مسودہ:ادا
ظاہری ہیئت
| یہ مقالہ ایک فقہی موضوع کے بارے میں توصیفی تحریر ہے اور دینی اعمال کے لئے معیار نہیں بن سکتا۔ دینی اعمال کے لئے دیگر مصادر کی طرف رجوع کریں۔ |
ادا اسلامی فقہ کی ایک اصطلاح ہے، جس کے معنی یہ ہیں کہ عبادی عمل کو شارع کی طرف سے مقرر کردہ وقت پر انجام دیا جائے؛ جیسے نماز کو اس کے مقررہ اور خاص وقت میں پڑھنا۔ اس کے مقابلے میں ’’قضا‘‘ ہے جس کے معنی ہیں کسی عبادی عمل کو اس کے مقررہ وقت کے ختم ہونے کے بعد انجام دینا۔ کبھی کبھار ’’ادا‘‘ کا اطلاق شرعی حکم کے بجا لانے پر ہوتا ہے، خواہ اسے مقررہ وقت پر بجالایا جائے یا اس کے بعد، مثلا کہا جاتا ہے؛ نمازِ قضا کا ادا کرنا وغیرہ۔[1]
اسلامی شریعت میں عبادی اعمال ان کے زمانِ انجام کے لحاظ سے دو قسم کے ہیں:
- وہ اعمال جن کے لیے شریعت میں کوئی خاص وقت مقرر کیا گیا ہو؛ جیسے روزانہ کی واجب نمازیں اور ماہ رمضان کے روزے۔ اگر یہ اعمال اپنے مقررہ وقت پر ادا کیے جائیں تو ’’ادا‘‘ کہلاتے ہیں اور اگر وقت ختم ہونے کے بعد انجام دیے جائیں تو ’’قضا‘‘ کہلاتے ہیں۔ مثال کے طور پر، نمازِ فجر کا وقت طلوعِ فجر سے طلوعِ آفتاب تک ہے اور روزے کا وقت طلوعِ فجر سے شرعی مغرب تک ہے۔
- وہ اعمال جن کے لیے شریعت میں کوئی خاص وقت مقرر نہیں کیا گیا ہے؛ جیسے مسجد سے نجاست دور کرنا اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنا وغیرہ۔[2]
حوالہ جات
مآخذ
- ذہنی تہرانی، سید محمدجواد، بیان المراد، شرح فارسی بر اصول الفقہ، قم، گنجینہ ذہنی، 1388شمسی ہجری۔
- فاضل موحدی لنکرانی، محمد، ایضاح الکفایۃ؛ تعلیقہ کفایۃ الأصول، قم، انتشارات نوح، 1385شمسی ہجری۔
- مکارم شیرازی، ناصر، دائرۃالمعارف فقہ مقارن، قم، مدرسۃ الامام علی بن ابیطالب(ع)، 1427ھ۔
- موسسہ دایرۃ المعارف فقہ اسلامی، الموسوعۃ الفقہیۃ، قم، مؤسسۃ دائرۃ معارف الفقہ الإسلامی، 1428ھ۔