محمد بن عثمان عمری

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
محمد بن عثمان عَمری
سفیر دوم.jpg
معلومات
مکمل نام محمد بن عثمان
کنیت ابو عمرو
لقب کوفی • سمّان • عسکری
وجہ شہرت دوسرا نائب خاص امام زمانہ(ع)
محل زندگی سامرابغداد
مشہوراقارب عثمان بن سعید، والد
شہادت/وفات ۳۰۵ق
مدفن بغداد
اصحاب امام عسکری(ع)، امام زمانہ(ع)
مدت نیابت چالیس سال
دیگر کارنامے شیعوں اور امام زمانہ کے درمیان رابطہ


ابوجعفر محمد بن عثمان بن سعید عمری، (متوفی ۳۰۵ ہجری قمری) امام زمانہ(عج) کے نواب اربعہ میں سے دوسرے نائب خاص ہیں۔ انھوں نے ابتداء میں امام زمانہ(ع) کے وکیل اور اپنے والد عثمان بن سعید عمری کے معاون اور بعد میں اپنے والد کی موت کے بعد آپ(ع) کے دوسرے نائب خاص کے عنوان سے چالیس سال تک خدمات سرانجام دئے۔ محمد بن عثمان کی نیابت کے حوالے سے امام حسن عسکری(ع) کی روایت اور امام زمانہ(ع) کی توقیع مبارک میں تصریح ہونے کے باوجود امام زمانہ(ع) کی غیبت کے دوران آپ کی عمومی نیابت کے فرائض انجام دینے والے نائبین میں سے بعض نے ان کی نیابت خاص کے بارے میں شک و تردیک کا اظہار کیا اور بعض نے ان کے مقابلے میں امام کی جانب سے نیابت کا ادعا بھی کئے۔ اپنے والد کی طرح محمد بن عثمان نے بھی بعض معاونین کا انتخاب کیا جو ان وکالتی اور نیابتی امور کی انجام دہی میں ان کی مدد کرتے تھے۔ محمد بن عثمان اپنے زمانے کے فقہاء میں سے تھے اور علم فقہ میں وہ صاحب تالیف بھی تھے اسی طرح امام مہدی(ع) کے بارے میں ان سے بعض روایات بھی نقل ہوئی ہیں۔ بعض مشہور دعائیں جیسے دعائے سمات، دعائے افتتاح اور زیارت آل‌ یاسین وغیرہ نیز ان کے توسط سے نقل ہوئی ہیں۔

زندگی‌نامہ

محمد بن عثمان عمری کی تاریخ پیدائش کے بارے میں دقیق معلومات دستیاب نہیں ہے۔ دینی منابع میں ان کا نام محمد بن عثمان بن سعید (امام مہدی(ع) کا پہلا نائب خاص) اور ان کی کنیت "ابوجعفر" ذکر ہوا ہے۔ آپ کا تعلق بنی اسد کے قبیلہ سے تھا۔[1] ان کے بارے میں حدیثی اور رجالی منابع میں اس کے علاوہ کوئی اور کنیت ذکر نہیں ہوئی ہے۔[2] البتہ ان کے کئی القاب مختلف منابع میں ذکر ہوا ہے: کبھی ان کو "عَمْری"[3] کہا گیا ہے۔ اکثر رجالی اور حدیثی کتابوں میں انہیں اسی نام سے یاد کیا گیا ہے۔ اسی طرح ان کو "اسدی"[4] اور چہ بسا "کوفی"[5] کے نام سے بھی انہیں یاد کیا گیا ہے۔ "سمان"[6] اور "عسکری"[7] بھی ان کے القاب میں سے ہیں۔

وفات

احادیث کے مطابق محمد بن عثمان نے اپنی موت کے بارے میں پیشن گوئی کی تھی اور اپنی وفات سے دو مہینہ پہلے اس بارے میں خبر دی تھی۔ اس حدیث کے راوی نے ان کے ساتھ ہونے والے ملاقات میں ان سے پوچھا کہ کیوں اپنے لئے قبر کھود رکھی ہے؟ اس کے جواب میں انہوں نے جواب دیا تھا کہ مجھے اپنے امور کو سمیٹنے کا حکم ہے کیونکہ میں دو ماہ بعد اس دنیا سے جانے والا ہوں۔[8] [9]

امام زمانہ(ع) کے دوسرے نائب خاص کی وفات جمادی الاول کی آخری تاریخ سن ۳۰۵ق کو ہوئی۔[10] بغداد میں ان کی تشییع ہوئی اور اپنے والد کے مقبرے کے ساتھ انہیں سپرد خاک کیا گیا۔[11] محمد بن عثمان کی وصیت کے مطابق حسین بن روح نوبختی بغداد دارالنیابہ میں حاضر ہوئے اور محمد بن عثمان کا جانشین مقرر ہوا۔[12]

امام زمانہ(ع) کی وکالت اور نیابت

امام حسن عسکری(ع) نے اپنی ایک حدیث میں محمد بن عثمان کا امام مہدی(ع) کے نائب خاص ہونے کے بارے میں تصریح فرمائی تھی۔ واقعہ کچھ یوں ہے کہ یمن کے بعض شیعہ سامرا میں امام حسن عسکری(ع) کی خدمت میں حاضر ہوئے، امام(ع) نے عثمان بن سعید، محمد بن عثمان کے والد احضار فرمایا اور محمد بن عثمان کی وکالت اور ان کی وثاقت کی گوادی دی اور انہیں امام مہدی(ع) کے وکیل کے نام سے یاد فرمایا۔[13]

شیخ طوسی اپنی کتاب الغیبہ میں ایک روایت کو نقل کرتے ہیں جس کے مطابق محمد بن عثمان اور ان کے والد عثمان بن سعید دونوں امام حسن عسکری(ع) کے مورد اعتماد اور ثقہ تھے۔ اس حدیث میں امام حسن عسکری(ع) نے تصریح کی ہے کہ: یہ دونوں جو کچھ بھی تم تک پہنچاتے ہیں وہ ہماری طرف سے پہنچاتے ہیں اور یہ دونوں جو کچھ بھی کہتے ہیں وہ ہماری طرف سے اور ہمارے قول کو تم تک پہنچاتے ہیں۔ پس ان کی باتوں کو غور سے سنیں اور ان کی اطاعت کریں یہ دونوں میرے لئے قابل اعتماد اور امین ہیں۔[14]

تسلیت نامہ سے اقتباس

"یہ تمہارے والد کی سعادت اور خوشبختی کی علامت ہے کہ خداوندعالم نے ان کو تجھ سا بیٹا عطا فرمایا جو خدا کے حکم سے ان کا جانشین مقرر ہوا اور ان کیلئے طلب رحمت و مغفرت کرتا ہے۔ میں خدا کی حمد و ستائش بجا لاتا ہوں، بتحقیق ہمارے شیعوں کے قلوب تمہارے مقام و منزلت اور جو چیز خدا نے تجھ میں قرار دیا ہے، مسرور اور راضی ہونگے۔ حق تعالی تمہاری مدد فرمائے اور تمہیں قدر و طاقت عنایت فرمائے اور تمہیں یہ توفیق عنایت فرمائے اور خدا ہی تمہارا حافظ اور نگہبان قرار پائے۔"

شیخ طوسی کی روایت کے مطابق عثمان بن سعید (پہلا نائب خاص) فوت ہوا تو ان کے بیٹے محمد نے انہیں غسل دیا، کفن کیا اور انہیں سپرد خاک کیا۔[15] بارہویں امام(ع) کی جانب سے انہیں پسلیتی خط موصول ہوا جس میں امام(ع) نے محمد بن عثمان کے ساتھ اپنی ہمدردی کا اظہار فرمایا تھا اور اپنے والد کے بعد محمد بن عثمان کی نیابت کی طرف اشارہ کیا تھا۔[16]

نیابت کی مدت

شیخ طوسی اپنی کتاب الغیبۃ میں تصریح کرتے ہیں کہ محمد بن عثمان نے تقریبا پچاس سال تک نیابت کے فرائض انجام دی ہیں،[17] لیکن سید محمد صدر نے اس ادعا کو غلط قرار دیا ہے ان کی دلیل یہ ہے کہ چونکہ محمد بن عثمان کی وات سن ۳۰۵ق میں واقع ہوئی ہے جو امام حسن عسکری(ع) کی وفات سے صرف 45 سال کا فاصلہ ہے اور پہلے نائب یعنی عثمان بن سعید کی مدت نیابت تقریبا 5 سال کی تھی اس بنا پر دوسرے نائب کی مدت نیابت تقریبا 40 سال کی ہوگی نہ پچاس سال کی۔[18]

ان کی نیابت کے مخالفین

عثمان بن سعید کی وفات کے بعد جنہوں نے محمد بن عثمان کی نیابت میں شک و تردید کرتے ہوئے خود اپنی نیابت کا ادعا کیا وہ یہ ہیں:

  • حسن شریعی
  • محمد بن نصیر نمیری
  • احمد بن ہلال عبرتائی
  • محمد بن علی بن بلال
  • محمد بن احمد بن عثمان معروف بہ ابوبکر بغدادی
  • اسحاق احمر
  • باقطانی
  • حسین بن منصور حلاج[19][20]

دوران نیابت کے حالات

محمد بن عثمان کی نیابت کے دوران واقع ہونے والے اہم واقعات میں قیام صاحب زنج اور قرامطہ مذہب کا ظہور تھا۔ چونکہ صاحب زنج کا حسب و نسب زید بن امام سجاد(ع) تک پہنچتی تھی اس بنا پر علویوں کی ایک تعداد نے ان کی حمایت کی اور سن ۲۵۷ ہجری قمری میں ان کے قیام میں بھی شرکت کیں۔[21]

فرقہ قرامطہ، فرقہ اسماعیلیہ کی ایک شاخ کے عنوان سے بھی شیعوں کے ساتھ مربوط تھی جس کی وجہ سے مذہب امامیہ کیلئے مشکلات کھڑی کر سکتی تھی۔ جاسم حسین کے بقول حضرت قائم آل محمد(ع) کے قیام کے حوالے سے فرقہ قرامطہ کی جانب سے انجام پانے والی سرگرمیاں حکومت وقت کو ورغلا سکتی تھی یوں حکومت ان کی ان سرگرمیوں کو بارہویں امام(ع) کی غیبت سے مربوط قرار دیتے ہوئے ان سرگرمیوں کو آپ(ع) کے ظہور اور قیام کیلئے مقدمہ قرار دے۔ جاسم حسین معتقد ہیں کہ امام زمانہ(ع) کی جانب سے محمد بن عثمان کی نام ابوالخطاب کی مذمت میں صادر ہونے والی توقیع، فرقہ قرامطہ وغیرہ کے خطرات کے تناظر میں تھی اور گویا امام اس تحریر کے ذریعے شیعوں کو ان جیسے غلط اور گمراہ کن فرقوں کے ساتھ رابطہ رکھنے سے منع فرما رہے تھے۔[22]

طرز عمل

محمد بن عثمان نیابت اور وکالت کے فرائض کو مخالفین کی ہر قسم کی رکاوٹ سے دور رکھ کر انجام دینا چاہتا تھا اسلئے اس معاملے میں وہ تقیہ سے کام لیتا تھا۔ وہ اس طرح دکھاوا کرتا تھا کہ گویا امام حسن عسکری(ع) کے جانشین نہ رکھنے پر مبنی بنی عباس کا تصور صحیح ہے۔ وہ اپنے وکیلوں کو یہ تاکید کرتے تھے کہ اپنی فعالیتوں کو تقیہ کے ساتھ انجام دیں اور خدانخواستہ کبھی بھی امام کا نام اپنی زبان پر لائے تاکہ اس طرح حکومت وقت کی ذہنیت اس حوالے سے اسی طرح باقی رہے۔ محمد بن عثمان کی یہ حکمت عملی اس لئے تھی تاکہ حکومت مطمئن رہے کہ شیعوں کا کوئی رہبر اور قیادت کرنے والا نہیں ہے پس وہ قیام نہیں کرینگے۔[23] [24]

معاونین

محمد بن عثمان کی نیابت کے دوران بعض افراد اس فریضے کی ادائگی میں ان کے معاون و مددگار تھے۔ ان میں سے بعض مختلف مناطق میں ان کا نمائندہ تھا اور بعض ان کے شاگرد تھے جو ان سے حدیث نقل کرتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ صرف بغداد میں کم از کم دس افراد اس کے زیر نگرانی کام کرتے تھے جن میں سے ایک حسین بن روح بھی تھے جو بعد میں ان کی وفات کے بعد امام زمانہ(ع) کا تیسرا نائب خاص منتخب ہوا۔[25] بقیہ افراد کے نام یہ ہیں:

  1. اسحاق بن یعقوب
  2. جعفر بن عثمان مدائنی
  3. محمدبن ہمام بغدادی
  4. عبداللہ بن جعفر حمیری
  5. قاسم بن علاء
  6. محمد بن ابراہیم مہزیار
  7. علی بن احمد دلال قمی
  8. غیاث بن اسید
  9. احمد بن ابراہیم نوبختی[26]

وثاقت اور علمی مقام

شیخ طوسی اپنی کتاب رجال الطوسی اور الغیبہ میں محمد بن عثمان اور ان کے والد کو امام زمانہ(ع) کے نائبین میں سے قرار دیتے ہوئے انہیں عظیم المرتبت اور مورد اعتماد سمجھتے ہیں۔[27][28] علامہ حلی نے بھی اپنی رجالی کتاب خلاصۃ الاقوال میں محمد بن عثمان کا امام زمانہ(ع) کے نائب خاص کے عہدے پر فائز ہونے کو ان کے عظیم المرتبت ہونے کی نشانی قرار دیتے ہیں۔[29] عبداللہ مامقانی اپنی کتاب تنقیح المقال میں ان کے مقام و منزلت کو اس قدر مشہور و معروف جانتے ہیں جو کسی تعارف یا دلیل و برہان کا محتاج نہیں ہے۔[30] سید ابوالقاسم خویی نے بھی معجم رجال الحدیث میں ان کی شان و منزلت میں وارد ہونے والے احادیث کو کافی و وافی قرار دیتے ہیں۔[31]

روایات اور علمی آثار

محمد بن عثمان سے امام زمانہ(ع) کے بارے میں احادیث نقل ہوئی ہیں من جملہ ان احادیث میں آپ(ع) کی ولادت[32]، عصر غیبت صغری میں ان کا نام لینا حرام ہونا[33][34] اور امام مہدی(ع) کے ساتھ ان کی ملاقاتوں کے بارے میں ہیں۔[35][36] دعائے سمات، دعائے افتتاح اور زیارت آل یاسین وغیرہ ایسی دعائیں ہیں جو محمد بن عثمان کے توسط سے نقل ہوئی ہیں۔[37] انہوں نے بعض احادیث کو اپنے والد یعنی عثمان بن سعید سے نقل کیا ہے۔

محمد بن عثمان، علم فقہ میں علمی آثار کے بھی مالک تھے جس میں امام حسن عسکری(ع) اور امام مہدی(ع) سے منقول احادیث بھی موجود ہیں۔ ان کتابوں میں سے ایک "کتاب الاشربۃ" ہے۔ ام کلثوم بنت ابوجعفر کے مطابق یہ کتاب محمد بن عثمان کی وفات کے بعد حسین بن روح (نایب سوم) پاس تھی۔ چنانچہ ابونصر کہتے ہیں کہ یہ کتاب حسین بن روح کے بعد ابوالحسن سَمَری (نایب چہارم) کے پاس تھی۔[38].

متعلقہ مضامین

حوالہ جات

  1. مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ق، ج۵۱، ص۳۴۴.
  2. غفارزاده، زندگانی نواب خاص امام زمان، ۱۳۷۹ش، ص۱۵۵.
  3. نجاشی، رجال نجاشی، ۱۴۰۸ق، ج۲، ص۴۰۸.
  4. مامقانی، تنقیح المقال، ۱۳۵۲ق، ج۳، ص۱۴۹.
  5. مامقانی، تنقیح المقال، ۱۳۵۲ق، ج۳، ص۱۴۹.
  6. صدوق، کمال الدین، ۱۳۹۵ق، ج۲، ص۵۴.
  7. ابن اثیر، الکامل، ۱۳۸۶ق، ج۸، ص۱۰۹.
  8. طوسی، الغیبہ، ۱۴۱۱ق، ص۳۶۴.
  9. مجلسی، بحار الانوار، ج۵۱، ص۳۵۱.
  10. طوسی، الغیبہ، ۱۴۱۱ق، ص۳۶۶.
  11. رہ توشہ عتبات عالیات، ص۳۷۸.
  12. ذہبی، سیر اعلام النبلاء، ۱۴۱۳ق، ص۲۲۳.
  13. طوسی، الغیبہ، ۱۴۱۱ق، ص۳۵۶.
  14. طوسی، الغیبہ، ۱۴۱۱ق، ص۲۴۳.
  15. طوسی، الغیبہ، ۱۴۱۱ق، ص۳۶۴.
  16. صدوق، کمال الدین، ۱۳۹۵ق، ج۲، ص۵۱۰.
  17. طوسی، الغیبہ، ۱۴۱۱ق، ص۳۶۶.
  18. صدر، تاریخ الغیبۃ، ۱۴۱۲ق، ج۱، ص۴۰۴.
  19. غفارزادہ، زندگانی نواب خاص امام زمان، ص۱۷۹.
  20. جباری، سازمان وکالت، ج۲، ص۶۹۴-۷۰۷.
  21. جاسم حسین، تاریخ سیاسی امام دوازدہم، ۱۳۸۵ش، ص۱۷۵و۱۷۶.
  22. جاسم حسین، تاریخ سیاسی امام دوازدہم، ۱۳۸۵ش، ص۱۷۷و۱۷۸.
  23. جاسم حسین، تاریخ سیاسی غیبت امام دوازدہم، ۱۳۸۵ش، ص۱۶۹.
  24. غفار زادہ، زندگانی نواب خاص امام زمان، ۱۳۷۹ش، ص۲۲۷.
  25. جاسم حسین، تاریخ سیاسی غیبت امام دوازدہم، ۱۳۸۵ش، ص۱۷۰.
  26. رہ توشہ عتبات عالیات، ص۳۷۳-۳۷۴.
  27. طوسی، رجال طوسی، ۱۴۱۵ق، ص۴۴۷.
  28. طوسی، الغیبہ، ۱۴۱۱ق، ص۲۴۳.
  29. حلی، خلاصۃ الاقوال، ۱۴۱۷ق، ص۲۵۰.
  30. مامقانی، تنقیح المقال، ۱۳۵۲ق، ج۳، ص۱۴۹.
  31. خویی، معجم رجال الحدیث، ۱۴۱۳ق، ج۱۷، ص۲۹۴.
  32. مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ق، ج۵۱، ص۱۶.
  33. صدوق، کمال الدین، ۱۳۹۵ق، ج۲، ص۴۸۳.
  34. مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ق، ج۵۱، ص۳۳.
  35. صدوق، کمال الدین، ۱۳۹۵ق، ج۲، ص۴۳۵.
  36. مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ق، ج۵۲، ص۱۵۲.
  37. طوسی، مصباح المتہجد، ۱۴۱۱ق، ج۱، ص۴۱۷.
  38. طوسی، الغیبہ، ۱۴۱۱ق، ص۳۶۳.


مآخذ

  • ابن اثیر، الکامل فی التاریخ،‌ دار صادر، بیروت.
  • صدوق، محمد بن علی، کمال‌الدین و تمام‌النعمۃ، چاپ علی‌اکبر غفاری، قم، ۱۳۶۳ش.
  • اربلی، علی بن عیسی، کشف الغمہ، قم، اسلامیہ، ۱۴۲۱ق.
  • جاسم محمد حسین، تاریخ سیاسی غیبت امام دوازدہم، ترجمہ محمد تقی آیت‌اللہی، تہران، امیرکبیر، ۱۳۸۵ش.
  • جباری، محمدرضا، سازمان وکالت و نقش آن در عصر ائمۃ علیہم السلام، قم، مؤسسہ آموزشی پژوہشی امام خمینی، ۱۳۸۲ش.
  • جمعی از نویسندگان، رہ توشہ عتبات عالیات، تہران، نشر مشعر، ۱۳۹۱ش.
  • حلی، حسن بن یوسف، خلاصۃ الاقوال، مؤسسۃ نشر الفقاہۃ، ۱۴۱۷ق.
  • خویی، سید ابوالقاسم، معجم رجال الحدیث، ۱۴۱۳ق.
  • ذہبی، سیر أعلام النبلاء، إشراف وتخریج : شعیب الأرنؤوط، تحقیق: إبراہیم الزیبق، بیروت، مؤسسۃ الرسالۃ، ۱۴۱۳ق.
  • صدر، سید محمد، تاریخ الغیبہ، بیروت، دارالتغارف، ۱۴۱۲ق.
  • طبری، محمد بن جریر، تاریخ الطبری، بیروت، مؤسسۃ الاعلمی.
  • طوسی، محمد بن حسن، الغیبۃ، قم، مؤسسۃ المعارف الاسلامیۃ، ۱۴۱۱ق.
  • طوسی، محمد بن حسن، رجال الطوسی، قم، جامعہ مدرسین، ۱۴۱۵ق.
  • طوسی، محمد بن حسن، مصباح المتہجد و سلاح المتعبد، مؤسسہ فقہ شیعہ، بیروت، ۱۴۱۱ق.
  • غفارزادہ، علی، زندگانی نواب خاص امام زمان، قم، انتشارات نبوغ، سوم، ۱۳۷۹ش.
  • قمی، عباس، سفینۃ البحار و مدینۃ الحکم و الآثار، قم، اسوہ، ۱۴۱۴ق.
  • مامقانی، عبداللہ، تنقیح المقال فی علم الرجال، چاپ نجف، ۱۳۵۲ق.
  • مجلسی، محمدباقر، بحارالانوار، بیروت، مؤسسہ الوفاء، ۱۴۰۳ق.
  • نجاشی، احمدبن علی، رجال النجاشی، چاپ موسی شبیری زنجانی، قم، ۱۴۰۷ق.
  • نوبختی، حسن بن موسی، فرق الشیعہ، تصحیح سید محمد صادق آل بحر العلوم، نجف، المکتبۃ المرتضویۃ، ۱۳۵۵ق.