مندرجات کا رخ کریں

صارف:Mohsin/تختہ مشق 3

ویکی شیعہ سے

سید جواد حسینی خامنہ ای (1896-1987ء) شیعہ مجتہد، حوزہ علمیہ مشہد کے علماء میں تھے۔ سید جواد خامنہ ای اسلامی جمہوریہ ایران کے دوسرے رہبر اعلیٰ سید علی حسینی خامنہ ای کے والد تھے۔

انہوں نے اپنی حوزوی تعلیم تبریز، مشہد اور نجف میں حاصل کی اور نجف کے اساتذہ سے اجازتِ اجتہاد حاصل کی۔ مشہد واپس آنے کے بعد انہوں نے حوزوی علوم کی تدریس اور مذہبی سرگرمیوں میں مصروفیت اختیار کی اور اپنی زندگی کے آخری وقت تک مشہد میں مقیم رہے۔ وہ مشہد میں مسجدِ آذربایجانیوں کے امامِ جماعت اور مسجدِ گوہرشاد کے ائمۂ جماعت میں سے بھی تھے۔

علمی اور مذہبی سرگرمیاں

سید جواد حسینی خامنہ ای مشہد میں مقیم ایک شیعہ مجتہد تھے۔ وہ ۱۲۷۴ش میں نجف میں پیدا ہوئے اور بچپن میں اپنے خاندان کے ساتھ تبریز واپس آگئے۔ ان کے والد سید حسین خامنہ ای دینی علوم کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے نجف گئے تھے۔[1]

انہوں نے ابتدائی دینی علوم تبریز کے مدارسِ دینیہ میں حاصل کیے[2] اور ۱۳۳۶ھ میں مشہد چلے گئے، جہاں حوزۂ علمیہ مشہد میں تقریباً ۹ سال تک تعلیم حاصل کی۔[3] بعض روایات کے مطابق، تہران اور مشہد کے راستے میں امن و امان کی خراب صورتِ حال کے باعث انہوں نے بادکوبہ، بحیرۂ خزر اور عشق آباد کے راستے مشہد کا سفر کیا۔[4]

حوزۂ علمیہ مشہد میں خامنہ ای نے فقہ و اصول کی تعلیم آقاحسین قمی، میرزا محمد آقازادہ خراسانی (کفائی)، میرزا مهدی اصفہانی اور فاضل خراسانی سے حاصل کی، جبکہ فلسفہ آقابزرگ حکیم شہیدی اور اسداللہ یزدی سے پڑھا۔

۱۳۴۵ھ میں وہ مزید تعلیم کے لیے نجف گئے، جہاں محمدحسین نائینی، سید ابوالحسن اصفہانی اور آقاضیاء عراقی سے تعلیم حاصل کی اور ان سے اجازتِ اجتہاد بھی حاصل کی۔[5] نجف میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ مشہد واپس آئے اور حوزوی علوم کی تدریس میں مشغول ہوگئے۔

وہ اپنے دور کے بعض دیگر علماء، مثلاً میرزا حسین عبائی، سید علی اکبر خوئی اور میرزا حبیب ملکی کے ساتھ روزانہ علمی مباحثے بھی کرتے تھے، جو کئی سال تک جاری رہے۔[6]

امامتِ جماعت

خامنہ ای مشہد کے بازار میں واقع مسجدِ صدیقیوں، جو مسجدِ آذربایجانیوں کے نام سے معروف تھی، میں امامتِ جماعت کے فرائض انجام دیتے تھے۔[7] وہ جامع مسجدِ گوہرشاد کے ائمۂ جماعت میں سے بھی تھے۔[8]

ان کی زندگی کے تذکروں میں ان کی تقویٰ، زہد اور دنیاوی امور سے بے رغبتی کا ذکر ملتا ہے۔[9] شریف رازی نے اپنی کتاب گنجینۂ دانشمندان میں بھی انہیں ایک متقی، فاضل اور صاحبِ ورع عالم کے طور پر متعارف کرایا ہے۔[10] خاندان

سید جواد خامنه‌ای از سادات حسینی بود و نسب او با چهار واسطه به سلطان سید محمد، مدفون در تفرش، و از طریق او به امام سجاد(ع) می‌رسید.[۱۱]

همسر و فرزندان

همسر نخست سید جواد خامنه‌ای، هنگامی که او حدود چهل سال داشت، از دنیا رفت و حاصل این ازدواج سه دختر بود.[۱۲] پس از آن، وی با خدیجه میردامادی، دختر سید هاشم میردامادی نجف‌آبادی، ازدواج کرد.[۱۳]

حاصل این ازدواج، چهار پسر و یک دختر بود: سید محمد، سید علی، بدرالسادات، سید هادی و سید محمدحسن. سید علی خامنه‌ای بعدها به رهبری جمهوری اسلامی ایران رسید.

وفات

سید جواد خامنه‌ای در ۱۴ تیر ۱۳۶۵ش، برابر با ۲۷ شوال ۱۴۰۶ق، درگذشت.[۱۴] ابوالحسن شیرازی، امام جمعه وقت مشهد، بر پیکر او نماز میت خواند و وی در رواق پشت ضریح امام رضا(ع)، جنب دارالفیض به خاک سپرده شد.[۱۵]

امام خمینی در پیام تسلیت خود به سید علی خامنه‌ای، سید جواد خامنه‌ای را عالمی باتقوا و متعهد معرفی کرد.[۱۶]

آثار درباره سید جواد خامنه‌ای

در سال ۱۴۰۲ش و هم‌زمان با روز قلم، کتاب زندگی اینجاست نوشته مهدی قزلی با موضوع زندگی سید جواد خامنه‌ای در مسجد جامع تبریز رونمایی شد.[۱۷]

همچنین کتاب روایت آقا، شامل خاطرات سید علی خامنه‌ای درباره پدرش، سید جواد خامنه‌ای، در سال ۱۴۰۴ش رونمایی شد.[۱۸]