مندرجات کا رخ کریں

مسودہ:حدیث کے راوی

ویکی شیعہ سے

حدیث کے راوی اس شخص کو کہا جاتا ہے جو امام معصومؑ سے روایت کو سند کے ساتھ نقل کرتا ہے۔ بعض علماء نے نقل حدیث کے ساتھ ساتھ فقاہت اور درایت کو بھی راوی کی شرائط میں سے قرار دیا ہے۔ اسلام، عقل، بلوغ، ایمان، عدالت اور ضابط ہونا کسی بھی راوی کی روایت کے مورد قبول واقع ہو نے کی شرائط میں سے ہیں۔ ایمان سے مراد شیعہ اثنا عشری ہونا اور ضابط ہونے سے مراد حدیث کو حفظ کرنے کی صلاحیت اور مہارت کا حامل ہونا بتایا گیا ہے۔ رجالی علماء کے عقیدے کے مطابق کسی روایت پر اعتماد یا عدم اعتماد کے لئے راوی کے حالات اور خصوصیات سے مکمل طور پر آگاہ ہونا ضروری ہے۔

کہا گیا ہے کہ راوی کا مرتبہ محدث سے نیچے ہے۔ نیز احادیث راوی کی حالت کے لحاظ سے چار بنیادی اقسام حدیث صحیح، حدیث حسن، حدیث موثق اور حدیث ضعیف میں تقسیم ہوتی ہیں؛ جیسا کہ ان میں سے ہر ایک کی کئی ذیلی اقسام بھی ہیں۔

کسی راوی کے بارے میں آراء یا تو اس کی تعریف یا مذمت یا دونوں سے متعلق ہوتی ہیں، جسے اصطلاحاً جرح و تعدیل کہا جاتا ہے۔ عدل، ثقہ، حجت اور صالح وہ الفاظ ہیں جو تعدیل پر دلالت کرتے ہیں جبکہ ضعیف، کذّاب، غالی اور مضطرب جیسے الفاظ راوی کے جرح کی علامت سمجھے گئے ہیں۔

علم رجال کے علماء نے اپنی کتابوں میں راویوں کا ذکر کیا ہے اور ان کے حالات کا جائزہ لیا ہے۔ عبداللہ بن عباس، اصبغ بن نباتہ، عامر بن واثلہ، ابوخالد کابلی، زرارۃ بن اعین، ہشام بن حکم، ابان بن عثمان، حسن بن محبوب، حسین بن سعید اہوازی، علی بن مہزیار اہوازی اور محمد بن حسن صفار قمی ائمہؑ کے مختلف ادوار میں موجود معروف راویوں میں سے ہیں۔ کہا گیا ہے کہ امام مہدی(عج) کی روایت میں راویوں حدیث سے رجوع کرنے سے مراد فقہاء ہیں۔

راوی اور محدث کا باہمی تعلق

راوی اس شخص کو کہا جاتا ہے جو معصوم سے حدیث کو سلسلہ سند کے ساتھ نقل کرتا ہے۔[1] یہ اصطلاح علم درایہ[2] اور علم رجال[3] میں استعمال ہوتی ہے۔ راوی کی تعریف اور اس کے وظیفے کے بارے میں دو طرح کے نظریات پائے جاتے ہیں۔

  1. راوی صرف معصومینؑ سے حدیث کا متن نقل کرتا ہے[4] اور حدیث کے عمیق مفہوم، اطلاق و تقیید، دیگر روایات سے تعارض اور استنباط حکم شرعی سے متعلق مباحث کا ذمہ دار نہیں ہوتا۔[5]
  2. راوی محض الفاظ کا ناقل نہیں ہوتا ہے۔ بلکہ وہ حدیث کے مضمون کو سمجھ کر فہم و ادراک کے ساتھ نقل کرتا ہے۔ اس معنی کے اعتبار سے راوی اور فقیہ میں کسی حد تک اشتراک پایا جاتا ہے۔[6]

شیعہ علم رجال کے ماہر عبداللہ مامقانی راوی کے مرتبے کو محدث سے کم قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ راوی صرف روایت نقل کرتا ہے؛ لہٰذا محض حدیث سننے والا شخص محدث شمار نہیں ہوتا۔[7]

استعمال

امامیہ فقہاء خبر واحد سے حکم شرعی استنباط کرنے کے لئے راوی اور روایات کی سند کی تحقیق کرتے ہیں۔[8] مثال کے طور پر اگر راوی ثقہ اور امامی ہو تو اس کی روایت معتبر شمار ہوتی ہے۔[9] راوی کی خصوصیات اور صفات سے آگاہی روایت کے مورد قبول واقع ہونے یا رد ہونے کا معیار ہے۔[10] راوی کی شناخت علم رجال[11] اور رجالی کتابوں کے حوالے سے حاصل ہوتی ہے۔[12] رجالی علماء کا نطقہ نظر ہر راوی کے بارے میں تعریف، مذمت یا دونوں پر مشتمل ہوتا ہے۔[13]

رجالی مباحث کی توسیع اور راوی کی وثاقت اور سلسلہ سند کی جانچ پڑتال میں نئے نظریات کے سامنے آنے کے بعد علم رجال کے بنیادی اصول مرتب ہوئے اور متعدد رجالی معاجم زیور طبع سے آرستہ ہوئے۔[14] کہا گیا ہے کہ راویوں کے حالات و شرائط پر تفصیلی بحث کا آغاز علامہ حلی کے زمانے سے شروع ہوا۔[15]

روایت کے مورد قبول واقع ہونے کی شرائط

روایت کی قبولیت مختلف طریقوں سے حاصل ہوتی ہے جن میں سے ایک راوی کی وثاقت کا احراز ہے۔[16] روایت کی قبولیت کے لیے راوی کے لیے شرائط ذکر کی گئی ہیں[17] جن میں اسلام، عقل، بلوغ، ایمان، عدالت اور ضابط ہونا شامل ہیں۔[18]

  • ایمان: ایمان سے مراد شیعہ اثنا عشری ہونا ہے؛ لہذا اہل سنت یا دوسرے شیعہ فرقوں کی روایت قبول نہیں کی جاتی۔[19] البتہ، بعض فقہاء ان کی روایت کو اس صورت میں قابل قبول سمجھتے ہیں جب وہ شیعہ روایات سے متصادم نہ ہو اور دیگر شرائط پوری کرتی ہو۔[20]
  • عدالت: اس شرط کے مطابق فاسق شخص کی روایت قبول نہیں کی جاتی۔[21] البتہ بعض نے راوی کی وثاقت کے لیے قابل اعتماد ہونا ہی کافی سمجھا ہے۔[22]
  • ضابط ہونا: راوی میں ہوشیاری اور حدیث کو یاد رکھنے کی صلاحیت ہونی چاہیے تاکہ وہ حدیث کی نقل میں خطا، کمی یا زیادتی کا شکار نہ ہو۔[23] لہذا، جو راوی اکثر غلطی کرتا ہو اس کی حدیث قبول نہیں ہے۔[24] تاہم، معمولی غلطیاں روایت کی قبولیت میں رکاوٹ نہیں بنتیں اور راوی کو کمزور نہیں کرتیں۔[25] یہ شرط بنیادی شرائط میں سے بتائی گئی ہے[26] اور اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔[27]

کہا گیا ہے کہ تعارض کی صورت میں ایک روایت کو دوسری پر ترجیح دینے کے لیے فقیہ پر راویوں کے طبقات اور مراتب (جیسے تقوا، علم اور حدیث کو حفظ کرنے کی صلاحیت) کو جاننا واجب ہے۔[28] بعض صورتوں میں، فقہاء کے توثیق کے معیارات پر متفق ہونے کے باوجود، بعض راویوں میں ان شرائط کے تحقق کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے؛ اس لیے ممکن ہے کہ ایک فقیہ کسی روایت کو صحیح قرار دے اور دوسرا فقیہ اسے قبول نہ کرے۔[29]

راوی کا جرح و تعدیل

جرح راوی کی اصطلاح اس وقت استعمال ہوتی ہے جب رجالی کتاب میں کسی راوی کی مذمت کی گئی ہو؛ جیسے یہ اشارہ کہ فلاں راوی کا عقیدہ منحرف تھا یا وہ غلو میں مبتلا تھا۔ اس کے برعکس، جس راوی کی تعریف کی گئی ہو اس کے لیے تعدیل کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔[30] علم درایہ میں وہ صفت جو راوی حدیث کی وثاقت کو سلب کرتی ہے، جَرْح کہلاتی ہے۔[31] اگر علم رجال کا کوئی عالم کسی راوی کو تعدیل کرے اور دوسرا رجالی اسے جرح کرے تو جرح کو تعدیل پر مقدم کرنے، یا اس کے برعکس، یا مرجحات کی طرف رجوع کرنے میں اختلاف ہے۔[32]

راوی کے جرح و تعدیل کے الفاظ

رجالی کتابوں میں ان الفاظ کی نشاندہی کی گئی ہے جو راوی کی تعدیل پر دلالت کرتے ہیں، ان میں سے چند یہ ہیں: عدل، ثقہ، حجّت، صحیح الحدیث، متقن، حافظ، ثبت، صدوھ، شیخ، صالح، معتقد، وجہ اور عالم۔[33] جرح پر دلالت کرنے والے چند الفاظ یہ ہیں: ضعیف، کذّاب، غالی، وَضّاع للحدیث، مُضْطَرِب، ساقِط، مَتروک الحدیث اور مُخَلِّط۔[34]

راوی کی حالت کے لحاظ سے احادیث

شیعہ علماء نے چھٹی صدی ہجری قمری کے بعد سے، راوی کی حالت کے لحاظ سے احادیث کو چار اقسام حدیث صحیح، حدیث حسن، حدیث موثق اور حدیث ضعیف میں تقسیم کیا ہے۔[35] یہ چاروں اقسام حدیث کی اصل اقسام شمار ہوتی ہیں۔[36] علم رجال کے علماء حدیث صحیح کو ضعیف سے الگ کرنے کے لیے، فقیہ کے لیے مختلف جہات سے حدیث کے راویوں کو جاننا ضروری سمجھتے ہیں۔[37] بعض نے کہا ہے کہ متأخرین کے نزدیک احادیث کو ان چار اقسام میں تقسیم کرنے کی وجہ شاید یہ ہے کہ احادیث کی صحت کے لیے اطمینان بخش قرائن وقت گزرنے کے ساتھ نایاب ہو گئے۔ متأخرین نے، جب قابل اعتماد مصنفین کی تحریر کزمرہ حدیث کی بہت سی سابقہ اصولی کتابیں ختم ہو گئیں، تو معتبر احادیث کو غیر معتبر سے پہچاننے کے لیے سند اور راوی کے احوال کے مشاہدے کی بنیاد پر ان کی تقسیم کے سوا کوئی چارہ نہیں پایا۔[38]

چار بنیادی اقسام کے علاوہ، 26 ذیلی اقسام بھی ذکر کی گئی ہیں۔[39] ان میں سے 8 اقسام کا تعلق حدیث ضعیف کے دائرے سے ہے جبکہ 18 اقسام مشترکہ طور پر حدیث کی چاروں بنیادی اقسام کے دائرے میں آتی ہیں۔[40] کہا گیا ہے کہ بعض نے ان اقسام کو 45 تک بھی ذکر کیا ہے۔[41] حدیث مسند،[42] حدیث مرسل،[43] حدیث مجہول،[44] حدیث معضل[45] حدیث مضطرب،[46] حدیث موضوع،[47] حدیث متروک،[48] حدیث موقوف، حدیث مدرج، حدیث عالی اور حدیث نازل راوی کی حالت کے لحاظ سے حدیث کی ذیلی اقسام میں سے ہیں۔[49]

مزید معلومات کے لئے ملاحظہ کیجئے: خبر واحد

راویوں کی تعداد

شیخ طوسی کی کتاب رجال میں امام علیؑ سے لے کر امام حسن عسکریؑ تک ذکر کزمرہ راویوں کی کل تعداد 5436 ہے، جن میں سے 3217 راوی امام صادقؑ کے اور باقی ائمہؑ میں سے دیگر کے راوی تھے۔[50] امام علیؑ کے 442 راوی، امام حسنؑ کے 41 راوی، امام حسینؑ کے 109 راوی، امام سجادؑ کے 173 راوی، امام باقرؑ کے 466 راوی، امام کاظمؑ کے 272 راوی، امام رضاؑ کے 317 راوی، امام ہادیؑ کے 183 راوی، امام عسکریؑ کے 103 راوی اور امام مہدی(عج) کے 52 راوی تھے۔[51]

ائمہ کے اصحاب میں راوی خواتین کا بھی ذکر ملتا ہے۔ راوی خواتین کی زیادہ تعداد کی وجہ سے ابن سعد نے کتاب الطبقات الکبری میں پیغمبرؐ یا صحابہ سے حدیث روایت کرنے والی خواتین کے لیے ایک باب مختص کیا۔[52]

معروف راوی

علم رجال کے علماء نے اپنی کتابوں میں ائمہؑ کے دور حضور کے اصحاب اور راویوں کا ذکر کرتے ہوئے ان کا تنقیدی جائزہ لیا ہے، جن میں سے امامان شیعہ میں سے ہر ایک کے زمانے کے مطابق چند معروف راوی یہ ہیں:

راویوں کا ایک گروہ جو وثاقت کے اعلیٰ درجے پر فائز ہے، انہیں علم رجال کے علماء نے اصحاب اجماع کے نام سے ایک زمرے میں رکھا ہے۔[91] رجالیان راویات کی اسناد کو بہتر طور پر سمجھنے اور سندی اور رجالی مشکلات کو دور کرنے کے لیے مختلف طریقوں سے راویوں کی زمانے کے لحاظ سے درجہ بندی کرتے ہیں، جسے اصطلاحاً طبقات روات کہا جاتا ہے۔[92]

عصر غیبت میں راویوں کی طرف رجوع کرنا

امام مہدی(عج) کے ایک توقیع میں زمانے کے پیش آنے والے واقعات میں حدیث کے راویوں کی طرف رجوع کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔ امام(عج) کی راوی حدیث سے مراد فقہاء بتائے گئے ہیں[93] جو حدیث کو سمجھنے اور خدا کے حکم کو استعمال کرنے کی طاقت رکھتے ہیں؛[94] اگرچہ بعض نے فقہاء کو راویوں کی ایک شکل قرار دیا ہے۔[95] کہا گیا ہے کہ یہ بدیہی ہے کہ امام(عج) نے اپنے شیعوں کو احادیث کے محض الفاظ کے راویوں کی طرف، وہ بھی ان کے مفاد میں گہرائی اور درایت کے بغیر، رجوع نہیں کیا ہے؛ کیونکہ راوی صرف احادیث کے الفاظ کے حافظ ہوتے ہیں اور یہ فقہاء ہی ہیں جو روایات میں تفقہ رکھتے ہیں اور ائمہ اطہارؑ کا الہی حکم اور نقطہ نظر حاصل کرتے ہیں۔[96]

مزید معلومات کے لئے ملاحظہ کیجئے: توقیعات امام مہدیؑ

روایت نقل کرنے کے آداب

بعض محققین کے مطابق جب راوی حدیث کو اس کی شرائط کے ساتھ سیکھ لے تو وہ اسے اپنی کتاب سے روایت کر سکتا ہے اور مستحب ہے کہ پہلے حدیث کی سند اور پھر حدیث کو نقل کرے۔[97] راوی حدیث کے مفاد کو نقل کرنے پر اکتفا کر سکتا ہے اور اس کے لیے انہی الفاظ کو بیان کرنا ضروری نہیں جو اس نے سیکھے ہیں؛ بشرطیکہ نقل بہ معنا سے مراد میں خلل نہ آئے اور حدیث کے معنی میں تبدیلی نہ ہو۔ لہذا راوی کو ادبی پہلو سے الفاظ کی خصوصیات اور معانی کی ادائیگی میں ان کے صحیح ترکیب کے طریقے سے آگاہی ہونی چاہیے۔[98]

حوالہ جات

  1. التہانوی، کشاف اصطلاحات الفنون و العلوم، بیروت، ج1، ص37۔
  2. مؤسسہ دائرۃ المعارف فقہ الاسلامی، فرہنگ فقہ، 1387شمسی، ج4، ص35۔
  3. جناتی شاہرودی، منابع اجتہاد، 1370شمسی، ص160۔
  4. مؤسسہ دائرۃ المعارف فقہ الاسلامی، فرہنگ فقہ، 1387شمسی، ج4، ص35۔
  5. موسوی خلخالی، الحاکمیۃ فی الاسلام، 1425ھ، ص426۔
  6. شقیر، «پژوہشی دربارہ توقیع شریف امام زمان(عج) بہ اسحاق بن یعقوب»، ص205۔
  7. مامقانی، مقباس الہدایہ، 1411ھ، ج3، ص49۔
  8. جناتی شاہرودی، منابع اجتہاد، 1370شمسی، ص160۔
  9. جناتی شاہرودی، منابع اجتہاد، 1370شمسی، ص113۔
  10. موسوی گرگانی، «تأملی در شیوہ ہای شناخت تکلیف»، ص52۔
  11. جناتی شاہرودی، منابع اجتہاد، 1370شمسی، ص160۔
  12. مؤسسہ دائرۃ المعارف فقہ الاسلامی، فرہنگ فقہ، 1387شمسی، ج 3، ص72۔
  13. مؤسسہ دائرۃ المعارف فقہ الاسلامی، فرہنگ فقہ، 1387شمسی، ج4، ص35۔
  14. ہاشمی شاہرودی، «مکتب فقہی اہل بیتؑ»، ص68۔
  15. حب اللہ، «علامہ حلی اور امامی فکر میں مکتبِ سند کی تشکیل کے فکری و تاریخی عوامل»، ص139۔
  16. مکارم شیرازی، دائرۃ المعارف فقہ مقارن، 1427ھ، ص313۔
  17. مؤسسہ دائرۃ المعارف فقہ الاسلامی، فرہنگ فقہ، 1387شمسی، ج4، ص35۔
  18. جناتی شاہرودی، منابع اجتہاد، 1370شمسی، ص114؛ حب اللہ، «علامہ حلی اور امامی فکر میں مکتبِ سند کی تشکیل کے فکری و تاریخی عوامل»، ص154۔
  19. مؤسسہ دائرۃ المعارف فقہ الاسلامی، فرہنگ فقہ، 1387شمسی، ج4، ص35۔
  20. شہید ثانی، الرعایہ فی علم الدرایہ، 1408ھ، ص90۔
  21. جناتی شاہرودی، منابع اجتہاد، 1370شمسی، ص114۔
  22. مؤسسہ دائرۃ المعارف فقہ الاسلامی، فرہنگ فقہ، 1387شمسی، ج4، ص35۔
  23. مؤسسہ دائرۃ المعارف فقہ الاسلامی، فرہنگ فقہ، 1387شمسی، ج4، ص35؛ جناتی شاہرودی، منابع اجتہاد، 1370شمسی، ص114۔
  24. مؤسسہ دائرۃ المعارف فقہ الاسلامی، فرہنگ فقہ، 1387شمسی، ج4، ص35۔
  25. عاملی، معالم الدین، قم، ج1، ص203۔
  26. جناتی شاہرودی، منابع اجتہاد، 1370شمسی، ص114۔
  27. عاملی، معالم الدین، قم، ج1، ص203۔
  28. مؤسسہ دائرۃ المعارف فقہ الاسلامی، فرہنگ فقہ، 1387شمسی، ج 3، ص593۔
  29. مکارم شیرازی، دائرۃ المعارف فقہ مقارن، 1427ھ، ص357۔
  30. مؤسسہ دائرۃ المعارف فقہ الاسلامی، فرہنگ فقہ، 1387شمسی، ج 3، ص72۔
  31. مؤسسہ دائرۃ المعارف فقہ الاسلامی، فرہنگ فقہ، 1387شمسی، ج 3، ص71۔
  32. مؤسسہ دائرۃ المعارف فقہ الاسلامی، فرہنگ فقہ، 1387شمسی، ج 3، ص72۔
  33. مؤسسہ دائرۃ المعارف فقہ الاسلامی، فرہنگ فقہ، 1387شمسی، ج 3، ص593-594۔
  34. مؤسسہ دائرۃ المعارف فقہ الاسلامی، فرہنگ فقہ، 1387شمسی، ج 3، ص594 ۔
  35. مکارم شیرازی، دائرۃ المعارف فقہ مقارن، 1427ھ، ص175۔
  36. مؤسسہ دائرۃ المعارف فقہ الاسلامی، فرہنگ فقہ، 1387شمسی، ج 3، ص430 ۔
  37. مؤسسہ دائرۃ المعارف فقہ الاسلامی، فرہنگ فقہ، 1387شمسی، ج 3، ص593۔
  38. مؤسسہ دائرۃ المعارف فقہ الاسلامی، فرہنگ فقہ، 1387شمسی، ج 3، ص430 ۔
  39. مؤسسہ دائرۃ المعارف فقہ الاسلامی، فرہنگ فقہ، 1387شمسی، ج 3، ص430 ۔
  40. مؤسسہ دائرۃ المعارف فقہ الاسلامی، فرہنگ فقہ، 1387شمسی، ج 3، ص430 ۔
  41. مؤسسہ دائرۃ المعارف فقہ الاسلامی، فرہنگ فقہ، 1387شمسی، ج 3، ص430 ۔
  42. نراقی، انیس المجتہدین، 1388شمسی، ج1، ص266؛ مؤسسہ دائرۃ المعارف فقہ الاسلامی، فرہنگ فقہ، 1387شمسی، ج3، ص271۔
  43. مامقانی، مقباس الہدایہ، 1411ھ، ج1، ص338۔
  44. مؤسسہ دائرۃ المعارف فقہ الاسلامی، فرہنگ فقہ، 1387شمسی، ج 3، ص269؛ جناتی شاہرودی، منابع اجتہاد، 1370شمسی، ص168۔
  45. مؤسسہ دائرۃ المعارف فقہ الاسلامی، فرہنگ فقہ، 1387شمسی، ج 3، ص273۔
  46. صدر، نہایۃ الدرایۃ، نشر مشعر، ص224؛ مامقانی، مقباس الہدایۃ فی علم الدرایۃ، 1411ھ، ج1، ص386۔
  47. مامقانی، مقباس الہدایۃ، 1385شمسی، ج1، ص398
  48. سبحانی، اصول الحدیث، 1426ھ، ص95۔
  49. مزید معلومات کے لیے دیکھیں: شہید ثانی، البدایہ فی علم الدرایہ، 1421ھ، ص26تا39؛ جناتی شاہرودی، منابع اجتہاد، 1370شمسی، ص169 -170۔
  50. ہاشمی شاہرودی، «مکتب فقہی اہل بیتؑ»، ص34-35۔
  51. ہاشمی شاہرودی، «مکتب فقہی اہل بیتؑ»، ص34-35۔
  52. مزید معلومات کے لیے دیکھیں: ابن سعد، الطبقات الکبری، 1410ھ، ج 8، ص11۔
  53. کشی، اختیار معرفۃ الرجال، 1404ھ، ج 1، ص271۔
  54. تقی الدین حلی، الرجال ، 1342شمسی، ص213؛ تفرشی، نقد الرجال، 1377شمسی، ج 3، ص142۔
  55. کشی، اختیار معرفۃ الرجال، 1404ھ، ج 1، ص184-185۔
  56. استرآبادی، منہج المقال، 1422ھ، ج 2، ص377-381۔
  57. حسینی حلی، زبدۃ الاقوال، 1428ھ، ص83۔
  58. تفرشی، نقد الرجال، 1377شمسی، ج 4، ص72؛ مامقانی، تنقیح المقال، بی تا، ج 2، القسم الثانی، ص42۔
  59. خویی، معجم رجال الحدیث، 1413ھ، ج 22، ص47۔
  60. مامقانی، تنقیح المقال، بی تا، ج 2، القسم الثانی، ص117
  61. برقی، الرجال، 1342شمسی، ص61۔
  62. طوسی، رجال الطوسی، 1373شمسی، ص99۔
  63. شوشتری، قاموس الرجال، 1410ھ، ج 12، الألقاب المنسوبۃ، ص313۔
  64. کشی، اختیار معرفۃ الرجال، 1404ھ، ج 2، ص455-458۔
  65. کشی، اختیار معرفۃ الرجال، 1404ھ، ج 1، ص336۔
  66. خویی، معجم رجال الحدیث، 1413ھ، ج 9، ص138۔
  67. طوسی، رجال الطوسی، 1373شمسی، ص337۔
  68. نمازی شاہرودی، مستدرکات علم رجال الحدیث، 1414ھ، ج 3، ص377۔
  69. طوسی، رجال الطوسی، 1373شمسی، ص137۔
  70. کشی، اختیار معرفۃ الرجال، 1404ھ، ج 2، ص526۔
  71. نجاشی، رجال النجاشی، 1365شمسی، ص10؛ سند بحرانی، بحوث فی مبانی علم الرجال، 1429شمسی، ص58۔
  72. نجاشی، رجال النجاشی، 1365شمسی، ص198۔
  73. نجاشی، رجال النجاشی، 1365شمسی، ص13۔
  74. خویی، معجم رجال الحدیث، 1413ھ، ج 5، ص122۔
  75. خویی، معجم رجال الحدیث، 1413ھ، ج 7، ص223۔
  76. نجاشی، رجال النجاشی، 1365شمسی، ص197۔
  77. خویی، معجم رجال الحدیث، 1413ھ، ج 6، ص96۔
  78. شیخ طوسی، الفہرست، نجف، ص123۔
  79. مامقانی، تنقیح المقال، بی تا، ج 2، القسم الثانی، ص151۔
  80. نجاشی، رجال النجاشی، 1365شمسی، ص326۔
  81. مامقانی، تنقیح المقال، بی تا، ج 2، القسم الثانی، ص178۔
  82. علامہ حلی، الرجال، 1402ھ، ص49۔
  83. تفرشی، نقد الرجال، 1377شمسی، ج 4، ص223-226۔
  84. شیخ طوسی، رجال الطوسی، 1373شمسی، ص388۔
  85. مامقانی، تنقیح المقال، بی تا، ج 2، القسم الثانی، ص9۔
  86. شیخ طوسی، رجال الطوسی، 1373شمسی، ص387
  87. شیخ طوسی، رجال الطوسی، 1373شمسی، ص388۔
  88. علامہ حلی، الرجال، 1402ھ، ص12۔
  89. شیخ طوسی، الفہرست، نجف، ص408۔
  90. خویی، معجم رجال الحدیث، 1413ھ، ج 3، ص149۔
  91. مرعی، منتہى المقال، 1417ھ، ص191۔
  92. مزید معلومات کے لیے دیکھیں: ہاشم، طبقات الرواۃ، بی تا، ص125۔
  93. قمی، منتہی الآمال، 1379شمسی، ج 3، ص2147-2148؛ موسوی خلخالی، الحاکمیۃ فی الاسلام، 1425ھ، ص390؛ حامدنیا، دولت یار، 1384شمسی، ص99۔
  94. موسوی خلخالی، الحاکمیۃ فی الاسلام، 1425ھ، ص390۔
  95. رفیعی، زندگی ائمہ، تہران، ص323۔
  96. موسوی خلخالی، الحاکمیۃ فی الاسلام، 1425ھ، ص390؛ حامدنیا، دولت یار، 1384شمسی، ص99۔
  97. مؤسسہ دائرۃ المعارف فقہ الاسلامی، فرہنگ فقہ، 1387شمسی، ج 3، ص593۔
  98. مؤسسہ دائرۃ المعارف فقہ الاسلامی، فرہنگ فقہ، 1387شمسی، ج 3، ص593۔

مآخذ

  • آقابزرگ تہرانی، محمدمحسن، الذریعہ الی تصانیف الشیعہ، بیروت، دارالاضواء، دوسری اشاعت، 1403ھ۔
  • ابن سعد، محمد بن سعد، الطبقات الکبری، تحقیق محمد عبدالقادر عطا، بیروت، دارالکتب العلمیۃ، 1410ھ۔
  • استرآبادی، محمد بن علی، منہج المقال فی تحقیق أحوال الرجال، قم، موسسۃ آل البیتؑ لإحیاء التراث، 1422ھ۔
  • برقی، احمد بن محمد، المحاسن، قم، دارالکتب الإسلامیۃ، دوسری اشاعت، 1371ھ۔
  • برقی، احمد بن محمد، کتاب الرجال، تہران، دانشگاہ تہران، 1342ہجری شمسی۔
  • تفرشی، مصطفی بن حسین، نقد الرجال، قم، موسسۃ آل البیتؑ لإحیاء التراث، 1377ہجری شمسی۔
  • تقی الدین حلی، حسن بن علی، الرجال، تہران، دانشگاہ تہران، 1342ہجری شمسی۔
  • التہانوی، محمدعلی، کشاف اصطلاحات الفنون و العلوم، بیروت، مکتبۃ لبنان ناشرون ، بی تا۔
  • جناتی شاہرودی، محمدابراہیم، منابع اجتہاد از دیدگاہ مذاہب اسلامی، تہران، کیہان، 1370ہجری شمسی۔
  • حامدنیا، رسول، دولت یار: نقد و بررسی کتاب(آخرت و خدا، ہدف بعثت انبیاء)، قم، دفتر نشر معارف، 1384ہجری شمسی۔
  • حب اللہ، حیدر، «علامہ حلی اور امامی فکر میں مکتبِ سند کی تشکیل کے فکری و تاریخی عوامل»، مجلہ فقہ اہل بیتؑ، شمارہ 49۔
  • حسینی حلی، حسین بن کمال الدین ابرز، زبدۃ الأقوال فی خلاصۃ الرجال، قم، موسسہ دارالحدیث، 1428ھ۔
  • خویی، سید ابوالقاسم، معجم رجال الحدیث و تفصیل طبقات الرواۃ، بی جا، بی نا، 1413ھ۔
  • رفیعی، علی، زندگی ائمہؑ، تہران، مرکز پژوہشکدہ تحقیقات سپاہ، بی تا۔
  • سبحانی، جعفر، اصول الحدیث و احکامہ فی علم الدرایۃ، قم، موسسہ النشر الاسلامی، 1426ھ۔
  • سند بحرانی، محمد، بحوث فی مبانی علم الرجال، قم، مدین، دوسری اشاعت، 1429ھ۔
  • شقیر، محمد، «پژوہشی دربارہ توقیع شریف امام زمان(عج) بہ اسحاق بن یعقوب»، مجلہ فقہ اہل بیتؑ، شمارہ 46.
  • شوشتری، محمدتقی، قاموس الرجال، قم، مؤسسۃ النشر الإسلامی، دوسری اشاعت، 1410ھ۔
  • شہید ثانی، زین الدین بن علی، الرعایہ فی علم الدرایہ، قم، مکتبۃ آیت اللہ المرعشی العامہ، 1408ھ۔
  • شہید ثانی، زین الدین بن علی، شرح البدایہ فی علم الدرایۃ، تحقیق سید محمدرضا حسینی جلالی، قم، انتشارات محلاتی، پہلی اشاعت، 1421ھ۔
  • شیخ طوسی، محمد بن حسن، رجال الطوسی، قم، مؤسسۃ النشر الاسلامی، تیسری اشاعت، 1373ہجری شمسی۔
  • شیخ طوسی، محمد بن حسن، فہرست کتب الشیعۃ و أصولہم و أسماء المصنفین و أصحاب الأصول، نجف، مکتبۃ المرتضویۃ، بی تا۔
  • صدر، حسن، نہایۃ الدرایۃ فی شرح الرسالۃ الموسومۃ بالوجیزۃ للبہایی، تہران، مشعر، بی تا۔
  • عاملی، حسن بن زین الدین، معالم الدین و ملاذ المجتہدین، قم، جامعہ مدرسین قم، بی تا۔
  • علامہ حلی، حسن بن یوسف، رجال العلامۃ الحلی، قم، الشریف الرضی، دوسری اشاعت، 1402ھ۔
  • فضلی، عبدالہادی، اصول الحدیث، بیروت، مؤسسہ ام القری، دوسری اشاعت، 1420ھ۔
  • فیض کاشانی، محمدمحسن، الوافی، اصفہان، کتابخانہ امام أمیر المؤمنین علی علیہ السلام ، 1406ھ۔
  • قمی، عباس، منتہی الآمال، قم، نشر دلیل ما، 1379ہجری شمسی۔
  • کشی، محمد بن عمر، اختیار معرفۃ الرجال مع تعلیقات میرداماد الأسترآبادی، قم، موسسۃ آل البیتؑ لإحیاء التراث، 1404ھ۔
  • کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، تہران، دارالکتب الإسلامیۃ، چوتھی اشاعت، 1407ھ۔
  • مامقانی، عبداللہ، تنقیح المقال فی علم الرجال، رحلی، بی جا، بی نا، بی تا۔
  • مامقانی، عبداللہ، مقباس الہدایۃ فی علم الدرایۃ، قم، مؤسسہ آل البیتؑ، 1411ہجری شمسی۔
  • مرعی، حسین عبداللہ، منتہی المقال فی الدرایہ و الرجال، بیروت، مؤسسۃ العروۃ الوثقی، 1417ھ۔
  • مکارم شیرازی، ناصر، دائرۃ المعارف فقہ مقارن، قم، انتشارات مدرسہ امام علی بن ابی طالبؑ، 1427ھ۔
  • موسسہ دائرۃ المعارف الفقہ الاسلامی، زیر نظر ہاشمی شاہرودی، فرہنگ فقہ مطابق مذہب اہل بیتؑ، فارسی، قم، مؤسسہ دائرۃ المعارف فقہ اسلامی بر مذہب اہل بیتؑ، 1387ہجری شمسی۔
  • موسوی خلخالی، سید محمدمہدی، الحاکمیۃ فی الإسلام، قم، مجمع اندیشہ اسلامی، 1425ھ۔
  • موسوی گرگانی، سید محسن، «تأملی در شیوہ ہای شناخت تکلیف، مجلہ فقہ اہل بیتؑ»، شمارہ 31۔
  • نجاشی، احمد بن علی، رجال النجاشی، قم، جماعۃ المدرسین فی الحوزۃ العلمیۃ بقم، چھٹی اشاعت، 1365ہجری شمسی۔
  • نراقی، محمدمہدی بن ابی ذر، انیس المجتہدین فی علم الأصول، قم، مؤسسہ بوستان کتاب، پہلی اشاعت 1388ہجری شمسی۔
  • نمازی شاہرودی، علی، مستدرکات علم رجال الحدیث، تہران، فرزند مؤلف، 1414ھ۔
  • ہاشم، طبقات الرواۃ دراسۃ و تحلیل، بی جا، بی نا، بی تا۔
  • ہاشمی شاہرودی، سید محمود، «مکتب فقہی اہل بیتؑ»، مجلہ فقہ اہل بیتؑ»، شمارہ 32۔