العروۃ الوثقی (کتاب)

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
العروۃ الوثقی (کتاب)  
[[ملف:
کتاب عروۃ الوثقی
|]]
مؤلف سید محمد کاظم طباطبایی یزدی (م 1337 ھ)
مقام اشاعت بیروت، لبنان
زبان عربی
مجموعہ 2 جلد
موضوع فقہ
ناشر موسسہ الاعلمی للمطبوعات

اَلعُروَۃُ الوُثقی، عربی زبان کی ایک شیعہ فقہی کتاب ہے جسے شیعہ فقیہ سید محمد کاظم طباطبایی یزدی (1247-1337 ھ) نے تالیف کیا۔ یہ کتاب آخری سو سالوں میں شیعہ فقہا اور مراجع تقلید کے فتاوا کے بیان کیلئے بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ شیعہ فقہا اپنی رائے کو اس کتاب کے تعلیقے میں ذکر کرتے ہیں۔ یہ کتاب عروہ کے نام سے بھی جانی جاتی ہے۔ یہ سید یزدی کی اہم ترین فقہی کتاب مانی جاتی ہے۔ شیعہ فقہی و علمی مراکز میں اس قدر اس کتاب کو اہمیت حاصل ہے کہ اس کتاب کے مصنف کو صاحب عروہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ عروۃ الوثقی سید محمد کاظم یزدی کے فقہ سے متعلق فتاوا پر مشتمل ہے کہ جن کی تعداد 3260 کے قریب مسائل تک پہنچتی ہے۔

مصنف

سید محمد کاظم طباطبائی یزدی (1247-1337 ھ) شیعہ فقیہ، جو صاحب عروہ کے نام سے مشہور ہیں۔ وہ مرزائے شیرازی کے بعد شیعوں کے مرجع قرار پائے۔ ایران میں مشروطہ کی تحریک میں مشروطہ کے مخالفین میں سے تھے یہاں تک کہ ان کے اور آخوند خراسانی درمیان مشروطہ کے موضوع پر نزاع رہی۔ [1]

مضامین کتاب

عروۃ الوثقی کا اکثر حصہ فقہی ابحاث پر مشتمل ہے۔ اس کتاب میں 3260 فقہی مسائل بیان ہوئے ہیں۔[2] عروہ 16 کتابوں یا فصلوں پر مشتمل فقہ کا ایک مکمل دورہ ہے۔کتاب کی فصلیں درج ذیل ترتیب کے مطابق ہیں:

اجتہاد و تقلید، طہارت، نماز، روزہ، اعتکاف، زکات، خمس، حج، اجارہ، مضاربہ، مزارعہ، مساقات، ضمان، حوالہ، نکاح و وصیت.[حوالہ درکار]


مقام و منزلت

عروۃ الوثقی شیعہ کے فقہی مراکز کی ایک مشہور کتاب ہے جو آخری 100 سالوں میں فقہا کی نگاہ بہت زیادہ مورد توجہ رہی۔ شیعہ فقہا نے اس کتاب بہت زیادہ حواشی اور تعلیقے لکھے ہیں۔ عروہ الوثقی سے پہلے شرائع الاسلام اور تبصرۃ المتعلمین جیسی کتابیں شیعہ فقہی دروس کا محور رہیں لیکن عروہ کی تالیف نے ان کتابوں کی جگہ لے لی اور فقہا کا مرکز و محور قرار پائی بلکہ علمی مراکز میں دروس خارج کے محور اصلی کی جگہ حاصل کر چکی ہے۔ شیخ عباس قمی نے عروۃ الوثقی کے ترجمے کے مقدمے میں تحریر کیا ہے: وہ یہ کتاب دیکھنے کے آرزو مند ہیں۔ وہ عروہ کو ایک جامع اور عبارتوں کے بیان کے لحاظ سے رواں توصیف اور بہترین روش پر تالیف شدہ کتاب کہتے ہیں۔[3]

خصوصیات

العروۃ الوثقی ظاہری طور شیعہ فقہی کتاب ہے جس کے مسائل کو نمبر شمار کے تحت بیان کیا گیا ہے۔ اس کتاب میں مجموعی طور پر 3260 فقہی مسائل بیان ہوئے ہیں۔ جامعیت، سلیس عبارتیں، کثیر فقہی فروعات، مطالب میں نظم اور جدید مسائل کے بیان پر مشتمل ہونا اس کی خصوصیات میں سے ہے۔[4]

شروح، حواشی ، تعلیقات

عروۃ الوثقی کے چھپنے کے بعد سے لے کر آج تک اس کتاب میں مذکور نظریات اور اس میں مذکور مسائل کے متعلق دیگر فقہا کے نظریات تعلیقے، شروح اور حواشی کی صورت میں مختلف کتابوں کی صورت میں چھپ چکے ہیں۔ بعض مراجع تقلید نے اس کتاب کے متن کتاب کا اصلی متن قرار دیا اور جس جگہ ان کی نظر اس متن سے مختلف تھی اسے حاشیے کے عنوان سے ذکر کیا ہے۔ ان مراجع میں درج ذیل اسما شامل ہیں:مرزا حسین نائینی (۱۳۵۵ق)، شیخ عبد الکریم حائری (۱۳۵۵ق)، آقا ضیاءالدین عراقی (۱۳۶۱ق)، سید ابوالحسن اصفہانی (۱۳۶۵)، محمدحسین کاشف الغطاء (۱۳۷۳ق)، سید حسین بروجردی (۱۳۸۰ق)، سید احمد خوانساری (۱۴۰۵ق)، امام خمینی (۱۴۰۹ق)، سید ابوالقاسم خوئی (۱۴۱۳ق) اور سید محمدرضا گلپایگانی (م۱۴۱۴ق).[5]

شیخ عباس قمی نے عروۃ الوثقیٰ کا الغایۃُ القُصوی کے نام سے فارسی زبان میں ترجمہ کیا۔ یہ ترجمہ چند مرتبہ بغداد اور تہران سے چھپ چکا ہے۔

بعض ایسی کتابیں ہیں کہ جن میں عروۃ الوثقی کی شرح بیان ہوئی ہے یا حاشیہ اور تعلیقہ ان پر چاپ ہوا ہے۔ ان کتابوں میں درج ذیل اسما قابل ذکر ہیں:

حوالہ جات

  1. بہشتی‌ سرشت، «تقابل و تعامل آخوند ملا محمد کاظم خراسانی و سید محمد کاظم یزدی در جریان انقلاب مشروطہ»، ۱۳۸۷ش، ص۱-۲.
  2. آقابزرگ، الذریعہ، ج۱۵، ص۲۵۲.
  3. قمی، الغایۃ القصوی فی ترجمۃ عروۃ الوثقی،۱۴۲۳ق، ص۵-۶.
  4. یزدی، سؤال و جواب: استفتائات و آراء فقیہ کبیر سید محمد کاظم یزدی، ۱۳۸۹ش، مقدمہ کتاب.
  5. ضمیری، کتابشناسی تفصیلی مذاہب اسلامی،۱۳۸۲ش، ص۵۵.
  6. بذرافشان، سید محمدکاظم یزدی فقیہ دوراندیش، ۱۳۷۶ش، ص۱۲۴-۱۲۹.


منابع

  • بذرافشان، مرتضی، سید محمدکاظم یزدی فقیہ دوراندیش، قم، انتشارات دفتر تبلیغات اسلامی، ۱۳۷۶ش.
  • بہشتی‌سرشت، محسن و حسین حاتمی، «تقابل و تعامل آخوند ملا محمدکاظم خراسانی و سید محمدکاظم یزدی در جریان انقلاب مشروطہ»، در فصلنامہ علمی پژوہشی علوم انسانی دانشگاہ الزہراء، ۱۳۸۷ش، ش۷۱.
  • تہرانی، آقابزرگ، الذریعۃ الی تصانیف الشیعۃ، بیروت، دارالأضواء، چاپ دوم، بی تا.
  • ضمیری، محمدرضا، کتابشناسی تفصیلی مذاہب اسلامی، قم، موسسہ آموزشی - پژوہشی مذاہب اسلامی، چاپ اول،۱۳۸۲ش.
  • قمی، شیخ عباس، الغایۃ القصوی فی ترجمۃ عروۃ الوثقی، تحقیق و تصحیح علی‌رضا اسداللہی فرد، قم، منشورات صبح پیروزی، چاپ اول،۱۴۲۳ق.
  • یزدی، سید محمدکاظم، سؤال و جواب: استفتائات و آراء فقیہ کبیر سید محمد کاظم یزدی، بہ اہتمام سید مصطفی محقق داماد، با تحقیق محمود مدنی بجستانی و حسن وحدتی شبیری، تہران، مرکز نشر علوم اسلامی، چاپ دوم، ۱۳۸۹ش.