مندرجات کا رخ کریں

"تفویض" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی شیعہ سے
Mohsin (تبادلۂ خیال | شراکتیں)
«'''تَفْویض'''، اسلامی تعلیمات میں وسیع پیمانے پر رائج ایک لفظ ہے جو احادیث، علم کلام، اخلاق اور عرفان میں مختلف معانی میں مستعمل ہے۔ تفویض کا لفظ کلام سے متعلق مسئلہ جبر واختیار میں اختیار مطلق کے مترادف کے طور پر استعمال ہوتا ہے جس کے م...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
 
Mohsin (تبادلۂ خیال | شراکتیں)
سطر 11: سطر 11:


== اختیار ==
== اختیار ==
کلامی اسلامی میں تفویض جبر و اختیار کے مسئلے میں زیر بحث آتی ہے۔<ref>مطهری، مجموعه آثار، ۱۳۸۴ش، ج۲۳، ص۳۰۷.</ref> [[معتزلہ]] کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کے افعال و اعمال میں کوئی دخالت نہیں کرتا؛ یعنی اللہ نے انسان کو اپنے حال پر چھوڑ دیا ہے لہذا وہ اپنے اعمال میں مخمل اختیا ررکھتا ہے۔<ref>مطهری، مجموعه آثار، ۱۳۸۴ش، ج۶، ص۶۲۸.</ref> اس کے مقابلے میں تفویض کے دوسرے معنی جبر مطلق کے ہیں جس کا اشاعرہ دفاع کرتے ہیں۔<ref>مطهری، مجموعه آثار،۱۳۸۴ش، ج۲۳، ج۳۰۷.</ref>
[[علم کلام|کلام اسلامی]] میں تفویض جبر و اختیار کے مسئلے میں زیر بحث آتی ہے۔<ref>مطهری، مجموعه آثار، ۱۳۸۴ش، ج۲۳، ص۳۰۷.</ref> [[معتزلہ]] کا عقیدہ ہے کہ [[اللہ تعالیٰ]] انسان کے افعال و اعمال میں کوئی دخالت نہیں کرتا؛ یعنی اللہ نے انسان کو اپنے حال پر چھوڑ دیا ہے لہذا وہ اپنے اعمال میں مکمل اختیار رکھتا ہے۔<ref>مطهری، مجموعه آثار، ۱۳۸۴ش، ج۶، ص۶۲۸.</ref> اس کے مقابلے میں تفویض کے دوسرے معنی جبر مطلق کے ہیں جس کا [[اشاعرہ]] دفاع کرتے ہیں۔<ref>مطهری، مجموعه آثار،۱۳۸۴ش، ج۲۳، ج۳۰۷.</ref>


شیعه حضرات ائمہ معصومینؑ کی احادیث کی روشنی میں نہ مکمل طور پر جبر کا عقیدہ رکھتے ہیں اور نہ ہی مکمل طور پر اختیار کا؛ بلکہ ان میں سے ایک درمیانی راہ اپناتے ہیں<ref>سبحانی، جبر و اختیار، ۱۳۸۱ش/۱۴۲۳ق، ص۴۱۱.</ref> جسے "امرٌ بَینَ الْاَمرَین" سے تعبیر کرتے ہیں؛<ref>سبحانی، جبر و اختیار، ۱۳۸۱ش/۱۴۲۳ق، ص۴۱۱.</ref> یعنی انسان ایک مختار موجود ہے؛ لیکن اس کے افعال کو اللہ کی طرف بھی نسبت دی جاتی ہے؛ کیونکہ جہاں انسان کا وجود اللہ سے ہے وہاں اس سے صادر ہونے والے افعال بھی اسی سے وابستہ ہیں۔<ref>سبحانی، جبر و اختیار، ۱۳۸۱ش/۱۴۲۳ق، ص۴۳۱-۴۳۲.</ref>
شیعه حضرات [[ائمہ معصومینؑ]] کی احادیث کی روشنی میں نہ مکمل طور پر جبر کا عقیدہ رکھتے ہیں اور نہ ہی مکمل طور پر اختیار کا؛ بلکہ ان میں سے ایک درمیانی راہ اپناتے ہیں<ref>سبحانی، جبر و اختیار، ۱۳۸۱ش/۱۴۲۳ق، ص۴۱۱.</ref> جسے "امرٌ بَینَ الْاَمرَین" سے تعبیر کرتے ہیں؛<ref>سبحانی، جبر و اختیار، ۱۳۸۱ش/۱۴۲۳ق، ص۴۱۱.</ref> یعنی انسان ایک مختار موجود ہے؛ لیکن اس کے افعال کو اللہ کی طرف بھی نسبت دی جاتی ہے؛ کیونکہ جہاں انسان کا وجود اللہ سے ہے وہاں اس سے صادر ہونے والے افعال بھی اسی سے وابستہ ہیں۔<ref>سبحانی، جبر و اختیار، ۱۳۸۱ش/۱۴۲۳ق، ص۴۳۱-۴۳۲.</ref>


شیعہ منابع حدیثی، جیسے [[الکافی (کتاب)|الکافی]]،<ref>ملاحظہ کریں: کلینی، کافی، ۱۴۰۷ق، ج۱، ص۱۵۵.</ref> [[التوحید (کتاب)|توحید]]،<ref>شیخ صدوق، توحید، ص۳۵۹.</ref> [[الاعتقادات (کتاب)|الاعتقادات]]<ref>شیخ صدوق،  اعتقادات الامامیه، ۱۴۱۴ق، ص۲۹.</ref> اور [[بحار الانوار (کتاب)|بحارالانوار]] وغیرہ<ref> مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ق، ج۵، ص۲.</ref> میں کچھ ابواب جبر و اختیار مطلق کے رد اور "اَمرٌ بَینَ الْاَمرَین" کی تائید کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ [[شیخ کلینی]] کی کتاب الکافی اور [[شیخ صدوق]] کی کتاب التوحید میں [[امام جعفرصادقؑ]] سے ایک حدیث نقل کی گئی ہے: "لَا جَبْرَ وَ لَا تَفْوِيضَ وَ لَكِنْ أَمْرٌ بَيْنَ أَمْرَيْن؛ نہ جبر نہ تفویض؛ بلکہ ان دونوں میں سے صرف درمیانی راہ صحیح اور درست ہے۔"<ref>ملاحظہ کریں: کلینی، کافی، ۱۴۰۷ق، ج۱، ص۱۶۰؛ شیخ صدوق، توحید، ص۳۶۲.</ref>
شیعہ منابع حدیثی، جیسے [[الکافی (کتاب)|الکافی]]،<ref>ملاحظہ کریں: کلینی، کافی، ۱۴۰۷ق، ج۱، ص۱۵۵.</ref> [[التوحید (کتاب)|توحید]]،<ref>شیخ صدوق، توحید، ص۳۵۹.</ref> [[الاعتقادات (کتاب)|الاعتقادات]]<ref>شیخ صدوق،  اعتقادات الامامیه، ۱۴۱۴ق، ص۲۹.</ref> اور [[بحار الانوار (کتاب)|بحارالانوار]] وغیرہ<ref> مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ق، ج۵، ص۲.</ref> میں کچھ ابواب جبر و اختیار مطلق کے رد اور "اَمرٌ بَینَ الْاَمرَین" کی تائید کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ [[شیخ کلینی]] کی کتاب الکافی اور [[شیخ صدوق]] کی کتاب التوحید میں [[امام جعفر صادق علیہ السلام|امام جعفرصادقؑ]] سے ایک حدیث نقل کی گئی ہے: "لَا جَبْرَ وَ لَا تَفْوِيضَ وَ لَكِنْ أَمْرٌ بَيْنَ أَمْرَيْن؛ نہ جبر نہ تفویض؛ بلکہ ان دونوں میں سے صرف درمیانی راہ صحیح اور درست ہے۔"<ref>ملاحظہ کریں: کلینی، کافی، ۱۴۰۷ق، ج۱، ص۱۶۰؛ شیخ صدوق، توحید، ص۳۶۲.</ref>


== امور کو اللہ کے سپرد کرنا ==
== امور کو اللہ کے سپرد کرنا ==

نسخہ بمطابق 10:40، 16 دسمبر 2023ء

تَفْویض، اسلامی تعلیمات میں وسیع پیمانے پر رائج ایک لفظ ہے جو احادیث، علم کلام، اخلاق اور عرفان میں مختلف معانی میں مستعمل ہے۔ تفویض کا لفظ کلام سے متعلق مسئلہ جبر واختیار میں اختیار مطلق کے مترادف کے طور پر استعمال ہوتا ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ انسان اپنے افعال و اعمال کی انجام دہی میں مکمل اختیار رکھتا ہے، یہ اسلامی مکاتب فکر میں سے معتزلہ کا نظریہ ہے۔ اس کے مقابلے میں نظریہ جبر ہے جس کے مطابق انسان اپنے افعال کی انجام دہی میں مکمل مجبور ہے۔ یہ اشاعرہ کا نظریہ ہے۔

شیعہ متکلمین ائمہ معصومینؑ کی احادیث کی روشنی میں تفویض اور جبر دونوں کو رد کرتے ہیں بلکہ ان دونوں میں سے ایک درمیانی راہ کو اپناتے ہیں؛ جسے "اَمرٌ بَینَ الْاَمرَین" سے تعبیر کرتے ہیں۔ اخلاق اور عرفان میں تفویض سیر و سلوک کے ایک مرحلے کا نام ہے۔ یہاں تفویض تقریبا توکل جیسے معنی دیتی ہے؛ یعنی اپنے تمام معاملات کو اللہ کے سپرد کرنا، اس کی مقدرات کے سامنے سر تسلیم خم کرنا اور اسی پر راضی ہونا۔ شیعوں کے ہاں رائج کلامی مباحث میں تفویض کے اور دو معنی مستعمل ہیں اور یہ دونوں معنی احادیث سے ماخوذ ہیں: ان میں سے ایک پیغمبرؐ اور اماموں کی ولایت تشریعی اور دوسرا ان کی ولایت تکوینی ہے۔ علمائے شیعہ ان دونوں موضوعات میں اختلاف نظر رکھتے ہیں۔

تفویض، اسلامی علوم میں بکثرت استعمال ہونے والی اصطلاح

تفویض کی اصطلاح اسلامی علوم کے مختلف شعبوں میں وسیع پیمانے پر استعمال ہوتی ہے، جن میں حدیث، علم کلام، اخلاق اور اسلامی عرفان شامل ہیں اور ان میں سے ہر ایک شعبہ میں اس کے مختلف معنی ہیں۔[1] خصوصا کلامی اسلامی میں تفویض پر بہت زیادہ بحث ہوتی ہے[2] اور معتزلہ نامی ایک کلامی فرقہ کے پیروکاروں کو جبر و اختیار کے کے مسئلے میں مُفَوّضہ (اہل تفویض) کہا جاتا ہے۔[3] لغت میں تفویض کے معنی ہیں سپرد کرنا۔[4]

اسلامی علوم میں تفویض کے مختلف معانی کا استعمال

شیعہ احادیث میں علمائے شیعہ کے مطابق تفویض کے کم از کم چار مختلف معانی زیر استعمال ہیں؛ جن میں سے بعض مثبت اور بعض منفی معنی میں شمار ہوتے ہیں: انسان کا اپنے افعال میں مکمل اختیار رکھنا(مکمل جبر کے بر خلاف معنی)،[5] اپنے معاملات کو اللہ کے سپرد کرنا،[6] محمد و آل محمدؐ کی ولایت تشریعی،[7] اور ان کی ولایت تکوینی آنان.[8] اخلاق اور عرفان اسلامی میں تفویض کے معنی ہیں اپنے امور کو اللہ تعالیٰ کے حوالے کرنا جو کہ توکل سے ملتے جلتے معنی ہیں۔[9] علم کلام میں تفویض کے معنی یہ ہیں کہ انسان اپنے افعال میں مکمل اختیار رکھتا ہے[10] لیکن شیعہ کلامی کتب میں اس مطلب کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ احادیث میں لفظ تفویض ولایت تشریعی اور ولایت تکوینی میں استعمال ہوا ہے؛ لہذا اس کے دیگر معانی بھی کلام میں استعمال کرتے ہیں۔[11]

اختیار

کلام اسلامی میں تفویض جبر و اختیار کے مسئلے میں زیر بحث آتی ہے۔[12] معتزلہ کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کے افعال و اعمال میں کوئی دخالت نہیں کرتا؛ یعنی اللہ نے انسان کو اپنے حال پر چھوڑ دیا ہے لہذا وہ اپنے اعمال میں مکمل اختیار رکھتا ہے۔[13] اس کے مقابلے میں تفویض کے دوسرے معنی جبر مطلق کے ہیں جس کا اشاعرہ دفاع کرتے ہیں۔[14]

شیعه حضرات ائمہ معصومینؑ کی احادیث کی روشنی میں نہ مکمل طور پر جبر کا عقیدہ رکھتے ہیں اور نہ ہی مکمل طور پر اختیار کا؛ بلکہ ان میں سے ایک درمیانی راہ اپناتے ہیں[15] جسے "امرٌ بَینَ الْاَمرَین" سے تعبیر کرتے ہیں؛[16] یعنی انسان ایک مختار موجود ہے؛ لیکن اس کے افعال کو اللہ کی طرف بھی نسبت دی جاتی ہے؛ کیونکہ جہاں انسان کا وجود اللہ سے ہے وہاں اس سے صادر ہونے والے افعال بھی اسی سے وابستہ ہیں۔[17]

شیعہ منابع حدیثی، جیسے الکافی،[18] توحید،[19] الاعتقادات[20] اور بحارالانوار وغیرہ[21] میں کچھ ابواب جبر و اختیار مطلق کے رد اور "اَمرٌ بَینَ الْاَمرَین" کی تائید کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ شیخ کلینی کی کتاب الکافی اور شیخ صدوق کی کتاب التوحید میں امام جعفرصادقؑ سے ایک حدیث نقل کی گئی ہے: "لَا جَبْرَ وَ لَا تَفْوِيضَ وَ لَكِنْ أَمْرٌ بَيْنَ أَمْرَيْن؛ نہ جبر نہ تفویض؛ بلکہ ان دونوں میں سے صرف درمیانی راہ صحیح اور درست ہے۔"[22]

امور کو اللہ کے سپرد کرنا

سانچہ:نقل قول

سوره غافر آیت 44"اُفَوِّضُ اَمْری اِلَى الله"؛ میں اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کرتا ہوں"، کی عثمانی اور صفویہ دور میں خط نستعلیق میں خطاطی کی ایک تصویر

محدثین کے عقیدے کے مطابق بعض احادیث میں تفویض "امور کو اللہ کے سپرد کرنے" کے معنی میں استعمال ہوئی ہے۔ بعض منابع حدیثی میں کچھ ابواب "اللہ پر تفویض اور اس پر توکل" کے عنوان سے بیان ہوئے ہیں۔[23] ان احادیث میں سے ایک حدیث میں امام موسی کاظمؑ سے ایک روایت نقل کی گئی ہے: "توکل کے کئی درجے ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ اپنے تمام امور میں اللہ پر تکیہ کرو، ہر حالت میں اسی پر راضی رہو، اس بات پر یقین رکھو کہ وہ تجھے اپنے خیر و فضل کے عطا کرنے میں کوتاہی نہیں کرتا اور خود ہی اس کے بارے میں بہتر جانتا ہے۔ پس اپنے امور کو اسی پر تفویض کرو اور اسی پر توکل کر اور اپنے اور دوسروں کے امور کے سلسلے میں صرف اسی پر بھروسہ رکھو۔"[24]

حضرت علیؑ کی ایک حدیث میں آیا ہے: "ایمان کے چار ارکان ہیں: اللہ پر توکل، تمام امور کو اسی کے سپرد کرنا، قضائے الہی پر راضی ہونا اور امر خدا کے سامنے تسلیم ہونا۔"[25]

بعض اخلاقی اور عرفانی کتب میں بھی تفویض کا مسئلہ بیان کیا گیا ہے۔[26] پانچویں صدی ہجری کے عارف باللہ خواجه عبد الله انصاری نے اپنی کتاب "منازل‌ السّائرین میں تفویض کو سیر و سلوک کا ایک مرحلہ قرار دیا ہے، جس میں انسان مکمل طور پر اللہ کے سامنے سر تسلیم خم کرتا ہے۔ خواجہ کے مطابق توکل تفویض کی ایک شاخ ہے۔[27]

ان کے مطابق تفویض کے تین درجے ہیں:

  1. اس بات کو جانو کہ بندہ اپنے عمل کی انجام دہی میں کوئی طاقت نہیں رکھتا۔ پس اللہ کی تدبیر سے اپنے آپ کو محفوظ مت سمجھو، اس کی مدد سے ناامید مت ہوجاؤ اور صرف اپنے ارادے پر بھروسہ نہ کرو۔
  2. اپنی ناداری اور مجبوری کو مد نظر رکھ کر اللہ پر یقین رکھو۔ کسی عمل کو اپنی نجات کا باعث اور کسی گناہ کو ہلاکت کا موجب تصور نہ کرو اور اللہ کے سوا کسی چیز کو موثر مت جانو۔
  3. یقین کرو کہ حرکت و سکون اور تمام امور کا اختیار صر ف اللہ تعالیٰ کی قدرت میں ہے۔ جان لو کہ وہ جسے چاہے ہدایت کرتا ہے اور جسے چاہے گمراہ کرتا ہے۔[28]

ولایت تشریعی

ائمہؑ سے منقول بعض احادیث کے مطابق اللہ تعالیٰ نے دینی امور کو پیغمبر خداؐ اور اماموں پر "تفویض" کیا ہے۔[29] بعض شیعہ منابع حدیثی میں "تفویض امر دین به پیغمبر و امام" کے عنوان سے باقاعدہ الگ باب کا عنوان ملتا ہے۔[30] علمائے شیعه نے اسے "ولایت تشریعی" کے ضمن میں بحث کی ہے۔ یہاں ولایت تشریعی سےمراد دین میں قانون گزاری کا حق ہے؛ یعنی تشریع احکام عبادی، اقتصادی، سیاسی، حقوقی وغیرہ۔[31]

ولایت تشریعی کے سلسلے میں علما کے مابین اختلاف پایا جاتا ہے: بعض کا کہنا ہے کہ اسلام میں کسی کو اللہ نے قانون گزار کا حق نہیں دیا ہے؛ یہ صرف اسی کا حق ہے لہا اللہ نے بطور مطلق یہ معاملہ کسی کو تفویض نہیں کیا ہے۔[32] بعض علما کہتے ہیں کہ بعض احادیث کے مطابق چند مقامات پر اللہ نے پیغمبرؐ کو تشریع کا حق دیا ہے لہذا پیغمبرخداؐ کی ولایت تشریعی کو قبول کرتے ہیں۔[33] ان دو گروہوں کے مقابلے میں بعض علما کا کہنا ہے کہ اللہ نے دین کے تمام امور میں پیغمبر خداؐ اور ائمہؑ کو ولایت تشریعی عنایت کی ہے۔[34]

ولایت تکوینی

ائمہؑ کی بعض احادیث میں آیا ہے کہ اللہ نے کائنات کی چند چیزوں مثلا تخلیق، روزی دینا، زندہ کرنا اور موت دینا وغیرہ کا اختیار پیغمبر خداؐ اور امام علیؑ کو تفویض نہیں کیا ہے۔[35] اس کے مقابلے میں بعض علما کہتے ہیں کہ بعض احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبرخداؐ اور ائمہ معصومینؑ اس کائنات پر نازل ہونے والے فیض الہی کے واسطے ہیں۔[36] علمائے شیعہ اس مسئلے کو "ولایت تکوینی" کا نام دیتے ہیں اور اس سلسلے میں اختلاف رائے رکھتے ہیں:

بعض علما کا کہنا ہے کہ رسول خداؐ اور ائمہؑ کو سوائے چند موارد کے تمام امور میں ولایت تکوینی حاصل نہیں ہے۔ مرتضی مطہری، صافی گلپایگانی اور جعفر سبحانی اس نظریے کے قائل ہیں۔ [37] شیخ صدوق اور شیخ مفید نے مخلوقات کے امور کو پیغمبرخداؐ اور ائمہؑ پر تفویض کیے جانے کو رد کرتے ہیں اور اسے غالیوں کا نظریہ قرار دیتے ہیں۔[38] اس کے مقابلے میں بعض دیگر علما جیسے محمد حسین غروی اصفہانی اور سید محمدحسین حسینی تہرانی کا عقیدہ ہے کہ پیغمبر خداؐ اور ائمہ معصومینؑ کو کائنات کے تمام امور میں ولایت تکوینی حاصل ہے اور عالم ہستی میں فیض الہی کے واسطے ہیں۔[39]

حوالہ جات

سانچہ:حولہ جات2

مآخذ

  • بحرانی، محمد صنقور علی، المعجم الاصولی، قم، منشورات الطیار، چاپ دوم، ۱۴۲۸ق.‏
  • حسینی تهرانی، سیدمحمدحسین، امام‌شناسی، مشهد، انتشارات علامه طباطبایی، ۱۴۱۸ق.
  • دیلمی، حسن بن محمد، اعلام الدین فی صفات المؤمنین، تحقیق و تصحیح مؤسسه آل‌البیت، قم، مؤسسه آل‌البیت، چاپ اول، ۱۴۰۸ق.
  • ربانی گلپایگانی، علی، «نقش فاعلی امام در نظام آفرینش»، در انتظار موعود شماره ۲۹، ۱۳۸۸ش.
  • ری‌شهری، محمد و دیگران، حکمت‌نامه پیامبر اعظم، قم، مؤسسه علمی فرهنگی دارالحدیث، ۱۳۸۷ش.
  • زین‌الدین رازی، محمد بن ابوبکر، حدائق‌الحقائق، تحقیق سعید عبدالفتاح، قاهره، مکتبة الثقافه الدینیه، چاپ اول، ۱۴۲۲ق.
  • ژنده‌پیل، احد بن ابوالحسن، کنوزالحکمه، تصحیح و تعلیق حسن نصیری جامی، تهران، پژوهشگاه علوم انسانی و مطالعات فرهنگی، چاپ اول، ۱۳۸۷ش.
  • سبحانی، جعفر، جبر و اختیار، تنظیم علی ربانی گلپایگانی، قم، مؤسسه امام صادق، ۱۳۸۱ش/۱۴۲۳ق.
  • سبحانی، جعفر، مفاهیم‌القرآن، به‌قلم جعفر الهادی، قم، مؤسسه امام صادق، ۱۴۲۱ق.
  • سبحانی، جعفر، ولایت تکوینی و تشریعی از دیدگاه علم و فلسفه، قم، مؤسسه امام صادق، ۱۳۸۵ش.
  • شیخ صدوق، محمد بن علی، اعتقادات‌الامامیه، قم، کنگره شیخ مفید، چاپ دوم، ۱۴۱۴ق.
  • شیخ صدوق، محمد بن علی، التوحید، تحقیق و تصحیح هاشم حسینی، قم، دفتر انتشارات اسلامی وابسته به جامعه مدرسین حوزه علمیه قم، چاپ اول، ۱۳۹۸ق.
  • شیخ مفید، محمد بن محمد، سلسلة مؤلفات الشیخ المفید، بیروت، دارالمفید، ۱۴۱۴ق.
  • صافی گلپایگانی، لطف‌الله، سلسله‌مباحث امامت و مهدویت، قم، دفتر تنظیم و نشر آثار آیت‌الله العظمی صافی گلپایگانی، ۱۳۹۱ش.
  • صافی گلپایگانی، لطف‌الله، ولایت تکوینی و ولایت تشریعی، قم، دفتر تنظیم و نشر آثار آیت‌الله العظمی صافی گلپایگانی، ۱۳۹۳ش.
  • طبرسی، علی بن حسن، مشکاة الانوار فی غرر الاخبار، نجف، المکتبة الحیدریه، چاپ دوم، ۱۳۸۵ق/۱۹۶۵م.
  • عاملی، سیدجعفر مرتضی، الولایة التکوینیة و التشریعیة، مرکز الاسلامی للدراسات، چاپ دوم، ۱۴۲۸ق.
  • غروی اصفهانی، محمدحسین، حاشیةالمکاسب، قم، ذوی‌القربیٰ، ۱۴۲۷ق.
  • فیض کاشانی، محمد بن شاه‌مرتضی، الشافی فی العقاید و الاخلاق و الاحکام، تحقیق مهدی انصاری قمی، تهران، لوح محفوظ، چاپ اول، ۱۴۲۵ق.
  • قرشی بنایی، علی‌اکبر، قاموس قرآن، تهران، دار الکتب الاسلامیه، چاپ ششم، ۱۴۱۲ق.
  • کاشانی، عبدالرزاق، شرح منازل السائرین، تصحیح محسن بیدارفر، قم، بیدار، چاپ سوم، ۱۴۲۷ق.
  • کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، تحقیق علی‌اکبر غفاری و محمد آخوندی، تهران، دار الکتب الاسلامیة، چاپ چهارم، ۱۴۰۷ق‏.
  • مجلسی، محمدباقر، بحار الانوار الجامعة لدرر اخبار الائمة الاطهار، بیروت، دار احیاء التراث العربی، چاپ دوم، ۱۴۰۳ق.
  • مطهری، مرتضی، مجموعه آثار استاد شهید مطهری، تهران، صدرا، ۱۳۸۴ش.
  1. ری‌شهری و دیگران، حکمت‌نامه پیامبر اعظم،، ۱۳۸۷ش، ج۳، ص۱۹۴.
  2. ملاحظہ کریں: سبحانی، جبر و اختیار، ۱۳۸۱ش/۱۴۲۳ق، ص۳۵۹-۳۶۰؛ مطهری، مجموعه آثار، ۱۳۸۴ش، ج۱، ص۴۸-۵۲.
  3. بحرانی، المعجم الاصولی، ۱۴۲۸ق، ص۳۴۳-۳۴۴.
  4. قرشی بنایی، قاموس قرآن، ۱۴۱۲ق، ج۵، ص۲۱۲، ذیل «فوض».
  5. ملاحظہ کریں: کلینی، کافی، ۱۴۰۷ق، ج۱، ص۱۶۰؛ شیخ صدوق، توحید، ص۳۶۲.
  6. ملاحظہ کریں: کلینی، کافی، ۱۴۰۷ق، ج۲، ص۶۳؛ طبرسی، مشکاةالانوار، ۱۳۸۵ق/۱۹۶۵م، ص۱۶.
  7. ملاحظہ کریں: کلینی، کافی، ۱۴۰۷ق، ج۱، ص۲۶۸؛ صافی گلپایگانی، سلسله‌مباحث امامت و مهدویت، ۱۳۹۱ش، ج۱، ص۹۷.
  8. ملاحظہ کریں: شیخ صدوق، الاعتقادات، ۱۴۱۴ق، ج۱، ص۹۷.
  9. ملاحظہ کریں: کاشانی، شرح منازل السائرین، ۱۴۲۷ق، ص۳۲۹.
  10. مطهری، مجموعه آثار، ۱۳۸۴ش، ج۶، ص۶۲۸.
  11. ملاحظہ کریں: مطهری، مجموعه آثار، ۱۳۸۴ش، ج۳، ص۲۸۵-۲۸۶؛ صافی گلپایگانی، ولایت تکوینی و ولایت تشریعی، ۱۳۹۳ش، ص۹۸-۱۰۰؛ سبحانی، ولایت تکوینی و تشریعی از دیدگاه علم و فلسفه، ۱۳۸۵ش، ص۵۱.
  12. مطهری، مجموعه آثار، ۱۳۸۴ش، ج۲۳، ص۳۰۷.
  13. مطهری، مجموعه آثار، ۱۳۸۴ش، ج۶، ص۶۲۸.
  14. مطهری، مجموعه آثار،۱۳۸۴ش، ج۲۳، ج۳۰۷.
  15. سبحانی، جبر و اختیار، ۱۳۸۱ش/۱۴۲۳ق، ص۴۱۱.
  16. سبحانی، جبر و اختیار، ۱۳۸۱ش/۱۴۲۳ق، ص۴۱۱.
  17. سبحانی، جبر و اختیار، ۱۳۸۱ش/۱۴۲۳ق، ص۴۳۱-۴۳۲.
  18. ملاحظہ کریں: کلینی، کافی، ۱۴۰۷ق، ج۱، ص۱۵۵.
  19. شیخ صدوق، توحید، ص۳۵۹.
  20. شیخ صدوق، اعتقادات الامامیه، ۱۴۱۴ق، ص۲۹.
  21. مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ق، ج۵، ص۲.
  22. ملاحظہ کریں: کلینی، کافی، ۱۴۰۷ق، ج۱، ص۱۶۰؛ شیخ صدوق، توحید، ص۳۶۲.
  23. ملاحظہ کریں: کلینی، کافی، ۱۴۰۷ق، ج۲، ص۶۳؛ طبرسی، مشکاةالانوار، ۱۳۸۵ق/۱۹۶۵م، ص۱۶.
  24. کلینی، کافی، ۱۴۰۷ق، ج۲، ص۶۵.
  25. کلینی، کافی، ۱۴۰۷ق، ج۲، ص۴۷؛ طبرسی، مشکاةالانوار، ۱۳۸۵ق/۱۹۶۵م، ص۱۸.
  26. ملاحظہ کریں: کاشانی، شرح منازل السائرین، ۱۴۲۷ق، ص۳۲۹؛ زین‌الدین رازی، حدائق‌الحقائق، ۱۴۲۲ق، ص۱۱۵. ژنده‌پیل، کنوزالحکمه، ۱۳۸۷ش، ص۵۳؛ فیض کاشانی، الشافی، ۱۴۲۵ق، ج۱، ص۴۹۶.
  27. کاشانی، شرح منازل السائرین، ۱۴۲۷ق، ص۳۲۹.
  28. کاشانی، شرح منازل السائرین، ۱۴۲۷ق، ص۳۳۱-۳۳۲.
  29. کلینی، کافی، ۱۴۰۷ق، ج۱، ص۲۶۸.
  30. ملاحظہ کریں: کلینی، کافی، ۱۴۰۷ق، ج۱، ص۲۶۵؛ مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ق، ج۷، ص۱.
  31. صافی گلپایگانی، سلسله‌مباحث امامت و مهدویت، ۱۳۹۱ش، ج۱، ص۹۷.
  32. سبحانی، مفاهیم‌القرآن، ۱۴۲۱ق، ج۱، ص۶۱۰؛ صافی گلپایگانی، سلسله‌مباحث امامت و مهدویت، ۱۳۹۱ش، ج۱، ص۹۹، ۱۰۱.
  33. سبحانی، ولایت تکوینی و تشریعی از دیدگاه علم و فلسفه، ۱۳۸۵ش، ص۲۰-۲۱؛ صافی گلپایگانی، سلسله‌مباحث امامت و مهدویت، ۱۳۹۱ش، ج۱، ص۱۰۱-۱۰۲.
  34. غروی اصفهانی، حاشیة کتاب المکاسب، ۱۴۲۷ق، ج۲، ص۳۷۹؛ عاملی، الولایةُ التکوینیه و التشریعیه، ۱۴۲۸ق، ص۶۰-۶۳؛ حسینی تهرانی، امام‌شناسی، ج۵، ۱۴۱۸ق، ص۱۱۴، ۱۷۹.
  35. ملاحظہ کریں: شیخ صدوق، الاعتقادات، ۱۴۱۴ق، ج۱، ص۹۷.
  36. ربانی گلپایگانی، علی، «نقش فاعلی امام در نظام آفرینش»، ص۲۰-۲۵.
  37. مطهری، مجموعه آثار، ۱۳۸۴ش، ج۳، ص۲۸۵-۲۸۶؛ صافی گلپایگانی، ولایت تکوینی و ولایت تشریعی، ۱۳۹۳ش، ص۹۸-۱۰۰؛ سبحانی، ولایت تکوینی و تشریعی از دیدگاه علم و فلسفه، ۱۳۸۵ش، ص۵۱.
  38. شیخ صدوق، الاعتقادات، ۱۴۱۴ق، ج۱، ص۹۷، ۱۰۰؛ شیخ مفید، سلسلة مؤلفات الشیخ المفید، ۱۴۱۴ق، ج۵، ص۱۳۴.
  39. غروی اصفهانی، حاشیة کتاب المکاسب، ۱۴۲۷ق، ج۲، ص۳۷۹؛ حسینی تهرانی، امام‌شناسی، ج۵، ۱۴۱۸ق، ص۱۱۴.