مندرجات کا رخ کریں

مسودہ:تعرب بعد الہجرہ

ویکی شیعہ سے

تَعَرُّبُ بَعْدَ الْہِجْرَۃ ایک فقہی اصطلاح ہے جو اس حالت کی طرف اشارہ کرتی ہے جب کوئی شخص اسلام قبول کرنے اور اس کے احکام سے واقف ہونے کے بعد، کفر کے علاقے یا ایسے ماحول میں رہائش اختیار کر لے جہاں اس کا ایمان اور دین کمزور یا منحرف ہونے کا خطرہ ہو۔[1] یہ اصطلاح اسلامی روایات میں "صِرْتُم بَعْدَ الْہِجْرَۃِ أَعْرَابًا"[2] اور "الْمُتَعَرِّبُ بَعْدَ الْہِجْرَۃِ"[3] جیسے تعبیرات کے ساتھ استعمال ہوئی ہے۔ بعض مفسرین نے سورہ آل عمران کی آیت نمبر 149 کا اطلاق بھی اسی مفہوم پر کیا ہے۔[4]

"تَعَرُّب بَعْدَ الْہِجْرَۃ" کی تفسیر میں علما کے مابین مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔ علامہ مجلسی نے اس کی تفسیر علم حاصل کرنے کے بعد اسے ترک کر دینے کے طور پر کی ہے۔[5] سید محمد باقر میرداماد اسے ہدایت پانے کے بعد حق سے منحرف ہونے کا کنایہ سمجھتے ہیں۔[6] امام جعفر صادقؑ سے منقول ایک روایت میں اہل بیتؑ کی ولایت کو قبول کیے بغیر اسلام قبول کرنا بھی "تَعَرُّب بَعْدَ الْہِجْرَۃ" کے مصادیق میں شمار کیا گیا ہے۔[7]

فقہاء نے روایات[8] کی بنیاد پر "تعرب بعد الہجرۃ" کو گناہان کبیرہ میں شمار کیا ہے۔[9] ابن اثیر اپنی کتاب "النہایہ" میں بیان کرتے ہیں کہ صدر اسلام میں مدینہ ہجرت کرنے کے بعد بغیر عذر کے مکہ واپس لوٹ جانا ایک قسم کا ارتداد سمجھا جاتا تھا۔[10] مسلمان مورخ صالحی دمشقی نے "تَعَرُّب" کی حرمت کی وجہ اس دور میں مکہ کا دار الحرب (جنگ کا علاقہ) ہونا بتایا ہے۔[11]

بعض مراجع تقلید کے فتوےٰ کے مطابق، غیرمسلم ممالک کا سفر یا وہاں مستقل یا عارضی قیام، اگر ایمان کی کمزوری یا دینی امور پر عمل پیرا ہونے کے لحاظ سے سستی و کاہلی کا سبب بنے تو حرام ہے۔[12] تاہم، اگر کوئی شخص اپنے دین کی حفاظت کرسکے اور کفر و فساد سے بچا رہے تو ایسا قیام "تعرّب" کا مصداق نہیں ہوگا، خاص طور پر اگر اسلام کی تبلیغ و تدریج کا موقع میسر آئے۔[13]

حوالہ جات

  1. مؤسسہ دائرۃالمعارف فقہ اسلامی، فرہنگ فقہ، 1426ھ، ج2، ص528۔
  2. شریف رضی، نہج البلاغہ، 1414ھ، خطبہ 192، ص299۔
  3. شیخ صدوق، معانی الأخبار، 1403ھ، ص265۔
  4. سیوطی، الدر المنثور، 1404ھ، ج2، ص83۔
  5. مجلسی، مرآۃ العقول، 1404ھ، ج10، ص9۔
  6. میرداماد، الرواشح السماویۃ، 1422ھ، ج1، ص216۔
  7. شیخ صدوق، معانی الأخبار، 1403ھ، ص144۔
  8. کلینی، الکافی، 1407ھ، ج2، ص281۔
  9. طباطبایی کربلایی، ریاض المسائل، 1418ھ، ج4، ص273؛ شاہرودی، کتاب الحج، 1402ھ، ج1، ص18؛ حسینی تہرانی، ولایت فقیہ در حکومت اسلام، 1421ھ، ج3، ص141۔
  10. عاملی، الاصطلاحات الفقہیۃ، 1413ھ، ص46؛ ابن‌اثیر‌، النہایۃ، 1367شمسی، ج‌3، ص202۔
  11. صالحی دمشقی، سبل الہدی و الرشاد، 1414ھ، ج5، ص260۔
  12. سایت آیت‌اللہ سیستانی، فقہ برای غرب‌نشینان۔
  13. مکارم شیرازی، استفتائات جدید، 1427ھ، ج1، ص349۔

مآخذ

  • «فقہ برای غرب‌نشینان»، سایت رسمی دفتر مرجع عالیقدر سید علی حسینی سیستانی، تاریخ مشاہدہ: 1 اگست 2025۔
  • ابن‌اثیرجزری، مبارک بن محمد، النہایۃ فی غریب الحدیث و الأثر، محقق: محمود محمد طناحی، قم، موسسہ مطبوعاتی اسماعیلیان‏، چاپ چہارم‏، 1367یجری شمسی۔
  • ابن‌عساکر، علی بن الحسن، تاریخ دمشق، محقق: عمرو بن غرامۃ العمروی، بی‌نام، دار الفکر للطباعۃ والنشر والتوزیع، 1415ھ۔
  • حسینی تہرانی، سید محمدحسین، ولایت فقیہ در حکومت اسلام، محقق: محسن سعیدیان و محمدحسین راجی، مشہد، علامہ طباطبایی، چاپ دوم، 1421ھ۔
  • طباطبایی حکیم، سید محمد سعید، مصباح المنہاج: الإجتہاد و التقلید، نجف، موسسہ الحکمہ الثقافہ الاسلامیہ، چاپ دوم، بی‌تا۔
  • طباطبایی کربلایی، سید علی بن محمد، ریاض المسائل فی تحقیق الأحکام بالدلائل، محقق: محمد بہرہ‌مند و محسن قدیری و کریم انصاری و علی مروارید، قم، مؤسسہ آل البیت(ع)، چاپ اول، 1418ھ۔
  • حویزی، عبدعلی، تفسیر نور الثقلین، تصحیح: ہاشم رسولی، قم، اسماعیلیان، چاپ چہارم، 1415ھ۔
  • سیوطی، عبدالرحمن بن ابی‌بکر، الدر المنثور فی التفسیر بالمأثور، قم، مکتبۃ آیۃ اللہ العظمی المرعشی النجفی(رہ)، چاپ اول، 1404ھ۔
  • شاہرودی، سید محمود، کتاب الحج، قم، مؤسسہ انصاریان، 1402ھ۔
  • شریف الرضی، محمد بن حسین، نہج البلاغۃ (للصبحی صالح)، قم، نشر ہجرت، چاپ اول، 1414ھ۔
  • شیخ صدوق، محمد بن علی، علل الشرائع‏، قم، کتاب فروشی داوری‏، چاپ اول، 1385یجری شمسی۔
  • شیخ صدوق، محمد بن علی، معانی الأخبار، تصحیح، علی‌اکبر غفاری، قم، دفتر انتشارات اسلامی وابستہ بہ جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم، چاپ اول، 1403ھ۔
  • صالحی دمشقی، محمد بن یوسف، سبل الہدی و الرشاد فی سیرۃ خبر العباد، بیروت، دارالکتب العلمیۃ، چاپ اول، 1414ھ۔
  • طالقانی، سید محمود، پرتوی از قرآن، تہران، شرکت سہامی انتشار، چاپ چہارم، 1362یجری شمسی۔
  • طریحی، فخر الدین بن محمد، مجمع البحرین، محقق: احمد حسینی اشکوری، تہران، مرتضوی‏، چاپ سوم، 1375یجری شمسی۔
  • عاملی، یاسین عیسی، الاصطلاحات الفقہیۃ فی الرسائل العملیۃ، بیروت، دار البلاغۃ للطباعۃ و النشر و التوزیع، چاپ اول، 1413ھ۔
  • کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، تہران، دار الکتب الإسلامیۃ، چاپ چہارم، 1407ھ۔
  • مجلسی، محمدباقر، مرآۃ العقول فی شرح أخبار آل الرسول‏(ص)، محقق: سید ہاشم رسولی محلاتی، تہران، دار الکتب الإسلامیۃ، چاپ دوم، 1404ھ۔
  • مکارم شیرازی، ناصر، استفتائات جدید(ج1)، قم، مدرسہ الامام علی بن ابی طالب (ع)، چاپ دوم، 1427ھ۔
  • مؤسسہ دائرۃالمعارف فقہ اسلامی، فرہنگ فقہ مطابق مذہب اہل‌بیت(ع)، زیرنظر: سید محمود ہاشمی شاہرودی، قم، مؤسسہ دائرۃالمعارف فقہ اسلامی، چاپ اول، 1426ھ۔
  • میرداماد، محمدباقر، الرواشح السماویۃ فی شرح الأحادیث الإمامیۃ، محقق: غلام حسین قیصریہ‌ہا و نعمت اللہ لیلی، قم، دارالحدیث، چاپ اول 1422ھ۔