امام حسین پر رونا

ویکی شیعہ سے
امام حسینؑ کے غم میں رونا اور ماتم کرنا

امام حسینؑ پر رونا، شیعوں کے تیسرے امام اور ان کے باوفا اصحاب کی مصیبت اور مظلومیت پر رونا، جس پر احادیث میں بہت زیاده تأکید اور ثواب کا وعدہ دیا گیا ہے جس میں گناہوں کی بخشش اور بہشت کا حقدار ہونا شامل ہے۔ بعض احادیث کے مطابق فرشتوں اور انبیاء نے بھی امام حسینؑ کی مصیبت پر گریہ کئے ہیں۔
شیعہ علماء کے مطابق امام حسینؑ کی مصیبت پر رونے کی تأکید اسلئے کی گئی ہے تاکہ حریت و آزادی نیز ظالم کے خلاف مقابلہ کرنے کا جذبہ ہمیشہ باقی رہے۔ اسی طرح اس گریہ و زاری کا فائدہ امام حسینؑ کے ساتھ محبت و مودت کا اظہار اور آپ کے ساتھ تجدید بیعت قرار دیا جاتا ہے اور اس کام کو اسلام کی بقا کا ضامن قرار دیا جاتا ہے۔
اہل‌ بیتؑ امام حسینؑ کی مصیت میں گریہ کرنے کے ساتھ ساتھ دوسروں کو رولانے یا رونے کی کوشش (تَباکی) کرنے کی بھی سفارش کی ہے اور اس کام کے لئے بھی ثواب‌ کا ذکر آیا ہے۔

امام حسین پر رونے کی فضیلت

امام رضاؑ فرماتے ہیں

یَا ابْنَ شَبِیبٍ إِنْ کُنْتَ بَاکِیاً لِشَیْءٍ فَابْکِ لِلْحُسَیْنِ بْنِ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍؑ فَإِنَّہُ ذُبِحَ کَمَا یُذْبَحُ الْکَبْشُ وَ قُتِلَ مَعَہُ مِنْ أَہْلِ بَیْتِہِ ثَمَانِیَۃَ عَشَرَ رَجُلًا مَا لَہُمْ فِی الْأَرْضِ شَبِیہُون‏۔
ترجمہ= اے شبیب کے بیٹے، اگر تم کسی چیز پر رونا چاہے تو حسین ابن علیؑ پر گریہ کرو، کیونکہ انہیں گوسفند کی طرح ذبح کیا گیا اور ان کے ساتھ ان کے اٹھارہ رشتہ داروں کو شہید کیا گیا جو روی زمین پر نظیر نہیں رکھتے تھے۔

شیخ صدوق، الامالی، 1376ھ، ص130

امام حسینؑ پر گریہ کرنا در حقیقت واقعہ کربلا میں امام حسینؑ اور ان کے باوفا اصحاب پر آنے والی کی مصیبت اور مظلومیت پر رونا ہے۔[1] اس کام کی فضیلت پر پیغمبر اکرمؐ اور اہل‌ بیتؑ سے بہت ساری احادیث نقل ہوئی ہیں جن میں امام حسینؑ کے مصائب پر رونے کی تأکید[2] اور اس پر بہت زیاده اجر و ثواب کا بیان آیا ہے:[3]

شیعہ محدث شیخ صدوق رَیّان بن شبیب سے نقل کرتے ہیں کہ وہ یکم محرّم الحرام کو امام رضاؑ کی خدمت میں پہنچے تو اس وقت امام رضاؑ نے اپنے جد امجد امام حسینؑ کی مصیبتوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: «اے شبیب کے بیٹے اگر تم نے حسینؑ پر گریہ کرے جس سے تمہارے آنسو تمہارے رخسار پر جاری ہوا تو اس کام کے بدلے خدا تمہارے سارے گناہ چاہے چھوٹا ہو یا بڑا، کم ہو یا زیادہ بخش دے گا۔»[4]

امام صادقؑ سے نقل ہوا ہے کہ امام سجادؑ نے اپنے والد ماجد کی مصیبت پر پچیس سال گریا کیا اور جب بھی آپؑ کے سامنے کوئی کھانا پیش کیا جاتا تو آپ اسے دیکھ کر گریہ کرتے تھے۔[5] بعض احادیث میں آیا ہے کہ فرشتوں، انبیاء، زمین و آسمان اور صحرا اور دریا کے حیوانات نے بھی امام حسینؑ پر گریہ کئے۔[6]

اسی طرح کتاب کامل الزیارات میں امام صادقؑ سے منقول ہے کہ امام حسینؑ رونے کی وجہ سے اگر مکھی کے پر کے برابر بھی آنسو آجائے تو اس کا ثواب خدا دے گا اور وہ بہشت سے کم کسی ا ور چیز پر راضی نہیں ہو گا۔[7]

البتہ اتنے بڑے ثواب کے حصول کے لئے شرط ہے کہ انسان امام حسینؑ اور ان کے مقصد کی معرفت حاصل کریں اور اس پر اعتقاد رکھے[8] اور حلال و حرام الہی کی رعایت کرے۔[9]

امام حسین پر گریہ کرنے کی تاکید کا مقصد

شیعہ مفکر شہید مطہری کے مطابق ائمہ معصومینؑ کی طرف سے امام حسینؑ پر گریہ کرنے کی سفارش کا مقصد قیام امام حسین اور ان کی حریت و آزادی نیز ظالم کے خلاف مقابلے کا سبق ہمیشہ زندہ رہے اور ائمہ معصومینؑ کی طرف سے اس کام کی سفارش کا یہ فائدہ ہوا کہ خود ان کے زمانے میں بعض انقلابی تحریکیں شروع ہوئیں جن کا اصلی نعرہ امام حسین اور آپ کے اہداف کو زندہ رکھنا تھا۔[10] اسی طرح امام حسینؑ اور شہدائے کربلا پر گریہ کرنا در حقیقت عاشورا اور شہادت جیسے تمدن کی احیاء کے لئے ان کی بیعت اور ان کے ذریعے انسان کی فکری اور معنوی ارتقاء ہے اسی طرح کہا جاتا ہے کہ یہ کام اہل‌ بیتؑ اور امام حسینؑ کے ساتھ محبت اور مودت کا اظہار بھی ہے۔[11] امام خمینی امام حسینؑ پر گریہ اور عزاداری کرنے کو اسلام کی بقا کا ضامن سمجھتے ہیں۔[12]

رلانا اور تَباکی

شیعہ ائمہ معصومین نے امام حسینؑ کی مصیبت میں رونے کے علاوہ دوسروں کو رلانا اور رونے کی کوشش کرنے کی بھی سفارش کی ہیں اور اس کے لئے بھی ثواب ذکر کئے ہیں۔ شیخ صدوق امام رضاؑ سے نقل کرتے ہیں کہ: "جو شخص ہماری[اہل‌ بیت] مصیبت پر روئے یا رلائے تو جس دن[روز قیامت] ساری آنکھیں روئے گی اس کی آنکھیں نہیں روئے گی۔"[13] اسی طرح امام باقرؑ اور امام صادقؑ سے منقول ہے کہ: "جو شخص [امام حسینؑ کی مصیبت] میں گریہ کرے یا کسی کو رلائے اگر چہ ایک آدمی کو ہی کیوں نہ صحیح ہم اس کے لئے بہشت کی ضمانت دیتے ہیں اور جسے رونا نہ آئے لیکن اپنے آپ کو مصیبت زدہ افراد کی طرح بنائے اسے بھی یہی ثواب ملے گا۔"[14]
چودہویں صدی ہجری کے شیعہ عالم دین شیخ عباس قمی کہتے ہیں کہ رونے کی کوشش یا شکل بنانا ریا نہیں ہے؛ کیونکہ امام حسینؑ پر رونا عبادت ہے اور عبادات میں ریا جائز نہیں ہے۔[15] تباکی، رونے والوں کا ساتھ دینے ہوئے اپنے آپ کو رونے والے کی طرح قرار دینے کو کہا جاتا ہے،[16] جبکہ ریا اور دکھاوا اپنے آپ کو نیک ظاہر کرنے کے لئے نیک افراد کی طرح کی تقلید کرنے کو کہا جاتا ہے۔[17]

امام حسینؑ پر رونے کے بارے میں موجود اشعار

امام حسینؑ پر رونے کے مسئلے پر مختلف شعراء نے اشعار بھی لکھے ہیں من جملہ ان میں وصال شیرازی تیسری صدی ہجری کے شاعر نے نے یوں شعر کہا ہے:

بدین امیــــد کہ این گریہ را ثــــواب دہندعجــــب نــــباشد اگر عالمــــی بہ آب دہند
بہ قطـــــرہ‌ای کہ فشــــانی تو را بہ روز جزاز دست ســـاقی کوثــــر، شـــراب ناب دہند
ولی بہ گریہ مشو غَرّہ و بہ طاعت کوشگرت ہــــواست کہ بر گریـــہ‌ات ثواب دہند[18]

ترجمہ: اس امید پر کہ یہ رونا ثواب کا باعث ہے، پوری انسانیت کو سیراب کیا جائے تو کوئی تعجب کی بات نہیں ہے، ایک قطرہ جو تجھے روز قیامت....، ساقی کوثر کے دست مبارک سے خالص شراب دیا جائے گا، لیکن صرف رونے پر اکتفا نہ کرو بلکہ خدا کی اطاعت اور بندگی کی کوشش کرو، اگر تمہارے رونے پر ثواب دینے کی تمنا ہو تو

حوالہ جات

  1. گروہی از تاریخ‌پژوہان، تاریخ قیام و مقتل جامع سیدالشہدا، 1395ہجری شمسی، ج2، ص323۔
  2. شیخ صدوھ، الامالی، 1376ھ، ص130؛ مجلسی، بحار الانوار، 1403ھ، ج 44، ص278۔
  3. حرّ عاملی، وسائل الشیعۃ، 1409ھ، ج14، ص501۔
  4. شیخ صدوھ، الامالی، 1376ھ، ص129 و 130۔
  5. ابن‌شہرآشوب، مناقب آل ابی‌طالب، 1378ہجری شمسی، ج4، ص165۔
  6. مجلسی، بحار الانوار، 1403ھ، ج45، ص218 و 220۔
  7. ابن‌قولویہ، کامل الزیارات، 1356ہجری شمسی، ص100، حدیث3۔
  8. «نجات و بہشت رفتن انسان گنہکار بہ صرف گریہ بر امام حسینؑ»، پایگاہ اطلاع‌رسانی دفتر آیت اللہ مکارم شیرازی۔
  9. مکارم شیرازی، پیام امام امیرالمؤمنینؑ، 1386ہجری شمسی، ج14، ص334۔
  10. مطہری، مجموعہ آثار، انتشارات صدرا، ج25، ص338۔
  11. محدثی، فرہنگ عاشورا، 1417ھ، ص382۔
  12. خمینی، صحیفہ امام‏، 1389ش‏، ج8، ص527 و 529۔
  13. شیخ صدوھ، الامالی، 1376ھ، ص73۔
  14. ابن‌نما، مثیر الاحزان، 1406ھ، ص14۔
  15. قمی، منتہی الآمال، 1379ہجری شمسی، ج2، ص1060۔
  16. «مبانی قرآنی گریہ برای امام حسینؑ»، پایگاہ تخصصی امام حسین۔
  17. قرشی قاموس قرآن، 1371ہجری شمسی، ج3، ص30۔
  18. مراجعہ کریں: وصال شیرازی، کلیات دیوان وصال شیرازی، نشر کتابفروشی فخر رازی، ص934، بند دہء۔

مآخذ

  • ابن‌شہرآشوب مازندرانی، محمد بن علی، مناقب آل‌ابی‌طالب علیہم السلام، قم، انتشارات علامہ، چاپ اول، 1378ہجری شمسی۔
  • ابن‌قولویہ، جعفر بن محمد، کامل الزیارات، تصحیح عبدالحسین امینی، نجف اشرف، دار المرتضویۃ، چاپ اول، 1356ہجری شمسی۔
  • ابن‌نما حلی، جعفر بن محمد، مثیر الاحزان، مدرسہ امام مہدی، قم، چاپ سوم، 1406ھ۔
  • حرّ عاملی، محمد بن حسن، وسائل الشیعہ، قم، مؤسسہ آل البیتؑ، چاپ اول، 1409ھ۔
  • خمینی، سید روح‌اللہ، صحیفہ امام‏، تہران‏، مؤسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی (س)، چاپ پنجم، 1389ش‏۔
  • شیخ صدوھ، محمد بن علی‏، الامالی، تہران، کتابچی، چاپ ششم، 1376ھ۔
  • قرشی، سید علی‌اکبر، قاموس قرآن، تہران، دار الکتب الإسلامیۃ، چاپ ششم، 1371ہجری شمسی۔
  • قمی، شیخ عباس، منتہی الآمال، قم، دلیل ما، چاپ اول، 1379ہجری شمسی۔
  • گروہی از تاریخ‌پژوہان، زیر نظر مہدی پیشوایی، تاریخ قیام و مقتل جامع سیدالشہداؑ، قم، مؤسسہ آموزشی و پژوہشی امام خمینی، چاپ اول، 1395ہجری شمسی۔
  • «مبانی قرآنی گریہ برای امام حسینؑ»، پایگاہ تخصصی امام حسین، تاریخ بازدید: 27 شہریور 1402ہجری شمسی۔
  • مجلسی، محمدباقر، بحار الانوار، بیروت، دار احیاء التراث العربی، چاپ دوم، 1403ھ۔
  • محدثی، جواد، فرہنگ عاشورا، قم، نشر معروف‏، چاپ دوم، 1417ھ۔
  • مطہری، مرتضی، مجموعہ آثار استاد شہید مطہری‏، تہران، انتشارات صدرا، بی‌تا۔
  • مکارم شیرازی، ناصر، پیام امام امیرالمؤمنینؑ، تہران، دار الکتب الاسلامیہ‏، چاپ اول، 1386ہجری شمسی۔ ج14، ص334۔
  • «نجات و بہشت رفتن انسان گنہکار بہ صرف گریہ بر امام حسینؑ»، پایگاہ اطلاع‌رسانی دفتر آیت اللہ مکارم شیرازی، تاریخ بازدید: 30 شہریور 1402ہجری شمسی۔
  • وصال شیرازی، محمدشفیع، کلیات وصال شیرازی، تصحیح محمد عباسی، بی‌تا، نشر کتابفروشی فخر رازی،