جاہل مقصر

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

جاہل مُقَصّر، اس شخص کو کہا جاتا ہے جو شرعی احکام کو نہیں جانتا ہے اور اس نہ جاننے میں اس نے کوتاہی کی ہے۔ شیعہ علما کے نظریے کے مطابق جاہل مقصر آخرت میں سزا کا مستحق ہوگا۔ فقہا کا کہنا ہے کہ «جاہل مقصر» نے جو اعمال انجام دیا ہے اگر اس کے مرجع تقلید کے فتوا کے مطابق واقع ہوئی ہوں تو صحیح ہے۔

تعریف

علم اصول فقہ میں جاہل کی دو قسمیں بیان ہوئی ہیں: جاہل قاصر اور جاہل مقصر[1] جاہل مقصر اس شخص کو کہا جاتا ہے جو شرعی احکام نہیں جانتا ہے؛ لیکن سیکھ سکتا تھا اور سیکھنے میں کوتاہی کی ہے۔[2]

جاہل مقصر کی عبادتیں

شیعہ فقہاء قائل ہیں کہ «جاہل مقصر» کے توسط انجام شدہ اعمال اگر اس کے مرجع تقلید کے مطابق واقع ہوئی ہوں یا واقع کے مطابق انجام پائی ہوں اور قصد قربت کے ساتھ بجالا لایا ہو، تو صحیح ہے۔[3] فقہاء روایات سے متسمک ہوتے ہوئے کہتے ہیں کہ دو خاص موارد میں اگر «جاہل مقصر» کی عبادت واقع کے مطابق انجام نہ بھی پائی ہو تو بھی صحیح ہے۔[4] اور وہ دو موارد مندرجہ ذیل ہیں:

  • جہاں نماز کو قصر پڑھنی تھی اور پوری پڑھا ہو۔
  • جہر و اخفات میں؛ جہاں نماز بلند آواز سے پڑھنی تھی وہاں آہستہ اور جہاں آہستہ پڑھنی تھی بلند آواز سے پڑھی ہو۔[5]

جاہل مقصر کی سزا

شیعہ علماء قائل ہیں کہ «جاہل مقصر»، آخرت میں سزا اور عقاب کا مستحق ہے؛[6] اور اس کی سزا کی علت کے بارے میں چند نظریے ہیں:[7]

  1. اکثر فقہاء کے مطابق جاہل مقصر نے چونکہ اپنی تکلیف اور وظیفے پر عمل نہیں کیا ہے اس لئے اسے سزا ملے گی۔[8]
  2. محقق اردبیلی اور صاحب مدارک کے مطابق اللہ تعالی «جاہل مقصر» کو سیکھنے میں کوتاہی کرنے کی وجہ سے سزا دے گا، اس لئے نہیں کہ اس نے اپنے شرعی اور واقعی وظیفے پر عمل نہیں کیا ہو۔[9]

متعلقہ مضامین

حوالہ جات

  1. ہاشمی شاہرودی، فرہنگ فقہ مطابق مذہب اہل بیت، ۱۳۸۲ش، ج۳، ص۱۵۳؛ دانشنامہ جہان اسلام، ۱۳۷۷ش، ج۱، ذیل مدخل «جہل».
  2. ولایی، فرہنگ تشریحی اصطلاحات اصول فقہ، ۱۳۷۳ش، ج۱، ص۲۴۱؛ دایرةالمعارف بزرگ اسلامی، ۱۳۷۳ش، ج۱، ذیل مدخل «جہل».
  3. نجفی، مجمع الرسائل، ۱۳۷۳ش، ج۱، ص۴۱.
  4. فرہنگ‌ نامہ اصول فقہ، ۱۳۸۹ش، ج۱، ص۳۷۴.
  5. فرہنگ‌نامہ اصول فقہ، ۱۳۸۹ش، ج۱، ص۳۷۴.
  6. سبحانی، مسائل جدید کلامی، ۱۳۸۲ش، ج۱، ص۳۳۳.
  7. پور اللہیار، «بررسی مسؤولیت جاہل بہ قانون در حقوق ایران»، ص۳۷.
  8. موسوی بجنوردی، علم اصول، ۱۳۷۹ش، ص۸۵.
  9. موسوی بجنوردی، علم اصول، ۱۳۷۹ش، ص۸۶.


مآخذ

  • پور اللہیار، حسن، «بررسی مسؤولیت جاہل بہ قانون در حقوق ایران»، در نشریہ علامہ، شمارہ ۹، بہار ۱۳۸۵ش.
  • دانشنامہ بزرگ جہان اسلام،‌ تہران، مرکز دایرةالمعارف بزرگ اسلامی، ۱۳۷۳ش.
  • سبحانی، جعفر، مسائل جدید کلامی، قم، موسسہ امام صادق، ۱۳۸۲ش.
  • فرہنگ نامہ اصول فقہ، بہ کوشش جمعی از نویسندگان، قم، پژوہشگاہ علوم و فرہنگ اسلامی، ۱۳۸۹ش.
  • موسوی بجنوردی، سید محمد، علم اصول، تہران، موسسہ چاپ و نشر عروج، ۱۳۷۹ش.
  • نجفی، محمد حسن، مجمع الرسائل، مشہد، موسسہ حضرت صاحب الزمان، ۱۳۷۳ش.
  • ولایی، عیسی، فرہنگ تشریحی اصطلاحات اصول فقہ، تہران، نشر نی، ۱۳۷۳ش.
  • ہاشمی شاہرودی، محمود، فرہنگ فقہ مطابق مذہب اہل بیت، قم، مرکز دایرةالمعارف فقہ اسلامی، ۱۳۸۲ش.