عدّت

ویکی شیعہ سے
(عدت سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
مشہور احکام
توضیح المسائل2.png
نماز
واجب نمازیں یومیہ نمازیںنماز جمعہنماز عیدنماز آیاتنماز میت
مستحب نمازیں نماز تہجدنماز غفیلہنماز جعفر طیارنماز امام زمانہنماز استسقاءنماز شب قدرنماز وحشتنماز شکرنماز استغاثہدیگر نمازیں
دیگر عبادات
روزہخمسزکاتحججہاد
امر بالمعروف و نہی عن المنکرتولیتبری
احکام طہارت
وضوغسلتیممنجاساتمطہرات
مدنی احکام
وکالتوصیتضمانتکفالتارث
عائلی احکام
شادی بیاهمتعہتعَدُّدِ اَزواجنشوز
طلاقمہریہرضاعہمبستریاستمتاع
عدالتی احکام
قضاوتدیّتحدودقصاصتعزیر
اقتصادی احکام
خرید و فروخت (بیع)اجارہقرضسود
دیگر احکام
حجابصدقہنذرتقلیدکھانے پینے کے آدابوقفاعتکاف
متعلقہ موضوعات
بلوغفقہشرعی احکامتوضیح المسائل
واجبحراممستحبمباحمکروہ

عدّت ایک فقہی اصطلاح ہے جو اس معین مدت کو کہا جاتا ہے جس میں کسی شادی شدہ عورت کو طلاق یا کسی اور وجہ سے اپنے شوہر یا اس شخص سے جس نے اس کے ساتھ غلطی سے ہمبستری کی ہے، سے جدا ہونے کے بعد دوسری شادی سے اجتناب کرنا ضروری ہے۔

شادی شدہ مرد اور عورت کے درمیان علیحدگی کے اسباب درج ذیل ہیں: طلاق، نکاح کی منسوخی، شوہر کی وفات، نکاح متعہ میں معینہ مدت کا ختم یا شوہر کی طرف سے بخش دینا یا غلطی سے ہمبستری ہونے کی صورت میں غلطی کا علم ہونا۔

عدّت کی مدت، میاں بیوی کے درمیان جدائی کے اسباب جیسے شوہر کی وفات یا طلاق؛ نکاح کی نوعیت جیسے دائم یا موقت؛ حیض دیکھنا یا نہ دیکھنا اور حاملہ ہونا یا نہ ہونے کی بنا پر مختلف ہو سکتی ہے۔[1]

عدہ ایک شرعی حکم ہے اس بنا پر ان موارد میں جہاں خود عورت کو یقین ہو کہ وہ حاملہ نہیں ہے پھر بھی اس پر واجب ہے معینہ مدت تک صبر کرے اور شادی سے اجتناب کرے۔ عدہ کے دوران اگر شادی انجام پائے تو یہ شادی حرام اور باطل ہو گی اور اکثر مواقع پر یہ ہمیشہ کیلئے ان دونوں کے ایک دوسرے پر حرام ہونے کا باعث بنتا ہے۔ بعض عورتوں جیسے یائسہ عورت یا نابالغ لڑکی کیلئے عدہ نہیں ہے۔

طلاق رجعی کے عدہ کے دوران عورت کا خرچہ شوہر پر واجب ہے لیکن طلاق بائن میں صرف عورت کے حاملہ ہونے کی صورت میں اس کا خرچہ وضع حمل تک شوہر پر واجب ہے۔

عدّت کی حقیقت

عدّت کا لفظ "ع د د" کے مادے سے ہے جس کا معنی گروہ اور گننے کے ہیں جبکہ فقہی اصطلاح میں عدہ سے مراد وہ معینہ مدت ہے جس میں کسی شادی شدہ عورت کو طلاق یا کسی اور وجہ سے اپنے شوہر یا اس شخص سے جس نے اس کے ساتھ غلطی سے ہمبستری کی ہے، سے جدا ہونے کے بعد دوسری شادی سے اجتناب کرنا ضروری ہے۔

فقہی اصطلاح میں بھی چونکہ عورت ان دنوں کو گنتی رہتی ہے تاکہ شادی اور دوسرے احکام کے حوالے سے اس کی ممنوعیت ختم ہو جائے اس لئے اسے عدہ کا نام دیا گیا ہے۔

حسب و نسب کی حفاظت اور اسے مخلوط ہونے سے بچانا، شادی اور شوہر کا احترام(عدہ وفات میں) اور زوجین کو دوبارہ رجوع کا موقع دینا(عدہ طلاق رجعی میں) وغیرہ کو عدہ کی تشریع کا فلسفہ یا حکمت قرار دیا گیا ہے اسی وجہ سے اگر عورت کو یقین بھی ہو کہ وہ حاملہ نہیں ہے پھر بھی اسے معینہ مدت تک صبر کرنا ضروری اور واجب ہے۔ [2]

اقسام عدّت

میاں بیوی کے درمیان جدائی کے اسباب اور نکاح کی نوعیت وغیرہ کو مد نظر رکھتے ہوئے عدہ کی مختلف اقسام ہیں:

عدّت طلاق

وہ عورت جو ہر مہینے یا ہر تین مہینے بعد کم از کم ایک دفعہ حیض دیکھتی ہے، طلاق یا نکاح کے منسوخ ہونے کے بعد عدہ کی مدت جیسا کہ قرآن[3] میں بھی اس کی تاکید کی گئی ہے، تین "قُرء" یعنی پاکی ہے۔ یہاں "قرء" سے مراد خون حیض اور نفاس سے پاکی کے ایام ہیں۔ بنابراین، چونکہ طلاق بھی حیض اور نفاس سے پاکی کے ایام واقع ہوتی ہے اس بنا پر طلاق کے بعد پہلا حیض دیکھنے تک اگرچہ مدت کم ہی کیوں نہ ہو ایک "قرء" شمار ہو گی اس طرح طلاق کے بعد تیسری دفعہ حیض دیکھتے ہی عدہ کی مدت ختم ہو جاتی ہے اور عورت اس کے بعد شادی کر سکتی ہے۔[4]

اکثر مراجع کے فتوے کے مطابق وہ عورت جو حیض نہیں دیکھتی لیکن حیض دیکھنے کی عمر میں ہوتی ہیں، ان کی عدہ کی مدت تین قمری مہینے ہیں۔

عدّت طلاق کی کم سے کم مدت جو فرض کی جا سکتی ہے وہ ۲۶ دن ہیں۔

مشہور فقہا کے مطابق حاملہ عورت کی عدّت وضع حمل تک ہے اگرچہ وہ طلاق کے فورا بعد ہی وضع حمل کیوں نہ ہو جائے۔[5] وضع حکم کے ذریعے عدّت کے ختم ہونے میں بچے کی ولادت اور سقط جنین میں کوئی فرق نہیں ہے۔[6]

عدّت وفات

شوہر کی وفات کی صورت میں اگر بیوی حاملہ نہ ہو تو چار مہینے دس دن عدّت گزارنا واجب ہے۔ اس بارے میں میاں بیوی کے بالغ اور غیر بالغ نیز عقد دائم اور غیر دائم میں کوئی فرق نہیں ہے اسی طرح ہمبستری ہونا پر شرط نہیں ہے۔ لیکن حاملہ ہونے کی صورت میں وضع حمل اور عدّت وفات میں سے جو بھی زیاد ہو اسی مقدار میں عدت گزارنا واجب ہے۔[7]

عدّت متعہ (نکاح موقت)

اکثر فقہا کے فتوے کے مطابق عدّت متعہ، عقد کی مدت کے ختم ہونے یا شوہر کی طرف سے بخش دینے کے بعد سے دو دفعہ حیض دیکھنے کی مدت تک ہے۔ اس بارے میں دیگر اقوال 45 دن، دو پاکی کے ایام اور ایک حیض دیکھنے کی مدت بھی ہیں۔[8]

وہ عورت جو یائسہ بھی نہیں ہے لیکن حیض بھی نہیں دیکھتی اس کی عدّت کی مدت عدّت ۴۵ دن ہیں۔ اسی طرح وہ عورت جس کی حیض کی عادت نامنظم ہو اس کی عدّت بعض فقہاء کی تصریح کے مطابق 45 دن اور دو حیض میں سے سے جو بھی پہلے واقع ہو وہی ان کی عدّت ہے۔ [9]

حاملہ ہونے کی صورت میں وضع حمل اور چار مہینہ دس دن میں سے جو بھی زیادہ ہو وہی اس کی عدّت ہو گی۔[10]

غلطی سے ہمبستر ہونے عدّت

اگر کوی شخص کسی عورت کے ساتھ غلطی سے ہمبستری کرے تو اس عورت کو عدّت گزاری پڑیگی اور اگر وہ عورت شوہر والی ہو تو اس کا شوہر بھی عدّت کے دوران اس سے ہمبستری نہیں کر سکتا۔ ہمبستری کے علاوہ دوسری لذات کے جائز ہونے کے بارے میں اختلاف نظر پایا جاتا ہے۔[11] ہر صورت میں عدّت کے دوران بیوی کا خرچہ اس کے شوہر کے ذمہ ہے۔ [12]

شوہر دار عورت سے غلطی سے ہمبستری کرنا زنا کے حکم میں نہیں ہے یعنی وہ عورت اس مرد پر ہمیشہ کیلئے حرام نہیں ہوتی ہے۔[13]

غلطی سے ہمبستری کرنے کی عدّت بھی عدّت طلاق کی طرح ہے۔[14] اگر غلطی مرد کی طرف سے ہو تو عدّت ثابت ہے اگرچہ عورت اس ہمبستری کے حرام ہونے کے بارے میں آگاہ ہی کیوں نہ ہو لیکن اگر غلطی عورت کی جانب سے ہو تو عدّت کا ثابت ہونا محل اختلاف ہے۔[15]

عدّت مفقود الاثر

اگر شوہر مفقود الاثر ہو؛ اس طرح کہ اس کے بارے میں کوئی اطلاعات نہ ہو نہ مرنے کی خبر ہو اور نہ زندہ ہونے کی اور کوئی اس کا کوئی مال بھی نہ ہو جس سے اس کی بیوی کا خرچہ دیا جا سکے اور کوئی اور بھی عورت کے اخراجات برداشت نہ کرنے والا نہ ہو تو قول مشہور کی بنا پر عورت حاکم شرع سے طلاق کی درخواست کر سکتی ہے۔اس صورت میں عورت طلاق کے بعد عدّت وفات کی مقدار عدّت گزارے گی جس کے بعد وہ دوسری شادی کر سکتی ہے۔[16]

بعد میں اگر شوہر واپس آجائے تو اگر عورت عدّت میں ہو تو اس سے رجوع کر سکتا ہے (یعنی نکاح پڑھے بغیر دوبارہ اسے اپنی بیوی بنا سکتا ہے)؛ لیکن اگر عدّت گزارنے کے بعد دوسری شادی کی ہو تو پہلے شوہر کے لئے رجوع کی حق نہیں ہے لیکن عدّت تمام ہونے کے بعد ابھی دوسری شادی نہ کی ہو تو آیا پہلا شوہر رجوع کر سکتا ہے یا نہیں اختلاف نظر پایا جاتا ہے۔ مشہور قول کی بنا پر نکاح پڑھے بغیر رجوع کرنا جائز نہیں ہے۔[17]

زناکار عورت کی عدّت

غیر شادی شدہ عورت اگر زنا کا مرتکب ہو اور اسی سے وہ حاملہ ہ جائے تو اس کی کوئی عدّت نہیں ہے۔ مشہور قول کی بنا پر زنا کا مرتکب ہونے والی غیر شادی شدہ عورت اگر حاملہ نہ بھی ہو تو بھی اس کی کوئی عدّت نہیں ہے۔ لیکن جو شخص اس عورت سے شادی کرنا چاہتا ہے اسے ایک حیض دیکھنے تک صبر کرنا مستحب ہے۔ تاکہ اس کے ذریعے اس کی رحم پاک ہو جائے پھر اس سے شادی کرے۔ [18] قول غیر مشہور کے مطابق زنکار عورت اگر حاملہ نہ ہو تو عدّت گزارنا واجب ہے اور اس کی عدّت ایک دفعہ حیض دیکھنے کی مدت ہے۔[19]

شوہر کے مرتد ہونے کی عدّت

چنانچہ اگر شوہر بیوی سے ہمبستر ہونے کے بعد مرتد ملّی ہو جائے تو بیوی کو عدّت طلاق گزارنا پڑیگا۔ شوہر توبہ کرنے کے بعد بیوی سے رجوع کر سکتا ہے لیکن اگر توبہ نہ کرے اور عدّت ختم ہوجائے تو بیوی اس سے جدا ہو گی پھر شوہر کو رجوع کرنے کا حق نہیں ہے۔

اگر شوہر مرتد فطری ہو جائے تو مرتد ہوتے ہی خود بخود بیوی شوہر سے جدا ہو گی اور عدّت وفات گزارے گی اس کے بعد کسی اور مرد سے شادی کر سکتی ہے۔

اگر بیوی مرتد ہوجائے چاہے مرتد ملّی یا فطری، تو زوجیت کا بندھن، عدّت کے اختتام تک باقی رہے گی اگر اس مدت کے اندر عورت توبہ کرے اور دوبارہ اسلام قبول کرے تو شوہر اس سے رجوع کر سکتا ہے۔[20]

عدّت کے احکام

عدّت کے دوران مرد اور عورت پر بعض احکام لاگو ہوتے ہیں۔

عدّت کے دوران شادی بیاہ کا حرام ہونا

عدّت گزارنے والی عورت کے ساتھ شادی حرام اور باطل ہے چاہے دائمی ہو یا موقتی؛ طلاق کی عدّت گزار رہی ہو یا وفات کی یا کسی اور سبب سے کوئی فرق نہیں ہے۔ اسی طرح مذکورہ حکم میں طرفین حکم شرعی(یعنی عدّت کے دوران شادی کا حرام ہونا) یا اس کے موضوع(عورت کا عدّت میں ہونا) کو جانتے ہوں یا نہیں کوئی فرق نہیں ہے۔[21]

عدّت گزارنے والی عورت سے شادی کرنا، باوجود اس کے کہ جانتا ہو عورت عدّت گزار رہی ہے اور اس دوران شادی کرنا حرام ہے، ان دونوں کا ایک دوسرے پر ہمیشہ کیلئے حرام ہونے کا سبب بنتا ہے خواہ ہمبستری کی ہو یا نہیں۔ لیکن حکم شرعی یا اس کے موضوع میں سے دونوں یا کسی ایک سے جاہل ہو تو صرف ہمبستری کی صورت میں ہمیشہ کیلئے حرام ہو گی وگرنہ نہیں۔

مرد اور عورت دونوں یا ان میں سے کوئی ایک حکم شرعی یا اس کے موضوع سے جاہل ہوں اور ہمبستری بھی نہیں ہوئی ہو تو عدّت کے ختم ہونے کے بعد ان دونوں کے شادی کرنے میں کوئی اشکال نہیں ہے۔[22]

عدّت کے دوران زنا کا حکم

عدّت طلاق رجعی گزارنے والی عورت سے زنا کرنا اس عورت کے مرد پر ہمیشہ کیلئے حرام ہونے کا سبب بنتا ہے۔ لیکن عدّت، وفات، طلاق بائن، متعہ، غلطی سے ہمبستری کرنے اور نکاح کے منسوخی کی وجہ سے ہو اور اس سے زنا کرے تو اس کے ہمیشہ کیلئے حرام ہونے کا سبب نہیں بنتا ہے ہے اور یہ دونوں عدت تمام ہونے کے بعد ایک دوسرے سے شادی کر سکتے ہیں۔ [23]

عدّت کے دوران رشتہ مانگنے کا حکم

عدّت طلاق رجعی گزارنے والی عورت سے صراحتا یا کنایۃ رشتہ مانگنا جائز نہیں ہے لیکن عدّت طلاق بائن گزارنے والی عورت سے کنایۃ رشتہ مانگنا شوہر اور غیر شوہر سب کیلئے جائز ہے۔ اگرچہ شوہر کیلئے صرحتا بھی رشتہ مانگنا جائز ہے چون عدّت کے دوران بھی شوہر کا اس سے شادی کرنے میں کوئی اشکال نہیں ہے۔[24]

عدّت کے دوران شوہر کے گھر سے نکانا یا نکل جانے کا حکم

عدّت طلاق رجعی کے دوران بیوی کو گھر سے نکالنا جائز نہیں ہے مگر یہ کہ عورت کسی غیر شرعی کام کا مرتکب ہو جائے یا گھر والوں کی آزار و اذیت کا باعث بنے۔ اسی طرح خود عورت کا اس دوران شوہر کی اجازت کے بغیر گھر سے باہر نکنا جانا بھی جائز نہیں ہے۔[25]

عدّت کے دوران بیوی کا خرچہ

عدّت طلاق رجعی کے دوران عورت کا خرچہ شوہر پر واجب ہے لیکن طلاق بائن کی عدّت گزارنے والی عورت کا خرچہ صرف اس صورت میں شوہر پر واجب ہے کہ بیوی حاملہ ہو دوسری صورت میں شوہر پر کچھ واجب نہیں ہے۔

عدّت طلاق رجعی میں عورت کا خرچہ بیوی کے خرچہ کے حکم میں ہے۔ بنابراین، اگر عورت کو نشوز کی حالت میں طلاق ہوئی ہو یا ایام عدّت میں اپنے وظائف پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے ناشزہ محسوب ہو جائے تو اس کا خرچہ شوہر پر واجب نہیں ہے.[26]

عدّت وفات کے دوران بناؤسنگار کا حکم

شوہر کی وفات پر عدّت گزارنے والی عورت پر وہ تمام چیزیں حرام ہیں جو زینت شمار ہوتی ہیں۔[27]

وہ عورتیں جن کی عدّت نہیں ہوتیں

وہ عورت جس سے نکاح کے بعد ہمبستری (قُبُل میں یا دُبُر میں) نہیں ہوئی ہے اس کی عدّت نہیں ہے؛ چاہے اس کی جدایی کا سبب طلاق، فسخ یا بذل یا اتمام مدّت ہو۔ لیکن اگر اس کی جدایی کا سبب شوہر کی وفات ہو تو عدّت گزارنا واجب ہے۔ [28] اکثر فقہاء کے فتوے کے مطابق نابالغ لڑکی اور یائسہ عورت کی بھی کوئی عدّت نہیں ہے۔ غیر مشہور قول کے مطابق ان کو بھی تین ماہ عدّت گزارنا واجب ہے۔[29]

حوالہ جات

  1. جواہرالکلام، ج۳۲، ص۲۱۱؛ مہذب الاحکام، ج۲۶، ص۷۴
  2. مفاتیح الشرائع، ج۲، ص۳۴۸؛ الحدائق الناضرۃ، ج۲۳، ص۲۶۶
  3. بقرہ/ ۲۲۸
  4. جواہر الکلام، ج۳۲، ص۲۱۹؛ توضیح المسائل مراجع، ج۲، ص۵۲۴ مسالہ۲۵۱۱؛ جواہر الکلام، ج۳۲، ص۲۳۰ و ۲۳۶ ۲۳۷؛ الروضۃ البہیۃ، ج۶، ص۵۸-۵۹؛ ریاض المسائل، ج۱۱، ص۱۱۷
  5. جواہر الکلام، ج۳۲، ص۲۵۲
  6. جواہر الکلام، ج۳۲، ص۲۵۲-۲۵۴
  7. جواہرالکلام ج۳۲ ص۲۷۴ ۲۷۵
  8. مختلف الشیعۃ، ج۷، ص۲۳۱ -۲۳۲؛ التنقیح الرائع، ج۳، ص۱۳۲-۱۳۳؛ جواہر الکلام، ج۳۰، ص۱۹۶
  9. جواہر الکلام، ج۳۰، ص۱۹۹
  10. جواہرالکلام، ج۳۰، ص۲۰۰
  11. العروۃ الوثقی‏ (تکملۃ) ج۲، ص۱۰۵-۱۰۶.
  12. العروۃ الوثقی‏ (تکملۃ) ج۲، ص۱۰۶.
  13. جواہر الکلام ج۲۹، ص۴۴۶
  14. جواہرالکلام، ج۳۲، ص۳۴۰ و ۳۷۸
  15. جواہرالکلام، ج۳۲، ص۳۷۸-۳۷۹
  16. جواہرالکلام، ج۳۲، ص۲۹۳ ۲۹۴
  17. مسالک الافہام، ج۹، ص۲۸۹-۲۹۰؛ الحدائق الناضرۃ، ج۲۵، ص۴۹۳-۴۹۴
  18. العروۃ الوثقی، ج۵، ص۵۳۲-۵۳۳
  19. تحریر الاحکام، ج۴، ص۱۶۰؛ مفاتیح الشرائع، ج۲، ص۳۴۴؛ الحدائق الناضرۃ، ج۲۳، ص۵۰۴
  20. الحدائق الناضرۃ، ج۲۴، ص۲۷-۲۸؛ جواہر الکلام، ج۳۰، ص۷۹-۸۰
  21. جواہرالکلام ج۲۹، ص۴۲۸
  22. جواہرالکلام، ج۲۹، ص۴۳۰ ۴۳۷
  23. جواہرالکلام، ج۲۹، ص۴۴۶
  24. جواہرالکلام، ج۳۰، ص۱۱۹-۱۲۳
  25. جواہرالکلام، ج۳۲، ص۳۳۰-۳۳۴؛ منہاج الصالحین (خویی)، ج۲، ص۳۰۲-۳۰۳
  26. جواہر الکلام، ج۳۱، ص۳۱۶-۳۲۱
  27. جواہرالکلام، ج۳۲، ص۲۷۶
  28. جواہر الکلام، ج۳۲، ص۲۱۱-۲۱۲
  29. جواہرالکلام، ج۳۲، ص۲۳۲-۲۳۳


منابع

  • التنقیح الرائع، مقداد بن عبداللہ سیوری حلی، مکتبۃ المرعشی النجفی، قم، ۱۴۰۴ق.
  • الحدائق الناضرۃ، یوسف بحرانی، مؤسسۃ النشر الاسلامی، قم.
  • الروضۃ البہیۃ، زین الدین بن علی العاملی، شہید ثانی، مکتبۃ الداوری، قم.
  • العروۃ الوثقی، سید محمد کاظم طباطبایی یزدی، مؤسسۃ النشر الاسلامی، قم.
  • المختصر النافع، محقق حلی، دارالاضواء، بیروت.
  • جواہر الکلام، محمد حسن نجفی، دار احیاء التراث، بیروت.
  • ریاض المسائل، سید علی طباطبایی، مؤسسۃ النشر الاسلامی، قم.
  • مختلف الشیعۃ، علامہ حلی، مکتب الاعلام الاسلامی، قم.
  • مسالک الافہام، زین الدین بن علی العاملی الشہید الثانی، مؤسسۃ المعارف الاسلامیۃ، قم، ۱۴۱۴ق.
  • مستمسک العروۃ، سید محسن طباطبایی حکیم، دار احیاء التراث العربی، بیروت.
  • منہاج الصالحین (خویی)، سید ابوالقاسم الموسوی الخویی، چاپ مہر، قم، ۱۴۱۰ق.
  • مہذب الاحکام، سید عبدالاعلی سبزواری، مؤسسۃ المنار، قم.
  • نہایۃ التقریر، محمد موحدی لنکرانی، انتشارات فقہ، قم، ۱۴۳۰ق.