آیت اللہ بروجردی

ویکی شیعہ سے
(سید حسین بروجردی سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
آیت اللہ بروجردی
تمثال مبارک آیت اللہ بروجردی
زندگی نامہ
نام سید حسین طباطبائی
لقب بروجردی
تاریخ ولادت صفر ۱۲۹۲قمری
شہر بروجرد، ایران
محل تحصیل بروجرد، اصفہان، نجف، قم
وفات/شہادت شوال ۱۳۸۰قمری، قم
مدفن مسجد اعظم
علمی کارنامے
اساتید سید محمد باقر درچہ ایمیرزا ابو المعالی کلباسیسید محمد تقی مدرسآخوند کاشیجہانگیر خان قشقاییآخوند خراسانیسید محمد کاظم طباطبایی یزدیشریعت اصفہانی۔
شاگرد آیات عظام امام خمینیگلپایگانیمنتظریسیستانیصافی گلپایگانیفاضل لنکرانیمکارم شیرازیشبیری زنجانی و...
اجازہ روایت آخوند خراسانی • شیخ الشریعہ اصفہانی • آقا نجفی اصفہانی • سید ابوالقاسم دہکردی اصفہانی • آقا بزرگ تہرانیعلم­ الہدی ملایری
اجازہ اجتہاد آخوند خراسانی • شیخ الشریعہ اصفہانیسید ابو القاسم دہکردی۔
تالیفات جامع احادیث الشیعہ • انیس المقلدین • صراط النجاۃ • توضیح المسائل • بیوت الشیعہ • حاشیۃ علی وسائل الشیعہ و...
وجہ شہرت مرجع تقلید
سیاسی-اجتماعی فعالیتیں
سیاسی فلسطین کی حمایت • بہاییت کے ساتھ مقابلہ۔
اجتماعی محرومین کی حمایت • مختلف اسلامی ممالک میں اسلامی مراکز کی تأسیس • مذہبی اور علمی عمارتوں کی تعمیر • ایران سے باہر مبلغین کا اعزام • حوزہ علمیہ قم کو رونق بخشنا • تقریب مذاہب اسلامی کیلئے تلاش۔

سید حسین طباطبائی بروجردی (۱۲۹۲-۱۳۸۰ قمری/ ۱۲۵۴-۱۳۴۰ شمسی)؛ چودہویں صدی ہجری کے شیعہ مراجع تقلید میں سے ہیں جنہوں نے 17 سال حوزہ علمیہ قم کی زعامت اور 15 سال شیعیان جہان کی مرجعیت کی ذمہ داری ادا فرمائی۔

آیت اللہ بروجردی، آخوند خراسانی کے شاگردوں میں سے تھے اور نجف سے واپسی پر ایران کے شہر بروجرد میں مقیم ہوئے۔ موسس حوزہ علمیہ قم شیخ عبد الکریم حائری کی وفات کے چند سال بعد آیات عظام حجت،‌ خوانساری اور صدر کی درخواست پر قم تشریف لائے اور حوزہ علمیہ قم کی زعامت کی ذمہ داری قبول فرمائی۔ سید ابو الحسن اصفہانی اس وقت کے اہم ترین شیعہ مرجع تقلید کی وفات کے بعد آپ بعنوان مرجع تقلید شیعیان جہاں شمار ہونے لگے۔

آپ کی زعامت کے دوران حوزہ علمیہ قم نے کافی وسعت پیدا کی اور طلاب کی تعداد میں بے سابقہ طور پر اضافہ ہوئی۔ آپ کی توجہات کی بنا پر حدیثی اور فقہی آثار منظر عام پر آنے لگی اور جامع احادیث الشیعہ کے نام پر احادیث کا مجموعہ آپ کے زیر نظر منظر عام پر آگئی۔

آیت اللہ بروجردی تقریب بین مذاہب اسلامی کے معتقد تھے اسی لئے دار التقریب مصر میں نمائندگی کیلئے اپنا وفد مصر بھیجا۔ شیخ محمود شلتوت کا اہل سنت کے ہاں فقہ شیعہ کو رسمیت دینے کا مشہور فتوا بھی آپ کی فعالیتوں کی وجہ سے صادر ہوا۔

مبلغین کو ایران کے مختلف مناطق اور خارج از ایران اعزام کرنا، ایران سمیت مختلف اسلامی ممالک میں علمی اور مذہبی مراکز کا قیام، ایران سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں مدارس اور مساجد کی تعمیر، ایرانی سکولوں کے ابتدائی دورہ میں تعلیمات دینی کے درس کو شامل کرنے کی درخواست آپ کی اہم ترین سیاسی اور اجتماعی فعالیتوں میں شمار ہوتا ہے۔

زندگی نامہ

ولادت و نسب

آیت اللہ بروجردی صفر سنہ۱۲۹۲ہجری قمری کو ایران کے شہر بروجرد میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد ماجد سید علی طباطبایی اپنے شہر کے میر واعظ اور آپ کی والدہ ماجدہ سیدہ آغا بیگم، سید محمد علی طباطبائی کی بیٹی تھیں۔۔[1] ان کا نسب ۳۲ پشتوں میں امام حسن(ع) تک پہنچتا ہے۔[2]

ازدواجی زندگی

آیت اللہ بروجردی کو پہلی بیوی سے دو بیٹے اور تین بیٹیاں ہوئیں جن میں سے صرف ایک بیٹی کے علاوہ باقی سب کے سب بچپن میں ہی فوت ہو گئے۔ آپ کی بیٹی بھی اپنے چچا زاد کے ساتھ شادی کے بعد ولادت کے وقت فوت ہو گئی۔

آپ کی دوسری شادی حاج محمد جعفر روغنی اصفہانی کی بیٹی سے ہوئی جس کی نتیجے میں دو بیٹے اور دو بیٹیاں عطا ہوئیں۔

آپ کی تیسری بیوی سید عبد الواحد طباطبایی کی بیٹی اور آپ کی چچا زاد تھیں۔[3]

آیت اللہ بروجردی کی رحلت کی خبر، روزنامہ کیہان

فرزندان

  • سید حسن طباطبائی بروجردی سنہ ۱۳۰۴ہجری شمسی میں بروجرد میں متولد ہوئے۔ کہا جاتا ہے کہ آیت اللہ بروجردی کے اکثر استفتائات آپ کا یہی بیٹا انجام دیتا تھا آپ سنہ ۱۳۵۶ش کو شہر مقدس قم میں اس دنیا سے کوچ کر گئے۔
  • سید احمد طباطبائی بروجردی سنہ ۱۳۱۶ہجری شمسی میں بروجرد میں متولد ہوئے اور جوانی کے عالم میں سنہ ۱۳۵۲شمسی کو قم میں وفات پائے۔
  • آغا فاطمہ احمدی طباطبایی، آپ کی بڑی بیٹی سید جعفر احمدی کی بیوی تھی اور سنہ۱۳۷۲شمسی کو ۸۰ سال کی عمر میس قم میں وفات پائی۔
  • آغا سکینہ احمدی، آپ کی دوسری بیٹی سنہ۱۳۱۲شمسی میں متولد ہوئی جن کے شوہر سید محمد حسین علوی طباطبایی بروجردی تھے۔

رحلت

قبر آیت اللہ بروجردی مسجد اعظم کے دروازے پر

آیت اللہ بروجردی 13 شوال سنہ ۱۳۸۰ ہجری قمری مطابق با۱۰ فروردین ۱۳۴۰شمسی کو رحلت فرما گئے اور آپ کی تشییع جنازہ کے بعد آیت ­اللہ بہبہانی کے حکم سے آپ کے بیٹے محمد حسن طباطبائی بروجردی نے اپنے والد ماجد کی نماز جنازہ پڑھائی اور قم کی مشہور مسجد، مسجد اعظم کے دروازے کے سامنے سپرد خاک کئے گئے۔

آیت اللہ بروجردی کی رحلت پر مختلف اسلامی ملکوں کے سفیروں نے اظہار ہمدردی کیا۔ روس، آمریکا اور انگلستان نے اپنے سفارت خانوں سے قومی پرچم آپ کی رحلت کے احترام میں سرنگوں رکھا۔[4]

حیات علمی

آیت اللہ بروجردی نے سات سال کی عمر میں مکتب خانہ میں تعلیم کا آغاز کیا۔ جب آپ کے والد ماجد نے آپ کی صلاحتوں کا اندازہ لگایا تو آپ کو بروجرد میں نوربخش کی مدرسے میں داخل کرایا۔

آپ نے سنہ ۱۳۱۰ہجری قمری کو اعلی تعلیم کیلئے اصفہان کا سفر کیا اور حاج سید محمد باقر درچہ‏ ای، میرزا ابوالمعالی کلباسی اور سید محمدتقی مدرس کے دروس میں شرکت کی۔آپ نے آخوند کاشی اور جہانگیرخان قشقایی کے فلسفہ‏ کے درس میں بھی شرکت کی۔[5]

اصفہان میں چار سال تعلیم حاصل کرنے کی بعدربیع الاول سنہ ۱۳۱۹ہجری قمری کو بروجرد واپس تشریف لائے۔

نجف میں تحصیل

آیت اللہ بروجردی ۲۷ سال کی عمر میں بروجرد سے نجف چلے گئے اور آخوند خراسانی کے درس میں شرکت کی اور ان کے علمی دسترخوان سے 9 سال تک کسب فیض کیا۔ نجف میں تحصیل کے دوران آپ کے دیگر اساتید میں سید کاظم یزدی اور شریعت اصفہانی مشہور ہیں۔

نجف میں اقامت

سنہ ۱۳۴۵ہجری قمری کو بروجرد رجسٹریشن آفس کے انچارج نے بہایی فرقے سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو اس ادارے میں ملازمت پر لگا دیا۔ اسی طرح پورے شہر میں بے پردہ عورتوں پر مشتمل مراسم منعقد کئے۔ جب یہ خبر آپ کے کانوں تک پہنچتے ہیں تو آپ نے بعنوان احتجاج عتبات کی سفر کا ارادہ کیا اسی اثنا میں بروجرد کے گونر نے رجسٹریشن آفس کی انچارج کو ہی نوکری سے برکنار کیا۔ لیکن آپ نے عتبات عالیات سفر کرنے کا ارادہ واپس نہیں لیا اور وہاں جا کر نجف میں ہی مقیم ہوئے۔[حوالہ درکار]


قم میں علماء کا رضاشاہ پہلوی کے خلاف احتجاج اور دھرنے کے دوران نجف کے علماء نے بھی اپنے اعتراضات کی آواز کو رضاشاہ کے کانوں تک پہنچانے کا ارادہ کیا اور اسی مقصد کی خاطر نجف کے علماء نے آیت اللہ بروجردی اور شیخ احمد شاہرودی کو قم کے علماء کے ساتھ ملاقات کرنے کیلئے اپنا نمائندہ بنایا۔

لیکن شاہ کے کارندوں نے ان دو عالموں کو قصر شیرین میں گرفتار کرکے تہران منتقل کیا۔ رضاشاہ سے مقلاقات اور انہیں نصیحت کرنے کے بعد آپ نے مشہد سفر کرنے کا اعلان کیا۔

مشہد میں قیام

قصر شیرین میں گرفتاری اور تہران منتقلی کے بعد آپ نے تہران سے مستقیم مشہد کا سفر کیا اور 8 ماہ تک مشہد میں مقیم رہے۔

آیت اللہ محمد کفائی (فرزند آخوند خراسانی) اور آیت اللہ سید حسین طباطبایی قمی کے درخواست پر آپ نے مسجد گوہر شاد میں نماز جماعت قائم کیا۔

آیت اللہ بروجردی نے مشہد میں ۸ ماہ قیام کے بعد بروجرد واپس آنے کا ارادہ کیا واپسی پر قم میں شیخ عبد الکریم حائری نے آپ سے قم میں رہ کر درس و تدریس کے فرائض سنبھالنے کی درخواست کی۔

بروجرد واپسی

بروجرد کے عوام کی مختلف طبقات کی آیت اللہ بروجردی سے واپسی کی درخواست اور اصرار کی وجہ سے آپ نے دوبارہ اپنے آبائی شہر بروجرد واپسی کا ارادہ کیا۔

آیت اللہ بروجردی سنہ ۱۳۶۴ہجری قمری کو علاج کی خاطر بروجرد سے تہران آیا۔ اس دوران حوزہ علمیہ قم کے بعض مشہور فقہاء بطور خاص امام خمینی نے آیت­ اللہ بروجردی سے قم میں تشریف لانے اور حوزہ علمیہ قم کی زعامت قبول کرنے کی دعوت کی۔[6]

قم المقدس میں قیام

آخر کار آپ ۲۶ صفر ۱۳۶۴ہجری قمری کو قم میں وارد ہوئے اور بعض علماء منجملہ امام خمینی، سید محمد محقق داماد اور مرتضی حائری نے آپ کے دروس کی اہمیت کو اجاگر کرنے اور دوسرے فضلاء کو ان دروس کی طرف تشویق کرنے کی خاطر اپنے شاگردوں کے ہمراہ آپ کے دورس میں شرکت کرنا شروع کیا۔[7]

اسی طرح سید صدر الدین صدر جو اس وقت حرم حضرت معصومہ (ع) قم(س) کے صحن میں نماز جماعت پڑھاتے تھے، نے نماز جماعت کے فرائض بھی آپ کے سپرد کر دیا۔ آیت اللہ سید محمد حجت نے اپنے تدریس کی جگہ آپ کے اختیار میں دے دیا۔ آیت اللہ سید محمد تقی خوانساری بھی احتراما آپ کے دورس میں شرکت کرنے لگے۔[8]

علمی آثار

عربی کتابیں
  1. من لایحضرہ الفقیہ کے اساتید کی ترتیب
  2. من لایحضرہ الفقیہ کی رجال کے اساتید کی ترتیب
  3. امالی الصدوق کے اساتید کی ترتیب
  4. الخصال کے اساتید کی ترتیب
  5. علل الشرایع کے اساتید کی ترتیب
  6. تہذیب الاحکام کے اساتید کی ترتیب
  7. التہذیب کی رجال کے اساتید کی ترتیب
  8. ثواب الاعمال و عقاب الاعمال کے اساتید کی ترتیب
  9. کئی کتب کے اساتید کی ترتیب
  10. رجال الطوسی کے اساتید ترتیب
  11. رجال الکشی کے اساتید کی ترتیب
  12. رجال النجاشی کے اساتید کی ترتیب
  13. ترتیب رجال الفہرستین
  14. بیوت الشیعۃ
  15. رجال النجاشی پر حاشیہ
  16. عمدۃ الطالب فی انساب آل ابی طالب پر حاشیہ
  17. منہج المقال پر حاشیہ
  18. وسائل الشیعۃ پر حاشیہ
  19. جامع احادیث الشیعۃ (۳۱ جلد)
  20. المہدی، علیہ‌السلام، فی کتب اہل السنۃ
  21. الاثار المنظومۃ
  22. مجمع المسائل پر حاشیہ
  23. صراط النجاۃ
  24. مجمع الفروع
  25. تبصرۃ المتعلمین پر حاشیہ
  26. انیس المقلدین
فارسی کتابیں
  1. توضیح المناسک
  2. توضیح المسائل
  3. مناسک حج

آپ کے شاگرد

جیسا کہ پہلے ذکر ہوا، آیت اللہ بروجردی کے قم آنے کے بعد قم کے بعض اساتید جیسے امام خمینی اور آیت اللہ سید محمد رضا گلپایگانی نے مرجعیت کی ترویج اور اس کے مقام و منزلت کے استحکام کیلئے آپ کے دورس میں شرکت کرنا شروع کیا۔ ان کے علاوہ آپ کے بعض ممتاز شاگردوں کی فہرست درج ذیل ہیں:

مرجعیت

اگر چہ لوگوں کی کثیر تعداد اور بعض بزرگان نے آپ کے بروجرد قیام کے دوران سے ہی آپ کو بعنوان مرجع تقلید انتخاب کئے تھے لیکن آپ کی مرجعیت کا باقاعدہ دور توضیح المسائل کے منظر عام پر آنے کے بعد سے شروع ہوتا ہے۔ یوں مقامی مراجع جو آپ سے آشنائی رکھتے تھے نے اپنے مقلدین کو آپ کی طرف مراجعہ کرایا۔[حوالہ درکار]


آیت­ اللہ بروجردی کے قم میں قیام کے ایک سال بعد آیت اللہ سید ابوالحسن اصفہانی انتقال کر گئے یوں ان کے اکثر مقلدین بھی آپ کی تقلید کرنے لگے۔ اور آیت­ اللہ سید حسین طباطبائی قمی کی رحلت کے بعد آپ شیعیان جہان کے مسلمہ مرجع تقلید بنے۔[حوالہ درکار]


اجازت نامے

اجتہاد کا اجازت نامہ آخوند خراسانی، شیخ الشریعہ اصفہانی اور سید ابو القاسم دہکردی سے لیا۔

جبکہ روایت کا اجازت نامہ آخوند خراسانی، شیخ الشریعہ اصفہانی، شیخ محمد تقی اصفہانی جو آقا نجفی اصفہانی کے نام سے معروف ہیں، سید ابو القاسم دہکردی اصفہانی، آقا بزرگ تہرانی اور علم­ الہدی ملایری سے لیا۔

آپ کی روش تدریس

حرم حضرت معصومہ(س) کے صحن میں آیت اللہ بروجردی کے درس کا منظر۔

آپ گذشتہ علماء جیسے شیخ مفید، سید مرتضی، شیخ طوسی، شیخ طبرسی اور علامہ سید بحر العلوم کی طرح اسلامی علوم میں جامعیت رکھتے تھے۔

علم اصول کی تدریس میں آپ کی روش، سادہ ­گویی اختصار اور زوائد سے پرہیز پر مبنی تھی۔ جبکہ علم فقہ میں آپ نے استنباطی روش کو بروئے کار لایا۔ اس کے علاوہ آپ نے علم فقہ میں شیعہ اور سنی گذشتہ علماء اور فقہاء کے اقوال اور قدیم علماء کے نظریات پر تحقیق اور ریسرچ بھی کرتے تھے۔

علم رجال میں آپ منفرد اور ابتکاری روش کے مالک تھے۔ کتاب کافی، تہذیب اور استبصار وغیرہ کے احادیث کی اسناد کو ان کے متون سے علیحدہ کر کے دقت سے مطالعہ فرماتے تھے اور اس کام سے آپ نے مفید اور کارآمد نتائج اخد کئے.

اخلاقی خصوصیتیں

  • اخلاص: آپ کو خدا کے وجود پر اس قدر کامل یقین تھا کہ جب بھی آپ کی خدمات کی بات آتی تو فرماتے تھے: اپنے عمل کو خلوص سے انجام دے دو کیونکہ اعمال کی جانچ پڑتال کرنے والا بہت تیز بین ہے۔"[9]
  • علم حاصل کرنے کا شوق اور جذبہ: آپ نے عمر کے آخری لمحات تک تحصیل علم سے ہاتھ نہیں اٹھایا۔ آپ سے منقول ہے کہ فرماتے تھے: "میں علمی مطالعات سے نہیں تھکتا بلکہ جب بھی کسی اور کام سے تھک جاتا ہوں تو مطالعے کے ذریعے اپنی خستگی کو دور کرتا ہوں۔"[10]
  • سعہ صدر: آپ نے عین قدرت اور توانایی کے نفس پر کنٹرول کے ذریعے دشمنوں کی بے وفائی کو اپنی وسعت قلبی کے ذریعے چشم پوشی کرتے ہوئے ان کی لغزشوں سے صرف نظر کرتے تھے۔ اور یہ چیز آپ کی بلا منازع دلوں پر مکمل حکمرانی کے عوامل اسباب میں سے ایک تھی۔[11]
  • دینی احکام کی رعایت: آپ کی عمر کے آخری ایام میں جب آپ کو خبر دی گئی کہ پروفیسر موریس جو دلی امراض کے ماہر تھے، پیرس سے آپ کی علاج معالجے کی خاطر آرہے ہیں تو ابتداء میں آپ نے ان سے ملاقات کرنے سے انکار کیا اور اپنے ساتھیوں سے کہا کہ کمرے کو مرتب کریں اور آپ کو ایک کنگھی دی جائے تاکہ آپ اپنے محاسن کو مرتب کر سکیں۔ اس وقت آپ سے کہا گیا کہ آپ بیمار ہیں اور آپ کی حالت ٹھیک نہیں ہے لہذا ان سے اسی طرح ملاقات کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے تو آپ نے فرمایا: "میں آج مسلمانوں کا پیشوا ہوں بیگانوں کے سامنے مجھے اس حالت میں نہیں جانا چاہئے۔"[12]
  • عوام زدگی کا مقابلہ: عزاداری امام حسین(ع)کے مسائل میں جو کبھی کبھار خرافات سے آلودہ ہو جاتے ہیں اور بعض ذمہ دار افراد ایسے افراد سے برخورد کرنے اور انہیں تذکر دینے سے کتراتے ہیں، لیکن آپ ہمیشہ اپنے وظیفہ شرعی پر عمل کرتے تھے اور کسی چیز سے بھی نہیں کتراتے تھے۔[13]
  • کظم غیظ: آیت اللہ بروجردی نے اپنے آپ سے یہ عہد کیا ہوا تھا کہ در اگر دنیوی امور میں کسی پر ناراض یا کسی پر غصہ ہوجائے تو کفارہ کے طور پر پورا ایک سال روزه رکھیں گے۔ اور جب ایک دفعہ غصہ ہوئے تو جن ایام میں روزہ رکھنا حرام ہے، کے علاوہ پورا ایک سال رویہ رکھا۔ [14]
  • شہادت کی آرزو : آیت اللہ سید محمد رضا گلپایگانی نقل کرتے ہیں: "مرحوم آیت­ اللہ بروجردی اس بات کا نہایت افسوس کرتے تھے کہ شہادت کیلئے زمینہ ہموار ہونے کے باوجود اس فیض سے محروم رہا اور شہادت کے عظیم درجے پر فائز نہیں ہو سکا۔"[15]
  • روشن فکری: شہید مرتضی مطہری فرماتے ہیں: "آیت اللہ بروجردی کی ایک برجستہ خصوصیت یہ تھی کہ گویا آپ روشن فکری کا نمایندہ تھا۔ متدین افراد کے زیر نظر مختلف سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کا قیام جس سے متعلم کو علم اور دین دونوں گوہر حاصل ہوں، آپ کی دلی آرزو تھی۔ آپ لوگوں کی دیانت کو ان کے جہل اور نادانی میں تلاش نہیں کرتے تھے بلکہ آپ اس بات کے معتقد تھے کہ اگر عوام الناس آگاہی پیدا کریں اور دین انہیں صحیح طور پر سمجھا دیا جائے تو لوگ دانا بھی ہونگے اور دیندار بھی۔ جتنا میں جانتا ہوں آپ نے سہم امام کی ایک خطیر رقم کو مختلف اسکول اور کالجوں کی تأسیس پر صرف کرنے کی اجازت دی ہوئی تھی۔[16]

اجتماعی فعالیتیں

مسجد اعظم قم حضرت معصومہ(س) کے حرم کے جوار میں آیت اللہ بروجردی کے حکم سے تعمیر کی گئی

نیازمندوں کی حمایت: بروجرد میں آپ کے قیام کے آخری سالوں میں دوسری جنگ عظیم کی وجہ سے اشیاء خورد و نوش کی قیمتوں میں اضافہ ہوا تھا یوں لوگ تنگدستی کے شکار ہو گئے تھے۔ اسی بنا پر آپ نے شہر کے تمام بزرگان کو اپنے گھر دعوت دے کر نیازمندوں اور فقراء مالی مدد کرنے کی حوالے سے ان کو ترغیب دی اور آپ اپنے پدری املاک میں سے سب سے زیادہ امداد دینے والوں میں سے تھے۔

حوزہ علمیہ بروجرد کی تجدید حیات

بجلی گھر کی تأسیس : شہر بروجرد میں آپ کے قیام کے دوران یہ شہر بجلی کی نعمت سے محروم تھا۔ آپ کی درایت و مدیریت اور متدین خیرین کی حمایت سے یہ شہر بجلی کی نعمت سے مالامال ہوا۔

حوزہ علمیہ قم کی کمیت اور کیفیت میں وسعت: آپ کی زعامت کے دوران تألیف، تصنیف و­ ترجمہ اور فقہی کتابوں کی نشرو اشاعت وغیرہ اور دینی درسگاہوں کی سازماندہی اور مدیریت میں ایک قسم کی سیاسی اور اجتماعی انقلاب آیا۔

دینی تعلیمات پر مشتمل کتابوں اور مجلات کی نشر و اشاعت: حوزہ علمیہ کا پہلا علمی مجلہ منجملہ نشریہ مکتب اسلام جو بعض روشنفکر اور دور اندیش فضلاء کے توسط سے منتشر ہوتی تھی، آپ کے تعاون سے منظر عام پر آتی تھی۔

مذہبی اور علمی عمارتوں کی تعمیر: منجملہ: مسجد اعظم قم، مدرسہ نجف، مدرسہ کربلا، مسجد بغداد، نجف کا ہسپتال، حسینیہ و حمام سامرا، مدرسہ کرمانشاہ، طرابلس لبنان میں ایک بڑی مسجد، آفریقا میں چار بڑی مسجدیں، قبرستان وادی السلام قم، قم میں مدرسہ آیت اللہ بروجردی، بیمارستان نکویی قم، مسجد و مرکز اسلامی ہامبورگ جرمنی، کتابخانہ مدرسہ نجف، کتابخانہ مدرسہ کرمانشاہ وغیرہ۔

ایران سے باہر مبلغین کا اعزام

نمائندے کا نام محل استقرار زمان فعالیت
محمد محققی لاہیجانی جرمنی - مرکز اسلامی ہامبورگ ۱۳۳۴ش. تا فوت آیت اللہ بروجردی
مہدی حائری یزدی امریکا - واشنگٹن ۱۳۳۸ش.
عبدالحسین فقیہی رشتی - سید محمدتقی طالقانی سعودیہ عربیہ
محمدتقی قمی مصر - دارالتقریب بین المذاہب الاسلامیہ
سید صدرالدین بلاغی انگلستان
محمد شریعت اصفہانی پاکستان - کراچی ۱۳۳۱ش. تا آخر عمر

آیت اللہ بروجردی مختلف ممالک میں اپنا نمائندہ بھیجتے تھے۔ آپ سے پہلے بھی اگرچہ مراجع کرام مانند آیت اللہ سید ابوالحسن اصفہانی بھی ہندوستان، زنگبار اور مسقط میں اپنا نمائندہ یا مبلغ اعزام کرتے تھے لیکن یہ اعزام محدود اور موقت تھے اور بعض خاص مواقع پر انجام پاتے تھے لیکن آیت اللہ بروجردی نے اس وادی میں نہایت وسیع پیمانے پر اقدام عمل میں لایا۔

مرکز اسلامی ہامبورگ کی تأسیس آیت اللہ بروجرودی کا یورپ میں شیعہ معارف کی نشر و اشاعت کے اقدامات میں سے ایک تھا
  • مرکز اسلامی ہامبورگ: یورپ اور جرمنی میں سب سے بڑا شیعہ مرکز سمجھا جاتا ہے۔ سنہ۱۳۳۲ میں اس مرکز کی تأسیس کا ارادہ کیا گیا اور ایک خط کے ذریعے آیت اللہ بروجردی کو اس کام کی تجویز پیش کی گئی۔ آپ نے اس کام کی حوصلہ افزائی کے ساتھ مبلغ دس ہزار تومان پہلی قسط کے عنوان سے ادا کیا۔ [17] سنہ ۱۳۳۴ ہجری میں محمد محققی لاہیجانی نے آیت اللہ بروجردی کے نمائندہ اور امام مسجد کے عنوان سے کام کا آغاز کیا۔ آیت اللہ بروجردی کی رحلت اور آقای محققی کی ایران وااپسی کے بعد سید محمد حسینی بہشتی نے اس مرکز کی مدیریت کا عہدہ سنبھال لیا۔ انقلاب اسلامی ایران کی کامیابی کے بعد کچھ مدت کیلئے سید محمد خاتمی، محمد مجتہد شبستری، علی مقدم اور محمد باقر انصاری نے اس مرکز میں اپنی فعالیتیں انجام دی ہیں۔ اب بھی یہ اسلامی مرکز اپنی دینی اور ثقافتی خدمات انجام دے رہا ہے۔[18][19]
  • امریکہ: مہدی حائری یزدی، شیخ عبدالکریم حائری یزدی کے فرزند انقلاب اسلامی ایران کی کامیابی تک واشنگٹن امریکہ میں آیت اللہ بروجردی کا نمائندہ تھا۔ آپ تبلیغ کے ساتھ ساتھ مختلف یونیورسٹیوں میں پڑھاتے بھی تھے۔ [20][21]
  • سعودیہ عربیہ: سید محمدتقی طالقانی سعودیہ عربیہ میں آیت اللہ بروجردی کا نمائندہ تھا انہوں نے وہاں جانے کے بعد کافی تگ و دو کے بعد مدینہ میں ایک دینی مرکز کی تأسیس کا زمینہ ہموار کیا لیکن یہ مرکز کچھ وجوہات کی بنا پر متوقف ہوا۔[22] عبدالحسین فقیہی رشتی بھی آیت اللہ بروجردی کے نمائندے کی حیثیت سے سال میں کئی ماہ مکہ اور مدینہ میں رہتے تھے اور احکام شرعی کے بیان کے ساتھ ساتھ وجوہات شرعیہ بھی دریافت کرتے تھے۔ انہوں نے 30 سال آیت اللہ بروجردی کے نمائندے کی حیثیت سے حج کے امور میں فعالیت انجام دیتے رہے ہیں۔[23]
  • مصر: محمدتقی قمی ۱۳۱۷شمسی کو قاہرہ میں تقریب مذاہب کیلئے گیا اور فارسی زبان اور ادبیات کی تدریس کے ساتھ ساتھ مذہب شیعہ کی معرفی کی کوشش کرتے تھے۔ آپ اور بعض شیعہ و سنی علماء کی کوششوں سے ۱۳۲۷شمسی کو "دارالتقریب بین المذاہب الاسلامیہ‌" تأسیس ہوئی۔ آیت اللہ بروجردی نے آقای قمی کو مصر اور دارالتقریب میں اپنے نمائندہ ہونے کی تأیید کی اور ان کے ذریعے الازہر کے مفتیوں کے ساتھ مکاتبات انجام دئے۔ [24]
  • انگلستان: سید صدرالدین بلاغی اس وقت تیل کی صنعت کی نجی کاری آیت اللہ بروجردی کا نمائندہ تھا۔ انہوں نے اس تحریک کے بعد آیت اللہ بروجردی کے نمائندے کی حیثیت سے انگلستان سفر کیا اور وہاں تبلیغ میں مصروف ہوگئے۔ ایک خط میں آیت اللہ بروجردی ان کے اس سفر پر اپنی رضایت کا اظہار یوں کرتے ہیں۔:
"بسم اللہ الرحمن الرحیم/ عرض کی جاتی ہے کہ آپ کا لکھا ہوا مراسلہ موصول ہوا جو آپ کی صحت و سلامتی کی حکایت کرتا ہے۔ جن مطالب کی طرف اشارہ کیا تھا ان کو دقت کے ساتھ کئی دفعہ مطالعہ کیا۔ اسلام کی تقویت اور استحکام کیلئے انجام دینے والی اس مسافرت سے نہایت خوشی ہوئی۔ آپ کی طرف سے لندن کی طرف سفر کرنے کی رضایت مندی کے اظہار پر بھی نہایت خوشی ہوئی لیکن ان دو مسافرتوں کو جمع کرنے کے حوالے سے حیران ہوں کہ کس طرح آپ ان دونوں کو جمع کرینگے۔ آپ کی نظر میں جو بھی اچھا اور بہتر نظر آئے میرے لئے مرقوم فرمائیں۔ تہران میں ایک تاجر کو ایک خط کے ذریعے جناب عالی کے اہل و عیال کے بارے میں تحقیق کرنے کے بارے میں لکھا ہوں ان کی طرف سے اطلاع رسانی کے بعد انشاء اللہ جناب عالی کی تشویش کے خاتمے کا سبب ہو اور اگر خود بھی کوئی احتیاج رکھتے ہیں تو دقیق ایڈریس تعیین کرکے اطلاع دیں۔ بندہ ایسے ممالک میں جہاں اسلام کی تقویت کا باعث بن سکتا ہے، میں آپ جیسوں کی کی مسافرت کو لازم سمجھتاہوں۔ لیکن اب تک ایسے افراد کی تعداد بہت کم ہیں جن میں یہ شرائط پائی جاتی ہوں۔ امید رکھتا ہوں دعا اور مناجات کے اوقات میں مجھے فراموش نہیں کرینگے۔ ۱۸ محرم ۱۳۸۰. حسین الطباطبایی/ چنانچہ اگر ممکن ہو تو جناب مستطاب حجۃالاسلام آقای حاج آقا مہدی حائری رابطہ کریں اگرچہ خط و کتابت کے ذریعے ہی کیوں نہ ہو شاید مفید واقع ہو۔"

تقریب مذاہب اسلامی

آیت اللہ بروجردی اسلامی مذہب کے درمیان تقریب اور وحدت پر نہایت توجہ دیتے تھے۔ بین الاقوامی مسائل اور بیگانوں کا مسلمان ممالک پر حملہ جیسے جنگ عظیم اور حکومت عثمانیہ کی تقسیم، اٹلی کا لیبیا کے خلاف جنگ، اسرائیل کی تأسیس، ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگ وغیرہ میں مسلمانوں کے آپس میں نزدیک کرنے کی سوچ میں آپ کا نہایت اہم کردار تھا۔ [28] آیت اللہ بروجردی، سید محمدباقر درچہ ای اور شریعت اصفہانی کی شاگردی کی ہے۔ یہ دونوں بھی تقریب مذاہب کے حامی تھے۔ [29]

تقریب بین مذاہب کیلئے آیت اللہ بروجردی کے اقدامات

  • فقہ مقارن پر توجہ: آیت اللہ بروجردی فقہ کے مسائل میں "فقہ مقارن" کے اختلافی مسائل کو اہمیت دیتے تھے۔ آپ معتقد تھے کہ فقہی مسائل نہ فقط امامیہ کے درمیان بلکہ مذہب اربعہ کے درمیان مورد بحث واقع ہونا چاہئے اور تمام مذاہب کے ادلہ قابل قبول ہونی چاہئے۔ اسی مقصد کی خاطر شیخ طوسی کی "مسائل الخلاف‌" نامی کتاب کو منتشر کیا اور کبھی کبھار اس کتاب کو اپنے ساتھ درس خارج کے جلسات میں لے آتے تھے۔ [30]

آیت اللہ بروجردی معتقد تھے کہ "فقہ شیعہ اہل سنت کے فقہ کے تناظر میں ہے" کیونکہ ائمہ اطہار سے پوچھے گئے سوالات اہل سنت کے فقہ کو مد نظر رکھتے ہوئے پوچھے جاتے تھے۔ اہل سنت کے رائج فتاوں کی طرف مراجعہ کرنا احادیث کے بہتر سمجھنے میں مددگار ثابت ہوگی۔[31]

  • کتاب جامع الاحادیث الفقہیہ میں اہل سنت کے فقہی احادیث کو درج کرنا؛ یہ کتاب فقہ احادیث پر ایک مکمل دورہ ہے جو آیت اللہ بروجردی کی کوششوں سے ان کے بعض شاگروں نے تالیف کیا۔ آپ تاکید فرماتے تھے کہ ہر باب کے ذیل میں اہل سنت احادث کو بھی درج کیا جائے۔ اگرچہ بعد میں مخالفین کے عکس العمل کی بنا پر اظہار تردید کیا اور آخر کار اس کام سے منصرف ہوئے۔[32]
  • اختلافی مسائل کی ریشہ یابی : آپ اختلافی مسائل کی ریشہ یابی فرماتے تھے۔ ان مسائل کو مطرح کرنے کے اوقات کو تاریخی لحاظ سے مد نظر رکھتے تھے اور ابتداء میں ان مسائل میں موجود اتفاق اور اختلاف کے حدود و قیود کو مشخص فرماتے تھے۔ پہلے اہل بیت(ع) کے نظریات کو بیان فرماتے اس کے بعد اہل سنت نظریات کو بھی بیان فرماتے تھے اور اس قسم کے مسائل کو علمی مباحث کے عنوان سے نہ مذہبی جدال کی خاطر بیان فرماتے تھے۔ [33]
  • حج کو یکساں کرنے کی تجویز؛ آپ کی عمر کی آخری سالوں میں سعودیہ عربیہ کے پادشاہ جب ایران آئے تو حدیث حجۃالوداع کو ان کے پاس بھیجا۔ اس حدث کو نقل کرنے کے اہل سنت طریق میں دو شیعہ اماموں کا نام آیا ہے۔ اس بنا پر یہ حدیث شیعوں کیلئے بھی قابل قبول ہے اور اس حیثیت سے کہ کتب صحاح میں آئی ہے اہل سنت کو بھی قابل قبول ہے۔ پس یہ حدیث حقیقت میں اس مسئلے میں فریقین کی وحدت اور تقریب کا سبب بن سکتی ہے۔ یوں اس حدیث کو مد نظر رکھتے ہوئے حج کو یکساں طور پر انجام دے سکتے ہیں۔ [34]
  • اہل سنت کو ققہ شیعہ کی معرفی؛ تقریب فقہی کے باب میں آیت اللہ بروجردی شیخ طوسی کی کتاب «"المبسوط‌" کو الازہر کے مفتی شیخ عبدالمجید سلیم جو دارالتقریب بین المذاہب الاسلامیۃ کا رکن بھی تھا کو اہدا کیا۔ آپ ایک طرف سے یہ اہتمام بھی فرماتے تھے کہ شیعہ فقہ کو اہل سنت کے مبانی اور احادیث کی روشنی میں بیان کیا جائے تاکہ اہل سنت بھی شیعہ فقہ سے آشنا ہو سکے۔ آپ ان دو کاموں میں کامیاب ہو گئے اور دارالتقریب کے اکثر اعضاء شیعہ فقہ سے آشنا ہوگئے یہاں تک کہ طلاق کے مسائل میں دو عادل شخص کی گواہی کا شرط ہونا شیعہ فقہ کے مطابق مصر کی قانون اساسی میں درج کیا گیا۔ [35]

اس وقت کے مصر کے وزارت اوقاف نے محقق حلی (م۶۷۶ق) کی کتاب "المختصر النافع‌" جو فقہ کا ایک مختصر دورہ ہے، کو وزیر اوقاف مصر شیخ احمد حسن الباقوری کے مقدمے کے ساتھ منتشر کیا۔ الباقوری ایران آئے اور آیت اللہ بروجردی سے ملاقات کیا۔ ان کا مقدمہ فقہ میں فریقین کے درمیان فقہی مشترکات کے بارے میں ہے۔ [36]

  • دارالتقریب بین المذاہب الاسلامیہ کی حمایت؛ دارالتقریب سنہ ۱۳۲۷شمسی کو محمد تقی قمی جو مصر اور لبنان میں جاتے رہتے تھے اور بعض اہل سنت اور شیعہ علماء کی کوششوں سے وجود میں آیا جس کے اعضاء الازہر کے اساتید مانند شیخ عبدالسلیم، شیخ محمود شلتوت، شیخ ابوزہرہ، حسن البنا، اور شیعہ علماء مانند نجف سے محمد حسین کاشف الغطاء، لبنان سے سید شرف الدین اور محمدجواد مغنیہ تھے۔

آیت اللہ بروجردی اس مرکز کی مالی معاونت کیا کرتے تھے لیکن ان کی رحلت کے بعد یہ مالی معاونت بھی بند ہو گئی یوں دارالتقریب کا کام بھی متوقف ہوا۔ [37]

  • اہل سنت کے بزرگان اور خلفاء کی اہانت کی روک تھام؛ واعظ زادہ خراسانی آیت اللہ بروجردی کے ساتھ اپنی خاطرات میں آیت اللہ بروجردی کا خلفاء کی اہانت کرنے والوں کے ساتھ برخورد کرنے کے بارے میں لکھتے ہیں:
ایک دین حلسہ حدیث میں حاضر ہوئے اور فرمایا: "کسی نے کوئی کتاب لکھی ہے اور جتنا ہو سکتا تھا خلفاء کے بارے میں بدکلامی کی ہے۔ میرا نام بھی کتاب کے شروع میں ذکر کیا ہے۔ من نے حکم دیا ہے کہ اس کتاب کی تمام جلدوں کو جمع کیا جائے۔ ہم کس زمانے میں زندگی کر رہے ہیں؟ ان باتوں کا کیا فائدہ سوائے نقصان اور دشمنی ایجاد کرنے؟"[38]

اسی طرح کہا جاتا ہے کہ آیت اللہ بروجردی کتاب بحارالانوار کے باب "فتن و محن" کی منتشر کرنے کے مخالف تھے اور آپ کی سفارش سے یہ منتشر نہیں ہوئی۔ [39]

سیاسی فعالیتیں

آخوند خراسانی کی طرف سے آیت اللہ بروجردی کو اجتہاد کا اجازت نامہ
اجازت نامے کا دوسرا صفحہ

تغییر خط کی مخالف

کہا جاتا ہے کہ رضا شاہ کے دور میں "تغییر خط" کو روکنے میں آیت اللہ بروجردی نے اہم کردار ادا کیا۔ اس نقل کے مطابق رضاخان نے "آتاترک" کی تقلید کرتے ہوئی "تغییر خط" کا ارادہ کیا لیکن آیت اللہ بروجردی نے اس کی شدید مخالفت کی:

"تغییر خط سے ان کا مقصد معاشرے کو اسلامی فرہنگ سے دور کرنا ہے۔ میں جب تک زندہ ہوں اس کام کو عملی جامہ پہنانے کی اجازت نہیں دوںگا آگے جو بھی ہو جائے" [40]

مجلس مؤسسان اور تغییر دین رسمی کی ممانعت

اردیبہشت ۱۳۲۸ شمسی کو رضا شاہ پارلیمنٹ کے بعض اعضاء کے ذریعے قانون اساسی میں تغییر ایجاد کرتے ہوئے اپنے اختیارات میں اضافہ کرنے کی کوشش کی۔ البتہ یہ شایع ہوا تھا کہ اس کے ذریعے شاہ مذہب شیعہ اور دیانت اسلام کو لغو کرنا چاہتا تھا اور فرقہ ضالہ بہائیت کو رسمیت دینے کیلئے راہ ہموار کرنا چاہتا تھا۔ [41]

اس موقع پر یہ بھی شایع ہوا تھا کہ آیت اللہ بروجردی نے مجلس مؤسسان کی تشکیل کی موافقت کی ہے۔ اس مسئلے میں امام خمینی، آیت اللہ سید محمد محقق(داماد)، آیت اللہ روح اللہ کمالوند خرم آبادی اور آیت الله مرتضی حائری نے آیت اللہ بروجردی کی خدمت میں ایک خط لکھا: "چونکہ یہ خبر پھیلی ہے کہ "مجلس مؤسسان" کے بارے میں آپ اور بعض اولیاء کے درمیان مذاکرات ہوئی ہے جس کے نتیجے میں آپ نے اس کی تشکیل پر اپنی موافقت کا اظہار کیا ہے.... مستدعی ہیں کہ اس خبر کی حقیقت اور اس حوالے سے ہمارا شرعی فریضہ واضح کیا جائے۔ " اس بارے میں کہا جاتا ہے آیت اللہ بروجردی نے ان آقایان کے جواب میں یوں تحریر فرمایا ہے:

ایسے مواقع جہاں پر خلاف واقع کوئی خبر پھیل جاتی ہے تو علماء سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ علماء ایسے امور سے دفاع کریں۔ البتہ ملک و قوم کے مسائل میں دلچسپی سب پر واضح ہے لیکن مصلحت اس میں نہیں ہے کہ ہر چیز عوام الناس کے کانوں تک پہنچائی جائے۔ مبادا دین سے مربوط امور میں کوئی تغییرات انجام نہ آنے پائے اس مقصد کی خاطر میں نے مذاکرات انجام دیا ہوں یہاں تک کہ اخیرا مجھے یہ اطمینان دیا گیا ہے کہ نہ تنہا دینی امور میں کوئی تغییرات ایجاد نہیں ہوگی بلکہ دینی امور کے استحکام میں نہایت سعی و تلاش کی جائے گی۔ اس کے باوجود ان تمام جلسات میں جن میں میرے ساتھ مذاکرات انجام دئے گئے ہیں، میں میری طرف سے کوئی ایسا جملہ جو اس موضوع پر میری موافقت پر دلالت کرے یا اس کی طرف اشارہ کرے، میری زبان سے جاری نہیں ہوا ہے۔ کس طرح ممکن ہے کہ اس طرح کے اہم امور پر اظہار نظر کی جائے جس کے خدوخال واضح اور آشکار نہ ہو؟"

شاہ کا قائم مقام اور مشاور ڈاکٹر اقبال اور وزیر مملکت نے شاہ کی طرف سے آیت اللہ بروجردی سے ملاقات کیا اور صریحاً یقین دہانی کرائی کہ دین رسمی تغییر نہیں کرے گااور آخر کار شاہ کے اختیارات میں اضافہ کرنے پر اکتفا ہوا۔ [42]

آیت اللہ کاشانی کی پھانسی کی ممانعت

اگر چہ تیل کی صنعت کی نشنلائزیشن کی تحریک کے دوران آیت اللہ بروجردی اور آیت اللہ کاشانی کے درمیان اچھے روابط نہیں تھی۔ ۲۸ مرداد کی بغاوت کے بعد آیت اللہ بروجردی نے آیت اللہ کاشانی کی پھانسی کے حکم کی ممانعت کی۔ [43][44]

تیل کی صنعت کی نیشنلائزیشن

آیت اللہ بروجردی نے سید محمدتقی خوانساری کی طرح تیل کی صنعت کی نیشنلائزیشن کی تحریک میں مدخالت نہیں کیا اور سکوت اختیار کیا۔ لیکن علماء سے کہا کہ اس کی مخالف کریں اس بارے میں آپ نے یوں فرمایا:

میں ایسے مسائل میں جن کی آغاز اور انجام کے بارے میں مشخص پیش بینی نہ کی جا سکتی ہو، میں مداخلت نہیں کرتا ہوں۔ تیل کی صنعت کی نیشنلائزیشن کے مسئلے کی بارے میں معلوم نہیں ہے کہ یہ کیا ہے کیا ہو گا اور مستقبل میں کس کے ہاتھ میں ہو گا۔ لیکن علماء کو کسی قیمت اس تتحریک کی مخالفت نہیں کرنی چاہئے کیونکہ اگر عوامی تحریک کی مخالفت کریں اور یہ تحریک ناکام ہو جائے تو ایران کی تاریخ میں یہ بات ثبت ہوگی کہ علماء کی مخالفت کی وجہ سے یہ تحریک ناکام ہوئی۔ لہذا آقای بہبہانی اور تہران کے علماء کے نام میں نے اس کی مخالفت نہ کرنے کے بارے میں لکھا ہے۔[45]

کئی مواقع پر ڈاکٹر مصدق کے مخالفین کو یہ توقع تھا کہ آیت اللہ بروجردی ڈاکٹر مصدق کے خلاف کوئی رد عمل انجام دے گا[46]، لیکن آیت اللہ بروجردی نے ایسا نہیں کیا یہاں تک کہ ڈاکٹر مصدق کی حمایت کرنے کے بارے میں شواہد پائے جاتے ہیں۔ [47][48]

فداییان اسلام کے ساتھ تقابل یا تعامل

آیت اللہ بروجردی کا نواب صفوی اور آیت اللہ کاشانی کے طریقہ کار میں مداخلت نہ کرنے کی روش یکساں نہیں تھی۔ [49]نواب صفوی "کتاب راہنمای حقایق" میں مراجع عظام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ جس شخص میں "مرجعیت" کے شرائط نہیں اسے اس مقام سے خلع کیا جائے۔[50] آیت اللہ بروجردی فدائیان اسلام کے بارے میں اپنی رضایت کا اظہار نہیں کرتے تھے۔ شروع میں وعظ و نصیحت کے ذریعے انہیں اس کام سے دور رکھنے کی کوشش کرتے تھے۔ اپنی کلاس درس میں بار بار فرماتے تھے:

"یہ لوگ (فدائیان اسلام) جوان طلاب اور سادات ہیں جو ناراض اور غصے میں ہیں ان کو وعظ و نصیحت کرنا چاہئے۔ میں ان سے درخواست کرتا ہوں کہ ان کاموں کو ترک کریں۔ ہم نے اپنی زندگی میں بہت سی تبدیلیاں دیکھی ہیں منجملہ مشروطیت کا مسئلہ جس میں ہم نے دیکھا کہ کام کیسے شروع ہوا اور کہاں پر ختم ہوا۔" [51]

آیت اللہ طاہری خرم آبادی اور آیات اللہ محمد فاضل لنکرانی فدائیان اسلام کا آیت اللہ کاشانی کی پیروی اور ان سے متأثر ہونے کے عوامل و اسباب کو فدائیان اسلام کا آ یت اللہ بروجردی سے اختلاف قرار دیتے ہیں۔ [52][53]

مخالفت کے باوجود آیت اللہ بروجردی ان کی مدد کرتے تھے۔ سید حسین امامی کی گرفتاری کی واقعے میں آیت اللہ بروجردی نے اس کی حمایت کی اور اس کی آزادی کیلئے تلاش کوششیں کی۔ اسی طرح آپ شاہ کے بعض قریبی افراد کے ساتھ رابطے میں تھے اور ان سے یہ عہد لیا ہوا تھا کہ کسی طرح سے بھی شاہ سے آیت اللہ کاشانی کی پھانسی کے حکم پر دستخط نہ کروائے۔ آپ آیت اللہ کاشانی کی پھانسی دئے جائے پر نہایت متأثر ہوئے اور اپنے روزمرہ کے کاموں کو تعطیل کیا اور فرماتے تھے "ناراحتی اور غم و غصے کی وجہ سے کوئی کام کرنے کو دل نہیں کرتا۔" [54]

بہاییت کے ساتھ مقابلہ

سنہ۱۳۴۵ہجری قمری کو رجسٹریشن کے ادارے کے انچارج نے اس محکمے میں فرقہ بہایت سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو اپنا معاون بنایا۔ اسی طرح شہر بروجرد میں برہنہ عورتوں پر مشتمل مراسم منعقد کئے۔ جب ان کاموں کی خبر آیت اللہ بروجردی تک پہنچی تو آپ نے اس غیر اسلامی اقدام کی مخالفت میں احتجاج کے طور پر بروجرد کو ترک کر کے عتبات عالیات جانے کا ارادہ کیا۔ ایسے میں شہر بروجرد کے گورنر نے رجسٹریشن کے محکمے کے انچارج کو اپنے مقام سے عزل کیا اور آیت اللہ بروجردی کو دبارہ واپس لایا۔ لیکن ملک کے مسئولین کی اسلامی روایات کی منافی کاموں سے دلبرداشتہ ہو کر عتبات عالیات چلے گئے پھر نجف اشرف میں ہی مقیم ہوئے۔

فلسطین کی حمایت

آیت اللہ بروجردی، اسرائل اور صہیونی ایزم کے ہاتھوں قدس اور فلسطین پر قبضے پر شدید رد عمل کا اظہار کرتے تھے۔ آپ نے سنہ۱۳۲۷شمسی کو صهیونی ایزم اور فلسطین پر ناجائز ملسط ہونے والوں کی محکومیت ایک بیانیہ صادر کیا اور فلسطین کے مجاہدین کو خراج تحسین پیش کیا اور انکی کامیابی کیلئے دعا فرمائی۔[55]

پرائمری سکولوں میں دینیات کے دروس شامل کرنے کی سفارش

گورنمنٹ کی جانب سے پرائمری سکولوں میں ضروری مضامین شامل کرنے کے حکم پر آیت اللہ بروجردی نے دینیات کے دروس کو بھی ان مضامین میں شامل کرنے کی درخواست کی اور اس حوالے سے آقای فلسفی کو اپنا نمائندہ بنایا اور حکومت کے ساتھ مذاکران کیلئے بھیجا۔ [56]

حوالہ جات

  1. سید علی طباطبایی سنہ ۱۲۵۲ق کو بروجرد میں متولد اور سنہ ۱۳۲۹ق کو وفات پاui اور اپنے آبائی قبرستان میں مدفون ہیں۔
  2. دوانی، مفاخر، ج۱۲، صص۶۹ – ۹۵
  3. دوانی، مفاخر، ج۱۲، ص۵۳۸
  4. دوانی، مفاخر، ج۱۲، ص۵۳۲
  5. تمری، ص۲۰
  6. واعظ­ زادہ، ص۵۳
  7. علی­ آبادی، ص۴۴؛ مجلہ حوزہ، ش ۲۳، ص۴۲
  8. علوی، صص۱۱۹ و ۱۲۰
  9. یہ عبارت حدیث قدسی کا ایک حصہ ہے: (کلمۃ اللہ، تألیف سید حسن شیرازی ص۴۷۱)
  10. مجلہ حوزہ، شمارہ ۴۳ و ۴۴، ص۲۶۲
  11. مرکز انتشارات، ص۳۰
  12. علوی، سید محمدحسین، خاطرات زندگانی آیت اللہ بروجردی، انتشارات اطلاعات، خرداد ۱۳۴۱، ص۳۶
  13. مجلہ حوزہ، ش ۴۳ و ۴۴، ص۲۶۷
  14. مجلہ حوزہ، ش ۴۳ و ۴۴، صص۲۶۸ و ۶۶
  15. مرکز انتشارات، ص۲۸
  16. مطہری، ص۲۶۳
  17. مرکز کی بنیادگزاری اور ساخت کا تاریخچہء
  18. زندگی آیت اللہ العظمی بروجردی، ص۷۲
  19. اس مرکز کی بنیادگزاری اور ساخت کا تاریخچہء
  20. زندگی آیت اللہ العظمی بروجردی، ص۷۲
  21. خاطرات دکتر مہدی حائری یزدی،، صص۴۱ و ۳۹ و ۲۸
  22. مجلہ حوزہ، ش ۴۳-۴۴، ص۱۱۷
  23. هفتہ نامہ نقش قلم (نشریہ استان گیلان)، ۲۷ آبان ۱۳۶۹، مقالہ محمدعلی فقیہی زادہ گیلانی.
  24. جام شکستہ، خاطرات حجت الاسلام معادیخواہ، ج۲، تہران، مرکز اسناد انقلاب اسلامی، ۱۳۸۴، ص۱۷۳
  25. تذکرہ علمای امامیہ...، ص۳۱۲.
  26. بایگانی موسسہ مطالعات و پژوہشہای سیاسی، سند ش۱۱۲۳، مورخہ ۲۵۳۷/۱/۲۱.
  27. دربارہ شیخ محمدشریعت اصفہانی
  28. تطبیق اندیشہ تقریب از منظر امام خمینی و آیت اللہ بروجردی، فصلنامہ علمی-پژوہشی پژوہشنامہ انقلاب اسلامی، سال دوم، ش ۵، زمستان ۹۱، ص۱۰۴
  29. وحدت و انسجام اسلامی از نگاہ آیت اللہ بروجردی، محمد واعظ زادہ خراسانی، کیہان فرہنگی، ش ۲۵۷، اسفند ۸۶، ص۲۱
  30. وحدت و انسجام اسلامی از نگاہ آیت اللہ بروجردی، محمد واعظ زادہ خراسانی، کیہان فرہنگی، ش ۲۵۷، اسفند ۸۶، ص۲۱
  31. وحدت و انسجام اسلامی از نگاہ آیت اللہ بروجردی، محمد واعظ زادہ خراسانی، کیہان فرہنگی، ش ۲۵۷، اسفند ۸۶، ص۲۱
  32. وحدت و انسجام اسلامی از نگاہ آیت اللہ بروجردی، محمد واعظ زادہ خراسانی، کیہان فرہنگی، ش ۲۵۷، اسفند ۸۶، ص۲۵
  33. وحدت و انسجام اسلامی از نگاہ آیت اللہ بروجردی، محمد واعظ زادہ خراسانی، کیہان فرہنگی، ش ۲۵۷، اسفند ۸۶، ص22
  34. وحدت و انسجام اسلامی از نگاہ آیت اللہ بروجردی، محمد واعظ زادہ خراسانی، کیہان فرہنگی، ش ۲۵۷، اسفند ۸۶، ص23
  35. وحدت و انسجام اسلامی از نگاہ آیت اللہ بروجردی، محمد واعظ زادہ خراسانی، کیہان فرہنگی، ش ۲۵۷، اسفند ۸۶، ص23
  36. وحدت و انسجام اسلامی از نگاہ آیت اللہ بروجردی، محمد واعظ زادہ خراسانی، کیہان فرہنگی، ش ۲۵۷، اسفند ۸۶، ص24
  37. وحدت و انسجام اسلامی از نگاہ آیت اللہ بروجردی، محمد واعظ زادہ خراسانی، کیہان فرہنگی، ش ۲۵۷، اسفند ۸۶، ص25
  38. وحدت و انسجام اسلامی از نگاہ آیت اللہ بروجردی، محمد واعظ زادہ خراسانی، کیہان فرہنگی، ش ۲۵۷، اسفند ۸۶، ص25
  39. نشریہه حوزہ، شمارہ ۴۳، مصاحبہ با محمد واعظ زادہ خراسانی
  40. چشم و چراغ مرجعیت: مصاحبہ ہای ویژہ مجلہ حوزہ، با شاگردان آیت اللہ بروجردی، ص۲۹
  41. دوانی، مفاخر اسلام، ج۱۲، ص۲۴۲-۲۴۳
  42. محمدحسن رجبی (دوانی)، زندگینامہ سیاسی امام خمینی (تہران: نشر مطہر) ص۱۴۲.
  43. مجلہ حوزہ، شمارہ ۴۴ـ۴۳ (ویژہ نامہ آیت اللہ بروجردی)، مصاجبہ با آیت اللہ صافی گلپایگانی
  44. حسین مکی؛ خاطرات سیاسی حسین مکی، چاپ اول، تہران ۱۳۶۸، صفحہ ۵۷۲ تا ۵۷۶
  45. چشم و چراغ مرجعیت؛ مصاحبہ با آیت اللہ سلطانی طباطبایی، ص۴۲
  46. علی رہنما، نیروہای مذہبی بر بستر حرکت نہضت ملی، ص۹۹۵-۹۹۹
  47. مجلہ حوزہ، مصاحبہ با واعظ زادہ خراسانی، ش ۴۳-۴۴، ص۲۲۶
  48. احمدعلی رجائی و مہین سروری، اسناد سخن میگویند، ج۱، ص۳۳۹
  49. سیرہ عملی آیت اللہ العظمی بروجردی در ساحت سیاست، مجلہ علوم سیاسی، پاییز ۱۳۸۹، شمارہ ۵۱، ص۱۲۵
  50. نواب صفوی، راہنمای حقایق، ص۵۸
  51. علی رہنما، نیروہای مذہبی بر بستر حرکت نہضت ملی، ص۵۸
  52. حسن طاہری خرم آبادی، خاطرات آیت اللہ طاہری خرم آبادی، ج۱، ص۸۳-۸۴
  53. مجلہ حوزہ، شمارہ ۴۳-۴۴، مصاحبہ با آیت اللہ فاضل لنکرانی، ص۱۵۶
  54. چشم و چراغ مرجعیت، ص۱۰۳ و ۱۰۴
  55. دوانی، مفاخر، ج۱۲ ص۳۶۲
  56. دوانی، خاطرات، ص۱۸۹ - ۱۹۱


مآخذ

  • تمری، محمد رضا، شکوہ شیعہ مرکز اسناد انقلاب اسلامی، تہران، ۱۳۸۷ش.
  • دوانی، علی، خاطرات و مبارزات حجت الاسلام فلسفی، مرکز اسناد انقلاب اسلامی، تہران، ۱۳۷۶ش.
  • دوانی، علی، مفاخر اسلام، بنیاد فرہنگی امام رضا(ع)، تہران.
  • شیرازی، سید حسن، کلمہ اللہ، بیروت، دار الصادق، ۱۳۸۹/۱۹۶۹.
  • علی آبادی، محمد، الگوی زعامت، انتشارات ہنارس.
  • علوی، سید محمدحسین، خاطرات زندگانی آیت اللہ بروجردی، انتشارات اطلاعات تہران، ۱۳۴۱ش.
  • مجلہ حوزہ، شمارہ ۴۳–۴۴.
  • مرکز انتشارات دفتر تبلیغات اسلامی حوزہ علمیہ قم، شکوہ فقاہت، قم، ۱۳۷۹ش.
  • مطہری، مرتضی، مزایا و خدمات آیت اللہ بروجردی، انتشارات صدرا، تہران، ۱۳۸۰ش.
  • واعظ زادہ خراسانی، محمد، زندگی آیت اللہ بروجردی، نشر مجمع تقریب مذاہب اسلامی، تہران، ۱۳۷۹ش.

بیرونی روابط