مندرجات کا رخ کریں

مسودہ:دار الامارہ کوفہ

ویکی شیعہ سے
دار الامارہ کوفہ
دار الامارہ کوفہ کے باقی ماندہ آثار
دار الامارہ کوفہ کے باقی ماندہ آثار
ابتدائی معلومات
بانیسعد بن ابی وقاص یا زیاد بن ابیہ
تاسیس17ھ
استعمالحکومتی
محل وقوعکوفہ
دیگر اسامیقصر کوفہ، قصر طمارہ، قصر الامارہ
مربوط واقعاتشہادت مسلم بن عقیل، ورود اسیران کربلا، قتل مختار ثقفی
مشخصات
معماری
تعمیر نومختلف ادوار

دار الامارہ کوفہ، شہرِ کوفہ میں اسلامی دور کی ایک عمارت تھی، جو مسجد کوفہ کے قریب واقع تھی۔ یہ عمارت شہر کے گورنروں کی رہائش گاہ اور حکومتی امور کی انجام دہی کا مرکز تھی۔ اسلامی تاریخ کے بعض اہم واقعات اس عمارت میں میں پیش آئے۔ ان میں سے ایک واقعہ مسلم بن عقیل کی شہادت ہے۔ اسی طرح واقعۂ کربلا کے بعد اسیران کربلا کو بھی دار الامارہ لے جایا گیا، جہاں حضرت زینب(س) نے ابن زیاد کی مجلس میں خطبہ دیا۔

دار الامارہ میں قیام کرنے والے حکمرانوں میں سعد بن ابی‌وقاص، عبیداللہ بن زیاد، مختار ثقفی، مصعب بن زبیر اور حجاج بن یوسف شامل ہیں۔

آثارِ قدیمہ کی کھدائیوں سے معلوم ہوتا ہے کہ دار الامارہ ایک وسیع حکومتی کمپلیکس تھا، جس میں انتظامی اور رہائشی حصے موجود تھے۔ بنی عباس کے دور حکومت میں اس عمارت کی مرمت اور تعمیرِ نو کی گئی، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ یہ بتدریج ویران ہوگئی اور اب اس کے صرف کچھ آثار باقی ہیں۔

اہمیت اور تاریخی پس منظر

دار الامارہ کوفہ عراق میں اسلامی دور کی قدیم ترین عمارتوں میں سے ایک ہے۔[1] کوفہ کی بنیاد رکھے جانے کے بعد اس شہر کے پہلے حاکم سعد بن ابی‌وقاص نے[2] 17ھ میں مسجد کوفہ کے قریب ایک محل تعمیر کروایا۔[3] بعض منابع میں دار الامارہ کی تعمیر زیاد بن ابیہ کی طرف منسوب کی گئی ہے، جو امام علیؑ کے عامل تھے؛[4] تاہم تاریخی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ عمارت زیاد بن ابیہ کے دورِ حکومت سے پہلے بھی موجود تھی۔[5] بعض روایات کے مطابق زیاد بن ابیہ نے اس عمارت کو وسعت دی اور اسے مزید مستحکم بنایا۔[6] بنی عباس کے دور میں بھی اس کی مرمت اور تزئین و آرائش کی گئی۔[7]

کوفہ کی تأسیس سے ہی دار الامارہ شہر کے گورنروں کی رہائش گاہ[8] اور انتظامی مرکز تھا۔[9] یہ عمارت مسجد کوفہ کے جنوب میں واقع تھی[10] اور مسجد کوفہ سے وسیع ایک کمپلکس کا حصہ تھی۔[11] مشہور سیاح ابن بطوطہ جس نے 726ھ میں کوفہ کی سیر کی،[12] تحریر کرتے ہیں کہ اس وقت اس عمارت کے صرف ستونوں کی بنیادیں باقی رہ گئی تھیں۔[13] پندرہویں صدی ہجری میں بھی اس محل کے آثار کوفہ میں امام علیؑ کے دولت سرا کے قریب دیکھے جا سکتے تھے۔[14] 1403ش میں مسجد کوفہ کے سیکرٹریٹ اور نجف کے محکمہ آثارِ قدیمہ کے تعاون سے اس محل کی تعمیرِ نو کا منصوبہ شروع کیا گیا۔[15]

تاریخی منابع میں دار الامارہ کوفہ کو مختلف ناموں سے یاد کیا گیا ہے، جن میں «قصر کوفہ»،[16] «قصر سعد»، «قصر الامارہ»،[17] «قصر طِمار» بمعنی بلند مقام،[18] اور «قصر خَبال»[19][یادداشت 1] شامل ہیں۔

تاریخی واقعات

دار الامارہ کوفہ مختلف ادوار میں اسلامی تاریخ کے بعض اہم واقعات کا مرکز رہا ہے۔[20]

مسلم بن عقیل کی جائے شہادت

60ھ میں عبید اللہ بن زیاد کے کوفہ پہنچنے کے بعد ہانی بن عروہ کو کوفہ میں امام حسینؑ کے نمائندے مسلم بن عقیل کو پناہ دینے کے جرم میں گرفتار کرکے دار الامارہ میں قید کر دیا گیا۔[21] مسلم بن عقیل کو بھی گرفتاری کے بعد دار الامارہ منتقل کیا گیا اور ابن زیاد کے حکم پر انہیں بھی شہید کردیا گیا۔[22] ان کے جسدِ مبارک کو دار الامارہ کی بلندی سے نیچے پھینک دیا گیا۔[23] مختار ثقفی کو بھی مسلم بن عقیل کی حمایت کرنے کی وجہ سے دار الامارہ میں گرفتار کرکے قید کیا گیا، جہاں وہ واقعۂ کربلا کے بعد تک قید رہے۔[24]

اسیرانِ کربلا کی آمد کا مقام

61ھ میں واقعۂ کربلا کے بعد امام سجادؑ، حضرت زینب(س) اور دیگر اسیرانِ اہلِ بیتؑ کو دار الامارہ میں عبید اللہ بن زیاد کی مجلس میں لے جایا گیا۔[25] حضرت زینب(س) نے اسی مقام پر خطبہ دیا۔[26] اسی طرح اسی مقام پر شہدائے کربلا کے سر ابن زیاد کے سامنے رکھے گئے۔[27] بعض منابع میں ایسی روایات بھی نقل ہوئی ہیں جن کے مطابق امام حسینؑ کا سرِ مبارک لائے جانے کے وقت دار الامارہ کی دیواروں پر خون کے آثار دیکھے گئے تھے۔[28]

مختار ثقفی کا مرکزِ حکومت

ٹی وی سیریل مختارنامہ میں دار الامارہ کی عمارت

مختار ثقفی نے 66ھ میں امام حسینؑ کے خون کا بدلہ لینے کے لئے قیام کیا۔[29] اس نے دار الامارہ کا محاصرہ کرنے کے بعد کوفہ میں ابن زبیر کے گورنر عبد اللہ بن مطیع کو وہاں سے نکال دیا اور محل کو اپنی حکومت کا مرکز بنا لیا۔[30] اگلے سال مصعب بن زبیر نے دار الامارہ کا محاصرہ کیا۔ اس لڑائی کے دوران مختار اور ان کے ساتھی مارے گئے۔[31]

دار الامارہ کی تخریب سے متعلق روایات

بعض مورخین کے مطابق 71ھ کو بنی امیہ کے پانچویں خلیفہ عبدالملک بن مروان نے دار الامارہ کو تخریب کرنے کا حکم دیا تھا۔[32] ان کے مطابق اس محل میں امام حسینؑ، عبید اللہ بن زیاد، مختار اور مصعب کے انجام سے متعلق واقعات کی یادآوبی نے عبدالملک کو اس کی تخریب کا حکم دینے پر آمادہ کیا۔[33] تاہم بعض محققین نے اس واقعے کی صحت پر شبہ ظاہر کیا ہے، کیونکہ تاریخ طبری اور انساب الاشراف جیسے منابع میں دار الامارہ کی تخریب کا کوئی ذکر نہیں ملتا ہے۔[34]

حکمران اور امرا

بعض محققین کے مطابق کوفہ کی تأسیس سے لے کر بنی عباس کے دور تک 250 سے زائد افراد اس شہر کے حکمران رہے۔[35] دار الامارہ ان حکمرانوں کی جائے قیام تھی۔[36] تاہم، امام علیؑ نے 37ھ میں[37] دار الخلافہ کو کوفہ منتقل کرنے کے بعد دار الامارہ میں قیام نہیں کیا، بلکہ اس کے قریب واقع ام ہانی کے گھر کو[38] اپنی رہائش کے لئے انتخاب کیا۔[39]

خلفائے راشدین کا دور

خلفائے راشدین کے دور میں 25 افراد نے کوفہ پر حکومت کی۔[40] ان میں سعد بن ابی‌ وقاص،[41] عمار یاسر،[42] ابوموسی اشعری[43] اور سعید بن عاص شامل تھے۔[44]

بنی امیہ اور آلِ زبیر کا دور

بنی امیہ اور آل‌ زبیر کے دور میں تقریباً 100 افراد نے کوفہ پر حکومت کی اور دار الامارہ میں قیام کیا۔[45] ان میں زیاد بن ابیہ،[46] نعمان بن بشیر،[47] عبیداللہ بن زیاد،[48] عبداللہ بن مطیع عدوی،[49] مختار ثقفی،[50] مصعب بن زبیر،[51] عبدالملک بن مروان[52] اور حجاج بن یوسف ثقفی شامل تھے۔[53]

بنی عباس کا دور

بنی عباس کے دور میں 125 سے زائد افراد نے دار الامارہ کوفہ میں حکومت کی۔[54] ان میں داؤد بن علی،[55] عیسیٰ بن موسیٰ،[56] منصور دوانیقی[57] اور طاہر بن حسین شامل تھے۔[58]

طرزِ تعمیر

آثارِ قدیمہ کی کھدائی کے دوران دریافت ہونے والے باقی ماندہ آثار سے معلوم ہوتا ہے کہ دار الامارہ ایک مربع شکل کے عمارت تھی، جس کی لمبائی اور چوڑائی تقریباً 170 میٹر تھی۔[59] یہ عمارت اینٹوں اور چونے سے تعمیر کی گئی تھی اور اس کے چاروں کونوں پر بڑے برج موجود تھے۔[60] بیرونی دیوار تقریباً چار میٹر موٹی تھی، جسے نیم دائرہ نما برجوں سے مضبوط بنایا گیا تھا۔ دیوار اور برجوں کی بلندی تقریباً 20 میٹر تک تھی۔[61]

عمارت کے وسط میں امیر کی رہائش گاہ واقع تھی۔ یہ تقریباً 110 میٹر کے اضلاع پر مشتمل ایک مربع عمارت تھی، جسے 20 برجوں سے مضبوط بنایا گیا تھا۔[62] دار الامارہ کے دو دروازے تھے؛ ایک شمال کی جانب مسجد کوفہ کے قریب اور دوسرا مغرب کی جانب، مسجد کے جنوبی حصے کے ساتھ واقع تھا۔[63] اس عمارت سے ہنگامی صورت میں نکلنے کے لئے ایک خفیہ راستہ بھی موجود تھا، جسے مسلم بن عقیل کے توسط سے دار الامارہ کے محاصرے کے دوران[64] اور بعد میں مختار ثقفی کے محاصرے کے موقع پر بھی استعمال کیا گیا۔[65] اسی راستے سے کوفہ کا حاکم عبداللہ بن مطیع فرار ہوا۔[66] بعض دروازوں کے قریب قید خانے بھی موجود تھے۔[67]

آثارِ قدیمہ کی کھدائیوں میں رہائشی کمرے یا گودام،[68] بڑے ہال، صحن، رواق، راہداریاں اور متعدد داخلی راستے[69] نیز پانی کی فراہمی اور نکاسیٔ آب کے انتظامی آثار بھی دریافت ہوئے ہیں۔[70]

حوالہ جات

  1. ↑ فقیہ بحرالعلوم، زیارتگاہ‌ہای عراق، سازمان حج و زیارت، ج1، ص146۔
  2. ↑ جمعی از نویسندگان، ہمسفر، ص147۔
  3. ↑ فقیہ بحرالعلوم، زیارتگاہ‌ہای عراق، سازمان حج و زیارت، ج1، ص146۔
  4. ↑ نمونہ کے لئے ملاحظہ کیجئے: جعیط، نشاۃ المدینۃ العربیۃ...، ص218-222۔
  5. ↑ حکیم، الکوفۃ بین العمق التاریخی...، ص78۔
  6. ↑ جعیط، نشاۃ المدینۃ العربیۃ...، ص220-221۔
  7. ↑ صفری فروشانی، کوفہ از پیدایش تا عاشورا، ص152۔
  8. ↑ قائدان، عتبات عالیات عراق، ص91۔
  9. ↑ آل‌خلیفہ، امراء الکوفۃ...، ص33-741۔
  10. ↑ صفری فروشانی، کوفہ از پیدایش تا عاشورا، ص134۔
  11. ↑ جعیط، نشاۃ المدینۃ العربیۃ...، ص335۔
  12. ↑ حکیم، الکوفۃ بین العمق التاریخی...، ص80۔
  13. ↑ ابن‌بطوطہ، رحلۃ ابن‌بطوطۃ، ج2، ص55۔
  14. ↑ جمعی از نویسندگان، ہمسفر، ص147۔
  15. ↑ «آغاز بازسازی قصر دار الامارہ در کوفہ»، خبرگزاری دانشجو۔
  16. ↑ حکیم، الکوفۃ بین العمق التاریخی...، ص77۔
  17. ↑ براقی، تاریخ کوفہ، ص119۔
  18. ↑ محدثی، فرہنگ عاشورا، ص171۔
  19. ↑ ابن‌مزاحم، وقعۃ صفین، ص5۔
  20. ↑ نمونہ کے لئے ملاحظہ کیجئے: آل خلیفہ، امراء الکوفۃ...، ص33-741۔
  21. ↑ شیخ مفید، الإرشاد، ج2، ص48-50۔
  22. ↑ آل خلیفہ، امراء الکوفۃ...، ص213۔
  23. ↑ ابومخنف، وقعۃ الطفّ، ص140۔
  24. ↑ ابومخنف، وقعۃ الطف، ص143-144؛ طبری، تاریخ الطبری، بیروت، ج5، ص570۔
  25. ↑ محدثی، فرہنگ عاشورا، ص171۔
  26. ↑ ابومخنف، وقعۃ الطفّ، ص261-262۔
  27. ↑ محمدی ری شہری، زیارت عتبات عالیات...، ص143۔
  28. ↑ ابن عساکر، تاریخ مدینۃ دمشق، ج14، ص229۔
  29. ↑ طبری، تاریخ الطبری، بیروت، ج6، ص7۔
  30. ↑ طبری، تاریخ الطبری، بیروت، ج6، ص30-32۔
  31. ↑ حکیم، الکوفۃ بین العمق التاریخی...، ص79۔
  32. ↑ مسعودی، مروج الذہب، ج3، ص94۔
  33. ↑ مسعودی، مروج الذہب، ج3، ص94۔
  34. ↑ جعیط، نشاۃ المدینۃ العربیۃ...، ص219۔
  35. ↑ آل‌خلیفہ، امراء الکوفۃ...، ص33-741۔
  36. ↑ قائدان، عتبات عالیات عراق، ص91۔
  37. ↑ حکیم، الکوفۃ بین العمق التاریخی...، ص78۔
  38. ↑ قائدان، عتبات عالیات عراق، ص91۔
  39. ↑ حکیم، الکوفۃ بین العمق التاریخی...، ص78۔
  40. ↑ آل‌خلیفہ، امراء الکوفۃ...، ص33-145۔
  41. ↑ آل‌خلیفہ، امراء الکوفۃ...، ص34۔
  42. ↑ آل‌خلیفہ، امراء الکوفۃ...، ص52۔
  43. ↑ آل‌خلیفہ، امراء الکوفۃ...، ص60۔
  44. ↑ آل‌خلیفہ، امراء الکوفۃ...، ص87۔
  45. ↑ آل‌خلیفہ، امراء الکوفۃ...، ص145-465۔
  46. ↑ آل‌خلیفہ، امراء الکوفۃ...، ص186۔
  47. ↑ ابومخنف، وقعۃ الطفّ، ص92؛ آل‌خلیفہ، امراء الکوفۃ...، ص206۔
  48. ↑ آل‌خلیفہ، امراء الکوفۃ...، ص213۔
  49. ↑ طبری، تاریخ الطبری، بیروت، ج6، ص7 و 10۔
  50. ↑ آل‌خلیفہ، امراء الکوفۃ...، ص232۔
  51. ↑ آل‌خلیفہ، امراء الکوفۃ...، ص242۔
  52. ↑ فقیہ بحرالعلوم، زیارتگاہ‌ہای عراق، سازمان حج و زیارت، ج1، ص146؛ آل‌خلیفہ، امراء الکوفۃ...، ص252۔
  53. ↑ آل‌خلیفہ، امراء الکوفۃ...، ص268۔
  54. ↑ آل‌خلیفہ، امراء الکوفۃ...، ص473-741۔
  55. ↑ طبری، تاریخ الطبری، بیروت، ج7، ص458۔
  56. ↑ آل‌خلیفہ، امراء الکوفۃ...، ص482۔
  57. ↑ آل‌خلیفہ، امراء الکوفۃ...، ص494۔
  58. ↑ آل‌خلیفہ، امراء الکوفۃ...، ص563۔
  59. ↑ براقی، تاریخ کوفہ، ص121۔
  60. ↑ براقی، تاریخ کوفہ، ص121۔
  61. ↑ حکیم، الکوفۃ بین العمق التاریخی...، ص80-81۔
  62. ↑ حکیم، الکوفۃ بین العمق التاریخی...، ص80-81۔
  63. ↑ براقی، تاریخ کوفہ، ص121۔
  64. ↑ صفری فروشانی، کوفہ از پیدایش تا عاشورا، ص151-152۔
  65. ↑ طبری، تاریخ الطبری، بیروت، ج6، ص31۔
  66. ↑ طبری، تاریخ الطبری، بیروت، ج6، ص31۔
  67. ↑ محدثی، فرہنگ عاشورا، ص171۔
  68. ↑ براقی، تاریخ کوفہ، ص122۔
  69. ↑ جعیط، نشاۃ المدینۃ العربیۃ...، ص220-221۔
  70. ↑ براقی، تاریخ کوفہ، ص122۔

نوٹ

  1. ↑ اس سے مراد ایسا محل ہے جو عیش و عشرت کی وجہ سے دیوانگی میں تعمیر کیا گیا ہو یا جو تباہی اور نقصان کا باعث بنے (صفری فروشانی، کوفہ از پیدایش تا عاشورا، 1391ش، ص150۔)

مآخذ

  • «آغاز بازسازی قصر دار الامارہ در کوفہ» (کوفہ میں قصر دالامارہ کی تعمیر نو کا آغاز)، دانشجو نیوز ایجنسی، تاریخ درج مطلب: 27 اکتوبر 2025ء، تاریخ مشاہدہ: 10 اکتوبر 2026ء۔
  • آل‌خلیفہ، محمدعلی، امراء الکوفۃ و حکامہا، تہران، موسسۃ الصادقؑ، 1425ھ۔
  • ابن‌بطوطہ، محمد بن عبد اللہ، رحلۃ ابن بطوطۃ: تحفہ النظار فى غرائب الامصار و عجائب الاسفار، مغرب، أکادیمیۃ المملکۃ المغربیۃ، 1417ھ۔
  • ابن‌مزاحم، نصر، وقعۃ صفین، قم، کتابخانہ عمومی حضرت آیت‌اللہ مرعشی نجفی، 1363ہجری شمسی۔
  • ابو‌مخنف، لوط بن یحیى، وقعۃ الطف، قم، جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم، دفتر اسلامی پبلشرز، 1375ہجری شمسی۔
  • ابومخنف، لوط بن یحیی، وقعۃ الطفّ، تحقیق محمد ہادی یوسفی غروی، قم، جامعہ مدرسین، تیسری اشاعت،1417ھ۔
  • براقی، حسین، تاریخ کوفہ، مشہد، آستان قدس رضوی: اسلامی تحقیقاتی مرکز، 1381ہجری شمسی۔
  • ابن‌عساکر، علی بن حسن، تاريخ مدينۃ دمشق و ذكر فضلہا و تسميۃ من حلہا من الأماثل أو اجتاز بنواحيہا من وارديہا و أہلہا، بیروت، دار الفكر، 1415ھ۔
  • جعیط، ہشام، نشاۃ المدینۃ العربیۃ الاسلامیۃ الکوفہ، بیروت، دار الطلیعۃ للطباعۃ و النشر، 200ء۔
  • جمعی از نویسندگان، ہمسفر: رہ‌توشہ زائران عتبات عالیات، تہران، مشعر، 1394ہجری شمسی۔
  • حکیم، حسن عیسی، الکوفۃ بین العمق التاریخی و التطور العلمی، کوفہ، امانۃ مسجد الکوفۃ و المزارات الملحقۃ بہ، 1432ھ۔
  • شیخ مفید، محمد بن محمد، الإرشاد فی معرفۃ حجج اللہ على العباد، قم، المؤتمر العالمی لألفیۃ الشیخ المفید، 1372ہجری شمسی۔
  • صفری فروشانی، نعمت‌اللہ، کوفہ از پیدایش تا عاشورا، تہران، مشعر، 1391ہجری شمسی۔
  • طبری، محمد بن جریر، تاریخ الطبری: تاریخ الأمم و الملوک، بیروت، بے نا، بے تا۔
  • فقیہ بحرالعلوم، محمدمہدی و احمد خامہ‌یار، زیارتگاہ‌ہای عراق (معرفی زیارتگاہ ہای مشہور در کشور عراق)، تہران، سازمان حج و زیارت، حج و زیارات کے امور میں ولی فقیہ کا نمائندہ شعبہ، بے تا۔
  • قائدان، اصغر، عتبات عالیات عراق، تہران، مشعر، 1387ہجری شمسی۔
  • محدثی، جواد، فرہنگ عاشورا، قم، معروف، 1376ہجری شمسی۔
  • محمدی ری‌شہری، محمد، زیارت عتبات عالیات بر پایہ منابع معتبر، قم، دار الحدیث، 1397ہجری شمسی۔
  • مسعودی، علی بن حسین، مروج الذہب و معادن الجوہر، بیروت، المکتبۃ العصریۃ، 1425ھ۔