مسودہ:کنیز
کنیز یا لونڈی، (عربی میں: جاریہ)[1] اس عورت کو کہا جاتا تھا[2] جو غلامی کے نظام میں جنگی قیدی بننے یا خرید و فروخت کے ذریعے افراد کی ملکیت میں آتی تھی۔ تاریخِ تشیع میں شیعہ ائمۂ میں سے سات اماموں کی والدہ گرامی یعنی شہر بانو،[3] حمیدہ،[4] نجمہ،[5] سبیکہ،[6] سمانہ،[7] حُدَیث[8] اور نرجس خاتون[9] کنیز تھیں۔
کنیزیں دو طریقوں سے اسلامی معاشرے میں داخل ہوتی تھیں: ایک یہ کہ مسلمانوں اور کفار کے درمیان ہونے والی جنگوں میں مسلمانوں کے ہاتھوں قیدی بن جاتیں،[10] اور دوسرا یہ کہ غیر اسلامی علاقوں سے خرید و فروخت کے ذریعے منتقل کی جاتیں تھیں۔[11] اسلام سے پہلے بھی مکہ جیسے علاقوں میں کنیزوں کی خرید و فروخت رائج تھی۔[12] صدرِ اسلام میں کنیزوں کی موجودگی قرآن[13] اور احادیث[14] دونوں میں نمایاں طور پر مذکور ہے۔[15] قرآن[16] میں ایک با ایمان کنیز کو مشرک آزاد عورت پر فضیلت دی گئی ہے۔[17] اسی طرح سورہ نور آیت نمبر 33 میں کنیزوں کو زنا پر مجبور کرنے اور اسے ذریعہ معاش قرار دینے کی ممانعت کی گئی ہے۔[18]
مالک اور کنیز کے درمیان جنسی تعلقات کو فقہ میں «ملکِ یمین» کے عنوان سے یاد کیا گیا ہے۔ ان احکام کے بارے میں فقہی مآخذ خاص کر کتاب النکاح کے مختلف ابواب میں بحث کی گئی ہے۔[19] تاہم اسلامی متون میں کنیزوں کے ساتھ انسانی اور اخلاقی سلوک روا رکھنے اور انہیں آزاد کرنے کی ترغیب بھی دی گئی ہے۔[20] اہل سنت کے بعض حدیثی مصادر میں پیغمبر اکرمؐ سے یہ سفارش نقل ہوئی ہے کہ کنیز کے لئے نرم اور محبت آمیز الفاظ جیسے «میری بیٹی» استعمال کئے جائیں۔[21]
شیعہ فقہی[22] اور روائی[23] منابع میں «کتاب العتق» کے عنوان سے مستقل ابواب موجود ہیں جو غلاموں اور کنیزوں کی آزادی کے احکام پر مشتمل ہیں۔ شہید مطہری کے مطابق یہ امر اس بات کی علامت ہے کہ اسلام نے غلامی (رق) کے بجائے آزادی (عتق) کو اہمیت دی ہے۔[24] اسلام میں کنیزوں کی آزادی کے طریقوں میں سے ایک اپنے مالک سے صاحبِ اولاد ہونا ہے۔[25] ایسی عورت کو فقہ میں «اُمِّ ولد» کہا جاتا ہے،[26] جو مالک کے انتقال کے بعد خود بخود آزاد ہو جاتی ہے۔[27]
فقہائے اسلام کے مطابق حجاب تمام مسلمان خواتین خواہ وہ آزاد ہوں یا کنیز[28] پر واجب ہے،[29]البتہ بعض روایات[30] میں مخصوص حالات کے تحت کنیزوں کے پردے اور لباس کے بارے میں کچھ استثنائی احکام کا ذکر ملتا ہے۔[31]
حوالہ جات
- ↑ دہخدا، لغتنامہ، ذیل واژہ «کنیز»۔
- ↑ دہخدا، لغتنامہ، ذیل واژہ «بردہ»۔
- ↑ مفید، الارشاد، 1413ھ، ج2، ص127۔
- ↑ مفید، الارشاد، 1413ھ، ج2، ص313۔
- ↑ مفید، الارشاد، 1413ھ، ج2، ص247۔
- ↑ مفید، الارشاد، 1413ھ، ج2، ص273۔
- ↑ مفید، الارشاد، 1413ھ، ج2، ص297۔
- ↑ مفید، الارشاد، 1413ھ، ج2، ص313۔
- ↑ شیخ مفید، الارشاد، 1413ھ، ج2، ص339۔
- ↑ زیدان، تاریخ تمدن اسلام، 1372شمسی، ج5، ص889؛ گرامی، نگاہی بہ بردگی، 1385شمسی، ص43۔
- ↑ حسینی طباطبائی، بردگی از دیدگاہ اسلام، 1372شمسی، ص14۔
- ↑ حسینی طباطبائی، بردگی از دیدگاہ اسلام، 1372شمسی، ص14، زورھ، شہر گمشدہ، 1394شمسی، ص79-80۔
- ↑ سورہ نساء، آیہ 25 و 92؛ سورہ احزاب، آیہ 59؛ سورہ مؤمنون، آيات 5-7۔
- ↑ حر عاملی، وسائل الشیعہ، کتاب العتھ، 1374شمسی، ج23
- ↑ ابن اسحاھ، کتاب السیر و المغازی، 1398ھ، ص191 و 263؛ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، تہران، 1374شمسی، ج21، ص413۔
- ↑ آیہ 221 سورہ بقرہ۔
- ↑ طباطبائی، المیزان، 1393ھ، ج2، ص204-205۔
- ↑ طبری، جامع البیان فی تفسیر القرآن، 1412ھ، ج18، ص104۔
- ↑ نجفی، جواہر الکلام، 1404ھ، ج30، ص284-292۔
- ↑ مکارم شیرازی، اسلام و آزادی بردگان، 1353شمسی، ص10-11۔
- ↑ بخاری، صحیح بخاری، 1422ھ، ج3، ص150۔
- ↑ نجفی، جواہر الکلام، 1362شمسی، ج34، ص86۔
- ↑ حر عاملی، وسائل الشیعہ، کتاب العتھ، 1374شمسی، ج23۔
- ↑ مطہری، آشنایی با علوم اسلامی، ج3، 1377شمسی، ص133۔
- ↑ نجفی، جواہر الکلام، 1362شمسی، ج34، ص372۔
- ↑ نجفی، جواہر الکلام، 1362شمسی، ج34، ص372۔
- ↑ نجفی، جواہر الکلام، 1362شمسی، ج34، ص377۔
- ↑ برای نمونہ نگاہ کنید بہ: فاضبل لنکرانی، تفصیل الشریعۃ، 1408ھ، 568-579۔
- ↑ علامہ حلی، مختلف الشیعہ، 1413ھ، ج2، ص98؛ طباطبایی یزدی، العروۃ الوثقی، 1419ھ، ج2، ص317۔
- ↑ حر عاملی، وسائل الشیعہ، 1416ھ، ج20، ص207۔
- ↑ مکارم شیرازی، کتاب النکاح، 1424ھ، ج1، ص55۔
مآخذ
- ابن اسحاھ، محمد، کتاب السیر و المغازی، دمشھ، دار الفکر، 1398ھ۔
- بخاری، محمد بن اسماعیل، صحیح البخاری، تحقیق محمد زہیر بن ناصر الناصر، دمشھ، دار طوق النجاۃ، پہلی اشاعت، 1422ھ۔
- حر عاملی، محمد بن حسن، وسائل الشیعہ، کتاب العتھ، قم، مؤسسۃ آل البیت لاحیاء التراث، تیسری اشاعت، 1374ش/1416ھ۔
- حسینی طباطبائی، مصطفی، بردگی از دیدگاہ اسلام، تہران، بنیاد دائرۃالمعارف اسلامی، پہلی اشاعت، 1372ہجری شمسی۔
- دہخدا، علی اکبر، لغت نامہ دہخدا، تہران، انتشارات دانشگاہ تہران، 1377ہجری شمسی۔
- دہخدا، علی اکبر، لغت نامہ، تہران، انتشارات دانشگاہ تہران، 1347ہجری شمسی۔
- زورھ، محمدحسن، شہر گمشدہ؛ فاطمہ چہ گفت...؟ مدینہ چہ شد...؟، تہران، دفتر نشر فرہنگ اسلامی، ساتویں اشاعت، 1394ہجری شمسی۔
- زیدان، جرجی، تاریخ تمدن اسلام، تحقیق علی جواہرکلام، تہران، امیر کبیر، 1372ہجری شمسی۔
- شیخ مفید، محمد بن محمد، الارشاد، تحقیق مؤسسہ آل البیت، قم، مؤسسہ آل البیت، 1413ھ۔
- طباطبائی، سید محمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن، بیروت، مؤسسۃ الاعلمی للمطبوعات، تیسری اشاعت، 1393ھ۔
- طباطبایی یزدی، سید محمدکاظم، العروۃ الوثقی، قم، مؤسسۃ النشر الاسلامی، پہلی اشاعت، 1419ھ۔
- طبری، محمد بن جریر، جامع البیان فی تفسیر القرآن، بیروت، دار المعرفۃ، 1412ھ۔
- علامہ حلی، حسن بن یوسف، مختلف الشیعۃ، قم، مؤسسۃ النشر الاسلامی، 1413ھ۔
- فاضل لنکرانی، محمد، تفصیل الشریعۃ (الصلاۃ)، قم، مرکز فقہی ائمہ اطہار(ع)، 1408ھ۔
- گرامی، محمدعلی، نگاہی بہ بردگی، قم، دفتر حضرت آیت اللہ العظمی گرامی، 1385ہجری شمسی۔
- مطہری، مرتضی، آشنایی با علوم اسلامی (مجموعہ آثار) تہران، انتشارات صدرا، 1377ہجری شمسی۔
- مکارم شیرازی، ناصر، اسلام و آزادی بردگان، قم، نشر آثار آیت اللہ مکارم شیرازی، پہلی اشاعت، 1353ہجری شمسی۔
- مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران، دار الکتب الاسلامیۃ، 1374ہجری شمسی۔
- مکارم شیرازی، ناصر، کتاب النکاح، تحقیق محمدرضا حامدی و مسعود مکارم، قم، مدرسہ امام علی بن ابی طالب، پہلی اشاعت، 1424ھ۔
- نجفی، محمدحسن، جَواہر الکلام فی شرحِ شرائعِ الاسلام، تصحیح عباس قوچانی و علی آخوندی، بیروت، دارُ اِحیاء التُّراثِ العربی، ساتویں اشاعت، 1362ہجری شمسی۔