
فقہ حکومتی کو معاشرے میں فقہاء کے مؤثر اجتماعی کردار اور قیادت کے ساتھ لازم و ملزوم سمجھا جاتا ہے؛[5] اسی وجہ سے اسے عصرِ غیبت میں شیعہ حکومت کے قیام اور اس کے استحکام کے لیے موزوں فقہی نقطۂ نظر قرار دیا جاتا ہے۔ اس نظریے کے مطابق فقہاء جب دینی نظام کی رہنمائی کرتے ہوئے فقہی مسائل کا استنباط کرتے ہیں تو وہ شیعہ حکومت کے سیاسی تقاضوں اور معاشرے کی بہتر انتظامی ضروریات کو بھی پیشِ نظر رکھتے ہیں۔[6]
فقہ حکومتی اور فقہ فردی کے مابین فرق
فقہ حکومتی کو فقہ فردی کے مقابل قرار دیا جاتا ہے۔ فقہِ فردی میں فقیہ بنیادی طور پر ایک مسلمان فرد کے انفرادی شرعی فرائض بیان کرتا ہے، جبکہ فقہ حکومتی میں شرعی احکام کے استنباط کے وقت معاشرے کے اجتماعی پہلو اور اس کے عمومی مصالح کو بھی پیشِ نظر رکھا جاتا ہے۔[7]
کہتے ہیں کہ ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی سے پہلے عصرِ غیبت کے پورے دور میں شیعہ فقہ پر فقہِ فردی کا غلبہ تھا۔ اس دور میں فقہی مسائل عموماً ان سوالات کے جواب میں مرتب ہوتے تھے جو ایک مسلمان کی انفرادی دینی زندگی سے متعلق ہوتے تھے۔[8]
محققین کے مطابق اس طرزِ فکر کے غالب رہنے کی کئی وجوہات تھیں، جن میں شیعوں کا اقلیت میں ہونا، ظالم حکمرانوں کے خوف کی وجہ سے فقہاء کا اس سلسلے میں تقیہ اختیار کرنا، کسی آزاد ملک میں مذہبِ تشیع کو سرکاری حیثیت حاصل نہ ہونا، حوزہ ہائے علمیہ میں دین اور سیاست کی جدائی (سیکولرزم) کے نظریے کا فروغ اور فقہاء سے حکومتی مسائل کے بارے میں سوالات نہ کیے جانا شامل ہیں۔[9]
فقہ میں فردی نقطۂ نظر سے حکومتی نقطۂ نظر کی طرف یہ تبدیلی زیادہ تر انقلاب اسلامی ایران کے بعد معاصر فقہاء، خصوصاً امام خمینی[10] اور سید علی حسینی خامنہ ای[11] کی اجتہادی تحقیقات کا نتیجہ سمجھی جاتی ہے؛ چنانچہ امام خمینی کے نزدیک فقہ کی بنیادی حقیقت ہی حکومت اور معاشرے کی رہنمائی ہے، اسی لیے انہوں نے شیعہ فقہ اور حکومت کے درمیان گہرا تعلق قائم کیا۔[12] یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسلامی انقلاب کے بعد وجود میں آنے والا نظام ولایتِ فقیہ فقہ کے حکومتی نقطۂ نظر سے مکمل ہم آہنگی رکھتا ہے۔[13]
فقہ حکومتی اور فقہ سیاسی کے مابین فرق
فقہ حکومتی کو فقہ سیاسی سے بھی ممتاز قرار دیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ فقہ سیاسی، فقہ کا ایک تخصصی شعبہ ہے جو صرف سیاست، اقتدار، حکومت اور سیاسی طرزِ عمل سے متعلق شرعی احکام پر بحث کرتا ہے اور غیر سیاسی مسائل کو اپنے دائرۂ بحث میں شامل نہیں کرتا۔ اس کے برعکس فقہ حکومتی فقہ کا کوئی الگ باب یا شعبہ نہیں، بلکہ ایک جامع طرزِ فکر اور منہج ہے، جس کے تحت فقہ کے تمام ابواب، خواہ وہ سیاسی ہوں یا غیر سیاسی، دینی حکومت کے قیام، استحکام اور معاشرے کے نظم و نسق کے تناظر میں استنباط کیے جاتے ہیں۔[14]
فقہ سیاسی کے بارے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کا وجود دینی حکومت کے قیام پر موقوف نہیں ہے۔ چنانچہ عصرِ غیبت کے ہر دور میں، خواہ فقہاء کے پاس حکومت ہو یا نہ ہو، سیاسی فقہ کے مسائل کا استنباط کیا جا سکتا ہے۔[15]
مقام و اہمیت
فقیہ اور سیاسی علوم کے استاد عباس علی عمید زنجانی کے مطابق اگر فقہ اور حکومت کے درمیان گہرے اور ہمہ گیر تعلق کو تسلیم کیا جائے تو فقہ حکومتی کے نقطۂ نظر کو اختیار کرنا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ اس صورت میں فقہ کی ذمہ داری صرف انسان کی اخروی سعادت تک محدود نہیں رہتی، بلکہ دنیاوی امور کی رہنمائی اور معاشرے کی سرپرستی بھی اس کے دائرۂ کار میں شامل ہو جاتی ہے۔[16] اسی بنا پر کہا گیا ہے کہ اگر فقہ اور حکومت کے درمیان ایک محدود تعلق کا نظریہ بھی اختیار کیا جائے تو فقہ حکومتی کا تصور ہی باقی نہیں رہتا اور اس کی اہمیت سب پر عیاں ہوجاتی ہے۔[17]
علم فقہ کے محققین نے فقہ فردی سے فقہ حکومتی کی طرف رجوع کی متعدد وجوہات بیان کی ہیں، جن میں جدید دور میں معاشرے کو درپیش مسائل اور موضوعات کا مسلسل بدلنا،[18] حکومتی اور انفرادی مسائل کے درمیان بنیادی فرق اور یہ حقیقت کہ فقہ فردی حکومتی مسائل کے احکام بیان کرنے میں پوری طرح مؤثر نہیں ہے، شامل ہیں۔[19] اسی طرح معاشرے کے عمومی مصالح کا تحفظ بھی فقہ کے حکومتی نقطۂ نظر کو اختیار کرنے کی ایک اہم دلیل قرار دیا گیا ہے۔[20]
اسلامی تہذیب کی تشکیل اور اسلامی معاشروں کے لیے حکومت کا ایک نیا نمونہ پیش کرنا بھی فقہ حکومتی کی اہمیت کے اسباب میں شمار کیا جاتا ہے۔[21] اس نقطۂ نظر کے مطابق سوشلزم اور لبرل ازم اسلامی معاشروں میں مکمل طور پر قابلِ نفاذ نہیں ہیں، لہٰذا ان معاشروں کے لیے ایسے حکومتی نظام کی تشکیل ضروری ہے جس کی نظری اور عملی بنیاد فقہ حکومتی پر استوار ہو، تاکہ دینی نظام مؤثر اور کارآمد انداز میں معاشرے کی رہنمائی کرسکے۔[22]
خصوصیات اور نمایاں اوصاف
علم فقہ کے محققین نے فقہ حکومتی کی متعدد خصوصیات اور امتیازات بیان کیے ہیں۔ ان میں اجتہاد میں زمان و مکان کے تقاضوں کو بنیادی اہمیت دینا، فقہ اور شریعت کو ایک مربوط نظام کے طور پر دیکھنا، مقاصدِ شریعت اور احکام کے مصالح و علل پر توجہ دینا، عدالت کو مرکزی حیثیت دینا اور حکومتی احکام کی عملی افادیت کو پیشِ نظر رکھنا جیسی خصوصیات شامل ہیں۔[23]
اجتہاد میں زمان و مکان کی اہمیت
فقہ حکومتی کا ایک بنیادی عنصر یہ ہے کہ اجتہاد اور فقاہت میں زمان و مکان کے تقاضوں کو بنیادی حیثیت دی جاتی ہے۔[24] امام خمینی کے نزدیک خصوصاً حکومتی مسائل میں زمان اور مکان اجتہاد کے دو فیصلہ کن عناصر ہیں۔ ان کے مطابق معاشرے کے سیاسی، سماجی اور معاشی حالات میں تبدیلی آنے سے بعض اوقات ایک ہی مسئلے کا حکم بھی بدل سکتا ہے؛[25] مثال کے طور پر بعض حالات میں دشمن کو اسلحہ فروخت کرنے کی اجازت، یا ذخیرہ اندوزی کی گئی اشیاء کو عوام کے استحصال کی صورت میں فروخت کرنے کا حکم، اسی اصول کی مثالیں ہیں۔[26]
فقہ اور شریعت کو ایک مربوط نظام کے طور پر دیکھنا
فقہ حکومتی کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ احکامِ شرعیہ کے استنباط کے وقت شریعت کے مختلف اجزاء کے باہمی ربط اور نظام کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔ اس کے برعکس اگر فقہ کو صرف جزوی اور محدود زاویے سے دیکھا جائے تو بعض اوقات کسی ایک حکم کا ایسا اطلاق ہوسکتا ہے جو معاشرے کے قانونی اور سیاسی نظام میں خلل اور بگاڑ پیدا کر دے۔[27]
مقاصدِ شریعت اور احکام کے مصالح پر توجہ
محققین کے مطابق شریعت اسلامیہ کی تشریع کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ انسانی مصالح کا تحفظ ہو اور مفاسد سے بچاؤ ممکن ہو۔ اگر فقیہ استنباطِ احکام کے وقت ان مصالح اور مفاسد کو نظر انداز کر دے تو احکام اپنی روح، تاثیر اور عملی افادیت کھو بیٹھتے ہیں اور ان کے درمیان ہم آہنگی بھی باقی نہیں رہتی۔ اسی لیے محققین کا کہنا ہے کہ فقہ حکومتی کا مقاصدِ شریعت اور احکام کے مصالح سے گہرا تعلق ہے، اور انہی مقاصد کو پیشِ نظر رکھنے سے یہ فقہی نقطۂ نظر زیادہ مؤثر اور کارآمد ثابت ہوتا ہے۔[28]
حکومتی احکام کی عملی افادیت
فقہ حکومتی کے تحت صادر ہونے والے احکام کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہونی چاہیے کہ وہ نہ صرف نظمِ عامہ اور اجتماعی مصالح کے لیے نقصان دہ نہ ہو بلکہ شہری زندگی کو آسان بنانے اور معاشرے کے بہتر انتظام میں بھی مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے؛[29] اسی بنا پر بعض محققین کا کہنا ہے کہ فقہ حکومتی میں غیر ضروری احتیاطی فتاویٰ سے حتی الامکان اجتناب کیا جانا چاہیے، یا ان کی تعداد بہت محدود ہونی چاہیے، تاکہ عوام غیر معمولی دشواری میں مبتلا نہ ہوں۔،[30] اسی طرح ان کے نزدیک بیمہ، ٹیکس، سائبر اسپیس اور دیگر نئے پیش آنے والے مسائل میں بلا ضرورت ممانعت اور حرمت کا رویہ اختیار نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ ایسا طرزِ عمل لوگوں کو دین اور دینی حکومت سے دور کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔[31]
مبانی اور بنیادیں
کہتے ہیں کہ فقہ حکومتی کے نقطۂ نظر کو اختیار کرنا صرف فقہی مباحث کا نتیجہ نہیں، بلکہ فقہ سے باہر کے علوم، خصوصاً علم کلام وغیرہ میں تحقیق اور غور و فکر کا ثمرہ بھی ہے۔ یعنی فقیہ علم کلام اور دیگر متعلقہ علوم کے مطالعے کے ذریعے اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ فقہ کو حکومتی زاویۂ نظر سے سمجھنا ضروری ہے۔[32] علم فقہ کے محققین نے فقہ حکومتی کی متعدد بنیادی اساسیں بیان کی ہیں، جن میں شریعتِ اسلام کی جامعیت اور ابدیت پر ایمان، حکومت کے تمام شعبوں کی رہنمائی کی صلاحیت، دین اور سیاست کے باہمی امتزاج، انسانی انفرادی اور اجتماعی سعادت کے لیے حکومت کی ضرورت، اسلام کے اجتماعی پہلو کو تسلیم کرنا، امامت اور حکومت کی بنیادی اہمیت، رسول اکرمؐ کے منصبِ ولایت و حکومت فائز ہونے پر اعتقاد، استنباطِ احکام میں زمان، حالات اور مقاصدِ شریعت کو پیشِ نظر رکھنا، حکومتی احکام کی عملی افادیت، ان احکام کو لازمی قوانین کی صورت دینا اور ارتقاء پسند اور متحرک اجتہاد؛ شامل ہیں۔[33]
شریعتِ اسلام کی جامعیت اور ابدیت
فقہ حکومتی کی پہلی بنیاد شریعتِ اسلام کی جامعیت اور ابدیت کو قرار دیا گیا ہے۔[34] بعبارت دیگر اسلام میں ایسی جامع تعلیمات موجود ہیں جو انسان کی دنیاوی اور اخروی سعادت کو یقینی بنانے کے لیے کافی ہیں اور انسانی زندگی کا کوئی شعبہ شریعت کی رہنمائی سے باہر نہیں۔[35] اسی بنیاد پر کہا گیا ہے کہ علم فقہ؛ حکومت سے متعلق تمام انسانی ضروریات کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے، عصرِ غیبت میں حکومت معطل نہیں ہوتی اور جامع الشرائط فقیہ امام معصومؑ کے نائب کی حیثیت سے ان ذمہ داریوں کو انجام دے سکتا ہے جو اجتماعی زندگی میں معصومؑ کے منصب سے متعلق تھیں۔[36]
دین اور سیاست کا باہمی امتزاج
فقہ حکومتی کی اہم ترین بنیادوں میں سے ایک دین اور سیاست کا باہمی تعلق ہے۔[37] اس نظریے کے حق میں یہ دلائل پیش کیے جاتے ہیں کہ حکومت کی اصل مشروعیت اللہ تعالیٰ سے حاصل ہوتی ہے،[38] اسلام ظلم، فساد اور استبداد کے خاتمے کے لیے واضح تعلیمات رکھتا ہے،[39] اور دینی متون میں حکومت کے قیام اور اس کے نظم و نسق کے لیے رہنمائی موجود ہے۔[40] انہی دلائل کی بنا پر دینی محققین؛ دین اور سیاست کے باہمی امتزاج پر زور دیتے ہیں۔[41] اس نظریے کے مطابق جب فقہ اور حکومت کے تعلق کو جامع انداز میں تسلیم کیا جائے تو فقہ کا فہم و ادراک اور استنباط بھی حکومتی نقطۂ نظر سے ہونا چاہیے اور اس کے عملی نفاذ کے لیے حکومتی اداروں اور ریاستی نظام کی ضرورت پیش آتی ہے۔[42]
انسانی سعادت کے لیے حکومت کی ضرورت
فقہ حکومتی کی ایک اور بنیادی اساس یہ ہے کہ معاشرے کی اجتماعی ضروریات پوری کرنے، بے نظمی اور انتشار سے بچانے اور سماجی نظم قائم رکھنے کے لیے حکومت ایک ناگزیر امر ہے۔[43] اس بنیاد کے مطابق حکومت انسان کی دنیاوی اور اخروی سعادت میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے ایسے قوانین کی ضرورت ہوتی ہے جو فقہ سے اخذ کیے جائیں۔[44]
اسلام کے اجتماعی پہلو کو تسلیم کرنا
فقہی محققین یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ آیا شارعِ مقدس نے احکام صرف الگ الگ افراد کے لیے مقرر کیے ہیں، یا معاشرے کی اجتماعی حیثیت کو بھی مد نظر رکھا ہے؟ فقہ حکومتی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اسلامی احکام کی ایک بڑی تعداد پورے معاشرے کو مد نظر رکھ کر تشریع ہوئی ہے،[45] بلکہ بعض اہلِ علم کے نزدیک شریعت کی اکثر تعلیمات کا تعلق اجتماعی امور سے ہے؛[46] لہٰذا اسلام کے اجتماعی پہلو کو سامنے رکھتے ہوئے احکام کا استنباط اس انداز سے ہونا چاہیے کہ وہ ایک منظم سماجی اور حکومتی نظام میں قابلِ عمل ہوں۔[47]
امامت اور حکومت کی اہمیت
لوگوں کو حدودِ الٰہی کی پایمالی سے روکنا، معاشرے کا تحفظ کرنا اور دینی احکام نافذ کرنا ان اہم دلائل میں شمار کیے جاتے ہیں جن کی بنیاد پر اسلامی معاشرے میں امام کی ضرورت بیان کی جاتی ہے؛ فقہ حکومتی کے نظریہ پردازوں کے مطابق صرف قوانین بنا دینا کافی نہیں، بلکہ ان کا نفاذ بھی ضروری ہے اور اسلامی معاشرے میں یہ ذمہ داری امام کے سپرد کی گئی ہے۔ ان کے نزدیک اگر معاشرے میں امام موجود نہ ہو تو انسان کی دنیاوی اور اخروی سعادت مکمل طور پر حاصل نہیں ہوسکتی؛ اسی بنا پر جس طرح اللہ تعالیٰ نے رسول اکرمؐ کو اسلامی احکام نافذ کرنے کے لیے منصبِ حکومت اور ولایت عطا فرمایا، اسی طرح آپؐ کے بعد ائمہ معصومینؑ کو اس منصب پر مقرر کیا اور ائمۂ اہلِ بیتؑ کے بعد عصرِ غیبت میں یہ ذمہ داری جامع الشرائط فقہاء کے سپرد ہوتی ہے۔[48]
فقہی احکام کو قانونی شکل دینا
فقہ حکومتی کی ایک اہم بنیاد یہ بھی ہے کہ شرعی احکام کو قابلِ نفاذ قانونی شکل دی جائے۔ اس نظریے کے مطابق فقہ حکومتی کا مخاطب صرف شرعی مکلف نہیں بلکہ پورا معاشرہ اور اس کے شہری ہوتے ہیں۔ دوسری طرف حکومتیں اپنے نظم و نسق کو لازمی قوانین کے ذریعے نافذ کرتی ہیں، اس لیے فقہ حکومتی کا تقاضا ہے کہ فقہی احکام کو ایسی قانونی صورت دی جائے جو تمام شہریوں کے لیے قابلِ نفاذ اور لازمی ہو۔[49]
نتائج و اثرات
فقہی تحقیقات میں فقہ حکومتی کے نقطۂ نظر کے چند اہم نتائج اور اثرات بیان کیے گئے ہیں، جن میں درج ذیل امور نمایاں ہیں:
- شرعی دلائل سے احکام کے استنباط میں فرق: فقہ حکومتی کا ایک اہم نتیجہ یہ ہے کہ قرآن و سنت نبوی سے احکام اخذ کرنے کا طریقۂ کار بعض اوقات فقہِ فردی سے مختلف ہو جاتا ہے۔ مثال کے طور پر، فقہِ فردی میں خمس کو امامؑ اور سادات کا ذاتی حق سمجھا جاتا ہے، جسے فقیہ شرعی طور پر مقررہ مصارف میں خرچ کرتا ہے۔ لیکن فقہ حکومتی کے نقطۂ نظر کے مطابق خمس کا تعلق امامؑ کے منصبِ امامت اور اسلامی حکومت سے ہے، لہٰذا اسے اسلامی معاشرے کے انتظام، ریاستی ضروریات اور حکومتی اخراجات کی تکمیل کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔[50]
- بعض مواقع پر اسلامی حکومت کے تحفظ کو احکام اوّلیہ پر مقدم قرار دینا: فقہ حکومتی کے مطابق اسلامی حکومت کا تحفظ اسلام کے بنیادی احکام میں نہایت اہم حیثیت رکھتا ہے۔ چنانچہ اگر کسی موقع پر حکومت کے تحفظ اور بعض احکامِ اوّلیہ کے درمیان تعارض پیدا ہو جائے تو حکومت کے تحفظ کو مقدم رکھا جائے گا اور وہ احکام جو اس مقصد سے متعارض ہوں، عارضی طور پر نافذ نہیں کیے جائیں گے۔[51]
- احکامِ شرعی کی عملی افادیت اور نفاذ پر توجہ: فقہ حکومتی میں فقیہ صرف شرعی حکم کے استنباط پر اکتفا نہیں کرتا، بلکہ اس بات کو بھی پیشِ نظر رکھتا ہے کہ اس حکم کے عملی نتائج کیا ہوں گے اور وہ معاشرے میں کس حد تک مؤثر اور قابلِ نفاذ ہوگا؛ اس کے برعکس فقہِ فردی میں فقہاء کی بنیادی توجہ اس امر پر ہوتی ہے کہ استنباط کیا گیا حکم شرعی دلائل کی بنیاد پر صحیح اور معتبر ہو، جبکہ اس کے سماجی نتائج اور عملی اثرات ان کی بنیادی بحث کا حصہ نہیں ہوتے۔[52]
حوالہ جات
- ↑ خامنہای، «بیانات در مراسم بیست و دومین سالگرد رحلت امام خمینی»(امام خمینی کی بائیسویں برسی کے اجتماع میں سید علی خامنہ ای کے خطاب سے ماخوذ)۔
- ↑ خامنہای، «پیام بہ جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم بہ مناسبت تشکیل شورای سیاستگذاری حوزہ»، Khamenai.ir؛ مہریزی، «فقہ حکومتی»، ص141-142؛ نوایی، فقہ و اجتہاد حکومتی، 1399شمسی، ص290-291؛ مشکانی، درآمدی بر فلسفہ فقہ حکومتی، 1399شمسی، ص84۔
- ↑ طالبی طادی، فقہ حکومتی، 1397شمسی، ص40؛ ضیائیفر، «رویکرد حکومتی در فقہ»، ص10؛ ذوالفقاری و سیدیان، «فقہ حکومتی؛ چیستی، چرایی، چگونگی»، ص52۔
- ↑ منتظری، دراسات فی ولایۃ الفقیہ، 1409ق، ج1، ص15 و 21؛ ایزدہی، فقہ سیاسی امام خمینی، 1390شمسی، ص10-37؛ ایزدہی و صدیق، «ماہیت و ویژگیہای فقہ حکومتی»، ص9۔
- ↑ ایزدہی و صدیق، «ماہیت و ویژگیہای فقہ حکومتی»، ص8-9۔
- ↑ ایزدہی و صدیق، «ماہیت و ویژگیہای فقہ حکومتی»، ص8-9۔
- ↑ مہریزی، «فقہ حکومتی»، ص141-142۔
- ↑ ایزدہی و صدیق، «ماہیت و ویژگیہای فقہ حکومتی»، ص7۔
- ↑ غلامی و میراحمدی، «فقہ فردی و فقہ حکومتی بایستہہا و کاستیہا»، ص88-97؛ ایزدہی، امام خمینی و ارتقای جایگاہ فقہ حکومتی»، ص58۔
- ↑ خراسانی، «روششناسی فقہ حکومتی در سپہر اندیشہ فقہی-سیاسی امام خمینی»، ص48؛ ایزدہی، «امام خمینی و نگرش حکومتی بہ فقہ»، ص116۔
- ↑ مشکانی، «پارادایم فقہ حکومتی با محوریت دیدگاہہای آیتاللہ العظمی خامنہای»، ص54۔
- ↑ امام خمینی، صحیفہ امام، 1378شمسی، ج21، ص289۔
- ↑ حسنلو و محمودی، «جایگاہ فقہ حکومتی؛ اہمیت و ضرورت توجہ بہ آن در تمدن نوین اسلامی»، ص20۔
- ↑ ضیائیفر، «رویکرد حکومتی در فقہ»، ص10-11؛ مہریزی، «فقہ حکومتی»، ص141-142۔
- ↑ ایزدہی و صدیق، «ماہیت و ویژگیہای فقہ حکومتی»، ص11-12۔
- ↑ عمید زنجانی، فقہ سیاسی، 1377شمسی، ج2، ص170-171۔
- ↑ ذوالفقاری و سیدیان، «فقہ حکومتی؛ چیستی، چرایی، چگونگی»، ص56-57۔
- ↑ غلامی و میراحمدی، «فقہ فردی و فقہ حکومتی بایستہہا و کاستیہا»، ص98۔
- ↑ پرور، «فقہ حکومتی؛ چرایی، چیستی و چگونگی»، ص192-193۔
- ↑ مشکانی، درآمدی بر فلسفہ فقہ حکومتی، 1399شمسی، ص106-108۔
- ↑ خامنہای، «بیانات در اجلاس جہانی علما و بیداری اسلامی»، سایت خامنہای داتآیار؛ مشکانی، درآمدی بر فلسفہ فقہ حکومتی، 1399شمسی، ص101-103۔
- ↑ طالبی طادی، فقہ حکومتی، 1397شمسی، ص41-47۔
- ↑ نوایی، فقہ و اجتہاد حکومتی، 1399شمسی، ص289-301؛ ایزدہی، «ماہیت و ویژگیہای فقہ حکومتی»، ص22-23؛ مشکانی، درآمدی بر فلسفہ فقہ حکومتی، 1399شمسی، ص285۔
- ↑ مشکانی، درآمدی بر فلسفہ فقہ حکومتی، 1399شمسی، ص290۔
- ↑ امام خمینی، صحیفہ امام، 1378شمسی، ج21، ص289۔
- ↑ مشکانی، درآمدی بر فلسفہ فقہ حکومتی، 1399شمسی، ص290۔
- ↑ نوایی، فقہ و اجتہاد حکومتی، 1399شمسی، ص299-300؛ مشکانی، درآمدی بر فلسفہ فقہ حکومتی، 1399شمسی، ص291-293۔
- ↑ مشکانی، درآمدی بر فلسفہ فقہ حکومتی، 1399شمسی، ص307-315۔
- ↑ سیفی مازندرانی، مبانی الفقہ الفعال، 1425ق، ح1، ص13۔
- ↑ نوایی، فقہ و اجتہاد حکومتی، 1399شمسی، ص298-299۔
- ↑ امام خمینی، صحیفہ امام، 1378شمسی، ج21، ص218؛ ایزدہی، «ماہیت و ویژگیہای فقہ حکومتی»، ص22-23۔
- ↑ ضیائیفر، «رویکرد حکومتی در فقہ»، ص16۔
- ↑ مشکانی، درآمدی بر فلسفہ فقہ حکومتی، 1399شمسی، ص153-222؛ خراسانی، «روششناسی فقہ حکومتی در سپہر اندیشہ فقہی-سیاسی امام خمینی»، ص59-66؛ صرامی، «درآمدی بر فقہ حکومتی»، ص15-30؛ مہریزی، «فقہ حکومتی»، ص159؛ ضیائیفر، «رویکرد حکومتی در فقہ»، ص16-21؛ ایزدہی و صدیق، «ماہیت و ویژگیہای فقہ حکومتی»، ص18-24؛ غلامی و میراحمدی، «فقہ فردی و فقہ حکومتی بایستہہا و کاستیہا»، ص99-101۔
- ↑ مشکانی، درآمدی بر فلسفہ فقہ حکومتی، 1399شمسی، ص169 و 171۔
- ↑ امام خمینی، ولایت فقیہ، 1377شمسی، ص19-21؛ خراسانی، «روششناسی فقہ حکومتی در سپہر اندیشہ فقہی-سیاسی امام خمینی»، ص51-52۔
- ↑ غلامی و میراحمدی، «فقہ فردی و فقہ حکومتی بایستہہا و کاستیہا»، ص99؛ ایزدہی و صدیق، «ماہیت و ویژگیہای فقہ حکومتی»، ص18-19۔
- ↑ مشکانی، درآمدی بر فلسفہ فقہ حکومتی، 1399شمسی، ص177۔
- ↑ منتظری، دراسات فی ولایۃ الفقیہ، 1409ق، ج1، ص31۔
- ↑ مطہری، نہضتہای اسلامی معاصر، 1367شمسی، ص21 و 36 و 41.
- ↑ امام خمینی، ولایت فقیہ، 1377شمسی، ص12۔
- ↑ صرامی، «درآمدی بر فقہ حکومتی»، ص15-23۔
- ↑ مشکانی، درآمدی بر فلسفہ فقہ حکومتی، 1399شمسی، ص184۔
- ↑ امام خمینی، ولایت فقیہ، 1377شمسی، ص18؛ مشکانی، درآمدی بر فلسفہ فقہ حکومتی، 1399شمسی، ص184-190۔
- ↑ مشکانی، درآمدی بر فلسفہ فقہ حکومتی، 1399شمسی، ص191۔
- ↑ خراسانی، «روششناسی فقہ حکومتی در سپہر اندیشہ فقہی-سیاسی امام خمینی»، ص58-59۔
- ↑ امام خمینی، صحیفہ امام، 1378شمسی، ج6، ص42-43 و ج10، ص18۔
- ↑ ضیائیفر، «رویکرد حکومتی در فقہ»، ص17-18۔
- ↑ امام خمینی، ولایت فقیہ، 1377شمسی، ص20-21؛ ضیائیفر، «رویکرد حکومتی در فقہ»، ص18-19۔
- ↑ لکزایی، «مسائل فقہ سیاسی»، ص131؛ ایزدہی، «ماہیت و ویژگیہای فقہ حکومتی»، ص23-24۔
- ↑ امام خمینی، کتاب البیع، 1379شمسی، ج2، ص659-660؛ امام خمینی، ولایت فقیہ، ص22۔
- ↑ امام خمینی، صحیفہ امام، 1378شمسی، ج2، ص452؛ مشکانی، درآمدی بر فلسفہ فقہ حکومتی، 1399شمسی، ص321-324۔
- ↑ ضیائیفر، «رویکرد حکومتی در فقہ»، ص24-25؛ خراسانی، «روششناسی فقہ حکومتی در سپہر اندیشہ فقہی-سیاسی امام خمینی»، ص65-66۔
مآخذ
- امام خمینی، سید روحاللہ، صحیفہ امام، تہران، موسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی، 1378ہجری شمسی۔
- امام خمینی، سید روحاللہ، کتاب البیع، تہران، موسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی، 1379ہجری شمسی۔
- امام خمینی، سید روحاللہ، ولایت فقیہ، تہران، موسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی، 1377ہجری شمسی۔
- ایزدہی، سید سجاد و صدیقہ صدیق تقیزادہ، «ماہیت و ویژگیہای فقہ حکومتی»(فقہ حکومتی کی ماہیت اور خصوصیات)، سہ ماہہ مجلہ حکومت اسلامی، شمارہ 95، 1399ہجری شمسی۔
- ایزدہی، سید سجاد، «امام خمینی و نگرش حکومتی بہ فقہ»(امام خمینی کا فقہ کے بارے میں حکومتی نظریہ)، سہ ماہہ مجلہ علوم سیاسی، شمارہ 70، 1394ہجری شمسی۔
- ایزدہی، سید سجاد، «امام خمینی و ارتقاء جایگاہ فقہ حکومتی»(امام خمینی اور فقہِ حکومتی کی حیثیت کا ارتقا)، سہ ماہہ مجلہ حکومت اسلامی، شمارہ 64، 1391ہجری شمسی۔
- ایزدہی، سید سجاد، فقہ سیاسی امام خمینی، تہران، نشر عروج، 1390ہجری شمسی۔
- پرور، اسماعیل، «فقہ حکومتی؛ چرایی، چیستی و چگونگی»(فقہ حکومتی؛ کیوں، کیا اور کیسے)، ماہنامہ سورہ، شمارہ 56-57، 1390ہجری شمسی۔
- حسنلو، امیرعلی و علی محمودی، «جایگاہ فقہ حکومتی؛ اہمیت و ضرورت توجہ بہ آن در تمدن نوین اسلامی»(فقہِ حکومتی کا مقام؛ جدید اسلامی تہذیب کی تشکیل میں اس پر توجہ کی اہمیت اور ضرورت)، سہ ماہہ مجلہ پژوہشنامہ علوم انسانی، شمارہ 14، 1400ہجری شمسی۔
- خامنہای، سید علی، «پیام بہ جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم بہ مناسبت تشکیل شورای سیاستگذاری حوزہ»(شورائے پالیسی سازیِ حوزۂ علمیہ کے قیام کے موقع پر جامعۂ مدرسین حوزۂ علمیہ قم کے نام پیغام)، سائٹ: Khamenai.ir، تاریخ درج مطلب: 15 نومبر 1997ء، تاریخ مشاہدہ: یکم جنوری 2026ء۔
- خامنہای، سید علی، «بیانات در مراسم بیست و دومین سالگرد رحلت امام خمینی»(امام خمینی کی بائیسویں برسی کے موقع پر جاری بیان)، سائٹ: Khamenai.ir، تاریخ درج مطلب: 14 جون 2011ء، تاریخ مشاہدہ: 23 فروری 2026۔
- خامنہای، سید علی، «بیانات در اجلاس جہانی علما و بیداری اسلامی»(عالمی اجلاسِ علماء اور بیداریِ اسلامی مٰں جاری کردہ بیان)، سائٹ: Khamenai.irر، تاریخ درج مطلب: 29 اپریل 2013ء، تاریخ مشاہدہ: 23 فروری 2026ء۔
- خراسانی، رضا، «روششناسی فقہ حکومتی در سپہر اندیشہ فقی - سیاسی امام خمینی(امام خمینی کے فقہی و سیاسی افکار کے تناظر میں فقہِ حکومتی کی روش شناسی)»، سہ ماہہ مجلہ تحقیق نامہ انقلاب اسلامی، شمارہ 9، 1392ہجری شمسی۔
- ذوالفقاری، محمد و سید مہدی سیدیان، «فقہ حکومتی؛ چیستی، چرایی، چگونگی»، دوسہ ماہہ مجلہ معرفت سیاسی، سال چہارم، شمارہ 1، 1391ہجری شمسی۔
- سیفی مازندرانی، علیاکبر، مبانی الفقہ الفعال، قم، دفتر انتشارات اسلامی وابستہ بہ جامعہ مدرسین، 1425ھ۔
- صرامی، سیفاللہ، «درآمدی بر فقہ حکومتی»، سہ ماہہ مجلہ فقہ، سال 18، شمارہ 4، 1390ہجری شمسی۔
- ضیائیفر، سعید، «رویکرد حکومتی در فقہ» سہ ماہہ مجلہ علوم سیاسی، شمارہ 53، 1390ہجری شمسی۔
- طالبی طادی، بہنام، فقہ حکومتی (درآمدی بر ماہیت، اصول و منطق نظری)، تہران، انتشارات دانشگاہ امام صادق(ع)، 1397ہجری شمسی۔
- عمید زنجانی، عباسعلی، فقہ سیاسی، جلد دوم، تہران، نشر امیرکبیر، 1377ہجری شمسی۔
- غلامی، نجفعلی و منصور میراحمدی، «فقہ فردی و فقہ حکومتی بایستہہا و کاستیہا»(فقہِ فردی اور فقہِ حکومتی: ضروری تقاضے اور کاستیاں)، سہ ماہہ مجلہ سیاست متعالیہ، سال دوم، شمارہ 4، 1393ہجری شمسی۔
- لکزایی، نجف، «مسائل فقہ سیاسی»، دوسہ ماہہ مجلہ دانش سیاسی، شمارہ 11، 1389ہجری شمسی۔
- مشکانی سبزواری، عباسعلی، درآمدی بر فلسفہ فقہ حکومتی، قم، انتشارات کتاب فردا، 1399ہجری شمسی۔
- مشکانی، عباسعلی، و عبدالحسین مشکانی، «پارادایم فقہ حکومتی با محوریت دیدگاہہای آیتاللّہ العظمی خامنہای»(آیت اللہ العظمیٰ خامنہای کے نظریات کی روشنی میں فقہِ حکومتی کا نمونۂ فکری)، ماہنامہ معرفت، شمارہ 168، 1390ہجری شمسی۔
- مطہری، مرتضی، نہضتہای اسلامی معاصر، تہران، نشر صدرا، 1367ہجری شمسی۔
- منتظری، حسینعلی، دراسات فی ولایۃ الفقیہ و فقہ الدولۃ الاسلامیۃ، قم، نشر تفکر، 1409ھ۔
- مہریزی، مہدی، «فقہ حکومتی»، سہ ماہہ مجلہ نقد و نظر، شمارہ 12، 1376ہجری شمسی۔
- نوایی، علیاکبر، فقہ و اجتہاد حکومتی، مشہد، انتشارات حوزہ علمیہ خراسان، 1399ہجری شمسی۔