معلی بن خنیس

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
معلی بن خنیس
معلومات شخصیت
نام: ابو عبد اللہ معلی بن خنیس بزاز کوفی۔
اصحاب: امام صادق (ع)
سماجی خدمات: نقل روایت، وکیل امام صادق (ع)
مذہب: شیعہ

معلی بن خنیس (متوفی ۱۳۱ ھ)، امام جعفر صادق (ع) کے راوی اور مالی وکلا میں سے تھے۔ شیعہ فقہا اور علمائے رجال میں سے شیخ طوسی، احمد بن محمد برقی اور علامہ حلی انہیں ثقہ مانتے ہیں۔ لیکن ابن غضائری اور نجاشی نے ان کی روایات کی تضعیف کی ہے۔ آیت اللہ خوئی کے مطابق، معلی نے ۸۰ روایت نقل کی ہے۔ ان کی زیادہ تر روایات امام صادق (ع) سے بلا واسطہ نقل ہوئی ہیں اور اصحاب اجماع میں شمار عبد اللہ بن مسکان جیسے راوی نے ان سے روایت نقل کی ہے۔ وہ نوروز کے سلسلہ میں ذکر ہونے والی احادیث کے راوی ہیں۔ انہیں ۱۳۱ ھ میں مدینہ میں عباسیوں کے حکم سے قتل کیا گیا۔

تعارف

ابو عبد الله مُعَلّیٰ بن خُنَیس بَزّاز کوفی، امام جعفر صادق (ع) کے روات اور اصحاب میں سے تھے۔[1] اسی طرح سے ان کا تعارف امام صادق (ع) کے غلام[2] اور وکیل مالی کے طور پر بھی کیا گیا ہے۔[3] ان کی تاریخ ولادت کتابوں میں ذکر نہیں ہوئی ہے۔[4] البتہ ان کا شغل و پیشہ پارچہ فروشی نقل ہوا ہے۔[5]

معلی بن خنیس کو سن ۱۳۱ ھ میں عباسی حکومت کے ایک گورنر داود بن علی کے حکم سے قتل کیا گیا۔[6] ان کے قتل پر امام صادق (ع) نے داود بن علی پر اعتراض کیا تو اس نے ان کے قاتل، جو اس کے ما تحت تھا، سے قصاص لیتے ہوئے اس کے قتل کا حکم دیا۔[7]

تحقیق اعتبار راوی

مشہور ترین شیعہ محدث و فقیہ شیخ طوسی (۳۸۵۔۴۶۰ ھ) معلی بن خنیس کو امام جعفر صادق (ع) کے مورد اعتماد اصحاب اور ان کے کار گزار میں شمار کرتے ہیں۔[8] تیسری صدی ہجری کے شیعہ محدث و ماہر رجال عالم احمد بن محمد برقی نے بھی اپنی رجال کی کتاب میں معلی بن خنیس کا تعارف امام صادق (ع) کے صحابی کے طور پر کرایا ہے۔[9] اسی طرح سے امام ششم سے نقل ایک روایت کے مطابق معلی ان کے کار گزار اور مالی وکیل تھے۔[10] علامہ حلی نے شیخ طوسی کی نطر سے استناد کرتے ہوئے انہیں ایک عادل راوی ذکر کیا ہے۔[11] ان سب کے باوجود شیعہ علمائے رجال میں سے نجاشی اور ابن غضائری نے انہیں حدیث میں ضعیف اور نا قابل اعتبار قرار دیا ہے۔[12]

معلی بن خنیس کا شمار مغیرہ بن سعید کے ابتدائی حامیوں میں کیا جاتا تھا جو محمد بن عبد اللہ (نفس زکیہ) کی امامت کی طرف دعوت دینے والوں میں تھا اور اسی رجحان کو ان کے قتل کا سبب بیان کیا گیا ہے۔[13] اسی طرح سے نقل ہوا ہے کہ ان کی روایات غلات کے یہاں مورد استناد رہیں ہیں۔[14]

معاصر فقیہ و ماہر علم رجال سید ابو القاسم خوئی (1278۔1371 ش) نے معلی بن خنیس کے سلسلہ میں تمام مدح و ذم کی روایات کی تحقیق کرنے کے بعد مدح کی روایات میں ہم آہنگی پاتے ہیں جس کے نتیجہ میں وہ انہیں مرد صادق، مورد توجہ امام جعفر صادق (ع) اور اہل بہشت افراد میں سے شمار کرتے ہیں۔[15] اسی طرح سے آیت اللہ خوئی انہیں غالی کہنے کو اہل سنت کی طرف سے ان پر لگائی گئی تہمتوں میں سے حساب کرتے ہیں جن کا مقصد ان حربوں کے ذریعہ ان کی شخصیت کو مجروح کرکے شیعہ راویوں کے اعتبار کو ختم کرنا تھا۔[16] حسین ساعدی نے اپنی عربی کتاب المعلی بن خنیس: شہادتہ و وثاقتہ و مسنده میں جو انتشارات دار الحدیث کی طرف سے شائع ہوئی ہے، ان کی شخصیت اور ان کے ثقہ ہونے کے سلسلہ میں تحقیق انجام دی ہے ۔

روایات

معلی بن خنیس سے شیعہ منابع حدیثی میں جن میں کتب اربعہ بھی شامل ہیں، احادیث نقل ہوئی ہیں۔[17] آیت اللہ خوئی نے ان سے نقل ہونے والی روایات کی تعداد ۸۰ ذکر کی ہے۔[18] ان کی زیادہ تر روایات بلا واسطہ امام جعفر صادق (ع) سے نقل ہوئی ہیں۔[19] اصحاب اجماع میں سے عبد اللہ بن مسکان[20] و دیگر اصحاب میں حریز بن عبد الله سجستانی[21] و معلی بن عثمان[22] جیسے افراد نے ان سے روایت نقل کی ہے۔ معلی سے منقول روایات فقہ،[23] اعتقادات،[24] آداب اسلامی[25] اور تفسیر قرآن[26] جیسے موضوعات پر مشتمل ہیں۔اسی طرح سے وہ نوروز کے سلسلہ میں نقل ہونے والی روایات کے بھی راوی ہیں۔[27]

حوالہ جات

  1. طوسی، الغیبہ، مؤسسة المعارف الاسلامیہ، ج۱، ص۳۴۷.
  2. طوسی، رجال الطوسی، مؤسسہ النشر الاسلامی، ج۱، ص۳۰۴؛ ابن غضائری، الرجال، ۱۴۲۲ق، ص۸۷.
  3. طوسی، الغیبہ، مؤسسة المعارف الاسلامیہ، ج۱، ص۳۴۷.
  4. نگاه کریں: خوئی، معجم رجال الحدیث، مؤسسہ الخوئی، ج۱۹، ص۲۵۸؛ تفرشی، نقد الرجال، مؤسسہ آل البیت، ج۴، ص۳۹۵.
  5. نجاشی، رجال النجاشی، مؤسسہ النشر الإسلامی، ج۱، ص۴۱۷.
  6. طوسی، الغیبہ، مؤسسہ المعارف الاسلامیہ، ج۱، ص۳۴۷.
  7. طوسی، رجال الکشی، مرکز تحقیقات و مطالعات، ج۱، ص۳۷۷.
  8. طوسی، رجال الطوسی، مؤسسة النشر الاسلامی، ج۱، ص۳۰۴؛ طوسی، الغیبہ، مؤسسة المعارف الاسلامیہ، ج۱، ص۳۴۷.
  9. برقی، رجال البرقی، انتشارات دانشگاه تہران، ج۱، ص۲۵-۲۶.
  10. طوسی، الغیبہ، مؤسسہ المعارف الاسلامیہ، ج۱، ص۳۴۷.
  11. حلی، خلاصة الاقوال، مؤسسہ نشر الفقاهہ، ج۱، ص۴۰۹.
  12. نجاشی، رجال النجاشی، مؤسسہ النشر الإسلامی، ج۱، ص۴۱۷؛ ابن غضائری، الرجال، ۱۴۲۲ق، ص۸۷.
  13. ابن غضائری، الرجال، ۱۴۲۲ق، ص۸۷.
  14. ابن غضائری، الرجال، ۱۴۲۲ق، ص۸۷.
  15. خوئی، معجم رجال الحدیث، مؤسسة الخوئی، ج۱۹، ص۲۶۹.
  16. خوئی، معجم رجال الحدیث، مؤسسة الخوئی، ج۱۹، ص۲۶۹.
  17. برای نمونہ نگاه کریں، صدوق، من لا یحضره الفقیہ، ۱۳۶۷ش، ج۱، ص۴۱۰؛ کلینی، الکافی، ۱۴۲۹ق، ج۱۳، ص۱۲۶؛ طوسی، تہذیب الاحکام، ۱۴۰۷ق، ج۶، ص۳۸۸.
  18. خوئی، معجم رجال الحدیث، مؤسسہ الخوئی، ج۱۹، ص۲۵۶.
  19. برای نمونہ نگاه کریں: صدوق، من لا یحضره الفقیہ، ۱۳۶۷ش، ج۱، ص۴۱۰؛ کلینی، الکافی، ۱۴۲۹ق، ج۱۳، ص۱۲۶؛ طوسی، تہذیب الاحکام، ۱۴۰۷ق، ج۶، ص۳۸۸.
  20. کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ق، ج۲، ص۳۵۴.
  21. برقی، المحاسن، ۱۳۷۱ق، ج۱، ص۲۵۵.
  22. برقی، المحاسن، ۱۳۷۱ق، ج۱، ص۲۳۵.
  23. برای نمونہ نگاه کریں، کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ق، ج۳، ص۳۳۶.
  24. برقی، المحاسن، ۱۳۷۱ق، ج۱، ص۲۵۵.
  25. برقی، المحاسن، ۱۳۷۱ق، ج۲، ص۵۶۱.
  26. برای نمونہ نگاه کریں: قمی، تفسیر القمی، ۱۴۰۴ق، ج۱، ص۲۲۲؛ عیاشی، تفسیر عیاشی، ۱۳۸۰ق، ج۲، ص۲۵۵.
  27. مجلسی، بحار الانوار، ۱۴۰۳ق، ج۵۶، ص۹۳.


مآخذ

  • ابن غضائری، احمد بن‌ حسین‌، الرجال، تحقیق سید محمد رضا الحسینی الجلالی، قم، دار الحدیث، ۱۴۲۲ق/۱۳۸۰ش
  • برقی، احمد بن محمد، کتاب الرجال، تهران، انتشارات دانشگاه تہران، بی‌ تا
  • برقی، احمد بن محمد، المحاسن، تصحیح جلال الدین محدث، قم، دار الکتب الاسلامیہ، ۱۳۷۱ق
  • تفرشی، سید مصطفی، نقد الرجال، قم، مؤسسہ آل البیت علیہم السلام لإحیاء التراث، بی‌ تا
  • حلی، حسن بن یوسف بن مطہر، خلاصة الاقوال، بہ تحقیق جواد قیومی، قم، مؤسسہ نشر الفقاہہ، ۱۴۱۷ق
  • خوئی، سید ابو القاسم، معجم رجال الحدیث، نجف، مؤسسہ الخوئی الإسلامیہ، بی ‎تا
  • عیاشی، محمد بن مسعود، تفسیر عیاشی، تہران، چاپخانہ علمیہ، ۱۳۸۰ق
  • صدوق، محمد بن علی، من لا یحضره الفقیہ، تہران، صدوق، ۱۳۶۷ش
  • طوسی، محمد بن حسن، تہذیب الاحکام، تہران، دار الکتب الاسلامیہ، ۱۴۰۷ق
  • طوسی، محمد بن حسن، الغیبہ، بہ تحقیق عباد الله طہرانی و علی احمد، قم، مؤسسہ المعارف الاسلامیہ، ۱۴۱۱ق
  • طوسی، محمد بن حسن، رجال الکشی، بہ تحقیق سید مہدی رجائی، مشہد، مرکز تحقیقات و مطالعات دانشکده الہیات و معارف اسلامی، بی‌ تا
  • طوسی، محمد بن حسن، رجال الطوسی، قم، مؤسسہ النشر الاسلامی، ۱۴۱۵ق
  • قمی، علی بن ابراہیم، تفسیر القمی، تصحیح: طیب موسوی جزائری، قم، دار الکتاب، ۱۴۰۴ق
  • کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، تهران، دار الکتب الاسلامیہ، ۱۴۲۹ق
  • کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، تصحیح: علی‌اکبر غفاری و محمد آخوندی، تہران، دار الکتب الاسلامیہ، ۱۴۰۷ق
  • مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار، بیروت، دار احیاء التراث العربی، ۱۴۰۳ق
  • نجاشی، احمد بن علی، رجال النجاشی، قم، مؤسسہ النشر الإسلامی، بی‌ تا