صارف:Mohsin/تختہ مشق 3
کم عمری کی شادی یا بچپنے میں شادی ایک بین الاقوامی اصطلاح ہے جس سے ایسی شادی مراد ہے جو 18 سال سے کم عمر افراد کے درمیان ہو؛ لیکن شیعہ فقہ میں شادی کے لیے کوئی مخصوص عمر مقرر نہیں کی گئی ہے، بلکہ اس کے احکام شرعی بلوغت کی بنیاد پر بیان کیے گئے ہیں۔ شیعہ فقہاء کے نزدیک کم عمری کی شادی ولی کی اجازت اور مصلحت کی رعایت، یا کم از کم مفسدہ نہ ہونے کی شرط کے ساتھ جائز ہے۔ فقہاء کے درمیان ولی کے اختیارات کی حدود اور بلوغ کے بعد نکاح فسخ کرنے کے حق کے بارے میں اختلاف رائے پایا جاتا ہے؛ بعض فقہاء ولایت کو صرف باپ اور دادا تک محدود سمجھتے ہیں، جبکہ بعض دیگر مخصوص حالات میں حاکمِ شرع، باپ کے وصی، بلکہ ماں کو بھی یہ اختیار دیتے ہیں۔
شیعہ فقہاء کے فتوے کے مطابق نابالغ لڑکی سے جنسی تعلق قائم کرنا حرام ہے، البتہ دیگر جائز قسم کے ازدواجی استفادے کی اجازت ہے۔ اگر جنسی تعلق قائم کر لیا جائے تو میاں بیوی کے درمیان دائمی حرمت پیدا ہو جاتی ہے؛ تاہم شوہر پر اس کے نفقہ کی ذمہ داری برقرار رہتی ہے اور اگر اس عمل کے نتیجے میں اِفضاء واقع ہو جائے تو مرد پر دیت ادا کرنا بھی لازم ہوگا۔
بعض فقہاء نے معاشرتی حالات کی تبدیلی کو مدنظر رکھتے ہوئے کم عمری کی شادی کو عموماً خلاف مصلحت قرار دیتے ہوئے اسے فقہ کے جدید اور مستحدث مسائل میں شمار کیا ہے۔
تعریف اور اہمیت
بین الاقوامی تعریف کے مطابق کم عمری کی شادی سے مراد 18 سال سے کم عمر افراد کی شادی ہے؛[1] لیکن شیعہ فقہ میں نکاح کے لیے کوئی عمر متعین نہیں کی گئی ہے، بلکہ صرف زمان بلوغ کو معیار قرار دے کر نابالغ بچوں کے نکاح سے متعلق مخصوص احکام بیان کیے گئے ہیں۔[2] شیعہ فقیہ ناصر مکارم شیرازی کے مطابق نکاح اسی وقت جائز ہے جب تین شرطیں موجود ہوں: 1. بلوغِ شرعی؛ 2. جسمانی بلوغ و نشوونما؛ 3. مناسب عقلی پختگی (رشد)۔[3] اگرچہ کم عمری کی شادی پر شیعہ فقہ میں قدیم زمانے سے بحث ہوتی رہی ہے؛[4] لیکن بعض محققین کے نزدیک زمان، مکان اور معاشرتی حالات کی تبدیلی کے باعث یہ فقہ کے مسائل مستحدثہ میں شمار ہوتی ہے۔[5]
حقوق دانوں کے مطابق کم عمری کی شادی ایک سماجی مسئلہ ہے، جو اکثر لڑکیوں کی مکمل رضامندی کے بغیر انجام پاتی ہے۔ اس کے منفی نتائج میں صحت کے مسائل، تعلیم سے محرومی اور روزگار کے مواقع محدود ہوجانا شامل ہیں۔[6]
کم عمری کی شادی کی شرائط
شیعہ فقہ کے مطابق نابالغ بچوں کی شادی صرف اس صورت میں جائز ہے جب ولی کی اجازت موجود ہو اور اس میں مفسدہ نہ ہو یا بچے کی مصلحت پائی جاتی ہو۔[7]
ولی کی اجازت
شیعہ فقہاء کے مطابق بچے کے نکاح میں اس کا باپ ولی ہوتا ہے، البتہ دیگر افراد کی ولایت اور ان کی ترجیح کے بارے میں فقہاء کے درمیان اختلافِ رائے پایا جاتا ہے۔[8] چند اہم آراء درج ذیل ہیں:
- شهید ثانی اپنی کتاب شرح لمعه میں صرف باپ یا دادا کو بچے کا ولی قرار دیتے ہیں۔[9]
- موسی شبیری نے روایات کی بنیاد پر باپ، دادا، حاکم شرع اور باپ کے وصی کو بچے کے نکاح کا ولی اور صاحبِ اختیار قرار دیا ہے۔[10]
- یوسف صانعی کے نزدیک باپ کے علاوہ ماں اورحاکم اسلامی کی ولایت بھی صحیح ہے۔ ان کے مطابق اگر باپ موجود نہ ہو تو ماں کی ولایت دادا پر مقدم ہوگی اور اگر دونوں موجود نہ ہوں تو یہ اختیار حاکم شرع کو منتقل ہوجائے گا۔[11]
مصلحت کا ہونا ضروری ہے یا صرف مفسدہ کا نہ ہونا کافی ہے؟
بعض محققین کے مطابق کم عمری کی شادی میں مصلحت کا ہونا ضروی ہے یا صرف مفسدہ کا نہ کافی؟ اس بارے میں فقہاء کی مختلف آراء ہیں:
- سید ابو القاسم خوئی کے نزدیک باپ بچے کا نکاح مصلحت یا مفسدہ کو ملحوظ رکھے بغیر بھی کر سکتا ہے، جبکہ مصلحت کی رعایت کو وہ احتیاط کا تقاضا قرار دیتے ہیں۔[12]
- سید محسن طباطبائی حکیم کے مطابق شهید ثانی کی کتاب مسالک کی عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ باپ اور دادا کی ولایت میں صرف مفسدہ کا نہ ہونا کافی ہے۔[13]
- بعض فقہاء کے نزدیک بچے کی شادی اسی وقت جائز ہے جب مفسدہ نہ ہونے کے ساتھ ساتھ بچے کی مصلحت بھی موجود ہو۔ اس رائے کے حامیوں میں محمد فاضل لنکرانی اور ناصر مکارم شیرازی شامل ہیں۔[14]
کم عمری کی شادی کے احکام
بچپن میں ہونے والی شادی کے ازدواجی احکام
تمام شیعہ فقہاء اس بات پر متفق ہیں کہ شوہر کے لیے نابالغ لڑکی کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرنا حرام ہے، البتہ اس کے علاوہ دیگر جائز قسم کے ازدواجی استفادے کی اجازت ہے۔[15] فقہاء کے مطابق اگر اس عمل کے نتیجے میں اِفضاء (یعنی ایسا جسمانی نقصان جس سے شرم گاہ اور پیشاب یا حیض کا راستہ ایک ہو جائے) واقع ہو جائے تو مرد پر دیت واجب ہوگی۔[16] اسی طرح اس عمل سے میاں بیوی کے درمیان دائمی حرمت پیدا ہو جاتی ہے، تاہم شوہر پر وجاب ہے کہ عورت کا نفقہ بدستور دیتا رہے۔[17] بعض فقہاء کا یہ بھی کہنا ہے کہ دائمی حرمت کے علاوہ ایسا نکاح باطل بھی ہوجاتا ہے۔[18]
بلوغ کے بعد نکاح فسخ کرنے کا حق
بعض فقہاء کے مطابق اگر کسی لڑکی کا نکاح اس کے ولی نے اس کے بچپن میں کر دیا ہو تو بلوغ کے بعد اسے نکاح فسخ کرنے کا حق حاصل نہیں ہوتا۔[19] بعض محققین نے لکھا ہے کہ شیخ طوسی اور ابن ادریس حلی جیسے بعض فقہاء فسخ کا حق صرف لڑکوں کے لیے ثابت مانتے ہیں۔[20] اس کے برعکس، یوسف صانعی جیسے فقہاء کے نزدیک بلوغ کے بعد لڑکی کو بھی فسخ نکاح کا حق حاصل ہے؛ لہٰذا وہ بالغ ہونے کے بعد اس نکاح کو قبول بھی کرسکتی ہے اور اسے فسخ بھی کرسکتی ہے۔[21] ناصر مکارم شیرازی کا کہنا ہے کہ موجودہ دور میں کم عمری کی شادی عموماً بچے کی مصلحت کے خلاف ہوتی ہے، اس لیے سوائے غیر معمولی اور استثنائی حالات کے ایسا نکاح باطل ہے اور بالغ ہونے کے بعد متعلقہ شخص فسخ یا طلاق کی ضرورت کے بغیر اپنی مرضی سے نیا نکاح کرسکتا ہے۔[22]
حوالہ جات
- ↑ دانشپور و دیگران، «بررسی مصلحت در ازدواج ولایی کودک در حقوق ایران، با رویکردی بر فقه اسلامی»، ص44؛ تلکآبادی، «بازشناسی ادله قرآنی جواز کودک همسری در فقه شیعه»، ص8.
- ↑ اسماعیلی و دیگران، «مستندشناسی نظریه بطلان کودکهمسری مطابق با فتوای آیتالله مکارم شیرازی»، ص53.
- ↑ مکارم شیرازی، «ازدواج کودک»، پایگاه اطلاعرسانی آیت الله مکارم شیرازی.
- ↑ ملاحظہ کیجیے: ابنزهره، غنية النزوع، 1417ھ، ص342؛ طوسی، النهاية، 1400ھ، ص464.
- ↑ اسماعیلی و دیگران، «مستندشناسی نظریه بطلان کودکهمسری مطابق با فتوای آیتالله مکارم شیرازی»، ص62-64.
- ↑ ستوده، کودک همسری از منظر قواعد حقوق بشری، ص4.
- ↑ عاملی، وسائل الشیعه، 1409ھ، ج20، ص275 و 289؛ کلینی، کافی، 1412ھ، ج5، ص395، ح1.
- ↑ صانعی، «بلوغ دختر و پسر ـ ازدواج صغار»، پایگاه اطلاعرسانی دفتر آیت الله صانعی؛ الروضة البهية في شرح اللمعة الدمشقية ، ج5، ص151و116و118؛ شبیری و سنایی، «ولایت مادر بر نکاح فرزند»، ص16 و 19.
- ↑ الروضة البهية في شرح اللمعة الدمشقية ، ج5، ص151و116و118۔
- ↑ شبیری و سنایی، «ولایت مادر بر نکاح فرزند»، ص16 و 19.
- ↑ صانعی، «بلوغ دختر و پسر ـ ازدواج صغار»، پایگاه اطلاعرسانی دفتر آیت الله صانعی.
- ↑ آذری و میراحمدی، «رویکردهای قضائی به تشخیص مصلحت در ازدواج کودکان»، ص6.
- ↑ طباطبایی حکیم، مستمسک العروة، 1416ھ، ج14، ص455-456.
- ↑ آذری و میراحمدی، «رویکردهای قضائی به تشخیص مصلحت در ازدواج کودکان»، ص6.
- ↑ نجفی، جواهر الکلام، 1414ھ، ج29، ص414؛ حسینیفر و زرگوشنسب، «کاوشی نو در ادله فقهی افضای صغیره»، ص234.
- ↑ نجفی، جواهر الکلام، 1414ھ، ج29، ص416-428؛ حسینیفر و زرگوشنسب، «کاوشی نو در ادله فقهی افضای صغیره»، ص241-246.
- ↑ نجفی، جواهر الکلام، 1414ھ، ج29، ص416-428.
- ↑ نجفی، جواهر الکلام، 1414ھ، ج29، ص416-428.
- ↑ نجفی، جواهر الکلام، نشر دار إحياء التراث العربي، ج29، ص216، بحرانی، الحدائق الناضرة، ج23، ص204؛ روحانی، فقه الصادق، ج31، ص196-200؛ ابنزهره، غنیة النزوع، 1417ھ، ج1، ص342.
- ↑ منظمی و موحدیمحب، «شناسائی حق فسخ نکاح کودک، پس ازبلوغ، در پرتو مخصص لبّی»ص127؛ نجفی، جواهر الکلام، نشر دار إحياء التراث العربي، ج28، ص216.
- ↑ صانعی، «بلوغ دختر و پسر ـ ازدواج صغار»، پایگاه اطلاعرسانی دفتر آیت الله صانعی.
- ↑ مکارم شیرازی، «ولایت بر صغیره»، پایگاه اطلاعرسانی دفتر آیت الله مکارم.
مآخذ
- آذری، هاجر، و منیره میراحمدی، «رویکردهای قضائی به تشخیص مصلحت در ازدواج کودکان»، فصلنامه زن و جامعه، شماره 40، زمستان 1398ش.
- اسماعیلی، فاطمه، و اکرم صفیری و مرتضی چیتسازیان، «مستندشناسی نظریه بطلان کودکهمسری مطابق با فتوای آیتالله مکارم شیرازی»، فصلنامه خانوادهپژوهی، دوره 20، شماره 3، شماره پیاپی 79، 1403ش.
- بحرانی، یوسف، الحدائق الناضرة فی احکام العترة الطاهرة، نشر جامعه مدرسین، قم، چاپ اول، 1405ق.
- تلکآبادی، حسن، «بازشناسی ادله قرآنی جواز کودک همسری در فقه شیعه»، فصلنامه پژوهشهای فقه اسلامی و مبانی حقوق، شماره 3، پاییز و زمستان 1400ش.
- حسینیفر، علی، و عبدالجبار زرگوشنسب، «کاوشی نو در ادله فقهی افضای صغیره»، فصلنامه مطالعات فقه اسلامی و مبانی حقوق، شماره 44، 1400ش.
- حلبی (ابنزهره)، حمزه بن علی، غنية النزوع إلى علمي الأصول و الفروع، مؤسسه امام صادق (ع)، قم، چاپ اول، 1417ق.
- دانشپور، افتخار، و عباسعلی روحانی و راضیه فخارزاده، «بررسی مصلحت در ازدواج ولایی کودک در حقوق ایران، با رویکردی بر فقه اسلامی»، فصلنامه مبانی فقهی حقوق اسلامی، شماره 27، بهار و تابستان 1400ش.
- روحانی، سید محمدصادق، فقه الصادق، قم، انتشارات الاجتهاد، بیتا.
- ستوده، شهلا، کودک همسری از منظر قواعد حقوق بشری، در فصلنامه فقه و حقوق نوین، دوره 10، شماره 20، 1403ش.
- شبیری، سید موسی، و حسین سنایی، «ولایت مادر بر نکاح فرزند»، فصلنامه پژوهههای فقهی تا اجتهاد، شماره 4، پاییز و زمستان 1397ش.
- شهید ثانی، زینالدین بن علی، روضة البهیة فی شرح اللمعة الدمشقیة (محشی کلانتر)، داوری، قم، چاپ اول، 1410ق.
- شهید ثانی، زینالدین بن علی، مسالك الأفهام إلى تنقيح شرایع الاسلام، مؤسسة المعارف الإسلامية، قم، چاپ اول، 1413ق.
- صانعی، یوسف، «بلوغ دختر و پسر ـ ازدواج صغار»، پایگاه اطلاعرسانی دفتر آیت الله صانعی، تاریخ بازدید: 1404/08/15ش.
- طوسی، محمدبن حسن، النهاية في مجرد الفقه و الفتاوى، بیروت، دار الکتاب العربي، 1400ق.
- طباطبایی حکیم، سید محسن، مستمسک العروة، قم، دارالتفسیر، 1416ق.
- عاملی، محمد بن حسن، وسائل الشیعه، مؤسسه آل البیت علیهم السلام، قم، چاپ اول، 1409ق.
- کلینی، محمد بن یعقوب، کافی، دار الکتب الاسلامیة، تهران، چاپ چهارم، 1407ق.
- مکارم شیرازی، «ولایت بر صغیره»، پایگاه اطلاعرسانی دفتر آیت الله مکارم، تاریخ بازدید: 1404/08/15ش.
- مکارم شیرازی، ناصر، «ازدواج کودک»، پایگاه اطلاعرسانی آیت الله مکارم شیرازی، تاریخ بازدید: 1404/08/15ش.
- منظمی، فاطمه، و مهدی موحدیمحب، «شناسائی حق فسخ نکاح کودک، پس ازبلوغ، در پرتو مخصص لبّی»، فصلنامه مطالعات زن و خانواده، دورۀ 13، شمارۀ 1، پیاپی 36، بهار 1400ش.
- نجفی، محمدحسن، جواهر الکلام فی شرح شرایع الاسلام، دارالاحیاء لتراث العربی، بیروت، چاپ هفتم، 1404ق.