آیت شورا

ویکی شیعہ سے
آیہ شورا
آیت کی خصوصیات
آیت کا نامشورا
سورہشورا
آیت نمبر38
پارہ25
شان نزولانصار کی مختلف امور میں سنت مشاورت کی تعریف
محل نزولمدینہ
موضوعاخلاقی، عقیدتی
مضمونعمومی اور حکومتی امور میں باہمی مشاورت کی تاکید
مربوط آیاتآیہ 159 سورہ آل عمران • آیہ233 سورہ بقرہ


آیت شورا (سورہ شوری: آیت 38) میں مسلمانوں کی چند خصوصیات بیان ہوئی ہیں؛ منجملہ اللہ کی دعوت پر لبیک کہنا، راہ خدا میں خرچ کرنا، اقامہ نماز اور اپنے امور میں باہمی مشاورت کرنا۔ مفسرین قرآن کے مطابق خدا پر ایمان اور اقامہ نماز جیسے موضوعات کے ساتھ مشاورت کو بیان کر کے اس کی اہمیت کو بیان کیا گیا ہے۔ کہتے ہیں کہ آیت شورا میں مومنین کی ایک اہم خصوصیت یعنی حکم پروردگار پر لبیک کہنا، بیان ہوئی ہے جس میں تمام نیکیاں اور خوبیاں جمع ہیں۔ مفسرین کی نظر میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم دیے گئے تمام نیک اعمال کی بجاآوری اور اس کے تمام اوامر و نواہی پر عمل کرنے کو «استجابت» کہتے ہیں۔

تعارف، متن اور ترجمہ

سورہ شوری کی آیت 38 میں پچھلی آیات کے سیاق و سباق کے تحت جن میں اہل ایمان کی خصوصیات بیان ہوئی ہیں، ان کی کچھ دوسری خصوصیات بیان کرتی ہے۔ اہل ایمان کی بعض دوسری خصوصیات یہ ہیں کہ وہ دعوت حق کو قبول کرنے میں پیش پیش ہوتے ہیں۔ نماز قائم کرنے کے ساتھ ساتھ راہ خدا میں انفاق کرتے ہیں اور اپنے امور کی انجام دہی میں باہمی مشاورت سے کام لیتے ہیں۔[1]

علامہ طباطبائی نے اس آیت کو اسلامی معاشرے میں مشاورت کی اہمیت کی دلیل اور اسے انسانی ترقی کا پیش خیمہ قرار دیا ہے۔ علامہ کے مطابق جب اہل ایمان کچھ امور انجام دینے کا ارادہ کرتے ہیں تو وہ ایک شورا تشکیل دے کر صائب اور صحیح رائے تک پہنچنے کے لیے صاحبان عقل سے باہمی مشاورت کرتے ہیں۔[2]

محققین دینی کا یہ خیال ہے کہ سورہ شوری کی آیت38 اور سورہ آل عمران کی آیت159 کے باہمی تقارن سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ انسانی معاشرے میں انجام پانے والے ہر کام میں مشاورت ایک ضروری امر ہے اور فیصلہ سازی کے عمل میں باہمی مشاورت کے حصول کے لیے سب کو شریک ہونا چاہیے۔[3] طبرسی نے مجمع البیان میں درست اور صحیح راستے کی تلاش میں مشاورت کی ضرورت کے سلسلے میں پیغمبر خداؐ کی ایک حدیث سے اسنتاد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سورہ شوری کی یہ آیت باہمی مشاورت کی فضیلت پر روشن دلیل ہے۔[4]

وَالَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِرَ‌بِّهِمْ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَأَمْرُ‌هُمْ شُورَ‌ىٰ بَيْنَهُمْ وَمِمَّا رَ‌زَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ


اور جو اپنے رب کو لبیک کہتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور اپنے معاملات باہمی مشاورت سے انجام دیتے ہیں اور ہم نے جو رزق انہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں



سوره شوری: آیت 38


شأن نزول

پانچویں اور چھٹی صدی ہجری کے مفسر قرآن فضل بن حسن طبرسی کے مطابق سورہ شوری کی آیت 38 انصار کے بارے میں ہے، جو اسلام اور رسول اللہؐ کی مدینہ کی طرف ہجرت سے پہلے بھی باہمی مشاورت سے کام لیتے تھے۔ طبرسی کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں انصار کی تعریف کی ہے۔ اسی طرح تابعی[5] اور مفسر قرآن ضحاک بن مزاہم ہلالی (متوفی: 102 یا 105ھ) بھی نقل کرتے ہیں کہ اس آیت میں انصار کے اس عمل کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جس کے مطابق جب سنا گیا کہ پیغمبر اسلامؐ (ص) ) مبعوث برسالت ہوئےہیں، باہمی مشاورت کے لیے سب ابو ایوب انصاری کے گھر جمع ہوئے، اور پیغمبر خداؐ کی مدینہ کی جانب ہجرت سے پہلے ہی آپؐ پر ایمان لے آئے اور عقبہ میں آپؐ کے ساتھ بیعت کی۔[6] ناصر مکارم شیرازی کے مطابق، اگرچہ اس آیت کے لیے ایک شان نزول بیان ہوئی ہے لیکن یہ اسی شان نزول سے مخصوص نہیں ہے ایک عمومی امر کو بیان کرتی ہے۔[7]

دعوت پروردگار کی استجابت کے کیا معنی ہیں؟

مکارم شیرازی کے مطابق اہل ایمان کی ایک اہم خصوصیت یہ بیان ہوئی ہے کہ وہ اپنے پروردگار کے ہر حکم پر لبیک کہتے ہیں جس میں ساری نیکیاں جمع ہیں۔[8] مفسرین کی نظر میں یہاں استجابت کے معنی یہ ہیں کہ انسان اللہ تعالیٰ کے تمام اوامر و نواہی پر عمل پیرا رہے اور اس کے کسی حکم کی مخالفت نہ کرے۔[9] علامہ طباطبایی کے مطابق یہاں تمام نیک اعمال میں سے خصوصی طور پر نماز کا ذکر اس کی فضیلت و عظمت کے بموجب ہے۔[10]

انسانی زندگی میں باہمی مشاورت کی اہمیت

آیت اللہ مکارم شیرازی کے مطابق اہل ایمان کی صفات اور خصوصیات یعنی ایمان باللہ اور اقامہ نماز وغیرہ[11] کی فہرست میں مشاورت کا بیان اس کی غیر معمولی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔[12] مکارم شیرازی مزید کہتے ہیں کہ قرآن مجید نے باہمی مشاورت کی تاکید اس لیے کی ہے کہ انسان فکری لحاظ سے جتنا بھی طاقتور ہو وہ اپنے مختلف مسائل کو ایک یا چند جہتوں سے دیکھتا ہے اور اس کی دیگر جہتوں سے وہ غافل ہوتا ہے۔[13]

حوالہ جات

  1. مکارم شیرازی، تفسیر نمونه، 1371ہجری شمسی، ج20، ص461.
  2. طباطبایی، المیزان، 1390ھ، ج18، ص63
  3. مبلغی، «نقش مشورت و مشارکت در فرایند تصمیم سازی با نگاهی تاریخی و تطبیقی»، مندرج در پرتال امام خمینی.
  4. طبرسی، مجمع البیان، 1372ہجری شمسی، ج9، ص57.
  5. معرفت، تفسیر و مفسران، 1379ہجری شمسی، ج1، ص259.
  6. طبرسی، مجمع البیان، 1372ہجری شمسی، ج9، ص50-51.
  7. مکارم شیرازی، تفسیر نمونه، 1371ہجری شمسی، ج20، ص463.
  8. مکارم شیرازی، تفسیر نمونه، 1371ہجری شمسی، ج20، ص461.
  9. طباطبایی، المیزان، 1390ھ، ج18، ص63؛ مغنیه، الکاشف، 1424ھ، ج6، ص529.
  10. طباطبایی، المیزان، 1390ھ، ج18، ص63.
  11. مکارم شیرازی، پیام قرآن، 1386ہجری شمسی، ج10، ص87-88.
  12. مکارم شیرازی، پیام قرآن، 1386ہجری شمسی، ج10، ص88.
  13. مکارم شیرازی، تفسیر نمونه، 1371ہجری شمسی، ج20 ص462-463.

مآخذ

  • طباطبایی، محمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن، بیروت، موسسه الاعلمی للمطبوعات، 1390ھ.
  • طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، تهران، ناصر خسرو، 1372ہجری شمسی.
  • مبلغی، احمد، «نقش مشورت و مشارکت در فرایند تصمیم سازی با نگاهی تاریخی و تطبیقی»، مندرج در پرتال امام خمینی، تاریخ درج 2 اردیبهشت 1396ہجری شمسی، تاریخ بازدید 6 بهمن 1401ہجری شمسی.
  • معرفت، محمدهادی، تفسیر و مفسران، قم، موسسه التمهید، 1379ہجری شمسی.
  • مغنیه، الکاشف فی تفسیر القرآن، قم، دارالکتاب الاسلامی، 1424ھ.
  • مکارم شیرازی، ناصر، پیام قرآن، قم، مدرسه امیر المومنین،‌ 1368ہجری شمسی.
  • مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونه، تهران، دارالکتب الاسلامیه، 1371ہجری شمسی.