صفوان بن یحیی

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
صفوان بن یحیی
معلومات
مکمل نام صفوان بن یحیی بجلی کوفی
کنیت ابو احمد
لقب سابری
وجہ شہرت ائمہ کے صحابی اور وکیل
محل زندگی کوفہ
شہادت/وفات 210 ق مدینہ


صفوان بن یحیی بجلی كوفی (متوفا ۲۱۰ق) امام کاظم(ع) کے اصحاب، امام رضا(ع) اور امام جواد(ع) کے وکلا میں سے اور اصحاب اجماع میں شمار ہوتے ہیں۔ بہت زیادہ روایات کی اسناد میں ان کا نام آیا ہے۔ تین آئمہ سے کسی واسطے کے بغیر اور امام جعفر صادق ؑ سے واسطے کا ساتھ روایت نقل کرتے ہیں۔ بہت سی روایات ائمہ میں انکی ستائش بیان ہوئی ہے۔

تعارف

اصحاب اجماع

امام باقرؑ کے اصحاب
۱. زُرارَۃ بن اَعین
۲. مَعروفِ بنِ خَرَّبوذ
۳. بُرَید بن معاویہ
۴. ابوبصیر اَسَدی یا (ابوبصیر مرادی)
۵. فُضَیل بن یسار
۶. محمد بن مُسلِم

امام صادقؑ کے اصحاب
۱. جَمیل بن دَرّاج
۲. عبداللہ بن مُسکان
۳. عبداللہ بن بُکَیر
۴. حَمّاد بن عثمان
۵. حماد بن عیسی
۶. اَبان بن عثمان

امام کاظمؑ اور امام رضاؑ کے اصحاب
۱. یونس بن عبد الرحمن
۲. صَفوان بن یحیی
۳. اِبن اَبی عُمَیر
۴. عبداللہ بن مُغَیرِہ
۵. حسن بن محبوب یا (حسن بن علی بن فَضّال، فَضالَۃ بن ایوب و عثمان بن عیسی)
۶. احمد بن ابی نصر بزنطی

کنیت: أبو محمد ہے۔ [1] وہ سابری نام کا کپڑا بیچنے کا کام کرتے تھے۔ اسی مناسبت سے وہ بیاع سابری کے نام سے مشہور تھے ۔[2] ان کے والد امام صادق کے اصحاب اور امام کاظم ، امام رضا اور امام جواد (ع) کے راویوں اور حضرت رضا (ع) اور امام جواد(ع) کے وکیل تھے ۔[3] وہ ۲۱۰ ق کو مدینہ میں فوت ہوئے ۔[4]

مقام و منزلت

صفوان کی بہت زیادہ روایات میں ساتئش بیان ہوئی ہے ۔وہ امام رضا[5] اور امام جواد (ع)کے نزدیک مخصوص منزلت رکھتے تھے ۔[6] امام جواد نے ان کی وفات کے بعد ان کے لیے کفن اور حنوط بھجوایا اور امام نے اسماعیل بن امام کاظم کو حکم دیا کہ وہ ان کی نماز میت پڑھائیں۔ ایک روایت میں امام نے ان کی نسبت اپنی خوشنودی کا اظہار فرمایا ہے ۔ [7] امام جواد سے ایک روایت میں ان کی مذمت بیان ہوئی ہے لیکن شیعہ علم رجال کے ماہرین نے اس روایت کو تقیہ پر حمل کیا ہے۔ [8]

پیمان با دوستان

صفوان تجارت میں عبدالله بن جندب اور علی بن نعمان کے شریک تھے ۔ ایک روز مسجد الحرام میں تینوں نے عہد کیا : جو بھی جلدی فوت ہو گیا تو باقی رہنے والا اس فوت شدہ کی طرف سے نماز و روزہ کی قضا انجام دے گا۔ وہ دو اس دنیا سے جلد چلے گئے لہذا صفوان ایک دن میں 150 رکعت نماز پڑھتے اور سال میں تین مہینے روزہ رکھتے نیز ہر سال تین بار زکات ادا کرتے۔ جو کوئی بھی مستحب کام انجام دیتے اسے اپنے ان دو دوستوں کی طرف سے بھی انجام دیتے ۔[9]

وثاقت و روایات

صفوان اصحاب اجماع میں سے ہیں۔[10] نجاشی نے انہیں ثقہ کوفی، ثقہ و عین کے الفاظ سے یاد کیا ہے ۔[11]، شیخ طوسی صفوان کو اہل حدیث کے نزدیک اپنے زمانے کے موثق‌ ترین اور عابد ترین نیز زہاد میں سے سمجھتے ہیں ۔[12]

صفوان نے ۳۰ كتابیں تالیف کیں ۔ [13] انہوں نے چالیس افراد سے امام صادق کی روایات نقل کی ہیں۔ [14] ۱۱۰۰ احادیث کی اسناد میں ان کا نام آیا ہے۔ امام کاظم، امام رضا اور امام جواد سے کسی واسطے کے بغیر روایات نقل کرتے ہیں ۔ [15] نیز درج ذیل افراد سے بھی روایت نقل کی ہے:

احمد بن محمد بن ابی‌ نصر بزنطی، محمد بن خالد برقی، فضل بن شاذان نیشابوری و... نے اور دیگر بہت سے افراد نے ان سے روایت نقل کی ہے۔

حوالہ جات

  1. نجاشی، ص۱۹۷
  2. شیخ طوسی، رجال، ص۳۵۹،۳۷۶
  3. شیخ طوسی، رجال، ص۳۳۸، ۳۷۶؛ نجاشی، ص۱۹۷
  4. نجاشی، ص۱۹۸؛ معجم الرجال، ج۹، ص۱۲۷؛ کشی، ص۵۰۲
  5. نجاشی، ص۱۹۷؛ کشی، ص۵۰۲-۵۰۴
  6. خوئی، معجم الرجال، ج۹، ص۱۲۶-۱۲۷
  7. کشی، ص۵۰۲
  8. خوئی، معجم الرجال، ج۹، ص۱۲۷
  9. نجاشی، ص۱۹۷؛ طوسی، الفہرست، ص۲۴۱؛ خوئی، معجم‌الرجال، ج۹، ص۱۲۴
  10. کشی، ص۵۵۶
  11. خوئی، معجم‌الرجال، ج۹، ص۱۲۳
  12. شیخ طوسی، الفہرست، ص۲۴۱؛ نک: نجاشی، ص۱۹۷
  13. نجاشی، ص۱۹۷،۱۹۸
  14. شیخ طوسی، فہرست، ص۲۴۳
  15. شیخ طوسی، الفہرست، ص۲۴۲
  16. شیخ طوسی، رجال، ص۱۲۴
  17. شیخ طوسی، رجال، ص۲۹۹
  18. شیخ طوسی، رجال، ص۳۴۰
  19. شیخ طوسی، رجال، ص۳۴۱


منابع

  • خوئی، معجم رجال الحدیث‏، مركز نشر آثار شیعہ، قم‏، ۱۴۱۰ق/۱۳۶۹ش.
  • طوسی،ابی جعفر، رجال الطوسی‏، جامعہ مدرسین‏، قم‏، ۱۴۱۵ق‏.
  • طوسی، ابی جعفر، الفہرست‏، المكتبہ المرتضویہ، نجف‏.
  • کشی،محمد بن عمر، رجال الكشی‏، انتشارات دانشگاه مشہد، ۱۳۴۸ش.
  • نجاشی، احمد بن علی، رجال النجاشی‏، انتشارات جامعہ مدرسین، قم‏، ۱۴۰۷ق.