سید موسی شبیری زنجانی

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
سید موسی شبیری زنجانی
فائل:سید موسی شبیری زنجانی۲.jpg
سید موسی شبیری زنجانی
کوائف
مکمل نام سید موسی شبیری زنجانی
تاریخ ولادت 1306 ش
نامور اقرباء سید احمد شبیری زنجانی
علمی معلومات
مادر علمی قم، نجف اشرف
اساتذہ آیت اللہ خوئی، سید محسن الحکیم، سید عبد الہادی شیرازی۔
تالیفات تحقیق رجال نجاشی
خدمات
سماجی امام جماعت حرم حضرت معصومہ قم


سید موسی شُبیری زَنجانی (ولادت ۱۳۰۶ ش)، حوزہ علمیہ قم کے مراجع تقلید اور فقہ و اصول فقہ کے دروس خارج کے اساتید میں سے ہیں۔ ان کا شمار ان سات فقہا میں ہوتا ہے جنہیں آیت اللہ اراکی کے انتقال کے بعد جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم نے جایز التقلید و مرجعیت کے اہل کے طور پر پیش کیا تھا۔ انہوں نے قم اور نجف میں تعلیم حاصل کی ہے اور آیت اللہ بروجردی، آیت اللہ خوئی و سید محمد داماد کے دروس میں شریک رہے ہیں۔ وہ علم رجال میں خاص تبحر رکھتے ہیں اور ان کے امتیازات میں سے ایک یہ ہے کہ وہ خبر واحد کی حجیت کو قبول نہیں کرتے ہیں۔ ان کی بعض تالیفات میں رجال نجاشی پر ان کی تحقیق شائع ہو چکی ہے۔ اپنے والد سید احمد زنجانی کی طرح وہ بھی حرم حضرت معصومہ قم میں نماز فجر و مغربین کی امامت کے فرائض انجام دیتے ہیں۔

سوانح حیات

سید موسی شبیری زنجانی کی ولادت ۸ رمضان ۱۳۴۶ ھ مطابق ۱۰ اسفند ۱۳۰۶ ش میں قم میں ہوئی۔ ان کے والد سید احمد شبیری زنجانی اپنے عہد کے علما میں سے تھے۔ انہوں نے ۲۵ برس زنجان کے مدرسہ سید زنجان میں تحصیل و تدریس میں بسر کئے۔ ۲ جمادی الثانی ۱۳۴۶ ھ سے انہوں نے قم میں قیام اختیار کیا۔ ان کا شمار شیخ عبد الکریم حائری کے قریبی افراد میں ہوتا ہے۔[1]

درس و تدریس

انہوں نے ۱۳۵۹ یا ۱۳۶۰ ھ میں دینی تعلیم کا آغاز کیا۔ حوزہ کے سطوح کے دورس کو انہوں نے تین یا چار سال میں مکمل کیا۔ اس کے بعد وہ سید صدر الدین صدر کے درس میں شرکت کرنے لگے۔ اس درس میں شرکت کرنے والوں میں وہ سب سے کم عمر طالب علم تھے۔[2]

انہوں نے آیت اللہ بروجردی کے فقہ و اصول فقہ کے درس خارج میں شرکت کی اور کتاب الغصب، کتاب الاجارہ و کتاب الصلاۃ میں ان سے کسب فیض کیا۔ اسی طرح سے انہوں نے ۲۱ برس کی عمر سید محمد داماد کے فقہ کے درس خارج میں شرکت کی اور ان سے اصول فقہ کا ایک مکمل دورہ پڑھا۔[3] سید موسی صدر اور شہید بہشتی کی طرح آپ بھی سید محمد داماد کے تلامذہ میں سے ہیں۔[4]

نجف کا سفر

موسی شبیری زنجانی نے ۱۳۷۳ اور ۱۳۷۴ ھ میں دو بار حوزہ علمیہ نجف کا رخ کیا اور وہاں سید عبد الہادی شیرازی و سید محسن حکیم کے فقہ کے درس خارج میں شرکت کی اور اسی طرح سے آیت اللہ خوئی کے فقہ و اصول فقہ کے درس خارج میں بھی شرکت کی۔[5]

درس خارج کی تدریس کا آغاز

سید موسی شبیری ۱۳۴۰ ش سے ہی مدرسہ حقانی قم کے اساتذہ میں سے ہیں۔[6] انہوں نے فقہ میں کتاب الحج کے درس خارج کی تدریس کا سلسلہ ۱۳۸۸ میں اس وقت شروع کیا جب ان کے استاد آیت اللہ محقق داماد حیات تھے اور یہ سلسلہ درس ۱۵ برس تک چلتا رہا۔ ان کا علم اصول کا درس خارج بھی مدتوں درس اصلی کے طور پر چلتا رہا لیکن وہ جاری نہیں رہ سکا۔ البتہ وہ اپنے نکات کو فقہ کے درس خارج کے ضمن میں بیان کر دیتے ہیں۔[7]

مرجعیت

آیت اللہ شبیری زنجانی کا شمار ان سات فقہا میں سے ہوتا ہے جن کا اعلان جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم کی طرف سے آیت اللہ اراکی کے انتقال کے بعد ۱۳۷۳ ش میں کیا گیا اور انہیں جایز التقلید قرار دیا گیا تھا۔[8]

علم رجال میں ان کا تبحر، روایات پر ان کی خاص توجہ اور حجیت خبر واحد کا قبول نہ کرنے کو ان کے مخصوص فقہی نظریات میں شمار کیا جاتا ہے۔ سید محسن حکیم و سید ابو القاسم خوئی کے آرا و نظریات پر خاص توجہ، انسداد باب علم کا نظریہ رکھنا، فقہا کے لئے امور حکومتی میں وسیع اختیارات نہ رکھنے کا قائل ہونا، ان کے دیگر فقہی نظریات کے مبنا ہیں۔[9]

تالیفات

سید موسی شبیری نے کتابوں کی تالیف کے علاوہ بعض اہم شیعہ کتب کی تصحیح، تحقیق اور تعلیقہ کا کام بھی انجام دیا ہے۔ ان کی تحقیق میں رجال نجاشی، کتاب اشنائے حق و محمد بید آیادی کے افکار و سلوک پر تعلیقہ۔ ان کے مہم ترین آثار درج ذیل ہیں:

  • تحقیق رجال نجاشی: رجال نجاشی ان کی تحقیق کے ساتھ ۱۴۱۶ ھ میں جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم کے انتشارات کی طرف سے شائع ہوئی۔[10] اس کتاب کی تحقیق رجال نجاشی کے ۱۴ معتبر نسخوں سے استفادہ کرتے ہوئے انجام دی گئی ہے۔[11]
  • آشنائے حق پر تعلیقہ: آقا محمد بید آبادی کے آثار و احوال، آشنائے حق نامی فارسی کتاب میں علی صدرایی خوئی نے قلم بند کئے ہیں اور آیت اللہ شبیری زنجانی نے اس پر تعلیقات تحریر کئے ہیں۔ یہ کتاب ۱۳۹۱ ش میں انتشارات خویی کی جانب سے طبع ہوئی ہے۔[12] جبکہ اصل کتاب ۱۳۷۹ ش میں نشر نہاوندی نے شائع کی ہے۔[13]
  • جرعہ ای از دریا: اس کتاب میں ان کے بعض غیر مطبوعہ و بعض محدود مطبوعہ آثار، طریقیات نامی فصل کے ہمراہ، جن میں ان کے گھر سے حرم حضرت معصومہ (ع) کے راستے میں بیان ہونے والی بعض اقوال شامل ہیں، شائع ہوئے ہیں۔ اس کتاب کی پہلی فصل میں فارسی کی ۱۴ کتب، مقالات، انٹرویوز اور فارسی کتب پر تعلیقات شامل ہیں۔ اس کی دوسری فصل میں عربی کی آٹھ کتب ہیں جن میں سے زیادہ تر تعلیقات ہیں۔ اس کتاب کی آخری حصہ میں طریقیات ہیں جن میں علمی، تاریخی و اخلاقی نکات ذکر کئے گئے ہیں اور اس میں علما میں سے ۴۰ شخصیات کی سوانح حیات اور ان کی خصوصیات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ یہ کتاب تین جلدوں پر مشتمل ہے اور موسسہ کتاب شناسی شیعہ کی طرف سے شائع ہوئی ہے۔[14] یہ تین جلدی کتاب ۱۳۸۸ ش میں موسسہ کتاب شناسی شیعہ قم کی جانب سے فارسی زبان میں طبع ہوئی ہے۔[15]

وابستہ مراکز و ادارے

  • مدرسہ فقہی امام محمد باقر (ع): یہ مدرسہ ۱۳۸۰ ش میں تاسیس ہوا۔ اس کی تاسیس کا مقصد فقہی مطالعات و قوی استعداد فقہا کی تربیت و پرورش کرنا تھا۔[16] اس کا تعلیمی سلسلہ حوزہ علمیہ کے پایہ ۷ سے شروع ہوتا ہے اور ۱۲ سال میں مکمل ہوتا ہے۔[17]
  • مرکز فقہی امام محمد باقر (ع): یہ مرکز سید احمد شبیری زنجانی کی تالیفات کے احیا و سید موسی شبیری زنجانی کے آثار کی نشر و اشاعت کی غرض سے اردیبہشت ۱۳۹۱ ش میں تاسیس کیا گیا۔ اس کی فعالیت کا دائرہ علوم فقہ، اصول فقہ، رجال و فقہ الحدیث ہے۔ سوالات شرعی کے جوابات، آیت اللہ شبیری زنجانی کے دروس خارج کی تدوین و تنظیم، حوزہ علمیہ کے نصاب و متون درسی کی تدوین اس مرکز کے امور میں شامل ہے۔[18]

کارنامے

سید موسی شبیری ان فقہا و مراجع میں شامل ہیں جن کی بہت سی سیاسی فعالیت پردہ خفا میں انجام پاتی ہے۔ اس کے باوجود پہلوی حکومت کے خلاف بعض پوسٹروں میں ان کے دستخط مشاہدہ میں آتے ہیں۔ انہوں نے اپنے والد سید احمد شبیری زنجانی کے بعد حرم حضرت معصومہ (ع) میں نماز فجر و نماز مغربین کی امامت کی ذمہ داری سنبھالی۔[19]

حوالہ جات

  1. «ولادت» www.zanjani.net
  2. «آغاز دروس معظّم لہ»www.zanjani.net
  3. «اساتید اصلی معظّم لہ در دروس خارج»www.zanjani.net
  4. فتحی، «از نجف‌آباد تا زنجان»، ص۵.
  5. «سفر معظّمٌ لہ بہ نجف اشرف».www.zanjani.net
  6. فتحی، «از نجف‌آباد تا زنجان». ص۵.
  7. «دروس خارج معظم لہ».www.zanjani.net
  8. «۱۳۷۳: سال معرفی مراجع تقلید شیعیان».www.zanjani.net
  9. فتحی، «از نجف‌آباد تا زنجان». ص۵.
  10. رجوع کریں: «رجال نجاشی».www.zanjani.net
  11. جاودان، «رجال نجاشی؛ سیر رجال‌نویسی متقدمان»، ص۱۶.
  12. «آشنای حق: درباره آقا محمد بیدآبادی».www.zanjani.net
  13. رجوع کریں: «آشنای حق».www.zanjani.net
  14. «جرعہ ای از دریا».www.zanjani.net
  15. «جرعہ ای از دریا».www.zanjani.net
  16. «صفحہ معرفی مختصر مدرسہ».www.zanjani.net
  17. «نظام آموزشی مدرسہ».www.zanjani.net
  18. «درباره ما».www.zanjani.net
  19. فتحی، «از نجف‌آباد تا زنجان»، ص۵.


مآخذ

  • «۱۳۷۳: سال معرفی مراجع تقلید شیعیان»، سایت تاریخ ایرانی، تاریخ درج مطلب: ۱۱ فروردین ۱۳۹۳ش، تاریخ بازدید: ۱۴ فروردین ۱۳۹۷ش.
  • «آشنای حق: اندیشہ و رفتارہای سلوکی آقا محمد بید آبادی»، سایت دار آخرت، تاریخ درج مطلب: ۱۴ مرداد ۱۳۹۱ش، تاریخ بازدید: ۱۴ فروردین ۱۳۹۷ش.
  • «آشنای حق: شرح احوال و افکار آقا محمد بید آبادی»، سایت خانہ کتاب، تاریخ بازدید: ۱۴ فروردین ۱۳۹۷ش.
  • «آغاز دروس معظم لہ»، سایت اطلاع‌ رسانی آیت الله شبیری زنجانی، تاریخ درج مطلب: ۷ تیر ۱۳۹۳، تاریخ بازدید: ۱۴ فروردین ۱۳۹۷ش.
  • «اساتید اصلی معظم لہ در دروس خارج»، سایت اطلاع‌ رسانی آیت الله شبیری زنجانی، تاریخ درج مطلب: ۷ تیر ۱۳۹۳، تاریخ بازدید: ۱۴ فروردین ۱۳۹۷ش.
  • افشار، صبا، «جرعہ ای از دریا»، سایت موسسہ کتاب شناسی شیعہ، تاریخ درج مطلب: ۲۰ آبان ۱۳۹۲ش، تاریخ بازدید: ۱۴ فروردین ۱۳۹۷ش.
  • جاودان، محمد، «رجال نجاشی؛ سیر رجال‌ نویسی متقدمان»، در مجلہ کیہان فرہنگی، ش۳۷، ص۱۶.
  • «جرعہ ای از دریا»، سایت بنیاد محقق طباطبایی، تاریخ بازدید: ۱۴ فروردین ۱۳۹۶ش.
  • «سفر معظم لہ بہ نجف اشرف»، سایت اطلاع‌ رسانی آیت الله شبیری زنجانی، تاریخ درج مطلب: ۷ تیر ۱۳۹۳، تاریخ بازدید: ۱۴ فروردین ۱۳۹۷ش.
  • فتحی، علی اشرف، «از نجف‌ آباد تا زنجان»، در نشریہ بہار زنجان، ش۳۰۸، ۱۲ دی ۱۳۸۸ش، ص۵.
  • «درباره ما»، سایت مرکز فقہی امام محمد باقر(ع)، تاریخ بازدید: ۱۴ فروردین ۱۳۹۷ش.
  • «معرفی مختصر مدرسہ»، سایت مدرسہ فقہی امام محمد باقر(ع)، تاریخ بازدید: ۱۴ فروردین ۱۳۹۷ش.
  • نجاشی، احمد بن علی، رجال النجاشی، تحقیق سید موسی شبیری زنجانی، قم، مؤسسہ النشر الإسلامی، [۱۴۰۷ق].
  • «نظام آموزشی مدرسہ»، سایت مدرسہ فقہی امام محمد باقر(ع)، تاریخ بازدید: ۱۴ فروردین ۱۳۹۷ش.
  • «ولادت»، سایت اطلاع‌ رسانی آیت الله شبیری زنجانی، تاریخ درج مطلب: ۷ تیر ۱۳۹۳، تاریخ بازدید: ۱۴ فروردین ۱۳۹۷ش.