مندرجات کا رخ کریں

صارف:Mohsin/تختہ مشق 3

ویکی شیعہ سے

رسالہ اہوازیہ یا امام صادقؑ کا نجاشی کے نام خط اُس مکتوب کو کہا جاتا ہے جو امام جعفر صادقؑ کی طرف منسوب ہے جسے آپؑ نے اہواز کے حاکم عبد اللہ بن نجاشی کے نام لکھا تھا۔ اس میں حکومتی عہدہ داروں کا عوام کے ساتھ برتاؤ، عمال کے انتخاب اور انتظامی امور سے متعلق ہدایات شامل ہیں۔ اس خط کا ایک حصہ مؤمنین کے حقوق کی ادائیگی کے بارے میں ہے۔

اس خط کے مکمل متن کو پہلی مرتبہ ابن‌ زُہرہ (متوفیٰ: ۵۸۰ھ) اور اس کے بعد شہید ثانی نے نقل کیا ہے اور اسی ذریعے سے یہ دیگر مصادر میں شامل ہوا۔ بعض محققین نے خط کے بعض حصوں کی صحت پر شبہ ظاہر کیا ہے، مثلاً شیعوں کے حقوق سے متعلق مطالب، امام حسینؑ کے مکاشفہ اور امام علیؑ کا شیطان سے مکالمہ۔ اس شبہ کے تناظر میں یہ احتمال دیا گیا ہے کہ شاید یہ حصے بعد میں متن میں شامل کیے گئے ہوں۔

اس رسالے پر متعدد شروح اور تراجم لکھے گئے ہیں اور اس کے قلمی نسخے ایران اور بعض دوسرے ممالک کی کتب خانوں میں محفوظ ہیں۔

اسی موضوع سے ملتا جلتا ایک مختصر خط "الکافی" اور "تہذیب الاحکام" جیسے مصادر میں بھی نقل ہوا ہے، تاہم ساخت کے اعتبار سے وہ رسالہ اہوازیہ سے مختلف ہے۔

تعارف اور اہمیت

رسالہ اہوازیہ امام جعفر صادقؑ کی طرف منسوب ایک خط ہے جو اہواز کے حاکم عبد اللہ بن نجاشی کے جواب میں تحریر کیا گیا ہے۔[1] اس خط میں نجاشی کے اُن سوالات کے جوابات دیے گئے ہیں جو انفرادی اور اجتماعی زندگی کے اصول، زکوٰۃ کے مصرف اور حکومتی عُمّال کے انتخاب کے معیار سے متعلق تھے۔ خط کا ایک حصہ مؤمنین کے حقوق پر مشتمل ہے اور اس میں سورہ توبہ آیت 34، سورہ نور آیت 19، سورہ نور آیت 19 اور 13 روایات سے استناد کیا گیا ہے۔[2]

چوتھی صدی ہجری کے رجالی عالم احمد بن علی نجاشی کے مطابق عبد اللہ بن نجاشی ان کے نویں جد تھے۔[3] آقا بزرگ تہرانـی کے بقول، وہ ابتدا میں زیدی تھے اور بعد میں امامیہ مذہب کی طرف مائل ہوئے ہیں۔[4]

خط کے مندرجات

امام جعفر صادقؑ کا یہ خط اخلاقی اور انتظامی نکات سے بھرپور ہے، جن میں اہم امور یہ ہیں:

  • اہل بیتؑ سے وابستگی اور اُن کی پیروی
  • گناہوں سے اجتناب، تقویٰ اور حدودِ الٰہی کی پاسداری
  • شیعوں کی ضروریات پوری کرنا
  • ضرورت مندوں اور پڑوسیوں کو کھانا کھلانا اور ان کی مدد کرنا
  • ماتحتوں اور رجوع کرنے والوں کے ساتھ نرمی سے پیش آنا
  • چغل خوروں اور بدگفتار افراد کی صحبت سے پرہیز کرنا
  • اہم عہدوں کے لیے امانت دار اور صالح افراد کا انتخاب
  • بیت المال کے مصرف میں دقت اور احتیاط
  • زہد اختیار کرتے ہوئے زراندوزی سے پرہیز کرنا
  • تجسس اور نکتہ چینی سے اجتناب کرنا
  • ظلم، ستم اور قتل و غارت گری سے دوری اختیار کرنا
  • شیعوں کی تحقیر و اہانت کرنے سے پرہیز کرنا
  • جھگڑے اور مخاصمات سے بچنا
  • شیعوں کی بے حرمتی نہ کرنا
  • شیعوں کو خوش کرنا
  • مشورے کی افادیت۔

[5]

مکتوب کے مصادر

شیعہ علمِ رجال کے معروف عالم احمد بن علی نجاشی کو پہلا شخص سمجھا جاتا ہے جس نے اس خط کا ذکر کیا ہے۔[6] بعض محققین کے نزدیک چھٹی صدی ہجری کے شیعہ عالم ابن‌ زہرہ وہ پہلے فرد ہیں جنہوں نے اس خط کا مکمل متن اپنی کتاب "الاربعون حدیثاً فی حقوق الاخوان"[7] میں نقل کیا اور ان کے بعد شہید ثانی نے اسے کتاب کشف الریبہ میں درج کیا ہے۔[8] اسی طریقے سے اس خط کا متن بعد کے مصادر، جیسے وسائل الشیعہ[9] اور بحار الانوار[10] میں ذکر ہوا ہے۔[11] ان روایات کے مشترک راویوں میں ابن‌ قولویہ قمی، سعد بن عبد اللہ اشعری، احمد بن محمد بن عیسی اشعری اور محمد بن عیسی اشعری شامل ہیں۔[12]

صفوی دور میں یہ خط رسالہ اہوازیہ کے نام سے معروف تھا اور اسی عنوان کے تحت سید ہاشم بحرانی کی تصانیف حلیۃ الابرار[13] اور مدینۃ المعاجز[14] میں اس کا ذکر ملتا ہے۔[15]

اسی طرح امام جعفر صادقؑ کی طرف منسوب ایک مختصر خط عبد اللہ بن نجاشی کے نام الکافی[16] اور تہذیب الاحکام[17] میں بھی نقل ہوا ہے، جسے بعض محققین رسالہ اہوازیہ کے ہم مضمون قرار دیتے ہیں، اگرچہ دونوں کے درمیان کچھ اختلافات بھی پائے جاتے ہیں۔[18]

خط کے بعض حصوں کی نسبت پر شبہات

شیعہ محقق داداش‌ نژاد کے مطابق خط کے بعض حصوں کی صحت اور انتساب کے بارے میں شکوک پائے جاتے ہیں:

  • شیعوں کے حقوق سے متعلق حصہ: اس حصے کی ساخت خط کے دیگر حصوں سے ہم آہنگ نہیں ہے اور یہ احتمال دیا گیا ہے کہ اسے بعد میں متن میں شامل کیا گیا ہو؛ کیونکہ اہواز کے حاکم کے سوالات تمام لوگوں کے ساتھ برتاؤ سے متعلق تھے، نہ کہ صرف شیعوں سے۔[19]
  • مکاشفہ اور گفتگو کے فقرات: وہ حصے جن میں امام حسینؑ کے مکاشفے اور امام علیؑ کے شیطان سے مکالمے کا ذکر ہے، تاریخی مصادر جیسے طبقات ابن‌ سعد، انساب الاشراف بلاذری، تاریخ طبری اور مروج الذہب مسعودی میں نہیں ملتے۔ بعض محققین کا خیال ہے کہ یہ فقرات چھٹی صدی ہجری میں صوفیوں کی طرف سے متن میں شامل کیے گئے ہوں گے۔[20]
  • خوزیوں سے متعلق عبارت: جملہ: "اِنَّ الْاِیْمَانَ لَا یَثْبُتُ فِی قَلْبِ یَہُودِیٍّ وَلَا خُوزِیٍّ اَبَدًا"؛ جسے امام علیؑ کی طرف منسوب کیا گیا ہے، اس میں خوزیوں (خوزستان کے ایک گروہ) کی مذمت کی گئی ہے؛ حالانکہ امام علیؑ کے زمانے میں خوزی اس قدر معروف نہ تھے کہ ان کی مذمت کی جائے۔[21] البتہ بعض محققین نے اس جملے کی یہ تفسیر کی ہے کہ یہاں خوزیوں سے مراد خوزستان کے تمام باشندے نہیں بلکہ یا تو کافروں کا ایک مخصوص گروہ تھا،[22] یا خوزستان کے معتزلی افراد مراد ہیں۔[23]

شروح، تراجم اور قلمی نسخے

رسالہ اہوازیہ پر متعدد شروح اور تراجم لکھے گئے ہیں۔ سید نعمت اللہ جزائری نے اپنی کتاب الانوار النعمانیۃ[24] میں اس کے بعض فقروں پر گفتگو کی ہے، جبکہ محمود غریفی نے اپنی تصنیف "الرسالۃ البہیۃ في سيرۃ الحاكم مع الرعيۃ" (رسالۃ الإمام الصادق إلى والي الأہواز) میں اس رسالے کے مکمل متن کی شرح پیش کی ہے۔[25] آقا بزرگ تہرانی نے منہج الیقین کو رسالہ اہوازیہ کی شرح قرار دیا ہے، لیکن شیعہ نسخہ شناس علی صدرائی خوئی کے نزدیک "منہج الیقین" دراصل امام جعفر صادقؑ کی شیعوں کے نام وصیت[26] کی شرح ہے، [27] نہ کہ رسالۂ اہوازیہ کی۔

اس خط کے فارسی تراجم بھی موجود ہیں؛[28] جن میں علامہ مجلسی کا ایک رسالہ[29] اور حسن لاہیجی (متوفیٰ: 1121ھ) کی تحریر کردہ "رسائل فارسی" شامل ہیں۔[30]

رسالہ اہوازیہ کے متعدد قلمی نسخے ایران اور بعض دیگر ممالک کی کتب خانوں میں محفوظ ہیں، جن میں سنہ 554ھ اور سنہ 1021ھ کے نسخے بھی شامل ہیں۔[31]

متن اور ترجمہ

حوالہ جات

  1. داداش‌نژاد، «بررسی منابع و محتوای نامہ امام صادق(ع) بہ نجاشی»، ص۱۸.
  2. داداش‌نژاد، «بررسی منابع و محتوای نامہ امام صادق(ع) بہ نجاشی»، ص۱۸.
  3. نجاشی، رجال النجاشی، ص۱۰۱.
  4. آقابزرگ تہرانی، الذریعۃ، ۱۴۰۳ھ، ج۲، ص۴۸۵.
  5. شہید ثانی، کشف الریبۃ، ۱۳۹۰ھ، ص۸۶-۹۶؛ داداش‌نژاد، «بررسی منابع و محتوای نامہ امام صادق(ع) بہ نجاشی»، ص۱۹-۲۰.
  6. داداش‌نژاد، «بررسی منابع و محتوای نامہ امام صادق(ع) بہ نجاشی»، ص۱۳.
  7. ابن زہرہ حلبی، الاربعون حدیثا فی حقوق الاخوان، ۱۴۰۵ھ، ص۴۶- ۵۶.
  8. داداش‌نژاد، «بررسی منابع و محتوای نامہ امام صادق(ع) بہ نجاشی»، ص۱۵.
  9. شیخ حر عاملی، وسائل الشیعہ، ۱۴۰۹ھ، چاپ اول، ج۱۷، ص۲۰۷.
  10. مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ھ، ج۷۲، ص۳۶۶.
  11. احمدی میانجی، مکاتیب الائمۃ(ع)، ۱۴۲۶ھ، ج۴، ص۱۵۱.
  12. داداش‌نژاد، «بررسی منابع و محتوای نامہ امام صادق(ع) بہ نجاشی»، ص۱۶.
  13. بحرانی، حلیۃالابرار، ۱۴۱۱ھ، ج۲، ص۱۹۷.
  14. بحرانی، مدینۃ المعاجز، ۱۴۱۳ھ، ج۲، ص۷۷.
  15. داداش‌نژاد، «بررسی منابع و محتوای نامہ امام صادق(ع) بہ نجاشی»، ص۱۷.
  16. کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ھ، ج۲، ص۱۹۰.
  17. طوسی، تہذیب الاحکام، ۱۴۰۷ھ، ج۶، ص۳۳۳.
  18. داداش‌نژاد، «بررسی منابع و محتوای نامہ امام صادق(ع) بہ نجاشی»، ص۱۴.
  19. داداش‌نژاد، «بررسی منابع و محتوای نامہ امام صادق(ع) بہ نجاشی»، ص۲۲-۲۳.
  20. داداش‌نژاد، «بررسی منابع و محتوای نامہ امام صادق(ع) بہ نجاشی»، ص۲۴-۲۵.
  21. داداش‌نژاد، «بررسی منابع و محتوای نامہ امام صادق(ع) بہ نجاشی»، ص۲۳-۲۴.
  22. جزائری، الانوار النعمانیۃ، ۱۴۲۹ھ، ج۳، ص۲۳۸.
  23. مقدس غریفی، الرسالۃ البہيۃ في سيرۃ الحاكم مع الرعيۃ، موسسۃ التاریخ العربی، ص۴۶.
  24. جزائری، الانوار النعمانیۃ، ۱۴۲۹ھ، ج۳، ص۲۳۸.
  25. داداش‌نژاد، «بررسی منابع و محتوای نامہ امام صادق(ع) بہ نجاشی»، ص۱۷.
  26. کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ھ، ج۸، ص۲.
  27. صدرایی خویی، «مقدمہ»، منہج الیقین، ص۲۷.
  28. داداش‌نژاد، «بررسی منابع و محتوای نامہ امام صادق(ع) بہ نجاشی»، ص۱۷.
  29. حافظیان بابلی، «رسالہ اہوازیہ علامہ محمدباقر مجلسی»، ص۲۶۳.
  30. لاہیجی، رسائل فارسی، ۱۳۷۵شمسی، ص۲۵۱.
  31. درایتی، فہرستگان نسخہ‌ہای خطی ایران، ۱۳۹۲شمسی، ج۱۶، ص۴۶۱.
  32. شهید ثانی، کشف الریبة، ۱۳۹۰ھ، ص۸۶-۹۶.
  33. لاهیجی، رسائل فارسی، ۱۳۷۵ش، ص۲۵۱-۲۵۸.

مآخذ

  • آقابزرگ تهرانی، محمدمحسن، الذریعة الی تصانیف الشیعة، بیروت، دارالاضواء، ۱۴۰۳ق.
  • ابن زهره حلبی، محمدبن عبدالله، الاربعون حدیثا فی حقوق الاخوان، قم، مطبعه مهر، ۱۴۰۵ق.
  • احمدی میانجی، علی، مکاتیب الائمة(ع)، تصحیح مجتبی فرجی، قم، دارالحدیث، ۱۴۲۶ق.
  • بحرانی، سیدهاشم، حلیة الابرار، قم، موسسة المعارزف الاسلامیة، چاپ اول، ۱۴۱۱ق.
  • جزائری، نعمت الله، الانوار النعمانیة، بیروت، دار القاری، ۱۴۲۹ق.
  • حافظیان بابلی، ابوالفضل، «رساله اهوازیه علامه محمدباقر مجلسی»، مجله حکومت اسلامی، شماره۵، ۱۳۷۶ش.
  • داداش‌نژاد، منصور، «بررسی منابع و محتوای نامه امام صادق(ع) به نجاشی»، در مجله شیعه پژوهی، شماره۷، ۱۳۹۸ش.
  • درایتی، مصطفی، فهرستگان نسخه‌های خطی ایران، تهران، سازمان اسناد و کتابخانه ملی جمهوری اسلامی ایران، ۱۳۹۲ش.
  • شهید ثانی، زین الدین بن علی، كشف الريبة، دارالمرتضوی للنشر، چاپ سوم، ۱۳۹۰ق.
  • شیخ حر عاملی، محمدبن حسن، تحقیق موسسه آل البیت(ع)، قم، موسسه آل البیت(ع)، چاپ اول، ۱۴۰۹ق.
  • شیخ طوسی، محمدبن حسن، تهذیب الاحکام، تحقیق حسن خرسان، تهران، بی‌نا، چاپ چهارم، ۱۴۰۷ق.
  • صدرایی خویی، علی، «مقدمه»، منهج الیقین، تألیف علاءالدین محمد گلستانه، قم، دارالحدیث، ۱۳۸۸ش.
  • کلینی، محمدبن یعقوب، الکافی، تهران، دارالکتب الاسلامیة، چاپ چهارم، ۱۴۰۷ق.
  • لاهیجی، حسن بن عبدالرزاق، رسائل فارسی، تهران، قبله، ۱۳۷۵ش.
  • مجلسی، محمدباقر، بحارالانوار، بیروت، دار احیاء التراث العربی، ۱۴۰۳ق.
  • مقدس غریفی، سیدمحمود، الرسالة البهية في سيرة الحاكم مع الرعية، بیروت، موسسة التاریخ العربی، بی‌تا.
  • نجاشی، احمدبن علی، رجال النجاشی، قم، انتشارات اسلامی، ۱۳۷۶ش.