صحیفہ سجادیہ کی چونتیسویں دعا

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
صحیفہ سجادیہ کی چونتیسویں دعاء
کوائف
موضوع: ستارالعیوب پروردگار کی تعریف، خدا کی پردہ پوشی سے عبرت لینا۔
مأثور/غیرمأثور: مأثور
صادرہ از: امام سجادؑ
راوی: متوکل بن ہارون
مشہور دعائیں اور زیارات
دعائے توسلدعائے کمیلدعائے ندبہدعائے سماتدعائے فرجدعائے عہددعائے ابوحمزہ ثمالیزیارت عاشورازیارت جامعہ کبیرہزیارت وارثزیارت امین‌اللہزیارت اربعین

صحیفہ سجادیہ کی چونتیسویں دعاء امام سجادؑ کی ماثورہ دعاوں میں سے ہے جو آپؑ مصیبتوں کے وقت یا جب پریشان حال لوگوں اور گناہ کی وجہ سے رسوا ہونے والوں کو دیکھتے تھے تو پڑھا کرتے تھے۔ اس دعا میں خدا کی ستار العیوبی، کو موضوع بنا کے اس کی حمد وثنا کی گئی ہے، اور خدا کی پردہ پوشی کی صفت سے عبرت لینے اور گناہوں کی توبہ پہ تاکید کی گئی ہے۔

صحیفہ سجادیہ کی دوسری دعائوں کی طرح اس چونتیسویں دعاء کی بھی شرح، صحیفہ سجادیہ کی شرحوں میں ہوئی ہے اسی طرح سے شہود و شناخت مولف حسن ممدوحی کرمانشاہی اس دعاء کی فارسی زبان میں شرح ہے اور کتاب ریاض السالکین مولف سید علی‌ خان مدنی اس دعاء کی عربی زبان میں شرح ہے۔

دعا و مناجات
مسجد جامع خرمشهر.jpg

تعلیمات

صحیفہ سجادیہ کی اس چونتیسویں دعاء کو امام سجادؑ مصیبتوں کے وقت یا جب پریشان حال لوگوں اور گناہ کی وجہ سے رسوا ہونے والوں کو دیکھتے تھے تو پڑھا کرتے تھے۔[1] ممدوحی کرمانشاہی اس دعا کی شرح میں فرماتے ہیں کہ کوئی بھی حادثہ ہو وہ مؤمن کے لئے نصیحت آموز ہوا کرتا ہے، اور گمراہی کردار کے دلدل میں پھنس کے اپنی عاقبت خراب کرنے والوں کا انجام کسی بھی دوسرے چھوٹے بڑے حادثوں سے زیادہ اس کے لئے عبرتناک ہوا کرتا ہے ؛ کیونکہ اس طرح کے واقعات جو مکافات عمل [جیسی کرنی ویسی بھرنی] کی حقانیت کو دکھاتے ہیں اور تکوین و تشریع کی ہماہنگی کا مظہر بن کے روز قیامت کے ہولناک مناظر کا نقشہ نگاہوں میں کھینچ دیتے ہیں۔[2] اس دعاء کے پیغامات اور تعلیمات مندرجہ ذیل فہرست کی صورت میں پیش ہیں:

  • خدا کی گناہوں سے پردہ پوشی پہ خاص کر تعریف۔
  • خدا کے ستار العیوب ہونے پہ معاشرتی زندگی کا قوام ہے۔
  • خدا کی ستاریت (عیب ‌پوشی) سے صحیح استفادہ۔
  • خدا کی پردہ پوشی سے عبرت لینا۔
  • گناہوں سے توبہ۔
  • خدا کی طرف توجہ اور اس سے غفلت سے خود خدا سے پناہ چاہنا۔
  • خالص ترین لوگوں پہ صلوات خدا، محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور عترت اطہار علیہم السلام پر۔
  • محمد صلی اللہ علیہ و الہ و سلم اور ان کی آل اطہار علیہم السلام کے حکم اور ان کے دستورات پہ عمل کرنے کا لزوم۔[3]

شرحیں

صحیفہ سجادیہ کی اس چونتیسویں دعاء کی بھی مختلف زبانوں میں شرح لکھی گئی ہے صحیفہ سجادیہ کی شرحوں میں اس دعاء کی بھی شرح موجود ہے جن میں کتاب شہود و شناخت مولف محمد حسن ممدوحی کرمانشاہی[4] اور شرح و ترجمہ صحیفہ سجّادیہ مولف سید احمد فہری[5] فارسی زبان میں موجود ہیں۔

اسی طرح صحیفہ سجادیہ کی اس چونتیسویں دعا کی شرح ریاض السالکین جناب سید علی ‌خان مدنی، [6] فی ظلال الصحیفہ السجادیہ مولف محمد جواد مغنیہ،[7] ریاض العارفین مولف محمد بن محمد دارابی[8] اور آفاق الروح، سید محمد حسین فضل ‌اللہ کی تالیف [9] عربی زبان میں موجود ہیں۔ اس دعاء کے الفاظ کی لغوی شرحیں بھی موجود ہیں مثلا تعلیقات علی الصحیفہ السجادیہ جو فیض کاشانی علیہ الرحمہ [10]اور شرح الصحیفہ السجادیہ عزالدین جزائری کی تالیف[11] اس دعاء کے الفاظ کی لغوی شرح ہیں۔

متن اور ترجمہ

صحیفہ سجادیہ کی چونتیسویں دعا
متن ترجمہ: مفتی جعفر حسین
وَ کانَ مِنْ دُعَائِهِ علیه ‌السلام إِذَا ابْتُلِی أَوْ رَأَی مُبْتَلًی بِفَضِیحَةٍ بِذَنْبٍ

(۱) اللَّهُمَّ لَک الْحَمْدُ عَلَی سِتْرِک بَعْدَ عِلْمِک، وَ مُعَافَاتِک بَعْدَ خُبْرِک، فَکلُّنَا قَدِ اقْتَرَفَ الْعَائِبَةَ فَلَمْ تَشْهَرْهُ، وَ ارْتَکبَ الْفَاحِشَةَ فَلَمْ تَفْضَحْهُ، وَ تَسَتَّرَ بِالْمَسَاوِئِ فَلَمْ تَدْلُلْ عَلَیهِ.

(۲) کمْ نَهْی لَک قَدْ أَتَینَاهُ، وَ أَمْرٍ قَدْ وَقَفْتَنَا عَلَیهِ فَتَعَدَّینَاهُ، وَ سَیئَةٍ اکتَسَبْنَاهَا، وَ خَطِیئَةٍ ارْتَکبْنَاهَا، کنْتَ الْمُطَّلِعَ عَلَیهَا دُونَ النَّاظِرِینَ، وَ الْقَادِرَ عَلَی إِعْلَانِهَا فَوْقَ الْقَادِرِینَ، کانَتْ عَافِیتُک لَنَا حِجَاباً دُونَ أَبْصَارِهِمْ، وَ رَدْماً دُونَ أَسْمَاعِهِمْ

(۳) فَاجْعَلْ مَا سَتَرْتَ مِنَ الْعَوْرَةِ، وَ أَخْفَیتَ مِنَ الدَّخِیلَةِ، وَاعِظاً لَنَا، وَ زَاجِراً عَنْ سُوءِ الْخُلُقِ، وَ اقْتِرَافِ الْخَطِیئَةِ، وَ سَعْیاً إِلَی التَّوْبَةِ الْمَاحِیةِ، وَ الطَّرِیقِ الْمَحْمُودَةِ

(۴) وَ قَرِّبِ الْوَقْتَ فِیهِ، وَ لَا تَسُمْنَا الْغَفْلَةَ عَنْک، إِنَّا إِلَیک رَاغِبُونَ، وَ مِنَ الذُّنُوبِ تَائِبُونَ.

(۵) وَ صَلِّ عَلَی خِیرَتِک اللَّهُمَّ مِنْ خَلْقِک: مُحَمَّدٍ وَ عِتْرَتِهِ الصِّفْوَةِ مِنْ بَرِیتِک الطَّاهِرِینَ، وَ اجْعَلْنَا لَهُمْ سَامِعِینَ وَ مُطِیعِینَ کمَا أَمَرْتَ.

گناہوں کی رسوائی سے بچنے کے لئے حضرت کی دعا

(۱) اے معبود ! تیرے ہی لئے تمام تعریف ہے اس بات پر کہ تو نے (گناہوں کے) جاننے کے بعد پر دہ پوشی کی اور (حالات پر) اطلاع کے بعد عافیت و سلامتی بخشی۔ یوں تو ہم میں سے ہر ایک ہی عیوب و نقائص کے درپے ہوا مگر تو نے اسے مشتہر نہ کیا اور افعال بد کا مرتکب ہوا مگر تو نے اس کو رسوا نہ ہونے دیا اور پردہ خفا میں برائیوں سے آلودہ رہا۔ مگر تو نے اس کی نشان دہی نہ کی۔

(۲) کتنے ہی تیرے منہیات تھے جن کے ہم مرتکب ہوئے، کتنے ہی تیرے احکام تھے جن کے ہم مرتکب ہوئے اور کتنے ہی تیرے احکام تھے جب پر تو نے کار بند رہنے کا حکم دیا تھا۔ مگر ہم نے ان سے تجاوز کیا۔ اور کتنی ہی برائیاں تھیں جو ہم سے سرزد ہوئیں وہ کتنی ہی خطائیں تھیں جن کا ہم نے ارتکاب کیا در آنحالیکہ دوسرے دیکھنے والوں کے بجائے تو ان پر آگاہ تھا اور دوسرے (گناہوں کی تشہیر پر) قدرت رکھنے والوں سے تو زیادہ ان کے افشاء پر قادر تھا۔ مگر اس کے باوجود ہمارے بارے میں تیری حفاظت و نگہداشت ان کی آنکھوں کے سامنے پردہ، ان کے کانوں کے بالمقابل دیوار بن گئی۔

(۳) تو پھر اس پردہ داری و عیب پوشی کو ہمارے لیے ایک نصیحت کرنے والا اور بدخوئی اور ارتکاب گناہ سے روکنے والا (گناہوں کو) مٹانے والی راہ توبہ اور طریق پسندیدہ پر گامزنی کا وسیلہ قرار دے اور اس راہ پیمانی کے لمحے (ہم سے) قریب کر۔

(۴) اور ہمارے لیے ایسے اسباب مہیا نہ کر جو تجھ سے ہمیں غافل کر دیں۔ اس لیے کہ ہم تیری طرف رجوع ہونے والے اور گناہوں سے توبہ کرنے والے ہیں۔

(۵) بار الہا! محمد پر جو مخلوقات میں تیرے برگزیدہ اور ان کی پاکیزہ عترت پر جو کائنات میں تیری منتخب کردہ ہے رحمت نازل فرما اور ہمیں اپنے فرمان کے مطابق ان کی بات پر کان دھرنے والا اور ان کے احکام کی تعمیل کرنے والا قرار دے۔

حوالہ جات

  1. مغنیہ، فی ظلال الصحیفہ السجادیہ، ۱۴۲۸ ھجری، ص۴۲۵۔
  2. ممدوحی کرمانشاہی، شہود و شناخت، ۱۳۸۸ شمسی ھجری، ج۳، ص۱۷۳۔
  3. ممدوحی، شہود و شناخت، ۱۳۸۸ شمسی ھجری، ج۳، ص۱۷۱-۱۷۹؛ شرح فرازہای دعای سی و چہارم از سایت عرفان۔
  4. ممدوحی، کتاب شہود و شناخت، ۱۳۸۸ شمسی ھجری، ج۳، ص۱۷۱-۱۷۹۔
  5. فہری، شرح و تفسیر صحیفہ سجادیہ، ۱۳۸۸ شمسی ھجری، ج۳، ص۸۱-۸۳۔
  6. مدنی شیرازی، ریاض السالکین، ۱۴۳۵ ھجری، ج۵، ص۱۵۸-۱۷۳۔
  7. مغنیہ، فی ظلال الصحیفہ، ۱۴۲۸ ھجری، ص۴۲۵-۴۲۶۔
  8. دارابی، ریاض العارفین، ۱۳۷۹ شمسی ھجری، ص۴۴۹-۴۵۲۔
  9. فضل ‌اللہ، آفاق الروح، ۱۴۲۰ ھجری، ج۲، ص۲۰۳-۲۰۸۔
  10. فیض کاشانی، تعلیقات علی الصحیفہ السجادیہ، ۱۴۰۷ ھجری، ص۷۲۔
  11. جزایری، شرح الصحیفہ السجادیہ، ۱۴۰۲، ص۱۸۲-۱۸۳۔


مآخذ

  • جزایری، عزالدین، شرح الصحیفۃ السجادیۃ، بیروت، دار التعارف للمطبوعات، ۱۴۰۲ ھجری۔
  • دارابی، محمد بن محمد، ریاض العارفین فی شرح الصحیفہ السجادیہ، تحقیق حسین درگاہی، تہران، نشر اسوہ، ۱۳۷۹ شمسی ھجری۔
  • فضل ‌اللہ، سید محمد حسین، آفاق الروح، بیروت، دارالمالک، ۱۴۲۰ ھجری۔
  • فہری، سید احمد، شرح و ترجمہ صحیفہ سجادیہ، تہران، اسوہ، ۱۳۸۸ شمسی ھجری۔
  • فیض کاشانی، محمد بن مرتضی، تعلیقات علی الصحیفہ السجادیہ، تہران، مؤسسہ البحوث و التحقیقات الثقافیہ، ۱۴۰۷ ھجری۔
  • مدنی شیرازی، سید علی‌ خان، ریاض السالکین فی شرح صحیفۃ سید الساجدین، قم، مؤسسہ النشر الاسلامی، ۱۴۳۵ ھجری۔
  • مغنیہ، محمد جواد، فی ظلال الصحیفہ السجادیہ، قم، دار الکتاب الاسلامی، ۱۴۲۸ ھجری۔
  • ممدوحی کرمانشاہی، حسن، شہود و شناخت، ترجمہ و شرح صحیفہ سجادیہ، مقدمہ آیت‌اللہ جوادی آملی، قم، بوستان کتاب، ۱۳۸۸شمسی ھجری۔

بیرونی روابط