جامع احادیث الشیعہ (کتاب)

ویکی شیعہ سے
(جامع احادیث الشیعہ سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
جامع احادیث الشیعہ
جامع احادیث الشیعه.jpg
مؤلف: سید حسین بروجردی
زبان: عربی
موضوع: احادیث شیعہ
تعداد مجلد: ۳۱ جلد
اشاعت: ۱۴۲۲ھ
ناشر: المہر
محل نشر: قم


جامِعُ أحادیثِ الشّیعَۃ فی احکام الشریعہ عربی زبان کی ایک کتاب ہے جو شیعہ فقہی احادیث پر مشتمل ہے۔ یہ کتاب آیت اللہ بروجردی کی تجویز سے ان کے شاگردوں میں سے ایک گروہ خاص کر اسماعیل معزی ملایری نے تالیف کی ہے۔

1370ھ کو وسایل الشیعہ میں موجود بعض کمی کو دور کرنے کی غرض سے اس کتاب کی تدوین شروع ہوئی اور بعد میں دوسرے حدیثی مصادر بھی اس مین شامل کئے گئے۔ جامعیت، عدم تقطیع احادیث، باب‌ بندی، آیات الاحکام شامل کرنا اور فقہی احادیث کو آداب اور اخلاقی احادیث سے الگ کرنا جامع احادیث شیعہ کی خصوصیات میں شمار ہوتی ہیں۔ اس کتاب کی تدوین 1370ھ کو شروع ہوئی اور دس سال کے بعد پہلی جلد منظر عام پر آگئی۔ جامع احادیث 26 جلدوں اور 31 جلدوں پر مشتمل چھپ گئی اور 31 جلدوں پر مشتمل نسخہ منابع فقہ شیعہ کے نام سے فارسی میں ترجمہ بھی ہوگیا۔

مؤلفین

جامع الاحادیث، مراجع تقلید میں سے آیت‌اللہ بروجردی (متوفی 1380ھ) کی سرپرستی میں ان کے بیس شاگردوں کی مدد سے لکھی گئی۔[نوٹ 1]سات سال کے عرصے میں کتاب کے خام مطالب تیار ہوئے۔ اسماعیل معزی ملایری، علی‌پناہ اشتہاردی اور محمد واعظ‌زادہ خراسانی نے اس پر نظر ثانی کی۔ کتاب کو اسماعیل معزی ملایری نے مختلف ابواب میں تقسیم کیا۔[1] 1370ھ کو آیت اللہ بروجردی نے کتاب تدوین کرنے کی تجویز پیش کی۔[2]

اہمیت

جامع احادیث الشیعہ میں دوسری صدی ہجری سے چودھویں صدی ہجری تک کی شیعہ احادیث کے سو سے زیادہ مصادر شامل ہیں۔[3]اس لئے اسے کے فارسی ترجمے کو «منابع فقہ شیعہ» نام دیا گیا۔[4]اس کتاب میں احادیث کی تعداد 48342 تک پہنچتی ہے۔[5]

آیت اللہ بروجردی جامع احادیث الشیعہ کو اپنی عمر کا ماحصل قرار دیتے ہیں۔[6] امام خمینی جیسے بعض مراجع تقلید بھی اس کتاب سے استفادہ کرتے تھے۔[7] مراجع تقلید میں سے آیت اللہ سبحانی اس کتاب کی باب بندی اور نظم اور ترتیب کو سراہتے ہیں اور انکا کہنا ہے کہ یہ کتاب فقیہ کو شیعہ احادیث کی کسی دوسری کتاب کی طرف رجوع کرنے سے بےنیاز کرتی ہے۔[8]

تألیف کا سبب

اس کتاب کی تدوین کی تجویز دینے کی وجہ وسائل الشیعہ میں موجود کمزوریاں ذکر ہوئی ہیں[9] جو اجتہاد کی رفتار کو سست کرنے کے باعث بنتی ہیں۔[10]جن میں سے ایک تقطیع احادیث (احادیث کے بعض حصے کو بیان کرنا) جو احادیث کو مکرر ذکر کرنے کا باعث بنتی ہے جس سے کتاب کا حجم زیادہ ہونے کے ساتھ ساتھ روایت کی ابتدا اور انتہا کا رابطہ بھی کٹ جانے کا باعث بنتی ہے۔ اور تقطیع روایات کی وجہ سے مؤلف تکرار سے بچتے ہوئے ہر قطعے میں حدیث کی ایک ہی سند ذکر کرتا ہے جبکہ مختلف اسناد ذکر کرنے کے مختلف فوائد ہیں۔ مثال کے طور پر بعض دفعہ روایت مستفیض ہونے پر دلالت کرتی ہے۔[11]

اس کتاب کو لکھنے والوں میں سے ایک محمد واعظ‌زادہ خراسانی کا کہنا ہے کہ اس کتاب کا آغاز صرف وسائل الشیعہ کو مدنظر رکھ کر کیا گیا تھا۔اسی لیے شروع میں اس کا نام بھی «تہذیب الوسائل» رکھا گیا تھا؛[12] لیکن بعد میں تمام شیعہ فقہی احادیث کی کتابیں، کتب اربعہ، مستدرک الوسائل اور دوسری حدیثی مجموعوں کو بھی شامل کرنے کا عزم کیا۔[13] اسی لیے آیت اللہ بروجردی نے اس کا نام جامع احادیث الشیعہ رکھا۔[14]

آیت اللہ بروجردی نے تدوین شروع کرنے کے ایک سال بعد یہ طے کیا کہ ہر باب کے آخر میں اہل سنت کی احادیث بھی ذکر کی جائیں تاکہ اہل سنت کو یہ سمجھایا جاسکے کہ جن فروعات کو تم لوگ قیاس اور استحسان نے حاصل کرتے ہیں انہیں روایات سے بھی حاصل کیا جاسکتا ہے۔[15]آپ قائل تھے کہ شیعہ فقہ، اہل سنت کی فقہ کے تناظر میں ہے تو اس لیے اہل سنت علما کے فتوے اور ان کی روایات، احادیث کو صحیح سمجھنے میں موثر ہیں۔[16]

یہ کام اسی نہج پر کتاب طہارت کے آخر تک انجام پایا لیکن اس کے بعد آیت اللہ بروجردی اپنے فیصلے سے منصرف ہوئے۔ اس انصراف کی وجہ انکا اپنے بیٹے محمد حسن سے موثر ہونا قرار دیا گیا ہے کیونکہ ان کا کہنا تھا کہ لوگ کہیں گے کہ شیعہ علماء اہل بیت کی احادیث کو دوسروں کی احادیث سے الگ کرتے تھے لیکن آیت اللہ بروجردی نے انہیں دوبارہ سے مخلوط کردیا۔[17]

مضامین

اس کتاب کا آغاز ایک دیباچہ یا مقدمے سے ہوتا ہے جس میں تدوین کے مراحل کا تذکرہ ہے۔[18] مقدمہ کے دیگر مطالب میں پیغمبر اسلامؐ اور اہل بیتؑ کی سنت کی حجیت،[19] قیاس کا جائز نہ ہونا اور عبادتوں میں نیت واجب ہونے اور بعض دیگر مطالب شامل ہیں۔[20]

اس مقدمہ کی تدوین آیت اللہ بروجردی نے شروع کیا اور ان کی وفات کے بعد ان کے بیٹے نے اسے پایہ تکمیل تک پہنچا دیا۔[21]

اس کتاب میں ابواب فقہ بالترتیب عبادات سے قصاص اور دیات تک تدوین ہوچکے ہیں۔[22]

خصوصیات

جامع احادیث الشیعہ کے مقدمے میں اس کتاب کی 23 خصوصیات ذکر ہوئی ہیں جن میں سے بعض مندرجہ ذیل ہیں:

  1. احادیث تقطیع نہ ہونا: ہر حدیث کا پورا متن اس کے سند کے ساتھ سب سے زیادہ مناسب باب میں ذکر کیا ہے۔
  2. فقہ کے ایک مسئلہ سے مربوط تمام روایات کو ایک ساتھ ذکر کرنا۔
  3. احادیث کی سند اور متن کو ملانا: اگر کوئی حدیث سابقہ کسی حدیث سے سند کے اعتبار سے مشترک ہو تو مشرک حصے والی سند کو ذکر کرنے سے گریز کیا ہے اور «بہذا الإسناد» کی عبارت سے اسے مشخص کیا گیا ہے۔
  4. ہر باب سے مربوط آیات کو قرآنی ترتیب کے مطابق اس باب کے ابتدا میں ذکر کیا ہے۔
  5. سُنَن، آداب اور ادعیہ سے مربوط احادیث کو فقہی احکام سے مربوط روایت سے الگ کرکے الگ ایک جلد میں درج کرنا۔
  6. کتب اربعہ سے منقول روایات کو اصلی مآخذ سے لیا گیا ہے اور انہیں قلمی نسخوں کے ساتھ موازنہ بھی کیا گیا ہے۔
  7. جامعیت:‌ فقہ کے تمام ابواب؛ طہارت سے دیات تک سب کو شامل ہے۔[23]

روش

جامع احادیث کے مولفین نے فقہ کے ہر باب کی ابتدا میں اس سے مربوط آیات کو ذکر کیا ہے۔ اور پھر معارض احادیث پر ان احادیث کو مقدم کیا ہے جن کے مطابق فتوا دیا گیا ہے اسی طرح عام اور مطلق روایات کو خاص اور مقید پر مقدم کیا ہے۔ اسی طرح ہر باب کے کچھ فصل ہیں اور ہر فصل میں فقہی مسائل اور ان مسائل کے ذیل میں ان سے مربوط احادیث ذکر ہوئی ہیں۔[24]اس مجموعے کی تدوین میں آیت اللہ بروجردی کے مبانی؛ جیسے روایات کے جانچ پڑتال اور احادیث کے الفاظ کی شناخت میں قرآن و سنت معصومین کی مرجعیت کو مورد توجہ قرار دیا ہے۔[25]

دیگر کتب حدیث سے موازنہ

اہم حدیثی کتابیں مؤلف متوفی تعداد احادیث توضیحات
المحاسن احمد بن محمد برقی 274ھ 2604 فقہ اور اخلاق جیسے مختلف عناوین کے احادیث کا مجموعہ
کافی محمد بن یعقوب کلینی 329ھ 16000 اعتقادی ،اخلاقی آداب اور فقہی احادیث
من لا یحضرہ الفقیہ شیخ صدوق 381ھ 6000 فقہی احادیث
تہذیب الاحکام شیخ طوسی 460ھ 13600 فقہی احادیث
الاستبصار فیما اختلف من الاخبار شیخ طوسی 460ھ 5500 فقہی احادیث
الوافی فیض کاشانی 1091ھ 50000 حذف مکررات کے ساتھ کتب اربعہ کی احادیث کا مجموعہ اور بعض احادیث کی شرح
وسائل الشیعہ شیخ حر عاملی 1104ھ 35850 کتب اربعہ اور اس کے علاوہ ستر دیگر حدیثی کتب سے احادیث جمع کی گئی ہیں
بحار الانوار علامہ مجلسی 1110ھ 85000 مختلف موضوعات سے متعلق اکثر معصومین کی روایات
مستدرک الوسائل مرزا حسین نوری 1320ھ 23514 وسائل الشیعہ کی فقہی احادیث کی تکمیل
سفینۃ البحار و مدینۃ الحکم و الآثار شیخ عباس قمی 1359ھ 10 جلد بحار الانوار کی احادیث کی الف با کے مطابق موضوعی اعتبار سے احادیث مذکور ہیں
مستدرک سفینہ البحار شیخ علی نمازی 1405ھ 10جلد سفینۃ البحار کی تکمیل
جامع احادیث الشیعہ آیت اللہ بروجردی 1380ھ 48342 شیعہ فقہ کی تمام روایات
میزان الحکمۃ محمدی ری شہری معاصر 23030 غیر فقہی 564 عناوین
الحیات محمد رضا حکیمی معاصر 12 جلد فکری اور عملی موضوعات کی 40 فصل


انتشار و ترجمہ

ابواب مقدمات اور طہارت پر مشتمل جامع احادیث الشیعہ کی پہلی جلد کی تدوین آیت اللہ بروجردی کی زندگی میں سنہ1380ھ کو شروع ہوئی اور آپ کی وفات کے چند دن بعد منظر عام پر آگئی۔[26] سنہ 1385ھ کو دوسری جلد بھی چھپ گئی جو نماز کے مباحث پر مشتمل تھی۔[27]

سنہ 1396ھ کو آیت اللہ خویی کی مدد سے پوری کتاب کی طباعت کا کام قم میں شروع ہوا اور 1415ھ کو 26 جلدوں میں اختتام تک پہنچا۔[28] جامع الاحادیث 31 مجلد میں بھی چھپ گئی ہے۔[29] اس نسخے کی طباعت 1413ھ کو شروع ہوئی اور 1425ھ کو پایہ تکمیل کو پہنچی۔ اس نسخے میں تقریبا 1000 ایسی احادیث اس کتاب میں اضافہ ہوئیں جو وسائل الشیعہ اور مستدرک الوسائل میں ذکر نہیں ہوئی تھیں۔ اسی طرح بعض احادیث کے الفاظ کے معانی اور توضیح بھی اس میں ذکر ہوئیں۔[30]

کتاب جامع احادیث الشیعہ جو کہ عربی میں لکھی گئی ہے اسے «منابع فقہ شیعہ» کے عنوان سے مہدی حسینیان قمی اور محمد حسین صبوری نے فارسی زبان میں ترجمہ کیا اور 1429ھ کو تہران سے چھپ کر منظر عام پر آگئی۔[31]

انتقادات

بعض نے کتاب جامع احادیث الشیعہ پر نقد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں تمام آیت الاحکام ذکر نہیں ہوئی ہیں، بعض آیات تقطیع ہوئی ہیں۔ کتاب کافی میں «عدةٌ من اصحابنا» (بعض شیعہ) سے مراد کیا ہے اسے مشخص نہیں کیا ہے، تہذیب الاحکام اور من لایحضرہ الفقیہ کے اسناد کو معین نہیں کیا ہے، بعض علائم کا مفہوم واضح نہیں ہے اور اصل منبع کی طرف رجوع نہیں کیا گیا ہے۔[32]

حوالہ جات

  1. تبریزی، «جامع احادیث شیعہ امتیازہا و ضعف‌ہا و روش استفادہ از آن»، ص۱۴۶-۱۴۷.
  2. تبریزی، «جامع احادیث شیعہ امتیازہا و ضعف‌ہا و روش استفادہ از آن»، ص۱۴۲-۱۴۳.
  3. حسینیان قمی و صبوری، منابع فقہ شیعہ، ۱۴۲۹ق، ج۲۲، ص۱۲.
  4. حسینیان قمی و صبوری، منابع فقہ شیعہ، ۱۴۲۹ق، ج۲۲، ص۱۲.
  5. فرزندوحی و فتاحی، «نگاہی دیگر بہ جامع احادیث الشیعہ»، ص۹۰.
  6. طباطبایی بروجردی، جامع احادیث الشیعہ، ۱۳۷۱ش، ج۱، مقدمہ ص۱۱.
  7. حوزہ نیوز، «جامع احادیث الشیعہ؛ یادگار ارزشمند آیت اللہ العظمی بروجردی قدس سرہ» ، انتشار ۶ خرداد ۱۳۸۹شمسی، اصلاح ۱۵ آذر ۱۳۷۹شمسی.
  8. سبحانی، مصادر الفقہ الاسلامی و منابعہ، ص۳۶۷.
  9. طباطبایی بروجردی، جامع احادیث الشیعہ، ۱۳۸۰ش-۱۴۲۲ق، ج۱،‌ مقدمہ سید محمدحسن بروجردی، ص۱۷.
  10. تبریزی، «جامع احادیث شیعہ امتیازہا و ضعف‌ہا و روش استفادہ از آن»، ص۱۴۳.
  11. تبریزی، «جامع احادیث شیعہ امتیازہا و ضعف‌ہا و روش استفادہ از آن»، ص۱۴۵-۱۴۶.
  12. واعظ‌زادہ، زندگی آیت اللہ العظمی بروجردی، ۱۳۸۵ش، ص۸۶ و ۹۲.
  13. تبریزی، «جامع احادیث شیعہ امتیازہا و ضعف‌ہا و روش استفادہ از آن»، ص۱۴۵-۱۴۶.
  14. رحمان‌ستایش، «جامع احادیث الشیعہ»، ج۱، ص۴۳-۵۶.
  15. تبریزی، «جامع احادیث شیعہ امتیازہا و ضعف‌ہا و روش استفادہ از آن»، ص۱۴۶-۱۴۷.
  16. تبریزی، «جامع احادیث شیعہ امتیازہا و ضعف‌ہا و روش استفادہ از آن»، ص۱۴۶-۱۴۷.
  17. واعظ‌زادہ، زندگی آیت اللہ العظمی بروجردی، ص۹۵.
  18. طباطبایی بروجردی، جامع احادیث الشیعہ، ۱۳۸۰ش-۱۴۲۲ق، ج۱، ص۳۴-۹۳.
  19. طباطبایی بروجردی، جامع احادیث الشیعہ، ۱۳۸۰ش-۱۴۲۲ق، ج۱، ص۳۴-۹۳.
  20. فرزندوحی و فتاحی، «نگاہی دیگر بہ جامع احادیث الشیعہ»، ص۹۰.
  21. فرزندوحی و فتاحی، «نگاہی دیگر بہ جامع احادیث الشیعہ»، ص۹۰.
  22. فرزندوحی و فتاحی، «نگاہی دیگر بہ جامع احادیث الشیعہ»، ص۹۰.
  23. طباطبایی بروجردی، جامع احادیث الشیعہ، ۱۳۸۰ش/۱۴۲۲ق، ج۱، ص۲۱-۳۳.
  24. رحمان‌ستایش، «جامع احادیث الشیعہ»، ج۱، ص۴۳-۵۶.
  25. فرزندوحی و فتاحی، «نگاہی دیگر بہ جامع احادیث الشیعہ»، ص۱۰۱-۱۱۰.
  26. واعظ زادہ، زندگی آیت اللہ العظمی بروجردی، ص۱۳۳.
  27. رحمان‌ستایش، «جامع احادیث الشیعہ»، ج۱، ص۴۳-۵۶.
  28. واعظ زادہ، زندگی آیت اللہ العظمی بروجردی، ص۱۳۳.
  29. طباطبایی بروجردی، جامع احادیث الشیعہ، ۱۳۸۰شمسی-۱۴۲۲ھ۔
  30. رحمان‌ستایش، «جامع احادیث الشیعہ»، ج۱، ص۴۳-۵۶.
  31. حسینیان قمی و صبوری، منابع فقہ شیعہ، ۱۴۲۹ق.
  32. فرزندوحی و فتاحی، «نگاہی دیگر بہ جامع احادیث الشیعہ»، ص۹۴-۱۰۱.
  1. اس گروہ میں مندرجہ ذیل افراد شامل تھے: اسماعیل معزی ملایری، حسینعلی منتظری نجف‌آبادی، عبدالرحیم ربانی شیرازی، محسن حرم‌پناہی، سید حسین کرمانی، سید مصطفی کاشفی خوانساری، عبدالرحیم بروجردی، علی‌پناہ اشتہاردی، جلال طاہر شمس گلپایگانی، حسین نوری ہمدانی، ابراہیم امینی نجف‌آبادی، علی ثابتی ہمدانی، محمد واعظ‌زادہ خراسانی، محمدباقر ابطحی اصفہانی، محمدتقی ستودہ اراکی، سید بہشتی بروجردی، حسن نائینی، سید محمدحسین درچہ ای، جواد خندق‌آبادی تہرانی (تبریزی، «جامع احادیث شیعہ امتیازہا و ضعف‌ہا و روش استفادہ از آن»، ص۱۴۵).

مآخذ

  • تبریزی، محمد، جامع احادیث شیعہ امتیازہا و ضعف‌ہا و روش استفادہ از آن، کاوشی نو در فقہ، شمارہ۵۶، تابستان ۱۳۸۷ش.
  • حسینیان قمی و صبوری، مہدی و محمدحسین، منابع فقہ شیعہ، تہران، انتشارات فرہنگ سبز، ۱۴۲۹ق.
  • رحمان‌ستایش، محمدکاظم، مدخل «جامع احادیث الشیعہ» در دانشنامہ جہان اسلام.
  • فرزندوحی، جمال، و فتاحی، امیر، «نگاہی دیگر بہ جامع احادیث الشیعہ»، سفینہ، شمارہ ۵۶، ۱۳۹۶ش.
  • طباطبایی بروجردی، سید حسین، جامع احادیث الشیعہ فی احکام الشریعہ، قم، نشر الصحف، ۱۳۷۱ش/۱۴۱۳ق.
  • طباطبایی بروجردی، سید حسین، جامع احادیث الشیعہ فی احکام الشریعہ، قم، المہر، ۱۳۸۰ش-۱۴۲۲ق.
  • واعظ‌زادہ خراسانی، محمد، زندگی آیت اللہ العظمی بروجردی و مکتب فقہی، اصولی، حدیثی و رجالی وی، تہران، مجمع جہانی تقریب مذاہب اسلامی، ۱۳۷۹ش.


بیرونی روابط