عنایت‌ الله قهپائی

ویکی شیعہ سے
عنایت‌ اللہ بن علی قہپائی
کوائف
مکمل نامعنایت‌ اللہ بن علی قہپائی نجفی اصفہانی
لقب/کنیتزکی نجفی
آبائی شہراصفہان
رہائشنجف، اصفہان
تاریخ وفاتسنہ1026ھ کے بعد
علمی معلومات
مادر علمینجف اشرف
اساتذہمقدس اردبیلیشیخ بہایی • عبد اللہ شوشتری اصفہانی
تالیفاتکتاب مجمع الرجال
خدمات


عنایت‌اللہ قُہْپایی عنایت اللہ کوہپائی (975ھ سے پہلے - 1026ھ کے بعد)، گیارہویں صدی ہجری کے شیعہ عالم علم رجال اور مشہور رجالی کتاب "مجمع الرجال" کے مصنف ہیں۔[1]انہوں نے اس کتاب میں پانچ شیعہ رجالی کتب؛ رجال کشی، رجال طوسی، الفہرست طوسی، رجال نجاشی اور رجال ابن غضائری میں مذکور راویوں کو حروف تہجی کے لحاظ سے ترتیب دیا ہے اور اس میں کچھ چیزوں کا اضافہ بھی کیا ہے۔[2]

عنایت اللہ قہپائی نے مجمع الرجال لکھنے سے پہلے، شیعہ پانچ رجالی کتب میں سے رجال ابن غضائری کے علاوہ ہر کتاب میں موجود راویوں کے ناموں کو مستقل طور پر حروف تہجی کے مطابق ترتیب دیا اور ان میں حاشیہ کا بھ اضافہ کیا۔[3] اسی طرح انہوں نے مرزا محمد استر آبادی کی کتاب "منہج المقال فی تحقیق احوال الرجال" اور مصطفیٰ تفرشی کی کتاب "نقد الرجال" پر بھی حاشیہ لکھا۔[4]

عنایت اللہ قہپائی؛ مقدس اردبیلی، شیخ بہائی اور عبد اللہ شوستری اصفہانی کے دروس میں شرکت کرتے تھے۔[5] کسی کتاب میں ان کے شاگردوں کا ذکر نہیں ملتا، البتہ آقا بزرگ تہرانی نے ایک رجالی کتاب کا نام ذکر کیا ہے جس میں اس کے مصنف نے اپنا نام ابو الحسن بن عبد اللہ اور قہپائی کا شاگرد ظاہر کیا ہے۔[6] آقا بزرگ کے مطابق ان کا مکمل نام شاید ابوالحسن بن عبد اللہ کاشی (وفات: بعد از 1020ھ) تھا[7]

قہپائی کا لقب زَکیّ نجفی کہا گیا ہے[8] اور ان کے شجرہ نسب میں اختلاف نظر پایا جاتا ہے۔ بعض تراجم‌ نگاروں نے ان کے نام کی اصل کو "کوہ پایہ" قرار دیا ہے جو کہ اصفہان کے مشرق میں ایک شہر کا نام ہے[9] اور بعض نے کہا ہے کہ ان کا تعلق نجف سے ہے۔[10] عبد اللہ بن عیسی افندی کے مطابق قہپائی کی اصلیت نجف سے ہے اور اور جائے پیدائش کوہ پایہ ہے۔[11] قہبائی کوہپایہ کا عربی لفظ ہے۔[12] عنایت اللہ قہپائی نے نجف اور اصفہان میں زندگی کی اور شاہ عباس اول کے حکم سے کوہپایہ میں سکونت پذیر ہوئے۔[13]

قہپائی کی تاریخ وفات کا علم نہیں ہے۔ معاصر شیعہ ماہر علم رجال اور متکلم جعفر سبحانی نے کتاب مَن لایَحضُرُہُ الفقیہ کی کتابت سے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ قہپائی کی وفات سنہ 1026ھ کے بعد ہے۔ [14]

حوالہ جات

  1. خوانساری، روضات الجنات، 1390ھ، ج4، ص410.
  2. امین، اعیان الشیعہ، 1403ھ، ج8، ص381.
  3. امین، اعیان الشیعہ، 1403ھ، ج8، ص381؛ آقابزرگ تہرانی، الذریعہ، 1403ھ، ج4، ص65 و 66.
  4. غروی، مع علماء النجف الاشرف، 1420ھ، ج1، ص306.
  5. خوانساری، روضات الجنات، 1390ھ، ج4، ص410.
  6. آقابزرگ تہرانی، الذریعہ، 1403ھ، ج10، ص102.
  7. آقابزرگ تہرانی، الذریعہ، 1403ھ، ج6، ص226.
  8. خوانساری، روضات الجنات، 1390ھ، ج4، ص410.
  9. مدرس تبریزی، ریحانۃ الادب، 1369ہجری شمسی، ج4، ص497؛ آقابزرگ تہرانی، مصفی المقال، 1337ہجری شمسی، ص343.
  10. خوانساری، روضات الجنات، 1390ھ، ج4، ص410؛ امین، اعیان الشیعہ، 1403ھ، ج8، ص381.
  11. افندی، ریاض العلماء، 1431ھ، ج4، ص302.
  12. خوانساری، روضات الجنات، 1390ھ، ج4، ص410.
  13. خوانساری، روضات الجنات، 1390ھ، ج4، ص410.
  14. سبحانی، موسوعۃ طبقات الفقہاء، 1418ھ، ج11، ص217.

مآخذ

  • آقابزرگ تہرانی، محمدمحسن، الذریعۃ الی تصانیف الشیعہ، گردآوری احمد بن محمد حسینی، بیروت، دار الاضواء، 1403ھ.
  • آقابزرگ تہرانی، محمدمحسن، مصفی المقال فی مصنفی علم الرجال، تصحیح احمد منزوی، 1337ہجری شمسی.
  • افندی، عبداللہ بن عیسی بیگ، ریاض العلماء و حیاض الفضلاء، تحقیق احمد حسینی اشکوری، اہتمام محمود مرعشی، بیروت، مؤسسۃ التاریخ العربی، 1431ھ.
  • امین، سید محسن، اعیان الشیعہ، بیروت، دار التعارف، 1403ھ.
  • خوانساری، سید محمدباقر، روضات الجنات فی احوال العلماء و السادات، تحقیق اسداللہ اسماعیلیان، تہران، دہاقانی (اسماعیلیان)، 1390ھ.
  • سبحانی، جعفر، موسوعۃ طبقات الفقہاء، قم، مؤسسۃ الامام الصادق(ع)، 1418ھ.
  • غروی، محمد، مع علماء النجف الاشرف، بیروت، دار الثقلین، 1420ھ.
  • مدرس تبریزی، محمدعلی، ریحانۃ الادب فی تراجم المعروفین بالکنیہ او اللقب، تہران، کتابفروشی خیام، 1369ہجری شمسی.