سید ابو القاسم خوئی

ویکی شیعہ سے
(آیت اللہ خوئی سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
سید ابو القاسم خوئی
آیت الله العظمی خوئی.jpg
آیت اللہ العظمیٰ ابو القاسم خوئی
کوائف
مکمل نام سید ابوالقاسم خوئی
تاریخ ولادت 15 رجب 1317 ہجری قمری
آبائی شہر خوئی، ایران
تاریخ وفات ہفتہ 8 صفر المظفر 1413 ہجری قمری 96 سال کی عمر میں۔
مدفن حرم امام علی (ع) نجف اشرف عراق
اولاد سید جمال الدین خوئی، سید محمد تقی خوئی، سید عبدالمجید خوئی، ...
علمی معلومات
مادر علمی نجف اشرف
اساتذہ شیخ الشریعۂ اصفہانی، مہدی مازندرانی، آقا ضیاء عراقی، محمد حسین اصفہانی، محمد حسین نائینی،...
شاگرد سید محمد محقق داماد، مرزا ہاشم آملى، محمد على قاضى طباطبایى، مرتضى حائرى، سید محمد حسین طباطبائی، لطف‌ اللہ صافى گلپایگانى، ....۔
اجازہ اجتہاد از محمد حسین نائینی، محمد حسین غروی اصفہانی کمپانی، آقا ضیاء عراقی، سید ابو الحسن اصفہانی، ...
تالیفات البیان فی تفسیر القرآن، تکملۃ منہاج الصالحین، معجم رجال الحدیث،...
خدمات
سیاسی انقلاب اسلامی ایران کی حمایت
سماجی مختلف ملکوں میں کتابخانے،، مدارس، مساجد، امام باگاہوں اور ہسپتالوں کی تعمیر

سید ابو القاسم موسوی خوئی (1317ق-1413ق) اپنے زمانے کے مایہ ناز شیعہ مرجع تقلید، مفسر اور علم رجال کے ماہرین میں سے ہیں۔ البیان فی تفسیر القرآن اور معجم رجال الحدیث ان کے نمایاں آثار ہیں۔ میرزا نائینی اور محقق اصفہانی فقہ اور اصول فقہ میں آپ کے برجستہ اساتید رہے۔ آپ کی مرجعیت کا باقاعدہ آغاز تو آیت اللہ بروجردی کی رحلت کے بعد ہوا تھا لیکن آیت اللہ سید محسن الحکیم کی رحلت کے بعد آپ پوری دنیا خاص طور پر عراق میں مرجع اعلی کے طور پر پہچانے جانے لگے۔ 50 سال کی تدریس کے دوران آپ نے فقہ کے درس خارج کا ایک، اصول فقہ کے چھ اور تفسیر کا ایک مختصر دورہ تدریس کیا۔ سید محمد باقر صدر، مرزا جواد تبریزی، سید علی سیستانی، حسین وحید خراسانی، سید موسی صدر اور سید عبد الکریم موسوی اردبیلی جیسے ممتاز مراجع آپ کے شاگردوں میں سے ہیں۔

فقہ و اصول میں آپ منفرد اور مشہور شیعہ فقہاء کی آرا سے متفاوت نظریات کے حامل رہے یہاں تک کہ بعض نے انکے اختلافی مسائل کی تعداد 300 سے بھی زیادہ ذکر کی ہے۔ فروع دین مین کافروں کا مکلف نہ ہونا، قمری مہینوں کی افق کے لحاظ سے ابتدا کا نہ ہونا اور شہرت فتوائی اور اجماع جیسے مسائل میں آپ مشہور کے مخالف نظریات کے حامل تھے۔ اپنی مرجعیت کے دوران آپ نے دین کی تبلیغ، ضرورت مندوں اور محتاجوں کی امداد کے پیش نظر ایران، عراق، ملیشیا، انگلستان،امریکا اور ہند و پاک سمیت دنیا کے مختلف ملکوں میں لائبریریوں، مدارس، مساجد، امام باگاہوں اور ہسپتالوں کی تعمیر جیسے مذہبی اور فلاحی امور انجام دیئے ہیں۔

1960ء کی دہائیوں میں سیاست کے فعال اور مؤثر شخصیات کے طور پر پہچانے جاتے تھے۔ اس دوران ایران میں برسر اقتدار پہلوی حکومت کے خلاف اپنا سیاسی موقف کا اظہار برملا مختلف بیانات کے ذریعے کرتے تھے جن میں سے ایک 1342 ہجری شمسی کو مدرسہ فیضیہ قم پر پہلوی حکومت کے حملے کی مذمت اور اعتراض ہے۔ اس کے بعد آپ نے دس سال تک سیاست کے ساتھ خدا حافظی کی لیکن انقلاب اسلامی ایران کی تحریک کے عروج کے دوران محمد رضا پہلوی کی بیوی "فرح دیبا" کے ساتھ آپ کی ملاقات اور اس سے پیدا ہونے والے شکوک و شبہات کے بعد مختلف موارد منجملہ اسلامی نظام کیلئے منعقدہ ریفرینڈم اور ایران عراق جنگ میں آپ نے کھل کر انقلاب کی حمایت کی۔ عراقی شیعوں کی انتفاضہ شعبانیہ شیعیان عراق نامی تحریک اور شیعہ مناطق میں انتظامی امور کی انجام دہی کیلئے شیعہ شورا کی تشکیل کے مطالبے کی حمایت کی وجہ سے عراق میں صدام حسین کی بر سر اقتدار بعثی حکومت نے آپ کی کڑی نگرانی شروع کی اور عمر کے آخر تک اپنے گھر میں نظر بند رہے۔

زندگی نامہ

ولادت اور نسب

15 رجب سنہ 1317 ہجری (بمطابق 19 نومبر1899ء) کو ایران کے صوبے مغربی آذر بائیجان کے شہر''' خوئی'''کے ایک علمی گھرانے میں آنکھ کھولی۔ ان کا سلسلۂ نسب امام موسی کاظم(ع) تک پہنچتا ہے۔ ان کے والد سید علی اکبر نامی گرامی عالم اور شیخ عبد اللہ مامقانی کے شاگرد تھے۔ وہ حصول علم کے بعد اپنے آبائی وطن واپس لوٹ آئے اور وہیں اپنے دینی اور علمی فرائض کی انجام دہی میں مصروف ہوئے۔ لیکن ایران میں تحریک مشروطیت میں اور غیر مشروعہ مشروطہ کی حمایت نہ کرنے کی وجہ سے خوئی کو چھوڑ کر نجف اشرف میں سکونت اختیار کر لی۔[1]

وفات

آیت اللہ سید ابوالقاسم خوئی بروز ہفتہ 8 صفر 1413 ہجری (بمطابق 8 اگست 1992ء) کو حرکت قلب بند ہوجانے کی وجہ سے شہر کوفہ میں وفات پاگئے اور حرم علی بن ابی طالب(ع) کے آستانے میں واقع مسجد خضراء کے صحن میں سپرد خاک کردیئے گئے۔

فرزند

  1. سید جمال الدین خوئی :وہ سید خوئی کے بڑے فرزند تھے جنہوں نے اپنی بیشتر عمر اپنے والد کی مرجعیت کے معاملات کے انتظام و انصرام میں گذار دی۔ وہ سرطان کے مہلک بیماری میں مبتلا ہوکر علاج معالجے کے لئے تہران آئے اور 1984 میں دنیا سے رحلت کرگئے اور ایران کے شہر قم میں حرم حضرت معصومہ(س) میں سپرد خاک کئے گئے۔ ان کے آثار میں شرح کفایۃ الاصول، بحث فی الفلسفہ وعلم الکلام، توضیح المراد فی شرح تجرید الاعتقاد، شرح دیوان متنبی، فارسی میں ایک دیوان شعر اور...[2]
  2. سید عباس خوئی:
  3. سید علی خوئی: وہ 1344 ہجری میں پیدا ہوئے اور سنہ 1388 ہجری میں وفات پاکر نجف میں ہی مدفون ہوئے۔
  4. سيد عبدالصاحب خوئى
  5. سید محمد تقی خوئی : وہ سنہ 1378 ہجری میں پیدا ہوئے۔ علمی مراحل طے کرنے کے بعد تدریس میں مصروف ہوئے۔ 1989 میں آیت اللہ خوئی فاؤنڈیشن[3] کی تاسیس پر انہیں اس فاؤنڈیشن کا سیکریٹری جنرل مقرر کیا گیا اور وہ بعثی نظام حکومت کے خلاف شروع ہونے والی انتفاضۂ شعبانیہ (شعبان 1412ہجری) شروع ہوئی تو وہ والد کے حکم پر آزاد ہونے والے علاقوں کے لئے تشکیل شدہ بورڈ کے رکن بنے؛ انتفاضہ کو کچلے جانے اور شیعیان عراق کے قتل عام کے بعد، انہیں اپنے والد کے ہمراہ نظربند کیا گیا۔ وہ والد کی وفات کے دو سال بعد 12 صفر ١٤١٥ہجری کو کار کے ایک مشکوک حادثے میں انتقال کرگئے۔ ان کے علمی کارناموں میں والد کے دروس کی تقریرات کے علاوہ کتاب "الالتزامات التبعیة فی العقود" شامل ہے۔[4]
  6. سید عبدالمجید خوئی: وہ 1382ہجری کو نجف میں پیدا ہوئے اور اعلی علمی مدارج طے کئے۔ انتفاضۂ شعبانیہ ناکام ہوئی تو وہ عراق سے نکل کر لندن ہجرت کرگئے اور بھائی سید محمد تقی کی وفات کے بعد آیت اللہ خوئی فاؤنڈیشن کے سربراہ بنے۔ 2003 میں امریکہ نے عراق پر حملہ کیا اور بعثی نظام حکومت کا تخت الٹا تو وہ وہ عراق واپس آئے لیکن کچھ ہی دنوں بعد ایک دہشت گردانہ حملے میں شہید ہوئے اور اپنے والد کے پہلو میں سپرد خاک کئے گئے۔[5]
  7. شہید سید ابراہیم خوئی:وہ سنہ 1964 میں پیدا ہوئے اور سنہ 1980 میں ایران پر صدام کے حملے تک حصول تعلیم میں مصروف رہے۔ دو سال بعد حوزہ علمیہ میں داخل ہوئے اور کچھ عرصہ بعد کپڑے کی تجارت میں مصروف ہوئے۔ اور 1412 ہجری کے انتفاضۂ شعبانیہ میں فعال کردار ادا کیا۔ ان ہی دنوں بعثی حکومت نے آیت اللہ خوئی کے گھر پر ہلہ بول دیا اور سید ابراہیم سمیت تمام افراد کو گرفتار کرکے لے گئی۔ اور حکومت کی سرنگونی کے بعد معلوم ہوا کہ گرفتار افراد کو گرفتاری کے فورا بعد شہید کردیا گیا تھا۔[6]

خصوصیات

سید خوئی نہایت قویّ حافظے کے مالک تھے اور علمی تحقیق و تدریس کے سلسلے میں بہت محنتی اور تنقید و تحقیق کرنے والے عالم دین تھے۔[7] وہ علمائے اہل سنت اور دوسرے ادیان کے دانشوروں سے مباحثے اور مناظرے کیا کرتے تھے۔[8] ان کی زندگی سادہ اور زاہدانہ تھی اور زندگی کے سلسلے میں دینی طلباء اور علماء کی روش پر کاربند تھے اور طلباء کی زندگی کے اوصاف یوں بیان کرتے تھے: حلم و بردباری، تواضع، رجوع کرنے کرنے والوں کا احترام کرنا، سلام کرنے میں پہل کرنا، بڑوں اور علماء بالخصوص اپنے ہم عصر مراجع تقلید کی تکریم و تعظیم کرنا اور حضرت علی اور امام حسین علیہما السلام کی زیارت کا خاص اہتمام کرنا۔

تعلیمی سفر

سید ابو القاسم سنہ 1330 ہجری میں 13 سال کی عمر میں اپنے بھائی سید عبداللہ خوئی کے ہمراہ نجف اشرف میں اپنے والد سے جا ملے۔چھ سال حوزے کی ابتدائی اور سطوح عالی کی تعلیم مکمل کی ۔ ۱۴ سال فقہ و علم اصول فقہ سمیت دیگر مختلف علوم پڑھے ۔ان کے اپنے کہنے کے مطابق اساتذہ میں سے محمد حسین نائینی اور محمد حسین غروی اصفهانی سے زیادہ استفادہ کیا۔[9][10]

اساتید

مرزا محمد حسین نائینی اور مرزا محمد حسین اصفہانی کے علاوہ جن اساتذہ سے استفادہ کیا:

  • شیخ فتح الله شریعت اصفہانی متوفا ۱۳۳۸ق)
  • شیخ مہدی مازندرانی (متوفا ۱۳۴۲ق)
  • آقا ضیاء عراقی[11]

دیگر اساتذہ میں شیخ محمدجواد بلاغی سے علم کلام، عقائد اور تفسیر، سید ابوتراب خوانساری سے علم رجال و درایہ، سید ابوالقاسم خوانساری سے علم ریاضیات، سید حسین بادکوبہ ای سے فلسفہ و عرفان اور اسی طرح سید علی قاضی.[12]

سید ابوالقاسم خوئی کے تمام تعلیمی مراحل کے دوران حوزه علمیہ نجف میں سید محمد ہادی میلانی (متوفا ۱۳۹۵ق)، سید محمدحسین طباطبائی (متوفا ۱۴۰۲ق)، سید صدرالدین جزائری، علی‌ محمد بروجردی (متوفا ۱۳۹۵ق)، حسین خادمی اصفہانی اور سید محمد حسینی ہمدانی سے مباحثہ کرتے رہے۔[13]

۱۳۵۲ق میں حوزه علمیہ نجف کے بہت سے اساتذہ سے اجازه اجتہاد حاصل کیا ان میں سے محمد حسین نائینی، محمد حسین غروی اصفہانی کمپانی، آقا ضیاء عراقی، محمد حسین بلاغی، مرزا علی آقا شیرازی، اور سید ابوالحسن اصفہانی ہیں۔[14]

تدریس

نجف میں تحصیل علم کے دوران تدریس میں بھی مشغول رہے ،منابع کے مطابق جو کتاب بھی پڑھتے اسے تدریس بھی کرتے تھے۔[15]

محمد حسین نائینی اور محمد حسین غروی اصفہانی کی وفات کے بعد سید ابوالقاسم خوئی اور مرزا محمد علی کاظمی خراسانی کے درس پر رونق ترین درس شمار ہوتے تھے ۔محمد علی کاظمی خراسانی کی وفات کے بعد جمعیت کے لحاظ سے آپ کا درس سب سے بڑا ہوتا تھا [16] خود ذکر کرتے ہیں کہ بیماری و سفر کے علاوہ سال کے دوران مسلسل درس جاری رہتا تھا ۔ [17] مجموعی طور پر نجف میں ستر سال تک تدریس کی جس میں سے پچاس سال تک حوزۂ علمیہ نجف کا اہم ترین درس آپکا شمار ہوتا تھا ۔ ایران، ہند، افغانستان، پاکستان، عراق، لبنان اور دیگر ممالک کے طلبا آپ کے درس میں شریک ہوتے تھے۔ [18]

آیت الله خوئی نے فقہ کے درس خارج کا ایک مکمل دورہ علم اصول فقہ کے چھ دورے شاگردوں کو پڑھائے ۔نیز علم تفسیر کا ایک مختصر دورہ بھی اس دوران دیا لیکن بعض وجوہات کی بنا پر اسے جاری نہ رکھ سکے۔[19]

شیوۂ تدریس

آیت الله خوئی مباحث علمی کے دوران ایک منجھے ہوئے اور مسلط استاد کی مانند مطالب فصیح ،منظم اور غیر ضروری تفصیل میں جائے بغیر بیان کرتے نیز ابحاث فلسفی کا ذکر نہیں ہوتا تھا لیکن کثیر تعداد میں روایات بیان کرتے جبکہ انکی اسناد پر خصوصی توجہ کے بیان کرتے ۔[20] آپ کے درس خارج کی توصیف میں کہا جاتا ہے کہ وہ علمی اور مبانی کے لحاظ سے آقا ضیاء عراقی، محمدحسین نائینی اور محمدحسین غروی اصفہانی کا خلاصہ ہوتا تھا ۔[21]

شاگردان

مزار آیت الله العظمی خوئی

بعض تالیفات میں انکے ۶۰۰ کے قریب شاگرد شمار کیے گئے ہیں ۔[22] بعض برجستہ شاگرد انکی ہیئت استفتا کے عضو تھے مثلا صدرا بادکوبہ ای، سید محمدباقر صدر، مرزا جواد تبریزی، سید علی حسینی بہشتی، سید مرتضی خلخالی، سید علی سیستانی، محمد جعفر نائینی اور مرتضی بروجردی. حسین وحید خراسانی، سید علی ہاشمی شاہرودی، محمدتقی جعفری، سید محمد حسین فضل الله، بشیر نجفی، سید موسی صدر، حاج آقا تقی قمی، سید عبدالکریم موسوی اردبیلی نیز دیگر شاگرد بھی مذکور ہیں ۔[23]

علمی نظریات

فقہ اور علم اصول فقہ میں آپ کی بعض آرا قابل توجہ ہیں اور مشہور شیعہ فقہا کے مخالف ہیں نیز ۳۰۰ کے قریب شیعہ مشہور فقہا کے برعکس آپ کے فتاوا منقول ہیں۔[24] ان میں سے بعض درج ذیل ہیں :

  • کفار فروع دین کے مکلف نہیں ہیں صاحب حدائق شیخ یوسف بحرانی بھی اسی کے قائل تھے ۔ جبکہ دیگر فقہا اصول دین کے ساتھ ساتھ فروع دین میں کفار کو بھی مکلف سمجھتے ہیں ۔[25]
  • قمری مہینے کا آغاز افق کے تحت نہیں ہوتا ہے بلکہ چاند کے تحت الشعاع سے خروج کی وجہ سے نئے مہینے کا آغاز ہوتا ہے [26]
  • شہرت فتوایی اور اجماع کی عدم حجیت کا قائل ہونا۔ شہرت فتوایی کے بارے میں سید ابوالقاسم خوئی بالکل مشہور سے متفاوت نظریات کے حامل ہیں۔ اکثر شیعہ اصولی اس بات کے معتقد ہیں کہ اگر فقہاء کے درمیان ایک فتوا مشہور ہو اور کوئی روایت اس کے ساتھ سازگار نہ ہو تو وہ روایت اگرچہ معتبر ہی کیوں نہ ہو اپنی جیثیت کھو دیتی ہے۔ لیکن آیت اللہ خوئی اس بات کے مخالف ہیں اور آپ نے اصول فقہ میں تعارض کے باب میں شہرت فتوائی کو ذکر ہی نہیں کیا ہے۔ ان کے مطابق شہرت عملی کبھی بھی کسی سند کے ضعف اور نقص کو جبران نہیں کر سکتی جس طرح تمام فقہاء اگر کسی صحیح حدیث سے صرف نظر کریں تو اس حدیث کی حجیت ساقط نہیں ہوتی۔[27] اسی طرح آپ نے اجماع کی حجیت اور اعتبار پر بھی سوال اٹھایا ہے چاہے اجماع منقول ہو یا محصل۔ لیکن اس کے باوجود آپ نے اجماع پر اعتماد کرتے ہوئے اپنے فتووں میں اس سے استفادہ کیا ہے۔[28]
  • مشہور کے مخالف فتاوا:شوہر کی اجازت کے بغیر بیوی کا گھر سے باہر نکلنا،بیوی کو اپنی موت کا احتمال ہو تو بیوی کیلئے سقط جنین جائز ہے ،مسلمان مرد کا اہل کتاب عورت سے عقد دائمی کا جائز ہونا،جہاد ابتدائی امام معصوم کی موجودگی کے ساتھ مشروط نہیں ،قاضی کیلئے اجتہاد کا ہونا شرط نہیں ،غیر مسلم ممالک سے درآمد ہونے والے ایسے چمڑوں کا پاک ہونا جنکے شرعی طریقے کے مطابق ذبح ہونے میں شک ہو ۔[29]

مرجعیت

سید خوئی کی مرجعیت کے سلسلے میں اقوال مختلف ہیں لیکن مسلّم یہ ہے کہ آیت اللہ بروجردی کی وفات کے بعد ان کی مرجعیت کا مسئلہ سنجیدگی کے ساتھ زیر بحث آیا اور آیت اللہ حکیم کی وفات کے بعد وہ برتر مرجع تقلید کے طور پر نمایاں ہوئے۔[30] اسی زمانے میں سید یوسف حکیم نے اپنے والد مرحوم کے پاس باقیماندہ شرعی وجوہات (اموال) سید خوئی کے سپرد کئے اور انہيں مرجع تقلید کے طور پر تسلیم کیا۔[31]

نجف کے چودہ مجتہدین نے آپ کی اعلمیت کا اعلان کیا جن میں سے صدرا بادکوبہ اى، سید محمد باقر صدر، سید محمد روحانی، مجتبى لنکرانى، شیخ موسی زنجانی، یوسف کربلائی، سید یوسف حکیم]] اور سید جعفر مرعشی بھی شامل ہیں [32] نیز سید موسی صدر نے مجلس اعلای اسلامی شیعیان لبنان کی جانب سے آقای خوئی کی اعلمیت کا اعلان کیا۔[33]

آثار

مسجد خضرا میں تدریس کا ایک منظر

آقا خوئی کے علمی اور عملی رسالے ، دروس خارج و دیگر آثار کو پچاس جلدوں میں موسوعۃ الامام الخوئی کے نام سے محفوظ کیا گیا ہے ۔اس موسوعہ میں ۴۲ جلد فقہ استدلالی، و جلد نمبر ۴۳ تا ۴۸ اصول فقہ کا کامل دورہ ہے. جلد ۴۹ میں چند علم رجال سے متعلق رسالہ جات اور تین رسالے اقای خوئی کے دروس کو شامل ہے ۔پچاسویں جلد کتاب البیان فی تفسیر القرآن پر مشتمل ہے ۔[34]

اساتذہ کی تقریرات

متعلقہ مآخذ میں منقول ہے کہ سید ابوالقاسم خوئی نے اپنے اساتذہ میں سے دو کی تقریرات[35]: لکھی ہیں: محمد حسین نائینی اور محمد حسین اصفهانی۔[36] آقا بزرگ تہرانی نے لکھا ہے کہ انھوں نے آقا ضیاء عراقی کی تقریرات بھی لکھی ہیں۔[37] ان ساری تقریرات میں اہم ترین اور مشہور ترین تقریرات محمد حسین نائینی کے درس اصول کی تقریرات ہیں جن کا عنوان سید خوئی نے اجود التقریرات رکھا ہے۔ یہ کتاب جو نائینی کی اصولی آراء و نظریات کا اہم ترین مآخذ سمجھی جاتی ہے پہلی بار جناب نائینی کی حیات میں ہی لبنان کے شہر صیدا سے دو مجلدات میں شائع ہوئی۔[38]

سید خوئی کے دروس کی تقریرات

یہ وہ تقریرات ہیں جو سید ابوالقاسم خوئی کے شاگردوں نے ان کے دروس سے لکھی ہیں؛ ان کے اپنے دروس کی مکتوب تقریرات میں سے اہم مطبوعہ تقریرات حسب ذیل ہیں:

  1. دراسات فی الاصول: بقلم سید علی ہاشمی شاہرودی، یہ ان کے درس اصول کے تیسر دورے کی مکمل تقریرات ہیں۔
  2. محاضرات فی اصول الفقہ: بقلم محمد اسحٰق فیاض، جس کو سید خوئی نے بہت زیادہ پسند کیا ہے۔[39]
  3. مبانی الاستنباط: بقلم سید ابوالقاسم کوکبی تبریزی۔
  4. مصابیح الاصول: بقلم سید علاءالدین بحرالعلوم۔
  5. رسالۃ فی الامر بین الامرین: بقلم محمدتقی جعفری.[40] آخوند خراسانی کی کتاب کفایۃ الاصول کی بحث "الطلب والارادہ" کے ضمن میں فلسفی اور کلامی بحث مذکور ہے ۔
  6. مصباح الفقاہۃ فی المعاملات: بقلم محمد علی توحیدی، سید خوئی نے اس پر اپنی تقریظ میں صاحب قلم کی تحقیق اور باریک بینی کی تعریف کی ہے۔
  7. التنقیح فی شرح المکاسب: بقلم علی غروی تبریزی.
  8. محاضرات فی الفقہ الجعفری: بقلم سید علی ہاشمی شاہرودی.[41]
  9. المستند فی شرح عروۃ الوثقی: بقلم مرتضی بروجردی.
  10. تحریر العروۃ الوثقی: بقلم قربان علی محقق کابلی.
  11. دروس فی الفقہ الشیعہ: بقلم سید مہدی خلخالی.[42]

تالیفات اور علمی رسائل

  1. البیان فی تفسیر القرآن:
اس کتاب پر سید خوئی نے ایک مفصل مقدمہ لکھا ہے جو بعض قرآنی علوم و مباحث نیز سورہ حمد کی تفسیر پر مشتمل ہے۔ البیان ابتداء ہی سے علمی حلقوں میں لائق اعتنا قرار پائی اور حوزہ اور یونیورسٹیز کے قرآنی علوم کے نصاب میں شامل ہوئی۔[43] محمد صادق نجمی اور ہاشم ہاشم زادہ ہریسی نے اس کتاب کا بیان در علوم و مسائل کلی قرآن اور اس کے خلاصے کا شناخت قرآن کے عنوان سے فارسی میں ترجمہ کیا ہے۔ اس کتاب کے اعجاز والے باب کا ترجمہ مرزہائے اعجاز کے عنوان سے آیت اللہ جعفر سبحانی نے کیا ہے۔
  1. رسالۃ فی نفحات الاعجاز:
یہ ایک کلامی (اعتقادی) کتاب ہے جو انھوں نے قرآن کی کرامت اور اس کے اعجاز کا دفاع کرتے ہوئے "نصیر الدین ظافر" کے رمزی نام سے "حسن الایجاز فی ابطال الاعجاز" نامی کتاب لکھنے والے شخص کے جواب میں لکھی ہے۔[44]
  1. معجم رجال الحدیث و تفصیل طبقات الرجال:
بلاشک و شبہ اور کسی مبالغے کے بغیر پوری تاریخ میں علم رجال میں ایسی جامع و کامل، سلیس اور مفید تالیف سامنے نہیں آئی ہے۔ اس کتاب کی پہلی جلد کے بعض مباحث کے عناوین کچھ یوں ہیں: "علم رجال کی ضرورت اور اس کی دلیل"، "راوی کی وثاقت ( اعتبار) کا معیار"،‌ "توثیقات عامہ کے اعتبار کا معیار"، "توثیقات عامہ میں مسائل"، "کتب اربعہ کی روایات کی صحت"، " ضرورتِ علمِ رجال کے منکرین کی دلیل اور اس کا جواب"۔ نیز یہ کتاب 15676 افراد کے حالات بیان کئے گئے ہیں اور ان کے تمام اساتذہ اور شاگردوں کا تعارف کرایا اور یوں مشترکات کا مسئلہ حل ہوچکا ہے۔ نیز ان ہی کی کتاب "المستدرک" اور جناب محمد سعید طریحی کی کتابیں "المعین علی معجم رجال الحدیث" اور "دلیل المعجم، معجم رجال الحدیث ہی کے سلسلے میں لکھی گئی ہیں۔ یہ کتاب شہر سنہ 1409 ہجری میں، قم میں "منشورات مدینۃ العلم" کے زیر اہتمام زیور طبع سے آراستہ ہوکر شائع ہوئی ہے۔
  1. مبانی تکلمۃ منہاج الصالحین:
یہ کتاب عربی کے عملیہ رسالے منہاج الصالحین کی استدلالی شرح ہے جس میں انھوں نے اپنے فتاوٰی کے اصول اور دلائل بیان کئے ہیں۔ یہ کتاب فقہ الجزاء (Criminal Jurisprudence) کے لئے مخصوص ہے۔ فوجداری قانون اور تعزيری قانون کے حوالے سے مستحکم ترین اور اہم ترین شیعہ فقہی متون میں سے ہے۔[45]
  1. رسالۃ فی اللباس المشکوک:
یہ کتاب سید خوئی نے لباس مشکوک کے بارے میں تدریس ہی کے دوران تالیف کی تھی۔[46]
  1. سید خوئی کا منظوم کلام:

یہ منظوم کلام 163 اشعار پر مشتمل ہے جس کا بڑا حصہ امام علی(ع) اور اہل بیت علیہم السلام کی شان میں ہے۔ محمد مہدی موسوی خرسان نے سید خوئی کے اس منظوم کلام پر "عليٌّ إمامُ البَرَرَۃ" کے عنوان سے شرح لکھی ہے اور یہ شرح سید علی حسینی بہشتی کے پیش لفظ کے ساتھ شائع ہوئی ہے۔

عملیہ رسالے اور فتاوی

  1. منہاج الصالحین: یہ سید خوئی کی اہم ترین افتائی کاوش ہے۔ انھوں نے ابتدا میں اسے سید محسن حکیم کی منہاج الصالحین پر بطور تعلیقہ لکھا لیکن بعد میں انھوں نے اس اپنے تعلیقے کو سید حکیم کی آراء کی بجائے متن میں قرار دیا اور آخر کار انھوں نے یہ کتاب اپنی آراء اور فتاوٰی کے مطابق دوبارہ لکھی ہے۔[47]
  2. تعلیقہ علی عروۃ الوثقی ۔[48]: سید خوئی نے عروۃ الوثقیٰ پر حاشیہ لکھا جو ان کے برگزیدہ شاگردوں کی موجودگی میں مرتب کیا گیا تھا۔ لیکن جب انھوں نے عروت الوثقی کی تدریس کی تو اس کتاب پر دوسری مرتبہ حاشیہ لکھا اور کہا گیا ہے نئے حاشیے کا ایک تہائی حصہ سابقہ حاشیے سے مختلف ہے۔[49]
  3. موسوعۃ الامام الخوئی: یہ کتاب پچاس جلدوں پر مشتمل ہے اور سید خوئی کی بہت سی تالیفات اس میں شامل کی گئی ہیں۔ [50]

سماجی خدمات

سید خوئی دین اسلام کی تبلیغ، علوم اسلامی کی ترویج، ضرورت مندوں کو امداد پہنچانے جیسے امور کو بہت اہمیت دیتے تھے؛ اسی بنا پر ان کی سماجی خدمات پہت وسیع تھیں اور انھوں نے اپنے بعد بہت سارے خیراتی ادارے بطور یادگار چھوڑے ہیں۔

کتب خانوں، مدارس، مساجد، حسینیات، ہوسٹلوں، ڈسپنسریوں، اسپتالوں، خیراتی اداروں اور یتیم خانوں کا قیام ان ہی خدمات میں سے ہیں:

ملک ادارے
1 ایران
  • مؤسسۂ خیریہ آیت اللہ العظمی خوئی[51]
  • آیت اللہ العظمی خوئی خیراتی اسپتال
  • آیت اللہ العظمی خوئی خیراتی فاؤنڈیشن سے وابستہ امام موسی بن جعفر(ع) خیراتی ڈسپنسری
  • تیمار خانۂ آیت اللہ العظمی خوئی (نرسنگ ہوم)
  • مدینۃ العلم، قم[52]
  • کتابخانہ آیت اللہ العظمی خوئی، قم[53]
  • مدرسہ و کتب خانہ آیت اللہ العظمی خوئی، مشہد
  • دارالعلم، اصفہان
  • مجتمع امام زمان(ع)، اصفہان
2 امریکہ
  • مرکز الامام الخوئی الاسلامی، نیویارک[54]
  • مسجد و مرکز اسلامی، لاس اینجلس
  • مسجد و مرکز اسلامی، ڈیٹروئٹ
3 انگلستان
  • مرکز الامام الخوئی، لندن[55]
  • مرکز الامام الخوئی، سوانسی[56][57]
  • موسسہ امام الخوئی، بریطانیا[58]
4 فرانس مرکز اسلامی[59]
5 ہندوستان المجمع الثقافی الخیری، بمبئی[60][61]
6 پاکستان
  • مکتبہ الثقافۃ و النشر "مرکز نشر و اشاعت"، کراچی[62]
  • جامعۃ الکوثر للدراسات الدینیۃ والعلوم الإنسانیۃ - اسلام‌آباد
7 لبنان مبرۃ الامام الخوئی، بیروت[63][64]
8 ملائیشیا مکتبۃ الثقافہ و النشر، کوالا لمپور
9 عراق
10 تھائی لینڈ
  • مؤسسۃ دارالعلم، بینکاک[67]
  • مدرسہ دینی، بینکاک[68]
  • مرکز دارالزہرا، یتانولغ[69]
11 کنیڈا موسسہ امام الخوئی، مونٹرال[70]
12 بنگلہ دیش دینی مدرسہ ـ ڈھاکہ

سیاسی فعالیت

سید ابوالقاسم خوئی مرجعیت سے پہلے درس و تدریس کے ہمراہ اجتماعی اور سیاسی زندگی سے جدا نہیں رہے ۔ مختلف مناسبتوں اور ایران کی پہلوی حکومت کے غیر اسلامی اقدامات کے خلاف اظہار خیال کرتے رہتے تھے ۔پھر تقریبا دس سال کا عرصہ سیاست سے کنارہ گیری اختیار کی اور ایران میں انقلاب اسلامی ایران کی بہمن ۱۳۵۷شمسی میں کامیابی پر امام خمینی کی حمایت کی ۔لیکن جلد ہی انتفاضہ شعبانیہ کی حمایت کی وجہ سے نظر بند ہونا پڑا ۔سیاسی زندگی کے چند نمونے درج ذیل ہیں:

پہلوی حکومت کی مخالفت

مرجعیت سے پہلے سیاسی مسائل میں ایک نمایاں چہرے کی حیثیت سے سیاسی میدان میں موجود رہے اور بعض موقعوں پر انہوں نے شدید عکس العمل کا اظہار کیا ۔ [71] خوئی نے مہر ۱۳۴۱شمسی میں ایک ٹیلیگراف میں پہلوی حکومت کی ملکی اور صوبائی انجمنوں کی مخالفت کی اور انہیں غیر شرعی اور اسلامی کہا۔[72] اسی طرح سید محمد بہبہانی کو دئے جانے والے ایک پیغام میں اس بات پر تاکید کی کہ ملت کی آواز کو زور کے ذریعے دبانے میں پائیداری نہیں اور عوام کو فریب دینے والی تشہیرات مشکلات کا حل نہیں ہیں نیز وہ اقتصاد کو کمزور اور عوام کے غم و غصہ کو کا علاج نہیں ہے ۔ [73] سال ۱۳۴۲شمسی کے شروع میں مدرسہ فیضیہ میں حکومتی کارندوں کے حملے کی سخت مذمت کی اور مملکت اسلامی کے انحطاط اور حکومتی عہدیداروں کی راہ و روش پر اظہار تاسف کیا ۔ [74] ایک مہینے کے بعد ایرانی علما کی ایک ایک جماعت کے خط کے جواب میں فاسد حاکموں میں صلاحیت کے نہ پائے جانے اعلان کیا، روحانیت کی ذمہ داریوں کے بڑھنے اور انکی خاموشی کو ناروا قرار دیا ۔ [75] ۱۵ خرداد ۱۳۴۲ش میں عوام کے کشت کشتار کے بعد ایرانی حکومت کی باڈی کو ستمگر ، ۲۱ویں اسمبلی کے انتخابات میں شرکت کی ممنوعیت کا حکم دینا اور اس انتخابات کے نتیجے میں قائم ہونے والی اسمبلی کو غیر معتبر کہنا، امام خمینی کی گرفتاری اور ان کے خلاف عدالتی کاروائی کی خبر کے نشر کے بعد امام خمینی کی حمایت کا اعلان اور دوسرے کئی اقدامات ان کے سیاسی اقدامات میں سے ہیں۔[76]

دس سال سے زیادہ خاموشی کا دور

آیت الله خوئی نے مرجعیت کے بعد سیاست سے کناره کشی اختیار کر لی اور یہ دور نجف میں امام خمینی کے زمانے کے ہمزمان تھا۔ [77] انقلاب کے دوران واقعات پر ان کے سکوت نے اعتراضات کو جنم دیا ۔ [78]آیت اللہ خوئی کے گھر شاہ ایران کی بیوی سے ۲۸ آبان ۱۳۵۷شمسی کی ملاقات سے مزید اعتراضات پیدا ہوئے لیکن آیت الله خوئی نے علما سے متعلق ایک یادداشت میں اس ملاقات کو ناگہانی اور اتفاقی کہا۔ [79]

فرح دیبا کی آیت الله خوئی سے ملاقات

۲۸ آبان ۱۳۵۷شمسی کو شاہ ایران محمد رضا شاہ پہلوی کی بیوی فرح دیبا عید غدیر کے روز کسی پہلے سے طے شدہ پروگرام کے بغیر اچانک آقا خوئی کے گھر گئی اور ان سے ملاقات کی ۔[80] یہ ملاقات ان دنوں میں ہوئی جب ایران میں اسلامی انقلاب اپنے عروج کی حدوں کو چھو رہا تھا اور امام خمینی کو عراق سے نکال دیا گیا تھا۔[81] اس ملاقات کی وجہ سے انقلابی محافل میں آیت اللہ خوئی تنقید کا نشانہ بنے ۔ [82] یہی وجہ تھی کہ یہ مرجع تقلید نے سید صادق روحانی سے متعلق یادداشت میں اس ملاقات کے اچانک اور ناگہانی ہونے کی تاکید کی اور کہا کہ ہم نے اس ملاقات میں ایران میں ہونے والے ناخوشگوار واقعات اور فاجعات پر شدید تنقید اور اعتراضات کئے ۔ [83][84] محمد رضا پہلوی کے نزدیکی شخص بنام حسین فردوست کے مطابق آیت اللہ سید ابوالقاسم خوئی نے فرح پہلوی کے تقاضائے ملاقات کا کوئی جواب نہیں دیا تھا اور فرح دیبا ذاتی طور پر اسلامی حجاب کے ساتھ آیت اللہ خوئی کے گھر گئی تھی ۔[85]

انقلاب اسلامی ایران کی ہمراہی

آیت اللہ خوئی نے آبان ۱۳۵۷شمسی میں فرح دیبا سے ملاقات کے بعد انقلاب اسلامی کی حمایت اختیار کی جبکہ ان دنوں میں پہلوی حکومت کے خلاف ایرانی عوام کے مبارزوں نے شدت اختیار کر لی تھی اور اسکے مختلف مواقع پر جمہوری اسلامی ایران کی حمایت کی ۔انقلاب کی کامیابی سے پہلے مراجع ،علما اور ملت ایران کے ایک بیانیے میں ایرانی عوام سے کہتے ہیں : وہ شرعی حدود کی پابندی کرتے ہوئے شجاعانہ قدم بڑھائیں ۔[86] آقاخوئی نے انقلاب کی کامیابی کے بعد ایران میں جمہوری نظام کی تعین میں لوگوں کو انتخابات میں شرکت کی دعوت دی اور اپنے شاگردوں سے تقاضا کیا کہ وہ انقلاب کے امور میں بھر پور حصہ لیں ۔ایران و عراق جنگ میں صدام حکومت کے دباؤ کے باوجود ایرانی فوج کی اشیائے ضرورت میں وجوہات شرعیہ کے استعمال کے جواز کا فتوا دیا ۔ [87]

عراق سے ایرانیوں کا خروج

۱۳۴۰ شمسی کی آخری دہائی میں عراق سے ایرانیوں کے خروج کے موقع پر آیت اللہ خوئی ان چند شیعہ علما میں سے ہیں جنہیں وہاں سے نہیں نکالا گیا ۔ بہت سے شاگردوں کے اس خروج کی وجہ سے نجف کے دروس کی رونق میں خاطر خواہ کمی واقع ہوئی ۔[88] آقا خوئی کے بہت سے شاگردوں نے حوزه علمیہ قم میں اپنے استاد کی فقہی اور اصولی تفکر کی تریج کی اور اس وقت حوزه علمیہ قم حائری یزدی اور بروجردی کے نظریات کے تحت تاثیر تھا ۔ آقا خوئی کے شاگردوں کی یہاں موجودگی مرزا نائینی، محقق اصفہانی اور آقاضیاء عراقی کے فقہی اور اصولی مبانی کی آشنائی کا موجب بنی ۔[89]

انتفاضہ شعبانیہ عراق

عراقی شیعوں کی اس تحریک کی ہمراہی آیت الله خوئی کا اہم ترین سیاسی اقدام تھا کہ جس میں شیعوں کے تحت نظر علاقوں میں آپ نے شیعہ علاقے کے امور چلانے کیلئے نو افراد پر مشتمل کمیٹی مقرر کی ۔ آیت اللہ خوئی کی گھر میں نظر بندی سے اس انتفاضہ شعبانیہ کو شکست اور صدام حکومت کے شدید دباؤ کا سامنا کرنا پڑا ۔ [90]

1991 عیسیوی میں آیت اللہ ابوالقاسم خوئی اس تحریک کی مستقیم حمایت اور تعین رہبر کیلئے شورا بنانے کی وجہ سے گرفتار کر کے بغداد روانہ کیا گیا ۔گرفتاری کے دو روز بعد زبردستی صدام حسین کے روبرو پیش کیا اور صدام نے نہایت توہین آمیز لہجے میں آپکو خطاب کیا ۔ [91]

حوالہ جات

  1. صدرائی خوئی، علی، سیمای خوئی، ص169۔۔
  2. معجم رجال الفکر و الادب، امینی، ص170۔
  3. | بنیاد اسلامی ایت الله خوئی ۔
  4. شاکری، الامام السید الخوئی: سیره و ذکریات، 1414، ص254، 256-257۔
  5. رئیس زاده، محمد، دانشنامۂ جہان اسلام، ج16، ص522۔
  6. | فرزندان آیت اللہ خوئی۔
  7. سبحانی، ص34-35۔
  8. انصاری قمی، ص63۔
  9. پیری سبزواری، «آیت الله العظمی سید ابوالقاسم خوئی؛ قرآن‌شناس بزرگ معاصر»، ص۳۰.
  10. انصاری قمی، «نجوم امت - حضرت آیت الله العظمی حاج سید ابوالقاسم خوئی»، ص۵۷.
  11. یادنامہ حضرت آیت الله العظمی آقای حاج سید ابوالقاسم خوئی، ص۵۸ و ۵۹.
  12. یادنامہ حضرت آیت الله العظمی آقای حاج سید ابوالقاسم خوئی، ص۵۸ و ۵۹.
  13. انصاری قمی، نجوم امت - حضرت آیت الله العظمی حاج سید ابوالقاسم خوئی، ص۵۸.
  14. یادنامه حضرت آیت الله العظمی آقای حاج سید ابوالقاسم خوئی، ص۶۴ و ۶۵.
  15. انصاری قمی، «نجوم امت - حضرت آیت الله العظمی حاج سید ابوالقاسم خوئی»، ص۵۹.
  16. انصاری قمی، «نجوم امت - حضرت آیت الله العظمی حاج سید ابوالقاسم خوئی»، ص۶۱.
  17. انصاری قمی، «نجوم امت - حضرت آیت الله العظمی حاج سید ابوالقاسم خوئی»، ص۶۲.
  18. انصاری قمی، «نجوم امت - حضرت آیت الله العظمی حاج سید ابوالقاسم خوئی»، ص۶۵.
  19. انصاری قمی، «نجوم امت - حضرت آیت الله العظمی حاج سید ابوالقاسم خوئی»، ص۶۲.
  20. انصاری قمی، «نجوم امت - حضرت آیت الله العظمی حاج سید ابوالقاسم خوئی»، ص۶۳.
  21. انصاری قمی، «نجوم امت - حضرت آیت الله العظمی حاج سید ابوالقاسم خوئی»، ص۶۴.
  22. نک: شریف، «تلامذة الإمام الخوئی»، ص۲۳۵-۲۵۲.
  23. رئیس‌زاده، «خوئی، ابوالقاسم»، ص۵۱۵، به نقل از شریف، ۱۴۱۴ق، ص۶۷۷-۶۹۵.
  24. «دخالت آخوند خراسانی در مشروطه متعارف نبود».
  25. فیاض، نوآوری‌ ہای اصولی و فقہی آیت الله خوئی، ص۳۳۶ و ۳۳۷.فیاض، «نوآوری‌های اصولی و فقہی آیت الله خوئی»، ص۳۳۶ و ۳۳۷.
  26. فیاض، نوآوری‌های اصولی و فقہی آیت الله خوئی»، ص۳۳۶ و ۳۳۷.
  27. فیاض، «نوآوری‌ہای اصولی و فقہی آیت اللہ خوئی»، ص۳۲۵ و ۳۲۶.، رییس‌زادہ، «خوئی، ابوالقاسم»، ص۵۱۸.
  28. رییس‌زادہ، «خوئی، ابوالقاسم»، ص۵۱۸.
  29. رئیس‌ زاده، «خوئی، ابوالقاسم»، ص۵۱۸.
  30. شریف رازی، آثار الحجة یا تاریخ و دایرة المعارف حوزه علمیه قم، 1354، ج2، ص3، 5۔
  31. صغیر، اساطین المرجعیۃ العلیا، ص277۔
  32. خاطرات آیت الله عباس خاتم یزدی، ص۱۰۰-۹۸.
  33. یعقوب ضاهر، مسیرة االإمام السید موسی الصدر، ج۲، ص۲۹۴-۲۹۳.
  34. رییس‌زاده، «خوئی، ابوالقاسم»، ص۵۲۲.
  35. تقریرات نویسی یا تقریر نویسی یعنی جو کچھ استاد پڑھائے شاگرد اس کو رشتہ تحریر میں لائے۔ تقریر نویسی کی چار قسمیں ہیں:
    1۔ پورا درس من و عن کلاس میں ہی لکھ لیا جائے،
    2۔ پورا درس ذہن نشین کرکے کلاس کے بعد لکھ لیا جائے،
    3۔ کلاس میں صرف اہم نکات لکھ لئے جائیں اور،
    4۔ کلاس ختم ہونے کے بعد درس کا خلاصہ تحریر کیا جائے۔ ان میں سے ہر روش کی اپنی خصوصیات ہیں۔ رجوع کریں: | تقریر نویسی۔
  36. انصاری، ص454-455۔
  37. آقا بزرگ تهرانی، الذریعة الی تصانیف الشیعه، 1404، قسم1، ص71-72۔
  38. آقا بزرگ، 1403، ج1، ص278۔
  39. انصاری قمی، ص68۔
  40. مشار، مولفین کتب چاپی فارسی و عربی، ج1، ستون241۔
  41. مشار، ج1، ستون241-242۔
  42. آقا بزرگ تهرانی، 1403، ج20، ص240۔
  43. ایازی، چه کسانی مروج مکتب تفسیری آیت الله خوئی شدند، ص231۔
  44. آقا بزرگ تہرانی، 1403، ج24، ص246۔
  45. گرجی، تاریخ فقہ و فقہاء، ص208۔
  46. آقا بزرگ تہرانی، 1403، ج4، ص437۔
  47. صغیر، ص297۔
  48. اس کتاب کے مؤلف گذشتہ صدی کے نامدار شیعہ فقیہ سید محمد کاظم طباطبائی یزدی (28 رجب 1337ہجری) ہیں۔ عروۃ الوثقی کی شہرت کا حال یہ ہے کہ جناب یزدی کی متعدد کاوشوں کے باوجود، یہی کتاب ان کی شہرت کا سبب بنی ہوئی اور وہ اپنے اصل نام کے ساتھ ساتھ "صاحب عروہ" کے عنوان سے پہچانے جاتے ہیں۔۔
  49. مددی، ص227۔
  50. رئیس زاده، محمد، دانشنامۂ جہان اسلام، ج16، ص522۔
  51. خوئی
  52. قم
  53. قم
  54. آمریکا
  55. یہ مرکز شمالی لندن میں ہے جو قبل ازیں ایک گرجا گھر تھا۔ یہ مجموعہ اسلامی مرکز، مدرسۂ امام صادق(ع) (لڑکوں کے لئے)، مدرسۂ الزہرا(س) (لڑکیوں کے لئے)، کھانے کے ہال، کانفرنس ہال، عمومی کتب خانہ، دکان کتب مرکز تبلیغات پر مشتمل ہے۔
    مجلہ "النور" ہر ماہ عربی اور انگریزی میں اس مرکز کی جانب سے شائع ہوات ہے جو یورپی مسلمانوں کے درمیان شیعہ معارف کے فروغ میں خاصا کردار ادا کر رہا ہے۔ یہ مرکز سید خوئی کے تمام عالمی مراکز کی نگرانی کرتا ہے۔
  56. سوانسی دنیا میں جامعات کے حوالے سے مشہور ہے، یہ مرکز بھی قبل ازیں ایک گرجا گھر تھا۔
  57. سوانسی الخوئی فاؤنڈیشن
  58. لندن
  59. فرانس
  60. یہ خیراتی ـ ثقافتی و علمی ادارہ عالم اسلام کے چند بڑے مراکز میں شمار ہوتا ہے۔
  61. بمبئی خیراتی ادارہ
  62. پاکستان
  63. یہ عمارت لبنان اور فلسطین کے بےگھر بچوں کے لئے تعمیر کی گئی جو چھ بلاکوں اور ہر بلاک چھ منزلوں پر مشتمل ہے۔ اس عمارت میں تعلیم اور صحت کی سہولیات بھی فراہم کی جاتی ہیں۔
  64. لبنان
  65. آیت اللہ العظمی خوئی کی خدمات
  66. آیت اللہ العظمی خوئی کی خدمات
  67. بینکاک۔
  68. بینکاک۔
  69. [http://www.alkhoei.net/arabic/?p=page&id=56 تھائی لینڈ۔
  70. کنیڈا
  71. رئیس‌ زاده، خوئی، ابوالقاسم، ص۵۱۶.
  72. رئیس‌ زاده، خوئی ابوالقاسم، ص۵۱۶.
  73. رئیس‌ زاده، خویی، ابوالقاسم، ص۵۱۶.
  74. رئیس‌ زاده، خوئی ابوالقاسم، ص۵۱۶.
  75. رئیس‌ زاده، خوئی ابوالقاسم، ص۵۱۶.
  76. رئیس‌ زاده، خوئی ابوالقاسم، ص۵۱۶.
  77. رئیس‌ زاده، خوئی ابوالقاسم، ص۵۱۶.
  78. رئیس‌ زاده، خوئی ابوالقاسم، ص۵۱۶.
  79. رئیس‌ زاده، خوئی ابوالقاسم، ص۵۱۶-۵۱۷.
  80. رئیس‌ زاده، خوئی ابوالقاسم، ص۵۱۶-۵۱۷.
  81. رئیس‌ زاده، خوئی ابوالقاسم، ص۵۱۶.
  82. رئیس‌ زاده، خوئی ابوالقاسم، ص۵۱۶.
  83. رئیس‌ زاده، خوئی ابوالقاسم، ص۵۱۶-۵۱۷.
  84. طباطبائی، دیدار پرماجرا و روایت‌ ہای متفاوت.
  85. ہاشمیان‌ فر، گونہ شناسی رفتار سیاسی مراجع تقلید، ص۲۲۴.
  86. رئیس‌ زاده، خوئی ابوالقاسم، ص۵۱۷.
  87. رئیس‌ زاده، خوئی ابوالقاسم، ص۵۱۷.
  88. رییس‌زاده، خوئی ابوالقاسم، ص۵۱۹.
  89. رئیس‌ زاده، خوئی ابوالقاسم، ص۵۱۹-۵۲۰.
  90. رئیس‌ زاده، خوئی ابوالقاسم، ص۵۱۶.
  91. جعفریان، «خاطره‌ای خواندنی درباره دستگیری آیت الله خویی در انتفاضہ شعبانیہ ۱۹۹۱».


منابع

  • آقا بزرگ تہرانی، الذریعہ الی تصانیف الشیعہ، چاپ علی نقی منزوی و احمد منزوی، بیروت، 1403 ہجری قمری
  • آقا بزرگ تہرانی، طبقات اعلام الشیعہ: نقباء البشر فی القرن الرابع عشر، مشہد، قسم 1-4، 1404 ہجری قمری
  • امینی، محمد ھادی، معجم رجال الفکر و الادب فی النجف خلال الف عام، نجف، 1384 ہجری قمری
  • انصاری، مرتضی، زندگانی و شخصیت شیخ انصاری، قم، 1373 ہجری شمسی۔
  • انصاری قمی، ناصر الدین، نجوم امت: حضرت آیت الله العظمی خوئی، نوعلم، دوره4، ش11، مهر و آبان 1371 ہجری شمسی۔
  • ایازی، محمد علی، چہ کسانی مروج مکتب تفسیری آیت الله خوئی شدند؟ مہرنامہ، ش12، خرداد1390 ہجری شمسی۔
  • خوئی، ابو القاسم، معجم رجال الحدیث و تفصیل طبقات الرواة، قم، مرکز نشر الثقافہ الاسلامیہ، 1372 ہجری شمسی۔
  • رئیس زاده، محمد، دانش نامہ جہان اسلام، بنیاد دایره المعارف اسلامی، 1375 ہجری شمسی۔
  • سبحانی، جعفر، مرجعیت در شیعہ، در یادنامہ آیت الله خوئی، شہروند امروز، سال4، ش3، 1390 ہجری شمسی۔
  • شاکری، حسین، الامام السید الخوئی: سیره و ذکریات، الموسم، ش17، 1414 ہجری قمری
  • شریف رازی، محمد، آثار الحجہ یا تاریخ و دایرة المعارف حوزه علمیہ قم، قم، 1332 ہجری شمسی۔
  • شریف رازی، محمد، گنجینہ دانشمندان، تہران، 1352-1354 ہجری شمسی۔
  • صدرایی‌ خوئی، علی، سیمای خوئی، تہران، سازمان تبلیغات اسلامی، مرکز چاپ و نشر، 1374 ہجری شمسی۔
  • صغیر، محمد، اساطین المرجعیة العلیا فی النجف الاشرف، بیروت، 1424 ہجری قمری
  • قایینی، محمد، گفتگو با محمد قایینی، مہرنامہ، ش12، خرداد1390 ہجری شمسی۔
  • گرجی، ابو القاسم، تاریخ فق و فقہا، قم، سمت، 1381 ہجری شمسی۔
  • مددی، احمد، گفتگو با آیت الله سید احمد مددی، مہرنامہ، ش12، خرداد1390 ہجری شمسی۔
  • مشار، خان بابا، مولفین کتب چاپی فارسی و عربی، تہران، 1340-1344 ہجری شمسی۔

تصنیفات کا نگارخانہ

بیرونی روابط