حوالہ جاتی اصول کی عدم رعایت

سید ذیشان حیدر جوادی

ویکی شیعہ سے
(ذیشان حیدر جوادی سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
سید ذیشان حیدر جوادی
SyedZeeshanJawadi.jpg
کوائف
مکمل نام سید ذیشان حیدر جوادی
تاریخ ولادت 17 ستمبر 1938 ء
آبائی شہر الہ آباد (یو پی)
رہائش ہندوستان، عراق، متحدہ عرب امارات
تاریخ وفات 18 اپریل 2000 ء
مدفن الہ آباد (ہندوستان)
اولاد 3 بیٹے، 4 بیٹیاں
علمی معلومات
مادر علمی مدرسہ ناظمیہ (لکھنو)
اساتذہ نجم الملت، مفتی محمد عباس، ظفر الملت، علامہ عدیل اختر، سید ابو القاسم خوئی، امام خمینی، سید محسن الحکیم، سید محمد باقر صدر، مدرس افغانی۔
تالیفات مطالعہ قرآن، نقوش عصمت، ذکر و فکر، اصول و فروع، قمر بنی ہاشم، کربلا، اجتہاد و تقلید ۔۔۔
خدمات

سید ذیشان حیدر جوادی (1938۔2000 ء) بیسویں صدی عیسوی کے ہندوستان کے مشہور شیعہ امامیہ علماء و خطباء میں سے تھے۔ ان کا شمار کثیر التالیف علماء، معروف خطباء و مترجم قرآن کے طور پر ہوتا ہے۔ ان کے دینی خدمات میں جامعہ امامیہ انوار العلوم کی تاسیس و ادارہ تنظیم المکاتب کی صدارت اہم ہیں۔ وہ مجالس عزا اور تبلیغ دین کے لئے دنیا کے مختلف ممالک کا سفر کرتے رہتے تھے۔ ان کا تعلق شہر الہ آباد سے تھا۔ سنہ 2000 ء میں ابوظہبی میں روز عاشورا وفات پائی اور اپنے وطن میں مدفون ہیں۔

سوانح عمری

سید ذیشان حیدر جوادی کی ولادت 17 ستمبر 1938 ء میں کراری، الہ آباد میں ہوئی۔[1] آپ کے والد سید محمد جواد عالم دین تھے اور قصبہ جلالی ضلع علی گڑھ میں ایک مدت تک امام جماعت کے فرائض انجام دے چکے تھے۔ ذیشان حیدر نے ابتدائی تعلیم اپنے وطن میں حاصل کی اور اس کے بعد 1950 ء میں مدرسہ ناظمیہ لکھنو میں داخلہ لیا۔[2]

اولاد

آپ کی اولاد میں تین بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں۔ سید جواد حیدر جوادی عالم دین اور جامعہ امامیہ انوار العلوم (الہ آباد) کے مدیر ہیں۔ مرحوم سید احسان حیدر جوادی بھی فعال عالم دین اور مدرسہ نسواں کے موسس و مہتمم تھے۔[3]

نجف اشرف کا سفر

سنہ 1955 ء میں اعلی دینی تعلیم کے لئے حوزہ علمیہ نجف اشرف کا رخ کیا[4] اور وہاں سے بزرگ علماء سے کسب فیض کیا۔ تقریبا دس برس تک (1955 سے 1965ء تک) حوزہ علمیہ میں قیام کیا اور تحصیل علم میں مشغول رہے۔ نجف میں زمانہ طالب علمی میں انہوں نے ابوطالب مؤمن قريش، النّص و الاجتهاد، شهداء الفضيلہ، کتاب سلیم بن قیس ہلالی، و اقتصادنا جیسی کتابوں کے ترجمے کئے۔[5] سنہ 1965 ء میں ہندوستان واپس آ گئے۔[6]

اساتذہ

لکھنو میں آپ نے جن اساتذہ سے کسب فیض کیا۔ ان میں سے بعض یہ ہیں:

حوزہ علمیہ نجف اشرف میں آپ نے بزرگ علماء سے کسب فیض کیا۔ آپ کے اساتذہ کے اسماء یہ ہیں:

تبلیغ و کارنامے

نجف اشرف سے وطن واپسی کے بعد آپ شہر الہ آباد میں مسجد قاضی میں تبلیغ دین میں مصروف ہوگئے اور تقریبا 1978 ء تک وہاں امام جماعت کے فرایض انجام دیئے۔[9]

ابوظہبی

سنہ 1978 ء میں مومنین ابوظہبی کی دعوت پر وہاں گئے اور مستقل طور پر وہیں سکونت اختیار کی۔[10] وہاں آپ نے مسجد رسول اعظم میں امام جماعت کے طور پر خدمات انجام دیں۔[11] ابو ظبی میں قیام کے دوران آپ نے اہم کتابوں کی تالیفات کا کام انجام دیا۔[12] اسی دوران امریکہ، کاناڈا، یوروپ، افریقا اور دنیا کے دیگر ممالک میں تبلیغ و مجالس عزا کو خطاب کرنے کی غرض سے سفر کئے۔[13] سنہ 1998 ء تک آپ کا قیام ابوظبی میں رہا۔[14]

جامعہ امامیہ انوار العلوم کی تاسیس

علامہ جوادی کا تاسیس کردہ جامعہ انوار العلوم الہ آباد

ابوظہبی میں قیام کے دوران سنہ 1985 ء میں آپ نے اپنے وطن شہر الہ آباد میں جامعہ امامیہ انوار العلوم کے نام سے ایک دینی مدرسہ و مرکز تاسیس کیا۔[15] جس میں سے کثیر تعداد میں طلاب علوم دینی فارغ التحصیل ہونے کے بعد مختلف علاقوں میں تبلیغ دین مبین میں مشغول ہیں اور ایک بڑی تعداد حوزات علمیہ قم و نجف میں اعلی دینی تعلیم میں مشغول ہے۔[16]

ادارہ تنظیم المکاتب

خطیب اعظم مولانا سید غلام عسکری کی دعوت پر آپ ادارہ تنظیم المکاتب لکھنو سے منسلک ہوئے اور وہاں آپ نے تنظیم میں ایک رکن، نائب صدر اور صدر کی حیثیت سے ان کے شانہ بہ شانہ خدمات انجام دیں۔[17]

ایران سے رابطہ

انقلاب اسلامی ایران کی کامیابی کے بعد وہاں منعقد ہونے والی مختلف اسلامی کانفرنسوں میں آپ کو مدعو کیا جاتا تھا۔[18] سنہ 1998ء میں وفات سے کچھ عرصہ پہلے رہبر معظم انقلاب اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے آپ کو ہندوستان میں اپنا نمایندہ مقرر کیا۔[19] اسی سبب آپ نے سنہ 1998 ء میں ابوظہبی کو خیرباد کہہ کر ہندوستان کا رخ کیا اور ممبی میں آپ نے ادارہ اسلام شناسی قائم کیا۔ آخر عمر تک آپ مشغول خدمت رہے۔[20]

تصنیف و تالیف و ترجمہ

سید ذیشان حیدر کا اردو ترجمہ نہج البلاغہ

آپ کا شمار کثیر التالیفات علماء میں ہوتا ہے۔ زمانہ طالب علمی سے ہی آپ نے کتابوں کے ترجمہ شروع کر دیئے تھے اور یہ سلسلہ آخر عمر تک مکمل طور پر جاری رہا۔ آپ نے قرآن کریم، نہج البلاغہ، صحیفہ سجادیہ جیسی کتب کے اردو میں ترجمے کئے۔ آپ کی تالیفات و ترجموں کا تفصیلی ذکر مستقل طور پر فہرست آثار سید ذیشان حیدر جوادی کے عنوان سے ایک مقالہ میں کیا جائے گا۔[21]

وفات

ابوظبی سے ممبئی منتقل ہوتے وقت وہاں کے مومنین نے آپ سے ہر سال محرم کے عشرہ اولی اور شب قدر کے ایام میں مجالس آپ کا وعدہ لیا تھا۔ اسی وعدہ کے پیش نظر آپ محرم 1421 ھ میں عشرہ کے سلسلہ میں ابوظبی میں تھے۔[22] 10 محرم عصر کے وقت فاقہ شکنی کے بعد اچانک طبیعت خراب ہوئی اور داعی اجل کو لبیک کہا۔ جنازہ وطن لایا گیا۔ نماز جنازہ ان کے بہنوئی سید علی عابد رضوی نے پڑھائی اور 18 اپریل 2000ء دریا آباد قبرستان میں والدہ کے پہلو میں دفن ہوئے۔[23]

تعزیت نامہ

آپ کی وفات پر بڑی تعداد میں علماء نے تعزیت نامے تحریر کئے۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ای کا تحریر کردہ تعزیت نامہ آپ کی ویب سائٹ پر موجود ہے جس کے متن کا لینک حوالے میں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔[24]

یادگاری کتابچہ

آپ کی وفات پر مجمع جہانی اہل بیت(علیہم السلام) کی جانب ایک یادگار کتابچہ، یادنامہ علامہ سید ذیشان حیدر جوادی کے عنوان سے فارسی زبان میں سنہ 1421 ھ شائع کیا۔[25]

حوالہ جات

  1. مصاحبه‏اي كوتاه با علاّمه ‏سيد ذيشان حيدرجوادي مترجم قرآن به زبان اردو، تبیان ڈیجیٹل لائبریری کی ویب سائٹ
  2. مصاحبه‏اي كوتاه با علاّمه ‏سيد ذيشان حيدرجوادي مترجم قرآن به زبان اردو، تبیان ڈیجیٹل لائبریری کی ویب سائٹ
  3. مصاحبه‏اي كوتاه با علاّمه ‏سيد ذيشان حيدرجوادي مترجم قرآن به زبان اردو، تبیان ڈیجیٹل لائبریری کی ویب سائٹ
  4. جوادی، سید ذیشان حیدر، مقدمہ ترجمہ و تفسیر قرآن (انوار القرآن) صفحہ ۹
  5. مصاحبه‏اي كوتاه با علاّمه ‏سيد ذيشان حيدرجوادي مترجم قرآن به زبان اردو، تبیان ڈیجیٹل لائبریری کی ویب سائٹ
  6. مصاحبه‏اي كوتاه با علاّمه ‏سيد ذيشان حيدرجوادي مترجم قرآن به زبان اردو، تبیان ڈیجیٹل لائبریری کی ویب سائٹ
  7. [1]، جماران انفارمیشن و نیوز ویب سائٹ
  8. یادگار علامہ جوادی (فارسی) صفحہ ۸
  9. سوانح عمری علاّمہ ‏سيد ذيشان حيدر جوادي، مرکز احیاء آثار برصغیر کی ویب سائٹ
  10. https://b2n.ir/g02184
  11. https://b2n.ir/g02184
  12. https://b2n.ir/g02184
  13. https://b2n.ir/g02184
  14. سوانح عمری علاّمہ ‏سيد ذيشان حيدر جوادي، مرکز احیاء آثار برصغیر کی ویب سائٹ
  15. سوانح عمری علاّمہ ‏سيد ذيشان حيدر جوادي، مرکز احیاء آثار برصغیر کی ویب سائٹ
  16. سوانح عمری علاّمہ ‏سيد ذيشان حيدر جوادي، مرکز احیاء آثار برصغیر کی ویب سائٹ
  17. سوانح عمری علاّمہ ‏سيد ذيشان حيدر جوادي، مرکز احیاء آثار برصغیر کی ویب سائٹ
  18. http://mohaqqeqin.com/Pagesview.asp?Id=167 سائٹ مجمع محققین ہند
  19. https://farsi.khamenei.ir/news-content?id=11504
  20. سوانح عمری علاّمہ ‏سيد ذيشان حيدر جوادي، مرکز احیاء آثار برصغیر کی ویب سائٹ
  21. https://b2n.ir/g02184
  22. خورشید خاور، صفحہ ۱۵۱
  23. https://b2n.ir/g02184
  24. https://farsi.khamenei.ir/news-content?id=11504
  25. https://b2n.ir/s66818 یادبود علامہ سید ذیشان حیدر جوادی، ناسر مجمع جہانی اہل بیت (ع)


مآخذ