مسودہ:اعمال کی قبولیت
| معاد | |
|---|---|
| احتضار(جان کنی) . قبض روح . سکرات موت . عزرائیل . غسل میت . کفن . نماز میت . دفن | |
| برزخ | |
| قبر کی پہلی رات . نکیر و منکر . حیات برزخی . نفخہ صور . بدن برزخی | |
| قیامت | |
| اسرافیل . معاد جسمانی . نفخ صور . نامہ اعمال . صراط . میدان حشر . اصحاب یمین . اصحاب شمال | |
| بہشت | |
| بہشت کے دروازے. حور العین. غلمان. رضوان. بہشتی نعمتیں | |
| جہنم | |
| جہنم کے دروازے . جہنم کے طبقے . زقوم . اسفل سافلین . ہاویہ . جحیم | |
| مرتبط مضامین | |
| شفاعت . تجسم اعمال . تناسخ . رجعت . روح . باقیات صالحات | |
اعمال کی قبولیت سے مراد یہ ہے کہ عمل درگاہ الہی میں مورد قبول واقع ہو یا عمل اپنی کامل ترین حالت تک پہنچ جائے۔ روایات میں خود عمل سے اس کی قبولیت کو زیادہ اہم قرار دیا گیا ہے، کیونکہ صرف مقبول عمل ہی انسان کی کامیابی اور نجات کا سبب بنتا ہے۔
دینی متون میں عمل کے صحیح ہونے اور اس کے قبول ہونے میں فرق بیان کیا گیا ہے۔ عمل کا فقہی اعتبار سے صحیح ہونا ضروری ہے تاکہ اس کے قبول ہونے کا امکان ہو، لیکن ہر صحیح عمل لازماً مقبول نہیں ہوتا۔ کہا گیا ہے کہ صحیح عمل صرف شرعی ذمہ داری سے بری الذمہ کا سبب بن سکتا ہے جبکہ مکمل ثواب کا تعلق مقبول عمل سے ہے۔ بعض علما کا خیال ہے کہ صحیح عمل کا بھی ثواب ملتا ہے، لیکن مقبول عمل اسی عمل کی برتر حیثیت رکھتا ہے۔
ایمان، ولایت، تقویٰ، اخلاص اور نیک سلوک کو اعمال کی قبولیت کی شرائط میں سے شمار کیا گیا ہے۔ اس کے برعکس، شرک، نفاق، ریاکاری اور حق کا انکار اعمال کی قبولیت میں رکاوٹ یا اعمال کو برباد کرنے والے عوامل میں شمار ہوتے ہیں۔ حبط عمل سے مراد بعض گناہوں کی وجہ سے نیک اعمال کا ثواب ضائع ہو جانا ہے۔
اہمیت اور محل بحث
اعمال کی قبولیت کے معنی عمل کا درگاہ الہی میں مورد قبول واقع ہونا[1] یا اس کے عالی اور کامل مرتبہ تک پہنچنا ہے۔[2] روایات کی روشنی میں[3] قبولیتِ عمل خود عمل سے زیادہ اہم ہے؛[4] کیونکہ صرف قبول شدہ عمل ہی نجات کا سبب بنتا ہے۔[5] انبیاء کرام اپنی دعاؤں میں اعمال کی قبولیت کے لیے اللہ سے درخواست کرتے تھے[6] اور اسے مومنین کی آخری خواہش قرار دیا گیا ہے۔[7]
صحیح عمل اور مقبول عمل میں فرق
اگرچہ وہ عمل جو فقہی اعتبار سے صحیح ہو اور اس کے تمام اجزاء و شرائط موجود ہوں، قبولیت کی صلاحیت رکھتا ہے، لیکن ہر صحیح عمل لازماً مقبول نہیں ہوتا اور اس کی قبولیت کے لیے دیگر شرائط بھی درکار ہوتی ہیں۔[8] صحیح عمل اور مقبول عمل کے درمیان فرق کی وضاحت کے سلسلے میں کئی نقطہ ہائے نظر بیان کیے گئے ہیں:
- صحیح عمل فرمانبرداری کا موجب اور شرعی ذمہ داری سے سبکدوشی کا سبب بنتا ہے، لیکن ثواب کا استحقاق صرف مقبول عمل کے لیے ہے۔[9]
- صحیح عمل کا ثواب ہے اور مقبول عمل اسی عمل کا ایک بالاتر مرتبہ ہے۔[10]
- اگر عمل صحیح نہ ہو تو انسان شرعی نگاہ سے سزا کا مستحق ہوتا ہے، لیکن اگر عمل صحیح ہو اور مقبول نہ ہو تو اگرچہ اس پر کوئی سزا نہیں، لیکن وہ انسان کو خدا سے قریب نہیں کرتا اور قربِ الٰہی سے یہ محرومی ایک قسم کی سزا تصور کی جاتی ہے۔[11]
قبولی اعمال کی شرائط
آیات و روایات کی روشنی میں، بعض عقائد اور اعمال[12] کو قبولیتِ اعمال کی شرط قرار دیا گیا ہے؛[13] جن میں ایمان،[14] اہل بیتؑ کی ولایت،[15] تقوا،[16] اخلاص،[17] نماز شب،[18] لقمہ حلال[19] اور اہل خانہ کے ساتھ خوش اخلاقی[20] شامل ہیں۔
اس کے برعکس، بعض چیزیں جیسے ارتداد،[21] شرک،[22] امر بالمعروف کرنے والوں کا قتل،[23] قیامت اور آیات الٰہی کا انکار،[24] نفاق،[25] امام علیؑ کی ولایت کا انکار،[26] مصیبت میں بے صبری،[27] زنا کی تہمت،[28] بد گمانی،[29] ریاکاری[30] اور جھگڑا[31] حبط اعمال یا عدم قبولیت کے عوامل شمار ہوتے ہیں۔[32]
اعمال کے قبول نہ ہونے اور حبط اعمال میں فرق
حبط عمل سے مراد عمل کے آثار اور ثواب کا ختم ہو جانا ہے؛[33] یعنی بعض گناہ نیک اعمال کو بے اثر کر دیتے ہیں۔[34] مثال کے طور پر چونکہ موت کے وقت ایمان کو قبولی اعمال کی بنیادی شرط قرار دیا گیا ہے، اس لیے اس شخص کے اعمال کی کوئی وقعت نہیں جو کفر یا شرک کی حالت میں دنیا سے چلا جائے۔[35]
علامہ مجلسی کے مطابق، بہت سی روایات میں حبط سے مراد ثواب کا حقیقی طور پر ختم ہو جانا نہیں ہے؛ بلکہ وہ اسے قبولیت کی شرائط کے فقدان کی علامت قرار دیتے ہیں؛ یعنی بعد میں گناہ کا ارتکاب اس بات کی علامت ہے کہ نیک عمل ابتدا ہی سے مکمل شرائط کے ساتھ انجام نہیں دیا گیا تھا اور وہ شخص بنیادی طور پر ثواب کا مستحق ہی نہیں تھا۔[36] یہ نظریہ شیعوں کے مشہور نظریے کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔[37]
حوالہ جات
- ↑ ملاحظہ کیجیے: سورہ فاطر، آیہ 10؛ حویزی، تفسیر نور الثقلین، 1415ھ، ج4، ص353۔
- ↑ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1374شمسی، ج10، ص343۔
- ↑ صدوق، خصال، 1362شمسی، ج1، ص14۔
- ↑ قاضیان، عبادت، نماز و دعا، 1399شمسی، ص67۔
- ↑ یگانہ و حجت، «موانع قبولی عمل از منظر قرآن و روایات»(عمل کے عدم قبولیت کے عوامل قرآن کی نظر میں)، مجلہ کتاب و سنت۔
- ↑ سورہ بقرہ، آیہ 127۔
- ↑ ملکی تبریزی، اسرار الصلاۃ، 1420ھ، ص168۔
- ↑ شہید ثانی، روض الجنان، 1402ھ، ج1، ص95؛ رفیعی، «شروط قبولی اعمال چیست؟»(اعمال قبول ہونے کی شرائط کیا ہیں؟)، حوزۂ علمیہ کا اطلاعاتی مرکز ویب سائٹ۔
- ↑ شہید ثانی، روض الجنان، 1402ھ، ج1، ص95۔
- ↑ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1374شمسی، ج10، ص343۔
- ↑ «فرق قبول نشدن اعمال و صحیح نبودن آن چیست؟»(اعمال کے قبول نہ ہونے اور )، استاد حسین انصاریان کا اطلاعاتی مرکز۔
- ↑ یگانہ و حجت، «موانع قبولی عمل از منظر قرآن و روایات»(عمل کے عدم قبولیت کے عوامل قرآن کی نظر میں)، مجلہ کتاب و سنت۔
- ↑ رفیعی، «شروط قبولی اعمال چیست؟»(قبولیت اعمال کی شرائط کیا ہیں؟)، حوزۂ علمیہ کا اطلاعاتی مرکز ویب سائٹ؛ قاضیان، عبادت، نماز و دعا، 1399شمسی، ص67-68۔
- ↑ سورہ مائدہ، آیہ 5؛ سورہ نحل، آیہ 97؛ استرآبادی، آیات الاحکام، 1394ھ، ص178۔
- ↑ کلینی، الکافی، 1407ھ، ج1، ص130؛ حرّ عاملی، وسائل الشیعہ، 1409ھ، ج1، ص123؛ اشتہاردی، مدارک العروۃ، 1417ھ، ج22، ص474۔
- ↑ سورہ مائدہ، آیہ 27؛ تمیمی، غرر الحکم، 1410ھ، ص423۔
- ↑ سورہ انعام، آیہ 136؛ تمیمی، غرر الحکم، 1410ھ، ص423۔
- ↑ ملکی تبریزی، اسرار الصلاۃ، 1420ھ، ص454۔
- ↑ حرّ عاملی، وسائل الشیعہ، 1409ھ، ج9، ص25۔
- ↑ حرّ عاملی، وسائل الشیعہ، 1409ھ، ج20، ص163۔
- ↑ سورہ بقرہ، آیہ 217۔
- ↑ سورہ زمر، آیہ 65۔
- ↑ سورہ آلعمران، آیات 21-22۔
- ↑ سورہ اعراف، آیہ 147۔
- ↑ سورہ احزاب، آیہ 19۔
- ↑ صفار، بصائر الدرجات، 1404ھ، ص77۔
- ↑ کلینی، الکافی، 1407ھ، ج3، ص224۔
- ↑ صدوق، ثواب الأعمال و عقاب الأعمال، 1406ھ، ص285۔
- ↑ ابنحیون، دعائم الاسلام، 1385ھ، ج2، ص352۔
- ↑ صدوق، الأمالی، 1376شمسی، ص582۔
- ↑ ابنشعبہ حرّانی، تحف العقول، 1404ھ، ص309۔
- ↑ سبحانی، منشور جاوید، 1390شمسی، ج8، ص519-532؛ یگانہ و حجت، «موانع قبولی عمل از منظر قرآن و روایات»(عمل کے عدم قبولیت کے عوامل قرآن کی نظر میں)، مجلہ کتاب و سنت۔
- ↑ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1374شمسی، ج19، ص550۔
- ↑ حلی، کشف المراد، 1382شمسی، ص272۔
- ↑ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1374شمسی، ج3، ص299 وج22، ص219۔
- ↑ ملاحظہ کیجیے: مجلسی، بحار الانوار، 1403ھ، ج5، ص332-334۔
- ↑ مجلسی، بحار الانوار، 1403ھ، ج5، ص332۔
مآخذ
- ابنحیون، نعمان بن محمد، دعائم الاسلام و ذکر الحلال و الحرام و القضایا و الأحکام، قم، مؤسسہ آلالبیت(ع)، 1385ھ۔
- ابنشعبہ حرّانی، حسن بن علی، تحف العقول، قم، دفتر انتشارات اسلامی، 1404ھ۔
- استرآبادی، محمد بن علی بن ابراہیم، آیات الاحکام فی تفسیر کلام الملک العلّام، تہران، کتابفروشی معراجی، 1394ھ۔
- اشتہاردی، علیپناہ، مدارک العروۃ، تہران، دار الاسوہ للطباعۃ و النشر، 1417ھ۔
- تمیمی، عبدالواحد بن محمد، غرر الحکم و درر الکلم، قم، دار الکتاب الاسلامی، 1410ھ۔
- حرّ عاملی، محمد بن حسن، وسائل الشیعہ، قم، مؤسسۃ آل البیت(ع)، 1409ھ۔
- حلی، حسن بن یوسف، کشف المراد فی شرح تجرید الإعتقاد، قم، مؤسسہ امام صادق(ع)، 1382ہجری شمسی۔
- حویزی، عبد علی بن جمعہ، تفسیر نور الثقلین، قم، نشر اسماعیلیان، 1415ھ۔
- رفیعی، ناصر، «شروط قبولی اعمال چیست؟»(اعمال قبول ہونے کی شرائط کیا ہیں؟)، حوزہ اطلاعاتی مرکز، تاریخ درج مطلب: 6 مئی 2020ء، تاریخ مشاہدہ: 8 جنوری 2026ء۔
- سبحانی، جعفر، منشور جاوید، قم، مؤسسہ امام صادق(ع)، 1390ہجری شمسی۔
- شہید ثانی، زینالدین بن علی، روض الجنان فی شرح ارشاد الاذہان، قم، انتشارات دفتر تبلیغات اسلامی حوزہ علمیہ قم، 1402ھ۔
- صدوق، محمد بن علی بن بابویہ، الأمالی، تہران، کتابچی، 1376ہجری شمسی۔
- صدوق، محمد بن علی بن بابویہ، ثواب الأعمال و عِقاب الأعمال، قم، دار الشریف الرضی، 1406ھ۔
- صدوق، محمد بن علی بن بابویہ، الخصال، قم، دفتر انتشارات اسلامی وابستہ بہ جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم، 1362ہجری شمسی۔
- صفار، محمد بن حسن، بصائر الدرجات فی فضائل آل محمد(ص)، قم، کتابخانہ آیتاللہ مرعشی نجفی(رہ)، 1404ھ۔
- «فرق قبول نشدن اعمال و صحیح نبودن آن چیست؟»(اعمال کے قبول نہ ہونے اور صحیح نہ ہونے میں کیا فرق ہے؟)، استاد حسین انصاریان کا اطلاعاتی مرکز، تاریخ مشاہدہ: 9 فروری 2026ء۔
- قاضیان، رحمتاللہ، عبادت، نماز و دعا، تہران، انتشارات افروغ، 1399ہجری شمسی۔
- کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، تہران، دار الکتب الاسلامیہ، 1407ھ۔
- مجلسی، محمدباقر بن محمدتقی، بحار الأنوار، بیروت، دار احیاء التراث العربی، 1403ھ۔
- مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران، دار الکتب الاسلامیہ، 1374ہجری شمسی۔
- ملکی تبریزی، میرزا جواد، اسرار الصلاۃ، تہران، پیام آزادی، 1420ھ۔
- یگانہ، فاطمہ و حجت، ہادی، «موانع قبولی عمل از منظر قرآن و روایات»(عمل کے عدم قبولیت کے عوامل قرآن کی نظر میں)، مجلہ کتاب و سنت، شمارہ 9، بہار و گرما 1395ہجری شمسی۔