فخر الدین طریحی

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
فخر الدین طریحی
کوائف
تاریخ پیدائش ۹۷۹ھ
آبائی شہر نجف
تاریخ وفات ۱۰۸۵ھ یا ۱۰۸۷ھ
مقام وفات شہر رماحیہ
علت وفات طبیعی
مذہب شیعہ اثنا عشری
اطلاعات سیاسی
علمی و دینی معلومات
اساتذہ محمد بن جابر نجفی، امیر شرف‌ الدین علی شولستانی و شیخ محمود بن حسام‌ الدین بن درویش۔
شاگرد صفی‌ الدین بن فخر الدین طریحی، محمد باقر مجلسی، سید ہاشم بحرانی و سید ہاشم بن سلیمان کتکانی۔
تالیفات مَجمع البحرین و مَطلع النیرین، غریب القرآن، غریب الحدیث، تفسیر غریب القرآن، جامع المقال فی تمییز المشترکة من الرجال، المُنتخب فی جمع المَراثی و الخُطَب، الفخریة الکبری۔

فخر الدین بن محمد علی طُریحی (۹۷۹۔۱۰۸۵ یا ۱۰۸۷ ق) گیارہویں صدی ہجری کے امامیہ مفسر قرآن کریم، عالم دین اور کتاب مجمع البحرین کے مولف ہیں۔ وہ اولین شیعہ عالم ہیں جنہوں نے قرآن و حدیث کے مشکل کلمات کی شرح کے سلسلہ میں کتاب تحریر کی ہے۔

ولادت و نسب

۹۷۹ ق میں نجف میں ان کی ولادت ہوئی۔ اسی سبب سے وہ نجفی مشہور ہوئے۔[1]

اگر چہ طریحی[2] نے اپنے والد کا نام محمد علی لکھا ہے، لیکن بعض منابع[3] نے ان کا نام محمد ذکر کیا ہے۔ آقا بزرگ تہرانی[4] نے ان کے نام محمد، جس کی ابتداء شیخ حر عاملی نے کی اور باقی سب نے ان کی پیروی کی، کے سلسلہ میں اپنی تحقیق میں اسے غلظ بتایا ہے اور محمد علی نام کی تائید کی ہے۔[5]

ظاہرا اس اختلاف کا سبب ان کے نام میں بن کے لفظ کا اضافہ ہو جانا ہے جس کی وجہ سے بعض افراد نے ان کے والد کا نام محمد بن علی تحریر کر دیا ہے۔ سماہیجی بحرانی کے بقول،[6] ان کی والدہ کا تعلق مشہد سے تھا۔

طریحی کا گھرانہ نجف کے مشہور اور قدیم خاندان میں سے تھا۔ اسی بناء پر وہ اپنے جد اعلی کے نام طریح کی وجہ سے طریحی مشہور ہوئے۔[7] اس خاندان کا سلسلہ نسب امام علی (ع) اور امام حسین (ع) کے صحابی حبیب بن مظاہر اسدی تک منتہی ہوتا ہے۔[8] ظاہرا یہ خاندان کوفہ کی تخریب کے بعد چھٹی صدی ہجری میں نجف اشرف منتقل ہوا ہے۔[9]

مسافرت

طریحی نے جوانی کے ایام نجف میں اپنے والد، چچا اور محمد حسین طریحی سے کسب فیض میں صرف کئے۔[10] ۱۰۶۲ ق میں انہوں نے عراق سے مکہ کا سفر کیا اور اثناء راہ میں بعض کتابیں تصنیف کیں۔ اس کے بعد انہوں نے ایران کا سفر کیا۔[11]

ان کی کتب کی تالیف کے زمانہ کے اعتبار سے انہوں نے ۱۰۷۹ ق میں مشہد کا سفر کیا۔[12] ان کی کتاب ایضاح الحساب کی تالیف کا کام ۱۰۸۳ ق میں اصفہان میں مکمل ہوا ہے۔[13] جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے کچھ عرصہ اصفہان میں بھی قیام کیا ہے۔ اس کے بعد چند اور شہروں کا سفر کرنے کے بعد وہ نجف واپس پلٹ گئے۔[14]

اساتذہ و تلامذہ

محمد بن جعفر نجفی، امیر شرف الدین علی شولستانی اور شیخ محمود بن حسام الدین بن درویش طریحی کے اساتذہ میں سے ہیں۔[15]

صفی الدین بن فخر الدین طریحی، محمد باقر مجلسی، سید ہاشم بحرانی و سید ہاشم بن سلیمان کتکانی ان کے شاگردوں میں سے تھے۔[16]

آقا بزرگ تہرانی[17] نے طریحی کا شمار، اس فرض کے ساتھ کہ کتکانی نے ان سے بلا واسطہ روایت نقل کی ہے، معمر[18] افراد میں کیا ہے۔

حدیثی شخصیت

طریحی کا نام روایات کے اجازات کی سند میں ذکر ہوا ہے[19] اور خود ان کے پاس بھی اجازہ روایت اور سماع تھا[20] اور انہوں نے اپنے بعض شاگردوں کو اجازہ روایت عطا کیا ہے۔[21]

وفات

بعض منابع کے مطابق،[22] طریحی نے ۱۰۸۵ ق میں رماحیہ شہر میں وفات پائی۔ انتقال کے بعد ان کا جنازہ نجف لایا گیا اور انہیں محلہ براق میں ان کی مسجد جو آج الجامع الطریحی مشہور ہے، میں دفن کیا گیا۔ البتہ بعض منابع[23] نے ان کی تاریخ وفات کو ۱۰۸۷ ق لکھا ہے اور ان کا ماننا ہے کہ پہلی تاریخ کو شیخ حر عاملی نے غلطی سے نقل کر دیا ہے اور باقی سب نے ان کی پیروی کی ہے۔

تالیفات

مجمع البحرین
  • طریحی کی سب سے اہم کتاب مجمع البحرین و مطلع النیرین ہے۔ یہ کتاب اولین شیعہ تالیف ہے جس میں قرآن و حدیث کے مشکل الفاظ کی تشریح و توضیح کو ایک ساتھ ایک مقام پر بیان کیا گیا ہے۔[24] انہوں نے اس کتاب کو اپنی ۲ کتابوں غریب القرآن و غریب الحدیث کے بعد تصنیف کیا ہے۔[25] ظاہرا طریحی نے اس کتاب کی تالیف میں سب سے استفادہ ان کتابوں الصحاح جوہری (متوفی ۳۹۳ ق)، معجم مقاییس اللغۃ، مجمل اللغت احمد بن فارس، (متوفی ۳۹۵ ق)، النہایۃ فی غریب الحدیث ابن اثیر جزری (متوفی ۶۰۶ ق) و القاموس المحیط مجد الدین فیروز آبادی (متوفی ۸۱۷ ق) سے کیا ہے۔[26]
  • طریحی کی ایک دوسری تصنیف قرآن کریم کے مشکل الفاظ کے معانی کے سلسلہ میں ہے جس کا نام غریب القرآن ہے[27] جو تفسیر غریب القرآن کے نام سے شائع ہوئی ہے۔ آقا بزرگ تہرانی[28] کے بقول، طریحی نے اس کتاب کی تالیف ۱۰۵۱ ق میں مجمع البحرین سے پہلے مکمل کی ہے۔ ظاہرا طریحی نے اس کتاب کی تالیف و تدوین نزہت القلوب و فرحۃ المکروب ابو بکر محمد بن عزیز سجستانی (متوفی ۳۳۰ ق) سے با آسانی استفادہ اور حروف تہجی کے اعتبار سے اس کی ترتیب اور اس میں بعض مطالب کا اضافہ کرنے کی غرض سے کی ہے۔[29] آقا بزرگ تہرانی[30] ان کی کتاب غریب القرآن اور دوسری دو کتابوں نزہت الخاطر و سرور الناظر و کشف غوامض القرآن میں فرق کے قائل ہیں۔ لیکن جعفر آل محبوبہ[31] کا ماننا ہے کہ ان تالیفات میں کوئی تفاوت نہیں ہے اور یہ تینوں در اصل ایک ہی کتاب کے تین مختلف نام ہیں۔
  • ان کی تالیفات میں سے ایک مشہور تالیف علم رجال کے سلسلہ میں ہے۔ یہ کتاب مختلف عناوین کے ساتھ ذکر ہوئی ہے جیسے جامع المقال فی تمییز المشترکۃ من الرجال،[32] جامع المقال فیما یتعلق باحوال الحدیث و الرجال[33] و تمییز المشترکات منہم، و تمییز المتشابہ من أسماء الرجال،[34] طریحی نے اس کتاب کو ۱۲ ابواب میں ۱۰۵۳ ق میں تالیف کیا ہے جو ظاہرا کتاب کا اصلی متن ہیں۔ انہوں نے ۱۲ فائدے اسم و نسب و کنیت و القاب کے مشترکات کی شناخت اور دوسرے قابل ذکر مطالب کے سلسلہ میں جیسے کتب اربعہ کی احادیث کی تعداد اور بعض متقدم مشایخ کی تاریخ وفات ذکر کی ہیں۔[35] ان کے شاگرد محمد امین کاظمی، کتاب ہدایۃ المحدثین کے مولف نے اس کتاب کے بارہویں باب کی شرح کے سلسلہ میں کتاب تحریر کی ہے۔[36] امین کے قول کے مطابق،[37] شیخ عبد الحسین طریحی (فخر الدین طریحی کے پوتے) نے جامع المقال کو ۱۲۶۲ میں متقن الرجال فی تلخیص جامع المقال کے عنوان سے خلاصہ کیا ہے۔
  • طریحی کی دوسری تصنیفات میں سے ایک المُنتخب فی جمع المَراثی و الخُطَب ہے جو اہل بیت علیہم السلام[38] کے سوگ میں مراثی اور خطبات پر مشتمل ہے۔[39] اس کتاب میں طریحی کے اشعار کا ایک مجموعہ بھی شامل ہے۔ شیخ حر عاملی[40] کے مطابق طریحی کی ایک اور تالیف المقتل کے نام سے بھی ہے۔ لیکن افندی[41] نے ان دونوں کتابوں کو ایک ہی تسلیم کیا ہے۔ یہ کتاب جو مجالس الطریحی و مجالس الفخریہ کے نام سے بھی ذکر ہوئی ہے، پہلے ۱۳۰۷ ش میں ابو الفرج اصفہانی کی کتاب مقاتل الطالبین کے حاشیے میں تہران سے شائع ہوئی ہے اور اس کا پہلا اور دوسرا جزء جداگانہ طور پر بھی بارہا شائع ہو چکا ہے۔[42]
  • طریحی کی دوسری تالیفات میں ایک فقہی کتاب الفخریۃ الکبری ہے جس میں انہوں نے طہارت کے باب میں اور بعض نماز کے سلسلہ میں اپنے فتاوی کو جمع کیا ہے۔ اس کتاب کی تالیف ۱۰۸۲ ق میں مکمل ہوئی ہے۔[43] طریحی نے خود ہی کتاب کی تلخیص الفخریۃ الصغری کے نام سے کی ہے۔[44] احتمالا حر عاملی[45] نے جس کتاب کا تذکرہ الفخریۃ فی الفقہ کے نام سے کیا ہے ان کا اشارہ ان ہی دونوں کتابوں کی طرف ہے۔ فخر الدین طریحی کے فرزند صفی الدین طریحی نے اس کتاب کی شرح الریاض الزہریۃ فی شرح الفخریۃ[46] کے نام سے اور ان کے بھتیجے حسام الدین طریحی نے شرح مزجی منہج الشریۃ الغراء فی شرح الفخریۃ الصغری [47] کے نام سے کی ہے۔

دوسری تصنیفات

طریحی نے بعض کتابیں دوسری کتابوں کی شرح کے طور پر تحریر کی ہیں جن میں یہ کتابیں شامل ہیں: الضیاء اللامع فی شرح مختصر الشرائع۔[48] النکت الفخریہ شرح رسالة الاثنی عشریہ فی الطہارہ و الصلاہ، تالیف شیخ حسن بن شہید ثانی۔[49] النکتُ اللطیفة فی شرح صحیفة السجادیہ۔[50] شرح المبادئ الأصولیہ علامہ حلی۔[51] إیضاح الحساب شرح خلاصة الحساب شیخ بہائی[52] و اللمع فی شرح الجمع۔[53]

حوالہ جات

  1. رجوع کریں حر عاملی، ج۲، ص۲۱۴؛ بحرانی، مدینة المعاجز، ج۳، ص۲۹۸، ۳۲۵، ۳۲۸؛ آقا بزرگ طہرانی، ۱۴۱۱، ص۴۳۳
  2. تفسیر غریب القرآن، ص۴
  3. برای نمونہ، رجوع کریں حر عاملی، ج۲، ص۲۱۴؛ موسوی جزائری، ص۳۷؛ نوری طبرسی، ج۲، ص۷۵
  4. ۱۴۱۱، ص۴۳۳
  5. (۱۴۱۱، ص۴۳۳؛ نیز رجوع کریں آقا بزرگ طہرانی، الذریعہ، ج۱، ص۱۱۴، ۲۸۲؛ قس الذریعہ، ج۱۱، ص۱۷۴، ج۱۸، ص۳۴۹، میں ان کے والد کا نام محمد ثبت کیا ہے۔
  6. ص۱۰۸
  7. مدرس تبریزی، ج۴، ص۵۴؛ امین، ج۸، ص۳۹۴؛ برای وجہ تسمیہ جدّ وی بہ طُریح، رجوع کریں نجفی، ص۷۲۳، پانوشت۲
  8. رجوع کریں امین، ج۸، ص۳۹۴؛ نجفی، ص۷۲۳- ۷۲۴
  9. ۔امین، ج۸، ص۳۹۴؛ نجفی، ص۷۲۳- ۷۲۴
  10. طریحی، ۱۴۰۸، ج۱، مقدمہ محقق، ص۹- ۱۰؛ نجفی، ص۷۲۴-۷۲۵
  11. نجفی، ص۷۲۷
  12. طریحی، ۱۴۰۸، ج۴، ص۵۸۷؛ نیز رجوع کریں افندی، ج۴، ص۳۳۳
  13. آقا بزرگ طهرانی، الذریعہ، ج۲، ص۴۹۳-۴۹۴
  14. امین، ج۸، ص۳۹۵
  15. بحرانی، لؤلؤة البحرین، ص۶۷-۶۸؛ کشمیری، ۱۴۰۹، ص۱۰۷؛ امین، ج۸، ص۳۹۵؛ برای دیگر استادان وی، رجوع کریں طریحی، ۱۴۰۸، ج۱، مقدمہ محقق، ص۱۰- ۱۱
  16. کشمیری، ص۱۰۷؛ مدرس تبریزی، ج۴، ص۵۴؛ امین، ج۸، ص۳۹۵؛ برای دیگر شاگردان وی، رجوع کریں طریحی، ۱۴۰۸، ج۱، مقدمۀ محقق، ص۱۱- ۱۲
  17. ۱۴۱۱، ص۴۳۴
  18. لمبی عمر پانے والے
  19. برای نمونہ، رجوع کریں سماہیجی-بحرانی،ص۱۰۸-۱۰۹،۱۶۰؛ موسوی‌ جزائری، ص۳۷، ۸۸-۹۰؛ نراقی، عوائد الأیام، مقدمہ محقق، ص۷۱
  20. رجوع کریں بحرانی، لؤلؤة البحرین، ص۶۷-۶۸؛ نجفی، ص۷۲۵
  21. رجوع کریں امین، ج۸، ص۳۹۵؛ برای نمونہ، رجوع کریں بحرانی، مدینة المعاجز، ج۴، ص۳۱۲؛ مدرس تبریزی، ج۴، ص۵۴
  22. برای نمونه، رجوع کریں افندی، ج۴، ص۳۳۲؛ موسوی خوانساری، ج۵، ص۳۵۰؛ مدرس تبریزی، ج۴، ص۵۵
  23. کشمیری، ص۱۰۷؛جعفر آل محبوبه، ۱۴۰۶، ج۲، ص۴۵۷
  24. افندی، ج۴، ص۳۳۳؛ بحرانی، لؤلؤة البحرین،ص۶۷؛ کشمیری، ص۱۰۷
  25. رجوع کریں افندی، ج۴، ص۳۳۳؛ آقا بزرگ طهرانی، الذریعہ، ج۲۰، ص۲۲
  26. آقا بزرگ طهرانی، ج۲۰، ص۲۲
  27. افندی، ج۴، ص۳۳۴
  28. الذریعہ، ج۱۶، ص۴۸
  29. رجوع کریں طریحی، تفسیر غریب القرآن، ص۴
  30. الذریعہ، ج۱۶، ص۴۸
  31. 1406، ج۲، ص۴۵۶
  32. رجوع کریں افندی، ج۴، ص۳۳۴؛ بغدادی، ہدیة العارفین، ج۱، ص۴۳۲؛ امین، ج۸، ص۳۹۵
  33. آقا بزرگ طہرانی، الذریعہ، ج۵، ص۷۳
  34. سماہیجی بحرانی، ص۱۰۸؛ اعجاز حسین، کشف الحجب والأستار، ص۱۴۱
  35. طریحی، جامع المقال،ص۵۱-۱۹۸
  36. حر عاملی، ج۲، ص۲۴۶؛ آقا بزرگ طہرانی، الذریعہ، ج۵، ص۷۴، ج۲۵، ص۱۹۰
  37. ج۷، ص۴۵۱
  38. اعجاز حسین، کشف الحجب والأستار، ص۵۵۸؛ آقا بزرگ طہرانی، الذریعہ، ج۲۲، ص۴۲۰
  39. رجوع کریں نجفی، ص۷۲۹
  40. 1104، ج۲، ص۲۱۵
  41. ج۴، ص۳۳۴
  42. طریحی، جامع المقال، مقدمہ محقق، ص«یب»، پانوشت ۲؛ آقا بزرگ طہرانی، الذریعہ، ج۲۲، ص۴۲۰
  43. افندی، ج۴، ص۳۳۴؛ موسوی خوانساری، ج۵، ص۳۵۱؛ امین، ج۸، ص۳۹۵؛ آقا بزرگ طهرانی، الذریعہ، ج۱۶، ص۱۲۷
  44. رجوع کریں افندی، ج۴، ص۳۳۴؛ آقابزرگ طهرانی، الذریعة، ج۱۶، ص۱۲۶
  45. ج۲، ص۲۱۵
  46. رجوع کنید به امین، ج۷، ص۳۹۱؛ آقا بزرگ طہرانی، الذریعہ، ج۱۱، ص۳۲۵، ج۱۶، ص۱۲۷
  47. رجوع کریں آقا بزرگ طہرانی، ج۱۳، ص۳۷۸،ج۲۲، ص۱۹۲
  48. افندی، ج۴، ص۳۳۴؛ کشمیری، ص۱۰۷؛ آقا بزرگ طہرانی، الذریعہ، ج۱۵، ص۱۲۸
  49. افندی، ج۴، ص۳۳۴؛ امین، ج۸، ص۳۹۵؛ آقا بزرگ طہرانی، الذریعہ، ج۲۴، ص۳۰۵؛ ان کے نقل قول کے لئے رجوع کریں بحرانی، الحدائق الناضرة، ج۹، ص۳۸۹-۳۹۱
  50. افندی، ہمان، ج۴، ص۳۳۵
  51. موسوی خوانساری، ج۵،ص۳۵۱؛ امین، ج۸، ص۳۹۵؛ آقا بزرگ طہرانی، الذریعہ، ج۱۴، ص۵۳
  52. امین، ج۸، ص۳۹۵؛آقابزرگ طهرانی، الذریعة،ج۲،ص۴۹۳-۴۹۴
  53. آقا بزرگ طہرانی، الذریعہ، ج۱۸، ص۳۴۹؛ طریحی کی دوسری تالیفات کے لئے رجوع کریں افندی، ج۴، ص۳۳۳-۳۳۵؛ امین، ج۸، ص۳۹۵؛ نجفی، ص۷۲۷-۷۲۹


منابع

  • آقا بزرگ طہرانی، الذریعہ الی تصانیف الشیعة، بیروت، بی‌ تا
  • آقا بزرگ طہرانی، طبقات اعلام الشیعه، بیروت ۱۴۱۱
  • اعجاز حسین، کشف الحجب و الأستار، قم ۱۴۰۹
  • عبد الله افندی اصفہانی، ریاض العلماء و حیاض الفضلاء، چاپ احمد حسینی، قم ۱۴۰۳
  • محسن امین، اعیان الشیعہ، بیروت۱۴۱۰
  • ہاشم بحرانی، مدینة معاجز الأئمة الاثنی عشر و دلائل الحجج علی البشر، قم ۱۴۱۳
  • یوسف بن احمد بحرانی، الحدائق الناضرہ فی أحکام العترة الطاہرہ، قم، بی‌ تا
  • یوسف بن احمد بحرانی، لؤلؤة البحرین، قم، بی‌ تا
  • اسماعیل پاشا بغدادی، ہدیة العارفین، اختصارات
  • جعفر آل محبوبہ، ماضی النجف و حاضر‌ہا، بیروت ۱۴۶۰
  • محمد بن حسن حر عاملی، امل الآمل، قم ۱۳۶۳ ش
  • سماہیجی بحرانی، عبد الله بن صالح، الإجازة الکبیرہ، چاپ مہدی عوازم قطیفی، قم ۱۴۱۹
  • فخر الدین طریحی، المنتخب فی جمع المراثی و الخطب، بیروت ۱۴۱۲
  • فخر الدین طریحی، تفسیر غریب القرآن، چاپ محمد کاظم طریحی، قم، بی‌ تا
  • فخر الدین طریحی، جامع المقال فیما یتعلق باحوال الحدیث و الرجال، تهران، بی‌ تا
  • فخر الدین طریحی، مجمع البحرین و مطلع النیرین، تہران ۱۴۰۸
  • محمد علی کشمیری، نجوم السماء فی تراجم العلماء، قم، بی‌ تا
  • محمد علی مدرس تبریزی، ریحانة الادب، تهران ۱۳۶۹ ش
  • عبد الله موسوی جزائری تستری، الإجازة‌ الکبیرہ، چاپ محمد سمامی حائری، قم ۱۴۰۹
  • محمد باقر موسوی خوانساری، روضات الجنات، قم ۱۳۹۲
  • خبیر نجفی، الشیخ فخر الدین الطریحی، لغة العرب، السنہ ۶، الجزء ۱۰ (المسلسل ۶۶)
  • احمد نراقی، عوائد الأیام، قم ۱۴۱۷
  • حسین نوری طبرسی، خاتمة مستدرک الوسائل، قم ۱۴۱۵