مسودہ:سورہ بقرہ آیت نمبر 219
| آیت کی خصوصیات | |
|---|---|
| سورہ | بقرہ |
| آیت نمبر | 219 |
| پارہ | 2 |
| شان نزول | در پاسخ بہ سوال گروہی از صحابہ دربارہ شراب و قمار |
| محل نزول | مدینہ |
| موضوع | حرمت شراب و قمار؛ میزان انفاق |
| مربوط آیات | سورہ مائدہ کی آیت 90 اور 91؛ سورہ نساء کی آیت نمبر 43 |
سورہ بقرہ آیت نمبر 219، شراب اور جوا نیز انفاق سے متعلق دو سوالوں کے جواب میں نازل ہوئی ہے۔ اس آیت میں شراب اور جوے کے کچھ فوائد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ان کا گناہ فائدے کی نسبت کہیں زیادہ ہے۔ اسی طرح اس سوال کے جواب میں کہ کس چیز کو انفاق کیا جا سکتا ہے؟ اس کا معیار «عفو» بتایا گیا ہے۔ تفاسیر میں لفظ «عفو» سے مراد میانہ روی یا اپنی ضرورت سے زائد مال کو خرچ کرنا لیا گیا ہے۔
شیعہ فقہا نے اس آیت سے استناد کرتے ہوئے شراب اور جوے کے حرام ہونے کا فتوا دیا ہے اور کہا ہے کہ "خمر" ہر نشہ آور مائع چیز کو کہا جاتا ہے۔ بعض مفسرین کے مطابق قرآن میں شراب کی حرمت تدریجی طور پر بیان ہوئی ہے اور شراب کے حرام ہونے سے متعلق قرآنی آیات میں سے ایک یہی آیت ہے۔ اسی طرح اس آیت کو شراب کے نقصانات، اس کے فائدے اور نقصان میں تضاد اور انفاق کی حدود جیسے موضوعات میں بھی بطور استدلال پیش کیا جاتا ہے۔
آیت کا اجمالی تعارف اور اسلامی مباحث میں اس کی اہمیت
سورہ بقرہ کی 219ویں آیت، صحابہ کرام کی جانب سے شراب اور جوا اور انفاق کے معیار کے بارے میں رسول اکرمؐ سے پوچھے گئے سوالات کے جواب میں نازل ہوئی۔[1] اس آیت میں شراب اور جوے کے مادی فوائد پر ان کے نقصانات کو مقدم کرتے ہوئے ان کے گناہ کو ان کے فوائد سے کہیں زیادہ قرار دیا گیا ہے۔[2] تفسیر المیزان کے مؤلف علامہ طباطبائی کے مطابق قرآن میں «إِثْمٌ كَبِيرٌ»(بہت بڑا گناہ) کی تعبیر صرف شراب اور جوے کے بارے میں آئی ہے۔[3] آیت اللہ جوادی آملی نے تفسیر تسنیم میں احادیث سے استناد کرتے ہوئے شراب نوشی کے دنیوی اور اخروی اثرات اور نتائج، مجبوری کی حالت میں شراب کا حکم اور جانوروں کو شراب پلانے کی کراہت کو بیان کیا ہے۔[4]
آیت کے آخری حصے میں بعض صحابہ کی جانب سے انفاق کی مقدار کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے مومنین کو غور فکر کی دعوت دی گئی ہے۔[5] بعض روایات کے مطابق مسلمانوں کا ایک گروہ انفاق میں افراط و تفریط کا شکار ہو کر بعض اوقات خود فقر و فاقے کا شکار ہوجاتے تھے؛[6] اسی لئے اس آیت کے نزول کے ساتھ انہیں بخشش اور انفاق میں میانہ روی اختیار کرنے کی طرف بلایا گیا۔[7] تفسیری روایات میں لفظ "عفو" سے مراد اسراف کے بغیر میانہ روی اور سالانہ بچت لیا گیا ہے۔[8] البتہ بعض مفسرین نے لفظ «عفو» کی تفسیر دوسروں کی خطا پر چشم پوشی سے کی ہے اور بہترین انفاق دوسروں سے درگزر کرنا قرار دیا ہے۔[9]
يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ قُلْ فِيہِمَا إِثْمٌ كَبِيرٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَإِثْمُہُمَا أَكْبَرُ مِنْ نَفْعِہِمَا وَيَسْأَلُونَكَ مَاذَا يُنْفِقُونَ قُلِ الْعَفْوَ كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّہُ لَكُمُ الْآيَاتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُونَ سورہ بقرہ/219
لوگ آپ سے شراب اور جوئے کے متعلق دریافت کرتے ہیں۔ کہہ دیجئے کہ ان میں بڑا گناہ ہے۔ اگرچہ ان میں لوگوں کے لئے کچھ فائدے بھی ہیں مگر ان کا گناہ ان کے فائدے سے بہت بڑا ہے اور لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کہ (راہِ خدا میں) کیا خرچ کریں؟ کہہ دیجیے جو کچھ (تمہاری ضروریات سے) زیادہ ہو! اس طرح خدا تمہارے لئے اپنی آیات و ہدایات واضح کرتا ہے۔ تاکہ تم دنیا و آخرت کے بارے میں غور و فکر کرو۔ (219)
سورہ بقرہ آیت نمبر 219
سورہ بقرہ کی 219ویں آیت، مختلف مباحث میں بطور استدلال پیش کی جاتی ہے؛ جن میں طب (شراب کے جسمانی نقصانات)،[10] منطق (استدلال اور جدال احسن)،[11] معاشیات (مادی اور اخروی مفادات میں تضاد)،[12] اخلاق (رفتاری اثرات)[13] اور شہری قانون (جوے کی حرمت) شامل ہیں۔[14]
شراب کی حرمت پر دلالت
کتاب الکافی میں بعض صحابہ سے نقل ہے کہ سورہ بقرہ کی 119ویں آیت، شراب کی حرمت کے بارے میں نازل ہونے والی پہلی آیت ہے۔ کلینی کی ایک روایت کے مطابق امام کاظمؑ نے مذکورہ آیت اور شراب سے متعلق نازل ہونے والی دیگر آیات سے کا حوالہ دیتے ہوئے مہدی عباسی خلیفہ وقت کے سامنے شراب کی حرمت بیان فرمائی ہے۔[15]
شیعہ فقہا میں سے فاضل مقداد نے اس آیت سے استناد کرتے ہوئے شراب اور ہر نشہ آور مائع کی حرمت پر استدلال کیا ہے اور اس حکم پر اجماع کا دعوا کیا ہے۔[16] شیعہ مفسرین نے اس آیت میں لفظ «خمر» سے مراد ہر نشہ آور مائع قرار دیا ہے، چاہے اسے انگور سے لیا گیا ہو یا کھجور اور کشمش سے۔[17]
شراب کی تحریم میں قرآن کا تدریجی طریقہ
زمانہ جاہلیت میں شراب اور جوے کی معاشی اہمیت اور اسلام کا ان کے خلاف اعلان جنگ کی وجہ سے لوگ ان کے بارے میں مسلسل سوالات کرتے تھے۔[18] شیعہ مفسر علامہ طباطبائی کے مطابق سورہ بقرہ کی 119ویں آیت، شراب کی حرمت پر دلالت کرتی ہے لیکن اس میں اس مسئلے کو صراحت کے ساتھ بیان نہیں کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق شراب نوشی کی حرمت قرآن کی چند آیات میں بتدریج اور زیادہ وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے جن میں مذکورہ آیت کے ساتھ ساتھ سورہ اعراف آیت نمبر 33، سورہ نساء آیت نمبر 43 اور سورہ مائدہ آیت نمبر 90 شامل ہیں۔[19] آیت اللہ جوادی آملی کے مطابق بھی شراب نوشی کے حرام ہونے کو صراحت کے ساتھ بیان کرنے میں تاخیر کی وجہصدر اسلام کے معاشرے کے ثقافتی حالات تھی۔[20]
اس کے برخلاف بعض اہل سنت مفسرین جیسے محمد عبدہ نے تفسیر المنار میں کہا ہے کہ یہ آیت شراب کی حرمت پر دلالت نہیں کرتی کیونکہ «إثم» کے معنی انہوں نے نقصان کئے ہیں، اس بنا پر جس چیز میں نفع بھی ہو اور نقصان بھی، اس مرحلے میں وہ حرام نہیں ہوتی البتہ شراب کی حرمت، اس سلسلے میں نازل ہونے والی دوسری آیات میں بیان ہوئی ہے۔[21] آیت اللہ جوادی آملی نے اس نقطہ نظر کے جواب میں سورہ مائدہ آیت نمبر 90 سے استناد کیا ہے جس میں شراب اور جوے کو بطور مطلق (ہر حالت میں) ناپاک اور شیطان کا عمل قرار دیا گیا ہے[22] اور کہا ہے کہ سورہ بقرہ کی 119ویں آیت میں ان کے فوائد کی طرف اشارہ لوگوں کے ذہن میں اس کے مفید ہونے کے بارے میں موجود تصور کی عکاسی کرتا ہے۔[23]
جوا اور اس کا فقہی حکم
سورہ بقرہ کی 119ویں آیت میں لفظ «مَیسر» کی تفسیر قمار سے کی گئی ہے۔[24] فقہا نے اس آیت سے استناد کرتے ہوئے قمار کی حرمت پر فتویٰ دیا ہے۔[25] آیت اللہ جوادی آملی کے مطابق مذکورہ آیت اور اس سلسلے کی دیگر آیات میں قمار اور جوے کو ناپاک اور شیطانی عمل، گناہ کبیرہ کا باعث اور فتنہ پیدا کرنے والا قرار دیا گیا ہے۔[26] شیعہ مفسر عیاشی نے دو روایات نقل کی ہیں جن میں نرد (تختہ نرد)، شطرنج اور اخروٹ کے کھیل کو جوے کے مصادیق میں شمار کیا گیا ہے۔[27]
حوالہ جات
- ↑ طبرسی، مجمع البیان، 1372ھ، ج2، ص557۔
- ↑ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1371ھ، ج2، ص118۔
- ↑ طباطبایی، المیزان، 1390ھ، ج2، ص195۔
- ↑ جوادی آملی، تفسیر تسنیم، 1387ھ، ج11، ص97-124۔
- ↑ رضایی اصفہانی، تفسیر مہر، 1387ھ، ج2، ص185۔
- ↑ سیوطی، الدر المنثور، 1404ھ، ج1، ص253۔
- ↑ جوادی آملی، تفسیر تسنیم، 1387ھ، ج11، ص91-92۔
- ↑ عیاشی، تفسیر العیاشی، 1380ھ، ج1، ص106؛ طبرسی، مجمع البیان، 1372ھ، ج2، ص558۔
- ↑ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1371ھ، ج2، ص121۔
- ↑ صادق عبدالرضا، علی، کتاب القرآن و الطب الحدیث، بیروت، دار المؤرخ العربی، 1411ھ، ص86۔
- ↑ شریعتی سبزواری، مناظرہ و تبلیغ، 1389ھ، ص129۔
- ↑ حردان، الاقتصاد الاسلامی، 1999ء، ص49 و 123۔
- ↑ طباطبایی، المیزان، 1390ھ، ج2، ص192۔
- ↑ طاہری، حقوق مدنی، 1376ھ، ج4، ص382۔
- ↑ کلینی، الکافی، 1407ھ، ج6، ص406۔
- ↑ حلی، کنز العرفان فی فقہ القرآن، 1425ھ، ج2، ص304۔
- ↑ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1371ھ، ج2، ص118؛ عاملی، تفسیر عاملی، 1360ھ، ج1، ص402۔
- ↑ جوادی آملی، تفسیر تسنیم، 1387ھ، ج11، ص57۔
- ↑ طباطبایی، المیزان، 1390ھ، ج2، ص192۔
- ↑ جوادی آملی، تفسیر تسنیم، 1387ھ، ج11، ص92۔
- ↑ رضا، تفسیر المنار، 1414ھ، ج2، ص322۔
- ↑ جوادی آملی، تفسیر تسنیم، 1387ھ، ج11، ص60۔
- ↑ جوادی آملی، تفسیر تسنیم، 1387ھ، ج11، ص84۔
- ↑ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1371ھ، ج2، ص118۔
- ↑ سبحانی، المواہب، 1424ھ، ص663؛ مکارم شیرازی، دایرہ المعارف فقہ المقارن، 1427ھ، ص409۔
- ↑ جوادی آملی، تفسیر تسنیم، 1387ھ، ج11، ص87۔
- ↑ عیاشی، تفسیر العیاشی، 1380ھ، ج1، ص106۔
مآخذ
- رضایی اصفہانی، محمدعلی، تفسیر قرآن مہر، قم، تفسیر و قرآنی علوم کی تحقیقات، پہلی اشاعت، 1387ہجری شمسی۔
- جوادی آملی، عبداللہ، تفسیر تسنیم، قم، اسرا، دوسری اشاعت، 1387ہجری شمسی۔
- حردان، طاہر حیدر، الاقتصاد الاسلامی، عمان، دار وائل، 1999ء۔
- حلی، مقداد بن عبداللہ، کنز العرفان فی فقہ القرآن، قم، مرتضوی، پہلی اشاعت، 1425ھ۔
- سبحانی، جعفر، المواہب فی تحریر احکام المکاسب، قم، موسسہ امام صادق(ع)، پہلی اشاعت، 1424ھ۔
- سیوطی، عبدالرحمن بن ابیبکر، الدر المنثور فی التفسیر بالماثور، قم، کتابخانہ عمومی حضرت آیت اللہ العظمی مرعشی نجفی، پہلی اشاعت، 1404ھ۔
- شریعتی سبزواری، محمدباقر، مناظرہ و تبلیغ: فن مناظرہ، مجادلہ، مغالطہ و خطابہ، قم، بنیاد فرہنگی حضرت مہدی موعود(عج)، 1389ہجری شمسی۔
- صادق عبدالرضا، علی، کتاب القرآن و الطب الحدیث، بیروت، دار المؤرخ العربی، 1411ھ۔
- طاہری، حبیباللہ، حقوق مدنی، قم، دفتر انتشارات اسلامی، دوسری اشاعت، 1376ہجری شمسی۔
- طباطبایی، سید محمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن، بیروت، مؤسسۃ الأعلمی للمطبوعات، دوسری اشاعت، 1390ھ۔
- طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، تصحیح: فضلاللہ یزدی طباطبایی، ہاشم رسولی، تہران، ناصر خسرو، تیسری اشاعت، 1372ہجری شمسی۔
- عاملی، ابراہیم، تفسیر عاملی، مصحح: علیاکبر غفاری، تہران، کتابفروشی صدوھ، پہلی اشاعت، 1360شمسی، ج، ص۔
- عیاشی، محمد بن مسعود، تفسیر العیاشی، مصحح، سید ہاشم رسولی محلاتی، تہران، مکتبۃ العلمیۃ الاسلامیۃ، پہلی اشاعت، 1380ھ۔
- کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، تصحیح، علی اکبر غفاری و محمد آخوندی، تہران، دار الکتب الإسلامیۃ، چوتھی اشاعت، 1407ھ۔
- محمد رشید، رضا، تفسیر القرآن الحکیم الشہیر بتفسیر المنار، لبنان، دار المعرفہ، پہلی اشاعت، 1414ھ۔
- مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران، دار الکتب الإسلامیۃ، دسویں اشاعت، 1371ہجری شمسی۔
- مکارم شیرازی، ناصر، دایرہ المعارف فقہ المقارن، قم، مصحح: جمعی از اساتید و محققان حوزہ، انتشارات مدرسہ امام علی بن ابیطالب علیہ السلام، پہلی اشاعت، 1427ھ۔