مسودہ:ادنی الحل
اَدْنَی الْحِلّ (قریب ترین مقام حلال) ایک فقہی اصطلاح ہے[1] جو حرمِ مکہ کی حدود سے باہر موجود مقامات میں سے حرم کے قریب ترین مقامات کو کہا جاتا ہے۔[2] یہ مقامات عمرہ مفردہ کے احرام کے میقات شمار ہوتے ہیں۔[3] فقہا کے مطابق درج ذیل افراد پر عمرہ مفردہ ادا کرنے کے لیے ادنیٰ الحل سے احرام باندھنا واجب ہے؛[4] خواہ یہ عمرہ حج قران و اِفراد کے بعد ایام حج میں ادا کیا جائے یا سال بھر میں علیحدہ طور پر۔[5]

- مکہ کے مستقل یا عارضی باشندے۔[6]
- میقات خمسہ اور شہر مکہ کے درمیان رہائش پذیر افراد۔[7]
- وہ لوگ جو حرم میں داخل ہونے یا حج و عمرہ کی نیت کیے بغیر حرم کی حدود میں آگئے ہوں اور بعد میں زیارت کا ارادہ کریں۔[8]
- وہ افراد جو بھول جانے یا حکم سے ناواقفیت جیسے عذر کی بنا پر محرم ہوئے بغیر مکہ میں داخل ہوگئے ہوں۔[9]
- وہ لوگ جو مکہ کے راستے میں اصلی میقات یا ان کے ہم راستہ مقامات میں سے کسی سے نہ گزرے ہوں۔[10]
شیعہ[11] اور اہل سنت[12] فقہا بعض روایات[13] کی بنیاد پر کہتے ہیں کہ ادنیٰ الحل کے مقامات میں سے حدیبیہ (مکہ سے تقریباً 20 کلومیٹر)،[14] جِعرانہ (مسجدالحرام سے تقریباً 30 کلومیٹر)[15] اور تَنعیم (مسجدالحرام سے تقریباً 10 کلومیٹر) سے احرام باندھنا زیادہ فضیلت رکھتا ہے[16] اور یہ ایک مستحب عمل ہے۔[17] بعض فقہا جیسے علامہ حلی،[18] شہید اول[19] اور محمد حسین نجفی[20] جعرانہ سے احرام باندھنے کو دیگر مقامات سے افضل قرار دیتے ہیں کیونکہ نبی اکرمؐ نے اسی مقام سے احرام باندھا تھا۔[21] ان میں سے ہر علاقے میں اسی نام کی ایک مسجد تعمیر کی گئی ہے جہاں سے عمرہ کرنے والے افراد عموماً عمرہ مفردہ کے لیے وہیں سے احرام باندھتے ہیں۔[22]
حوالہ جات
- ↑ مؤسسہ دائرۃ المعارف فقہ اسلامی، فرہنگ فقہ، 1387شمسی، ج1، ص326۔
- ↑ مروج، اصطلاحات فقہی، 1379شمسی، ص26؛ سرور، المعجم الشامل للمصطلحات، 1429ھ، ج1، 35۔
- ↑ مکارم شیرازی، مناسک جامع حج، 1384شمسی، ص102، مسئلۀ 260۔
- ↑ مؤسسہ دائرۃ المعارف فقہ اسلامی، فرہنگ فقہ، 1387شمسی، ج1، ص326-327؛ فکری، فرہنگ اصطلاحات حج و عمرہ، 1393شمسی، ص34-35۔
- ↑ خویی، معتمد العروۃ الوثقی، 1416ھ، ج2، ص388؛ مکارم شیرازی، مناسک جامع حج، 1384شمسی، ص102، مسئلۀ 260۔
- ↑ شیخ طوسی، الخلاف، 1407ھ، ج2، ص281، مسألۂ 56؛ طباطبایی یزدی، العروۃ الوثقی، 1419ھ، ج4، ص640؛ امام خمینی، تحریرالوسیلۃ، 1379شمسی، ج1، ص387؛ مشکینی، مصطلحات الفقہ، 1392شمسی، ص26۔
- ↑ شہید ثانی، مسالک الأفہام، 1413ھ، ج2، ص202؛ اردبیلی، مجمع الفائدۃ و البرہان، 1403ھ، ج7، ص391؛ مشکینی، مصطلحات الفقہ، 1392شمسی، ص26؛ سند، سند العروۃ الوثقی (الحج)، 1423ھ، ج2، ص310۔
- ↑ خویی، معتمد العروۃ الوثقی، 1416ھ، ج2، ص393؛ کاشف الغطاء، کشف الغطاء، 1422ھ، ج4، ص549؛ مؤسسہ دائرۃ المعارف فقہ اسلامی، فرہنگ فقہ، 1387شمسی، ج1، ص327 و ج3، ص258۔
- ↑ محقق حلّی، شرائع الإسلام، 1408ھ، ج1، ص227؛ شہید ثانی، الروضۃ البہیۃ، 1410ھ، ج2، ص223؛ مروّج، اصطلاحات فقہی، 1379شمسی،ص26۔
- ↑ حلّی، تحریر الأحکام، 1420ھ، ج1، ص565؛ شہید اول، الدروس الشرعیۃ، 1417ھ، ج1، ص342؛ اردبیلی، مجمع الفائدۃ و البرہان، 1403ھ، ج6، ص186۔
- ↑ ملاحظہ کیجیے: طباطبایی یزدی، العروۃ الوثقی، 1419ھ، ج4، ص640؛ خویی، معتمد العروۃ الوثقی، 1416ھ، ج2، ص388؛ مشکینی، مصطلحات الفقہ، 1392شمسی، ص26؛ محمودی، مناسک حج (محشّی)، 1429ھ، ص115، مسألۂ 190۔
- ↑ ملاحظہ کیجیے: نَوَوی، المجموع، ج7، ص204؛ رافعی قزوینی، فتح العزیز، دارالفکر، ج7، ص97۔
- ↑ ملاحظہ کیجیے: شیخ صدوق، من لا یحضرہ الفقیہ، 1413ھ، ج2، ص449، حدیث 2937 و ص451، حدیث 2943 و ج2، ص554، حدیث 2952؛ شیخ طوسی، الاستبصار، 1390ھ، ج2، ص177، حدیث 588؛ بخاری، صحیح بخاری، 1422ھ، ج4، ص55، حدیث 2984 و 2985؛ ابنماجۃ، سنن ابنماجہ، 1395ھ، ج2، ص997، حدیث 2999۔
- ↑ سَباعی، تاریخ مکہ، 1385شمسی، ص97۔
- ↑ درگاہی، پژوہشی فقہی پیرامون نماز مسافر در اماکن چہارگانہ،(چار مقامات پر مسافر کی نماز کے حکم کی فقہی تحقیق) 1392شمسی، ص42۔
- ↑ جعفریان، آثار اسلامی مکہ و مدینہ، 1389شمسی، ص177۔
- ↑ وحید خراسانی، مناسک حج، 1386، شمسی، ص89۔
- ↑ حلّی، تحریر الأحکام، 1420ھ، ج1، ص563۔
- ↑ شہید اول، الدروس الشرعیۃ، 1417ھ، ج1، ص338۔
- ↑ نجفی، جواہر الکلام، 1404ھ، ج18، ص1119۔
- ↑ شہید اول، الدروس الشرعیۃ، 1417ھ، ج1، ص338۔
- ↑ قائدان، درسنامہ آشنایی با تاریخ و اماکن مکہ و مدینہ، 1389شمسی، ص89-92؛ جعفریان، آثار اسلامی مکہ و مدینہ، 1389شمسی، ص177-181۔
مآخذ
- ابنماجۃ، محمد بن یزید القزوینی، سنن ابنماجہ، تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقی، بیروت، دار إحیاء الکتب العربیۃ، 1395ھ۔
- اردبیلی، احمد بن محمد، مجمع الفائدۃ و البرہان فی شرح إرشاد الأذہان، محقق و مصحح: عراقی، آقا مجتبی، اشتہاردی، علیپناہ، یزدی اصفہانی، آقاحسین، قم، دفتر انتشارات اسلامی وابستہ بہ جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم، پہلی اشاعت، 1403ھ۔
- امام خمینی، سید روحاللہ، تحریرالوسیلۃ، تہران، مؤسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی، 1379ہجری شمسی۔
- بخاری، محمد بن اسماعیل، صحیح بخاری، محقق: محمد زہیر بن ناصر الناصر، دمشق، دار طوق النجاۃ، پہلی اشاعت، 1422ھ۔
- جعفریان، رسول، آثار اسلامی مکہ و مدینہ، تہران، مشعر، پہلی اشاعت، 1389ہجری شمسی۔
- خویی، سید ابوالقاسم، معتمد العروۃ الوثقی، مقرر: موسوی خلخالی، سید رضا، قم، منشورات مدرسۃ دار العلم، لطفی، دوسری اشاعت، 1416ھ۔
- درگاہی، مہدی، پژوہشی فقہی پیرامون نماز مسافر در اماکن چہارگانہ(چار مقامات پر نماز مسافر کی نماز کے حکم کی فقہی تحقیق)، تہران، مشعر، پہلی اشاعت، 1392ہجری شمسی۔
- رافعی قزوینی، عبدالکریم بن محمد، فتح العزیز بشرح الوجیز، دارالفکر، بیتا۔
- سند، محمد، سند العروۃ الوثقی (الحج)، بیروت، مؤسسۃ أم القری للتحقیق و النشر، پہلی اشاعت، 1423ھ۔
- سَباعی، احمد، تاریخ مکہ (از آغاز تا پایان دولت شرفای مکہ)(مکہ مکرمہ میں شرفا کی حکومت کا آغاز تا اختتام)، مترجم: جعفریان، رسول، تہران، مشعر، پہلی اشاعت، 1385ہجری شمسی۔
- سَرور، ابراہیم حسین، المعجم الشامل للمصطلحات العلمیۃ و الدینیۃ، بیروت دار الہادی پہلی اشاعت، 1429ھ۔
- شہید اول، محمد بن مکی، الدروس الشرعیۃ فی فقہ الإمامیۃ، قم، دفتر انتشارات اسلامی وابستہ بہ جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم، دوسری اشاعت، 1417ھ۔
- شہید ثانی، زین الدین بن علی، الروضۃ البہیۃ فی شرح اللمعۃ الدمشقیۃ، شارح: کلانتر، سید محمد، قم کتابفروشی داوری، پہلی اشاعت، 1410ھ۔
- شہید ثانی، زین الدین بن علی، مسالک الأفہام إلی تنقیح شرائع الإسلام، قم، مؤسسۃ المعارف الإسلامیۃ، پہلی اشاعت، 1413ھ۔
- شیخ صدوق، محمد بن علی، من لا یحضرہ الفقیہ، محقق و مصحح: غفاری، علی اکبر، قم، دفتر انتشارات اسلامی، دوسری اشاعت، 1413ھ۔
- شیخ طوسی، محمد بن حسن، الاستبصار فیما اختلف من الأخبار، تہران، دار الکتب الإسلامیۃ، پہلی اشاعت، 1390ھ۔
- شیخ طوسی، محمد بن حسن، الخلاف، مصحح: خراسانی، علی و دیگران، قم، دفتر انتشارات اسلامی وابستہ بہ جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم، پہلی اشاعت، 1407ھ۔
- طباطبایی یزدی، سید محمدکاظم، العروۃ الوثقی (المحشّٰی)، دفتر انتشارات اسلامی، قم، پہلی اشاعت، 1419ھ۔
- علامہ حلّی، حسن بن یوسف، تحریر الأحکام الشرعیۃ علی مذہب الإمامیۃ، محقق و مصحح: بہادری، ابراہیم، قم، مؤسسہ امام صادق علیہ السلام، پہلی اشاعت، 1420ھ۔
- فکری، مسعود، فرہنگ اصطلاحات حج و عمرہ، راہنمای زائران سرزمین وحی، تہران، مشعر، پہلی اشاعت، 1393ہجری شمسی۔
- قائدان، اصغر، درسنامہ آشنایی با تاریخ و اماکن مقدس مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ، تہران، مشعر، پہلی اشاعت، 1389ہجری شمسی۔
- کاشف الغطاء، جعفر بن خضر، کشف الغطاء عن مبہمات الشریعۃ الغراء، قم، انتشارات دفتر تبلیغات اسلامی، پہلی اشاعت، 1422ھ۔
- مؤسسہ دایرۃ المعارف فقہ اسلامی، فرہنگ فقہ مطابق با مذہب اہلبیت(ع)، قم، مؤسسہ دایرۃ المعارف فقہ اسلامی، 1387ہجری شمسی۔
- محقق حلّی، جعفر بن حسن، شرائع الإسلام فی مسائل الحلال و الحرام، محقق و مصحح: بقال، عبد الحسین محمد علی، قم، مؤسسہ اسماعیلیان، دوسری اشاعت، 1408ھ۔
- محمودی، محمدرضا، مناسک حج (محشّی)، تہران، نشر مشعر، 1429ھ۔
- مروّج، حسین، اصطلاحات فقہی، قم، بخشایش، پہلی اشاعت، 1379ہجری شمسی۔
- مشکینی، علی، مصطلحات الفقہ، محقق: احمدی جلفایی، حمید، قم، مؤسسہ علمی فرہنگی دار الحدیث، 1392ہجری شمسی۔
- مکارم شیرازی، ناصر، مناسک جامع حج، مرتبہ: علیاننژادی، ابوالقاسم، قم، مدرسۃ الإمام علی بن أبیطالب(ع)، پہلی اشاعت، 1384ہجری شمسی۔
- نجفی، محمدحسن، جَواہر الکلام فی شرحِ شرائعِ الاسلام، تصحیح عباس قوچانی و علی آخوندی، بیروت، دارُ اِحیاء التُّراثِ العربی، ساتویں اشاعت، 1404ھ۔
- نَوَوی، محییالدین یحیی بن شرف، المجموع شرح المہذب، دار الفکر.
- وحید خراسانی، حسین، مناسک حج، قم، مدرسۃ الامام باقر العلوم (ع)، چوتھی اشاعت، 1386ہجری شمسی۔