مندرجات کا رخ کریں

مسودہ:باب جبرئیل

ویکی شیعہ سے
باب جبرئیل کا بیرونی منظر

باب جبرئیل مسجد نبویؐ کے ان دروازوں میں سے ایک ہے جو رسول اکرمؐ کے زمانے میں بھی موجود تھا۔ یہ دروازہ مسجد نبوی کے مشرق کی جانب واقع ہے۔ تاریخ کے مختلف ادوار میں اس کی جگہ کئی مرتبہ تبدیل ہوئی ہے۔ باب جبرئیل کا نام حضرت جبرئیلؑ سے اس کے تعلق کی نسبت سے رکھا گیا ہے۔ بعض شیعہ فقہاء نے اس دروازے سے مسجدِ نبوی میں داخل ہونے کو مستحب قرار دیا ہے۔

مقام اور ماجرائے تسمیہ

مسجد النبی باب جبرئیل کا محل وقوع

باب جبرئیل رسول اکرمؐ کے زمانے ہی سے مسجد نبوی کے داخلی دروازوں میں شمار ہوتا ہے۔[1] یہ دروازہ مسجدِ نبوی کی مشرقی دیوار کے قریب، روضہ رسول اکرمؐ کے شمال مشرق میں اور بابُ النساء کے نزدیک واقع ہے۔[2]

بعض شیعہ فقہاء نے بابِ جبرئیل کی جانب مسجدِ نبوی میں داخل ہونے کو مستحب قرار دیا ہے۔[3] اس حکم کی نسبت ان روایات کی طرف دی گئی ہے جن کے مطابق تغییرِ قبلہ[4] کے بعد رسول اکرمؐ اسی دروازے سے مسجد میں داخل ہوئے تھے۔[5]

ماجرائے تسمیہ

باب جبرئیل کا نام حضرت جبرئیل سے اس کے تعلق کی وجہ سے رکھا گیا ہے۔[6] بعض تاریخی مآخذ میں ذکر ہوا ہے کہ حضرت جبرئیلؑ رسول اکرمؐ سے ملاقات کے لیے اسی دروازے سے آمد و رفت کرتے تھے۔ اسی طرح ایک روایت میں بیان ہوا ہے کہ حضرت جبرئیلؑ اس مقام پر دحیہ کلبی کی صورت میں رسول اکرمؐ کے پاس دکھائی دیے۔[7] اس دروازے کا مقام جبرئیل کے قریب ہونا بھی اس نام کی ایک وجہ بیان کی گئی ہے۔[8]

دیگر اسامی

باب جبرئیل کے دیگر اسامی بھی بیان کیے گئے ہیں، جن میں باب عثمان، باب آلِ عثمان، بابُ الجنائز اور بابُ الجبر شامل ہیں۔ اسے بابِ عثمان کہنے کی وجہ یہ تھی کہ یہ عثمان بن عفان کے گھر کے بالمقابل واقع تھا۔[9] بابُ الجنائز کا نام اس دروازے سے جنازوں کے باہر لے جانے کے سبب رکھا گیا۔ چونکہ جنازوں کے ساتھ آنے والے افراد کے لیے میت کو اسی دروازے سے باہر لے جانا ضروری تھا، اس لیے اسے بابُ الجبر بھی کہا جاتا تھا۔[10]

تاریخی تبدیلیاں

تاریخ کے مختلف ادوار میں مسجدِ نبوی کی توسیع اور تعمیرِ نو کے ساتھ باب جبرئیل کی جگہ میں بھی تبدیلیاں ہوتی رہی ہیں۔ بعض روایات کے مطابق اس دروازے کی پہلی منتقلی غزوہ خیبر کے بعد 7 ہجری میں ہوئی، جب اسے تقریباً چار میٹر شمال کی جانب منتقل کیا گیا۔[11] عثمان بن عفان کے دور میں بھی مسجد نبوی کی مشرقی دیوار میں تبدیلی کے باعث اس دروازے کی جگہ تبدیل ہوئی اور یہ تقریباً تین میٹر پیچھے کی جانب منتقل ہوگیا۔[12] مہدی عباسی کے دور میں دروازے کی دونوں جانب عبارت "عَمَلُ أَہْلُ حِمْص" اور اس کے بیرونی حصے پر سورہ توبہ کو نقش کیا گیا تھا۔[13]

محققین کے مطابق عبد الحمید عثمانی نے سنہ 1201 ہجری میں باب جبرئیل کی تعمیرِ نو کرائی، اس کی اطراف کو سنگِ مرمر سے آراستہ کیا اور اس پر قرآن کی بعض آیات اور ایک شعر تحریر کروایا۔[14] سنہ 1212 ہجری میں بھی سلطان سلیم سوم کے حکم سے اس کی دوبارہ تعمیر کی گئی۔[15] سنہ 1265 ہجری میں عبد المجید عثمانی کے حکم سے زائرین کی آمد و رفت کو آسان بنانے اور نماز کے لیے مزید جگہ فراہم کرنے کی غرض سے پرانا دروازہ بند کردیا گیا اور اس سے تقریباً تین سے چار میٹر کے فاصلے پر ایک نیا دروازہ نصب کیا گیا۔[16] موجودہ باب جبرئیل وہی دروازہ ہے جو عبد المجید عثمانی کے دور میں بنایا گیا تھا اور اس کے اوپر آیت صلوات تحریر ہے۔[17]

حوالہ جات

  1. مطری، التعریف بما آنست الہجرہ، 1426ھ، ص103۔
  2. رفعت پاشا، مرآۃ الحرمین، 1344ھ، ج1، ص479۔
  3. شہید اول، الدروس الشرعیہ، 1417ھ، ج2، ص19؛ ابن‌براج، المہذب، 1406ھ، ج1، ص275.
  4. حلبی، السیرۃ الحلبیہ، 1400ھ، ج1، ص53؛ مطری، التعریف بما آنست الہجرہ، 1426ھ، ص103؛ ابن‌الضیاء، تاریخ مکۃ المشرفہ، 1424ھ، ص291۔
  5. صدوق، من لا یحضرہ الفقیہ،1404ھ، ج2، ص566؛ فیض کاشانی، مفاتیح الشرائع، ج1، ص397؛ بکری، اعانۃ الطالبین، 1418ھ، ج2، ص355-356۔
  6. ابن‌شبہ، تاریخ المدینہ،1410ھ، ج1، ص5۔
  7. سمہودی، وفاء الوفاء، 1419ھ، ج2، ص216۔
  8. خیاری، تاریخ معالم المدینہ، 1419ھ، ص89؛ رفعت پاشا، مرآۃ الحرمین، ج1، ص480۔
  9. مطری، التعریف بما آنست الہجرہ،1426ھ، ص103؛ ابن‌الضیاء، تاریخ مکہ المشرفہ، 1424ھ، ص291؛ رفعت پاشا، مرآۃ الحرمین، 1344ھ، ج1، ص480۔
  10. قائدان، تاریخ و آثار اسلامی، 1386شمسی، ص213۔
  11. قائدان، تاریخ و آثار اسلامی، 1386شمسی، ص213-214۔
  12. قائدان، تاریخ و آثار اسلامی،1386شمسی، ص213-214۔
  13. حربی، المناسک، 1401ھ، ص144۔
  14. صبری پاشا، موسوعۃ مرآۃ الحرمین، 1424ھ، ج4، ص625۔
  15. انصاری، تعمیر و توسعہ مسجد نبوی، 1378شمسی، ص155۔
  16. خیاری، تاریخ معالم المدینہ، 1419ھ، ص90-91۔
  17. رفعت پاشا، مرآۃ الحرمین، 1344ھ، ج1، ص479؛ صبری پاشا، موسوعۃ مرآۃ الحرمین،1424ھ، ج4، ص625۔

مآخذ

  • ابن‌براج، عبدالعزیر بن نحریر، المہذب، مقدمہ‌نویس: جعفر سبحانی تبریزی، قم، جماعۃ المدرسین فی الحوزۃ العلمیۃ بقم، 1406ھ۔
  • ابن‌شبہ نمیری، عمر بن شبہ، تاریخ المدینۃ المنورہ، تحقیق: محمدفہیم شلتوت، قم،‌ دار الفکر، 1410ھ۔
  • ابن‌ضیاء، محمد بن احمد، تاریخ مکۃ المشرفۃ و المسجد الحرام و المدینۃ الشریفۃ و القبر الشریف، بہ کوشش علاء و ایمن، بیروت، دار الکتب العلمیہ، 1424ھ۔
  • انصاری، ناجی محمد حسن، تعمیر و توسعہ مسجد شریف نبوی، مترجم: عبدالحمید آیتی، تہران، نشر مشعر، 1378ہجری شمسی۔
  • بکری، عثمان بن محمد، إعانۃ الطالبین علی حل ألفاظ فتح المعین (ہو حاشیۃ علی فتح المعین بشرح قرۃ العین بمہمات الدین)، بیروت، دار الفکر، 1418ھ۔
  • حربی، ابراہیم بن اسحاق، المناسک و اماکن طرق الحج، تحقیق: حمد جاسر، ریاض،‌ دار الیمامہ، 1401ھ۔
  • حلبی، علی بن ابراہیم، السیرۃ الحلبیۃ من انسان العیون فی سیرۃ الأمین المأمون المعروفۃ بالسیرۃ الحلبیۃ، بیروت، دار المعرفہ، 1400ھ۔
  • خیاری، احمد یاسین احمد، تاریخ معالم المدینۃ المنورۃ قدیما و حدیثا، ریاض، المملکۃ العربیۃ السعودیۃ، الأمانۃ العامۃ للإحتفال بمرور مائۃ عام علی تأسیس المملکۃ 1419ھ۔
  • رفعت پاشا، ابراہیم، مرآۃ الحرمین، قاہرہ، مطبعۃ دارالکتب المصریۃ، 1344ھ۔
  • سمہودی، علی بن عبداللہ، وفاء الوفاء بأخبار دار المصطفی، تحقیق: محمد محیی‌الدین عبدالحمید، بیروت، دار الکتب العلمیۃ، 1419ھ۔
  • شہید اول، محمد بن مکی، الدروس الشرعیۃ فی فقہ الإمامیۃ، قم، مؤسسۃ النشر الاسلامی التابعۃ لجماعۃ المدرسین، دوسری اشاعت، 1417ھ۔
  • صبری پاشا، ایوب، موسوعۃ مرآۃ الحرمین الشریفین و جزیرۃ العرب، مترجم: محمد حرب، قاہرہ، دار الآفاق العربیہ، 1424ھ۔
  • صدوق، محمد بن علی، مَن لا یَحضَرُہُ الفقیہ، تحقیق و تصحیح علی‌اکبر غفاری، قم، دفتر انتشارات اسلامی وابستہ بہ جامعہ مدرسین حوزۂ علمیہ قم، دوسری اشاعت، 1404ھ۔
  • فیض کاشانی، محمد بن شاہ‌مرتضی، مفاتیح الشرائع، تحقیق: مخدی رجایی قم، مجمع الذخائر الإسلاميۃ، 1401ھ۔
  • قائدان، اصغر، تاریخ و آثار اسلامی مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ، تہران، مشعر، 1386ہجری شمسی۔
  • مطری، محمد،، التعریف بما انست الہجرۃ من معالم دار الہجرۃ، تخقیق: سلیمان رحیلی، ریاض، المملکۃ العربیۃ السعودیۃ، ادارۃ الملک عبدالعزیز، 1426ھ۔
  • واقدی، محمد بن عمر، کتاب المغازی، تحقیق: مارزدن جونز، بیروت، مؤسسۃ الأعلمی للمطبوعات، 1409ھ۔